صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کا یوم جمہوریہ کی ماقبل شام قوم کے نام خطاب
प्रविष्टि तिथि:
25 JAN 2026 7:50PM by PIB Delhi
میرے پیارے ہم وطنو،
نمسکار!
ملک اور بیرون ملک رہنے والے، ہم بھارت کے لوگ جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کا جشن منانے جا رہے ہیں۔میں آپ سب کو یوم جمہوریہ کے قومی تہوار کی دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
یوم جمہوریہ کا مقدس تہوار ہمارے ماضی، حال اور مستقبل میں ملک کی صورتحال اور سمت کا جائزہ لینے کا موقع ہوتا ہے۔ جدوجہد آزادی کی بدولت15 اگست 1947 کے دن سے ہمارے ملک کی حالت بدل گئی۔ بھارت آزاد ہوا۔ ہم اپنی قومی تقدیر کے معمار بن گئے۔
26 جنوری 1950 سے ہم اپنی جمہوریہ کو آئینی نظریات کی طرف آگے بڑھا رہے ہیں۔ اُسی دن ہم نے اپنے آئین کو مکمل طور پر نافذ کیا۔ مادر جمہوریت، بھارت کی سرزمین نوآبادیاتی حکمرانی کے طور طریقوں سےآزاد ہوئی اور ہمارا عوامی جمہوریہ وجود میں آیا ۔
ہمارا آئین دنیا کی تاریخ میں آج تک کی سب سے بڑی جمہوریت کی بنیادی کتاب ہے۔ ہمارے آئین میں درج انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کے نظریات ہماری جمہوریت کی وضاحت کرتے ہیں۔ آئین کے معماروں نے قوم پرستی کے جذبے اور ملک کے اتحاد کو آئینی التزامات کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔
مردآہن سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ہماری قوم کو متحد کیا۔ گذشتہ برس 31 اکتوبر کو ممنون ہم وطنوں نے جوش و خروش سے اُن کا 150 واں یوم پیدائش منایا۔ اُن کے 150 ویں یوم پیدائش کے مقدس موقع سے وابستہ یادگاری تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ یہ تقریبات ہم وطنوں میں قومی اتحاد اور فخر کے احساس کو تقویت دیتی ہیں۔ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہمارے قدیم ثقافتی اتحاد کا تانا بانا ہمارے آباو اجداد نے بنُا تھا۔ قومی اتحاد کی شکلوں کو زندہ رکھنے کی ہر کوشش انتہائی قابل ستائش ہے۔
گذشتہ برس 7 نومبر سے ہمارے قومی گیت ’وندے ماترم‘ کی تخلیق کے150 سال مکمل ہونے کی تقریبات بھی منائی جا رہی ہیں۔ مادرِ وطن کی روحانی شکل کی وندنا کا یہ گیت لوگوں کے ذہنوں میں قوم کے تئیں محبت کے جذبات ابھارتا ہے۔ قوم پرستی کے عظیم شاعر سبرامنیم بھارتی نے تمل زبان میں ’وندے ماترم ینبوم‘ یعنی ’ہم وندے ماترم بولیں‘، گیت کی تخلیق کرکے وندے ماترم کے جذبے کو اور بھی وسیع پیمانے پرعوام الناس کے ساتھ جوڑا۔ دیگر بھارتی زبانوں میں بھی اِس گیت کے ترجمے مقبول ہوئے۔ شری اربندو نے ’وندے ماترم‘ کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ قابل احترام بنکم چندر چٹوپادھیائے کی تحریر کردہ ’وندے ماترم‘ ہماری قومی وندنا کی آواز ہے۔
آج سے دو دن پہلے یعنی 23 جنوری کو ملک کے لوگوں نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے یوم پیدائش کے دن اُنہیں احترام کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا۔ سال 2021 سے نیتا جی کے یوم پیدائش کو ’پراکرم دیوس‘ کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ہم وطن ، خاص طور پر نوجوان، اُن کی ناقابل تسخیر حبُ الوطنی سے متاثر ہوں۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کا نعرہ ’جے ہند‘ ہمارے ملک کے فخر کا نعرہ ہے۔
پیارے ہم وطنو،
آپ سب ہماری متحرک جمہوریت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ہماری تینوں افواج کے بہادر سپاہی مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔ ہمارے دیانت دار پولیس اہلکار اور مرکزی مسلح افواج کے جوان ہم وطنوں کی داخلی سلامتی کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ہمارے اَنّ داتا کسان ہم وطنوں کے لیے خوراک پیدا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی محنتی اور باصلاحیت خواتین کئی شعبوں میں نئے معیارات قائم کررہی ہیں۔ خدمت کے جذبے سے سَرشار ہمارے ڈاکٹر، نرسیں اور تمام صحت کارکنان ہمارے ہم وطنوں کی صحت کا خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے محنتی صفائی متر ملک کو صاف ستھرا رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہمارے روشن خیال اساتذہ آنے والی نسلوں کی تعمیر کرتے ہیں ۔ ہمارے عالمی معیار کے سائنسداں اور انجینئر ملک کی ترقی کو نئی سمت دیتے ہیں۔ ہمارے محنتی مزدور بھائی بہن ملک کی تعمیر نو کرتے ہیں۔ ہمارے ہونہار نوجوان اور بچے اپنی صلاحیتوں اور تعاون سے ملک کے سنہری مستقبل کے تئیں ہمارے اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ ہمارے باصلاحیت فنکار، کاریگر اور ادیب ہماری بھرپور روایات کو جدید اظہار دے رہے ہیں۔ متعددشعبوں کے ماہرین ملک کی کثیر جہتی ترقی کو سمت دے رہے ہیں۔ ہمارے پُرجوش کاروباری افراد ملک کو ترقی یافتہ اور خود کفیل بنانے میں اپنا تعاون دے رہے ہیں۔ بے لوث جذبے سے معاشرے کی خدمت کرنے والے افراد اور ادارے بے شمار لوگوں کی زندگی کو روشن کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر اور اداروں میں کام کرنے والے تمام ذمہ دار لوگ اپنی خدمات قوم کی تعمیر کے لیے وقف کر رہے ہیں۔ عوامی خدمت کے لیے پُرعزم عوامی نمائندے ہم وطنوں کی اُمنگوں کے مطابق فلاح و بہبود اور ترقی کے اہداف حاصل کررہے ہیں۔ اِس طرح سبھی باخبر اور حساس شہری ہماری جمہوریہ کی ترقی کے سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہماری جمہوریت کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف سبھی ہم وطنوں کی میں، دل سے ستائش کرتی ہوں۔ بھارتی تارکین وطن ہماری جمہوریہ کی شبیہ کو عالمی سطح پر فخر کے احساسات عطا کرتے ہیں۔ میں اُن کی خاص طور پر ستائش کرتی ہوں۔
پیارے ہم وطنو،
آج کے دن یعنی 25 جنوری کو ہمارے ملک میں ’قومی ووٹرز ڈے‘ منایا جاتا ہے۔عوامی نمائندوں کو منتخب کرنے کے لیے ہمارے بالغ شہری جوش و خروش سے اپنے ووٹ دیتے ہیں۔ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا ماننا تھا کہ حق رائے دہی کے استعمال سے سیاسی تعلیم یقینی بنتی ہے۔ ہمارے ووٹر، بابا صاحب کی سوچ کے مطابق اپنی سیاسی بیداری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ووٹنگ میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت ہماری جمہوریت کی ایک طاقتور جہت ہے۔
ملک کی ترقی کے لیے خواتین کا فعال اور بااختیار ہونا انتہائی اہم اور ضروری ہے۔ اُن کی صحت، تعلیم، سلامتی اور اقتصادی طور پر انہیں بااختیار بنانے کی قومی کوششوں سے مختلف شعبوں میں خواتین کی شراکت داری میں اضافہ ہوا ہے۔ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم سے بیٹیوں کی تعلیم کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کے تحت اب تک 57 کروڑ سے زیادہ بینک کھاتے کھولے جا چکے ہیں۔ ان میں خواتین کے کھاتے تقریباً 56 فیصد ہیں۔
ہماری بہنیں اور بیٹیاں روایتی دقیانوسی تصورات کو توڑ کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ خواتین ملک کی مجموعی ترقی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ 10 کروڑ سے زیادہ سیلف ہیلپ گروپوں سے وابستہ بہنیں ترقی کی نئی عبارت رقم کر رہی ہیں۔ خواتین، کھیتوں سے لے کر خلا تک، خود کے روزگار سے لے کر افواج تک اپنی موثر شناخت بنا رہی ہیں۔ ہماری بیٹیوں نے کھیلوں کے میدان میں عالمی سطح پر نئے معیارات قائم کیے ہیں۔ پچھلے سال نومبر میں، بھارت کی بیٹیوں نے آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ اوراُس کے بعد بلائنڈ ویمنز ٹی-20 ورلڈ کپ جیت کر سنہری تاریخ رقم کی ہے۔ گذشتہ برس ہی شطرنج ورلڈ کپ کا فائنل میچ بھارت کی دو بیٹیوں کے درمیان کھیلا گیا تھا۔ یہ مثالیں کھیلوں کی دنیا میں ہماری بیٹیوں کے دبدبے کا ثبوت ہیں ۔ ہم وطنوں کو ایسی بیٹیوں پر فخر ہے۔
پنچایتی راج اداروں میں خواتین عوامی نمائندوں کی تعداد تقریبا 46 فیصد ہے۔ خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانے کے عمل کو نئی بلندی دینے والا ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ خواتین کی زیرقیادت ترقی کے تصور کو بے مثال طاقت دے گا۔ وکست بھارت کی تعمیر میں ناری شکتی کا کردار اہم رہے گا۔ اُن کے بڑھتے ہوئے تعاون سے ہمارا ملک خواتین کی مساوات پر مبنی شمولیت والی جمہوریت کی ایک مثال قائم کرے گا۔
شمولیت پر مبنی فکر کے ساتھ، محروم طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اسکیموں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ برس 15 نومبر کو، ملک کے لوگوں نے دھرتی آبا بھگوان بِرسا منڈا کے یوم پیدائش پر پانچواں ’جن جاتیہ گورو دیوس‘ منایا اور بھگوان برسا منڈا کے 150 ویں یوم پیدائش کے تناظرمیں منعقدہ تقریبات کا اختتام ہوا۔ آدی کرم یوگی مہم کے ذریعے قبائلی برادری کے لوگوں میں قیادت کی صلاحیت کو نکھارا گیا۔ گذشتہ برسوں کے دوران، حکومت نے قبائلی معاشرے کی شاندار تاریخ سے ہم وطنوں کو واقف کرانے کے لیے میوزیم کی تعمیر سمیت کئی اقدامات کیے ہیں۔ اُن کی فلاح و بہبود اور ترقی کو ترجیح دی گئی ہے۔ ’نیشنل سیکل سیل انیمیا ایریڈیکیشن مشن‘ کے تحت اب تک 6 کروڑ سے زیادہ اسکریننگ کی جا چکی ہیں۔ ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں میں تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور بہت سے طلباء نے مسابقتی امتحانات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صحت اور تعلیم کی ایسی مہمات قبائلی برادریوں کے ورثے اور ترقی کو مربوط کر رہی ہیں۔ پی وی ٹی جی برادریوں سمیت تمام قبائلی برادریوں کو ’دھرتی آبا جن جاتیہ گرام اُتکرش ابھیان‘ اور ’پی ایم-جن مَن یوجنا‘ کے ذریعے بااختیار بنایا گیا ہے۔
ہمارے اَنّ داتا کسان ،ہمارے سماج اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔ کسانوں کی محنت کش نسلوں نے ہمارے ملک کو غذائی اَجناس کے معاملے میں خود کفیل بنایا ہے۔ ہم کسانوں کی محنت کی بدولت ہی زراعت پر مبنی مصنوعات برآمد کر پارہے ہیں۔ متعدد کسانوں نے کامیابی کی بہت متاثر کن مثالیں پیش کی ہیں۔ کسان بھائی بہنوں کو اُن کے پیداوار کی مناسب قیمت ملے، رعایتی شرح سود پر قرض ملے، مؤثر بیمہ تحفظ ملے، کاشتکاری کے لیے اچھے بیج ملیں، آبپاشی کی سہولت ملے، زیادہ پیداوار کے لیے کھاددستیاب ہو، اُنہیں جدید زرعی طریقوں سے جوڑا جائے اور نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دیا جائے، ان سبھی موضوعات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ایم کسان سمان ندھی کے ذریعے کسان بھائی بہنوں کے تعاون کا احترام کیا جا رہا ہے اور اُن کی کوششوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔
دہائیوں سے غربت سے نبردآزما لاکھوں ہم وطنوں کو خطِ اَفلاس سے اوپر لایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ایسی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ وہ دوبارہ غریبی کے شکار نہ ہونے پائیں۔ اَنتودیہ کی حساسیت کو عملی جامہ پہنانے والی دنیا کی سب سے بڑی اسکیم ’پی ایم غریب کلیان اَنّ یوجنا‘، اِس خیال پر مبنی ہے کہ 140 کروڑ سے زیادہ آبادی والے ہمارے ملک میں کوئی بھی بھوکا نہ رہے ۔ اِس اسکیم کے تحت تقریبا 81 کروڑ مستفیدین کو امداد مل رہی ہے۔ غریب خاندانوں کے لیے بجلی، پانی اور بیت الخلاء کی سہولیات کے ساتھ 4 کروڑ سے زیادہ پکے مکانات بنا کر اُنہیں باوقار زندگی گزارنے اور آگے بڑھنے کی بنیاد فراہم کی گئی ہے ۔ غریبوں کی فلاح و بہبود کے مفاد میں اِس طرح کی کوششیں مہاتما گاندھی کے سروودیہ کے آئیڈیل کو عملی جامہ پہناتی ہیں۔
دنیا کی سب سے بڑی نوجوانوں کی آبادی ہمارے ملک میں ہے۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ہمارے نوجوان صنعت کار، کھلاڑی، سائنسداں اور پیشہ ور افراد ملک میں نئی توانائی پیدا کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنا رہے ہیں۔ آج ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد خود کے روزگار میں کامیابی کی متاثر کن مثالیں پیش کر رہی ہے۔ ہمارے نوجوان ہماری قوم کے ترقیاتی سفر کے علمبردار ہیں۔ ’میرا یووا بھارت‘ یا ’مائی بھارت‘، ٹیکنالوجی کے ذریعے چلنے والا ایک تجربے پر مبنی تعلیمی نظام ہے۔ یہ نوجوانوں کو قیادت اور ہنر مندی کے فروغ سمیت کئی شعبوں میں دستیاب مواقع سے جوڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں اسٹارٹ اپس کی شاندار کامیابی کا بڑا سہرا ہمارے نوجوان کاروباریوں کو جاتا ہے۔ نوجوان نسل کی اُمنگوں پر مرکوز پالیسیوں اور پروگراموں کی طاقت سے ملک کی ترقی کو رفتار ملے گی۔ مجھے یقین ہے کہ سال 2047 تک یووا شکتی، ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گی۔
پیارے ہم وطنو،
بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت ہے ۔ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کے باوجود، بھارت مسلسل اقتصادی ترقی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ ہم مستقبل قریب میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کے ہدف کو حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کرکے ہم اپنے اقتصادی ڈھانچے کو اعلی ترین سطح پر دوبارہ تعمیر کر رہے ہیں۔ اقتصادی تقدیر سازی کے سفر میں خود انحصاری اور سودیشی ہمارے بنیادی اصول ہیں۔
آزادی کے بعد ملک کے اقتصادی انضمام کے لیے سب سے اہم فیصلہ جی ایس ٹی کے نفاذ نے ون نیشن ، ون مارکیٹ کا نظام قائم کیا ہے ۔ جی ایس ٹی نظام کو مزید موثر بنانے کا حالیہ فیصلہ ہماری معیشت کو مزید مضبوط کرے گا ۔ لیبر اصلاحات کے شعبے میں چار لیبر کوڈز جاری کیے گئے ہیں ۔ اِس سے ہمارے مزدور بھائی بہنوں کو فائدہ ہوگا اور کاروباری اداروں کی ترقی کو بھی رفتار ملے گی ۔
پیارے ہم وطنو ،
قدیم زمانے سے ہی پوری انسانیت کو ہماری تہذیب ، ثقافت اور روحانی روایت سے فائدہ ہوتا رہا ہے ۔ آیوروید ، یوگا اور پرانایام کو عالمی برادری نے سراہا اور اپنایا ہے ۔ بہت سی عظیم شخصیات نے ہمارے روحانی اور سماجی اتحاد کے دھارے کو بلا رکاوٹ بہاؤ دیا ہے ۔ کیرالہ میں پیدا ہوئے عظیم شاعر ، سماجی مصلح اور روحانی شخصیت شری نارائن گرو کے مطابق ، وہ جگہ مثالی سمجھی جاتی ہے جہاں ذات پات اور نسل کے امتیاز سے آزاد ہوکر تمام لوگ بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں ۔ میں شری نارائن گرو کے اِس خیال کو اُن کی اپنی زبان میں دہرانے کی کوشش کرتی ہوں:
जाति-भेदम् मत-द्वेषम्, एदुम्-इल्लादे सर्वरुम्
सोद-रत्वेन वाडुन्न, मात्रुका-स्थान मानित।
یہ فخر کی بات ہے کہ آج کا بھارت اپنی شاندار روایات سے آگاہ ہو کر نئی خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ہماری روحانی روایت کے مقدس مقامات کو عوامی شعور سے جوڑا گیا ہے ۔
غلامی کی ذہنیت کی باقیات سے ایک مقررہ وقت میں چھٹکارا پانے کا عزم کیا گیا ہے ۔ بھارت کی علمی روایت میں فلسفہ ، طب ، فلکیات، سائنس،ریاضی ، ادب اور فن کی عظیم میراث ہے ۔ یہ فخر کی بات ہے کہ "گیان بھارتم مشن 'جیسی کوششوں سے بھارت کی روایات میں موجود تخلیقیت کو محفوظ اور شائع کیاجا رہا ہے ۔ یہ مشن بھارت کے لاکھوں انمول مخطوطات میں محفوظ وراثت کو جدید سیاق و سباق میں آگے بڑھائے گا ۔ بھارتی زبانوں اور بھارت کی علمی روایت کو ترجیح دے کر ہم خود کفالت کی کوششوں کو ایک ثقافتی بنیاد فراہم کر رہے ہیں ۔
بھارت کا آئین اب آٹھویں شیڈیول میں شامل تمام بھارتی زبانوں میں دستیاب ہے ۔ آئین کو بھارتی زبانوں میں پڑھنے اور سمجھنے سے ہم وطنوں میں آئینی قومیت کی اشاعت ہوگی اور اپنے آپ پر فخر کرنے کے جذبے کو تقویت ملے گی۔
حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ مسلسل کم کیا جا رہا ہے ، باہمی اعتماد پر مبنی اچھی حکمرانی پر زور دیا جا رہا ہے ، عوام کے مفاد میں بہت سے غیر ضروری قوانین کو منسوخ کیا گیا ہے ، بہت سی تعمیلات کو ختم کیا گیا ہے اور نظامات کو آسان بنایا گیا ہے ۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے مستفیدین کو سہولیات سے براہ راست جوڑا جا رہا ہے ۔ روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کے مقصد کے ساتھ زندگی گزارنے میں آسانی کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔
گذشتہ دہائی کے دوران قومی اہداف کو عوامی شراکت داری کے ذریعے حاصل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔ اہم قومی مہمات کو عوامی تحریک کی شکل دی گئی ہے ۔ گاؤں گاؤں میں قصبوں قصبوں میں اب مقامی اداروں کو ترقی پسند تبدیلی کا ذریعہ بنایا گیا ہے ۔ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر تمام ہم وطنوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ معاشرے میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ حکومت کے ذریعہ کی جارہی کوششوں کو سماج کی سرگرم حمایت ملنے سے انقلابی تبدیلیاں آتی ہیں ۔ مثال کے طور پر ، ہمارے ہم وطنوں نے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو بڑے پیمانے پر اپنایا ہے ۔ آج دنیا کے آدھے سے زیادہ ڈیجیٹل لین دین بھارت میں ہوتے ہیں ۔ چھوٹی سے چھوٹی دکان میں سامان خریدنے سے لے کر آٹو رکشہ کا کرایہ ادا کرنے تک ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال عالمی برادری کے لیے ایک بااثر مثال بن گیا ہے ۔ میں امید کرتی ہوں کہ اسی طرح دیگر قومی اہداف کے حصول میں بھی تمام ہم وطن اپنی فعال شرکت کا مظاہرہ کریں گے ۔
پیارے ہم وطنو ،
گذشتہ برس ہمارے ملک نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردانہ اہداف کو درست طریقے سے نشانہ بنایا ۔ دہشت گردی کے بہت سے ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا اور بہت سے دہشت گردوں کو اُن کے انجام تک پہنچایا گیا ۔ سیکورٹی کے میدان میں ہماری خود کفالت سے آپریشن سندور کو تاریخی کامیابی ملی ۔
سیاچن بیس کیمپ پہنچ کر میں نے بہادر فوجیوں کو انتہائی نا مساعد حالات میں بھی ملک کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار اور پُرجوش دیکھا۔بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں ،سکھوئی اور رافیل میں پرواز بھرنے کا موقع بھی مجھے ملا۔ میں فضائیہ کی جنگی مہارتوں سے واقف ہوئی ۔ میں نے بھارتی بحریہ کے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت کی غیر معمولی صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا ۔ میں بحری آبدوز آئی این ایس واگھشیر میں سمندر کی گہرائیوں تک گئی۔ فوج ، فضائیہ اور بحریہ کی طاقت کی بنیاد پر ہماری سیکورٹی کی صلاحیت پرملک کے لوگوں کو پورا اعتماد ہے ۔
پیارے ہم وطنو ،
ماحولیاتی تحفظ آج ایک بہت اہم ترجیح ہے ۔ مجھے فخر محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے ماحولیات سے متعلق کئی شعبوں میں عالمی برادری کی رہنمائی کی ہے ۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہنا بھارت کی ثقافتی روایت کا حصہ رہا ہے ۔ یہ طرزِ زندگی عالمی برادری کو دیے گئے ہمارے پیغام ‘لائف اسٹائل فار انوائرنمنٹ’ یعنی 'لائف' کی بنیاد ہے ۔ ہم ایسی کوشش کریں جن سےآنے والی نسلوں کے لئے دھرتی ماتا کے انمول وسائل دستیاب رہ سکیں۔
ہماری روایت میں پوری کائنات میں امن وامان قائم رہنے کی دعا کی جاتی رہی ہے ۔ انسانیت کا مستقبل تب ہی محفوظ ہو سکتا ہے جب پوری دنیا میں ایک پُرامن نظام قائم ہو ۔ دنیا کے کئی حصوں میں موجود بدامنی کے ماحول میں بھارت کی طرف سے عالمی امن کا پیغام پھیلایا جا رہا ہے ۔
پیارے ہم وطنو ،
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم بھارت کی سرزمین کے باشندے ہیں ۔ ہماری جننی جنم بھومی کے لیے شاعر گرو رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا تھا:
ओ आमार देशेर माटी, तोमार पोरे ठेकाइ माथा।
یعنی :
اے میرے دیش کی مٹی میں تمہارے قدموں میں اپنا سر جھکاتا ہوں۔
میں مانتی ہوں کہ یوم جمہوریہ، حب الوطنی کے اُس طاقتور جذبے کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا ایک موقع ہے ۔ آئیے ہم سب مل کر‘نیشن فرسٹ’کے جذبے سے کام کرتے ہوئے اپنے جمہوریہ کو اور بھی شاندار بنائیں ۔
میں ایک بار پھر ، آپ سبھی کو یوم جمہوریہ کی دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔ مجھے پختہ یقین ہے کہ آپ کی زندگی خوشی ، امن ، سلامتی اور ہم آہنگی سے بھر پور رہے گی ۔ میں آپ سبھی کے روشن مستقبل کی تمنّا کرتی ہوں ۔
شکریہ!
جے ہند!
جے بھارت!
******
ش ح۔ م م۔ م ر
U-NO. 1077
(रिलीज़ आईडी: 2218605)
आगंतुक पटल : 34
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
Tamil
,
Malayalam
,
Assamese
,
English
,
Khasi
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Bengali
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Odia
,
Kannada