وزیراعظم کا دفتر

دلی میٹرو کی مجنٹا لائن پر بغیر ڈرائیور والی ٹرین کے افتتاح کے موقعے پر وزیراعظم کے خطاب کا متن

Posted On: 28 DEC 2020 1:29PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،28دسمبر ،2020   / مرکزی کابینہ کے میرے رفیق کار جناب ہردیپ سنگھ پوری جی ، دلی کے وزیر اعلی جناب اروند کجریوال جی ، ڈی ایم آر سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر جناب منگو سنگھ جی ، ملک میں جاری میٹرو پروجیکٹوں کے سینئر افسران اور میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں۔

مجھے آج سے تقریباً تین سال پہلے میجنٹا لائن کے افتتاح کا مبارک موقع ملا تھا۔ آج پھر، اسی راستے پر ملک کی پہلی پوری طرح  خود کار میٹرو ، جس کو ہم بول چال کی زبان میں ’ڈرائیور لیس میٹرو‘ بھی کہتے ہیں۔ اس کا افتتاح کرنے کا موقع ملا۔  یہ دکھاتا ہے کہ بھارت کتنی تیزی سے اسمارٹ سسٹم کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ آج نیشنل کامن موبیلیٹی کارڈ، اس سے بھی دلی میٹرو وابستہ ہو رہی ہے۔ پچھلے سال احمد آباد سے اس کی شروعات ہوئی تھی۔ آج اس کی توسیع دلی میٹرو کی ایئرپورٹ ایکسپریس لائن میں ہو رہی ہے۔ آج کا یہ انعقاد شہری ترقی کو اربن ریڈی اور فیوچر ریڈی کرنے کی کوشش ہے۔

ساتھیو،

مستقبل کی ضرورتوں کے لیے ملک کو آج تیار کرنا، آج کام کرنا، یہ حکمرانی کی اہم زمہ داری ہے۔ لیکن کچھ دہائی پہلے جب شہر کاری کا اثر اور شہر کاری کا مستقبل دونوں ہی بالکل صاف تھے اس وقت ایک الگ ہی رویہ ملک نے دیکھا۔ مستقبل کی ضرورتوں کے بارے میں اتنا دھیان نہیں تھا۔ آدھے ادھورے  دل سے کام ہوتا تھا بھرم کی صورتحال رہتی تھی۔ اس وقت تیزی سے شہرکاری ہو رہی تھی لیکن اس کے بعد کے نتائج سے نمٹنے کے لیے ہمارے شہروں کو اتنی تیزی سے تیار نہیں کیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کے بہت سے حصوں میں شہری بنیادی ڈھانچے کی مانگ اور فراہمی میں بہت زیادہ فرق آ گیا۔

ساتھیو،

اس سوچ سے الگ، جدید سوچ یہ کہتی ہے شہر کاری کو چنوتی نا مان کر ایک موقعے کی طرح استعمال کیا جائے۔ ایک ایسا موقع جس میں ہم ملک میں بہتر بنیادی ڈھانچہ بنا سکتے ہیں ۔ ایک ایسا موقع جس سے ہم زندگی کو آسان بنانے کو فروغ دے سکتے ہیں۔ سوچ کا یہ فرق شہرکاری کے ہر پہلو میں نظر آتا ہے۔ ملک میں میٹرو ریل کی تعمیر بھی اس کی ایک مثال ہے۔ دلی میں ہی میٹرو کا تذکرہ برسوں تک چلا۔ لیکن پہلی میٹرو چلی اٹل جی کی کوششوں سے۔ یہاں جو میٹرو سروس کے اتنے ماہرین اس پروگرام سے وابستہ ہیں ۔ وہ بھی اسے اچھی طرح جانتے ہیں کہ میٹرو تعمیر کی کیا صورتحال تھی۔

ساتھیو،

سال 2014  میں جب ہماری حکومت بنی اُس وقت صرف 5 شہروں  میں میٹرو ریل تھی ، آج 18 شہروں میں میٹرو ریل کی خدمات دستیاب ہیں۔ سال 2025 تک ہم اسے 25 سے زیادہ شہروں تک توسیع دینے والے ہیں۔ سال 2014 میں ملک میں صرف 248  کلو میٹر میٹرو لائن کارکردگی انجام دے رہی تھی۔ آج یہ تقریباً تین گنی یعنی 700 کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ سال 2025 تک ہم اس کی توسیع 1700 کلو میٹر تک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سال 2014 میں میٹرو پر سواری کرنے والوں کی تعداد 17 لاکھ روزانہ تھی۔ اب یہ تعداد 5 گنا زیادہ ہو گئی ہے۔ اب 85 لاکھ لوگ روزانہ میٹرسے سواری کرتے ہیں۔ یاد رکھیے یہ صرف اعداد و شمار نہیں کہ یہ کروڑوں بھارتیوں کی زندگی میں آنے والی آسانی کے نتائج ہیں۔ یہ صرف اینٹ، پتھر، کنکرٹ اور لوہے سے بنے انفرااسٹرکچر نہیں ہے بلکہ ملک کے شہریوں ، ملک کے اوسط طبقے کی امنگیں پوری ہونے کے مترادف ہے۔ 

ساتھیو،

آخر یہ تبدیلی آئی کیسے؟  بیوروکریسی وہی ہے، لوگ وہی ہیں، پھر کیسے اتنا تیز کام ہوا؟ اس کی وجہ یہی رہی کہ ہم نے شہرکاری کو چنوتی نہیں بلکہ موقعے کی شکل میں دیکھا۔ ہمارے ملک میں پہلے کبھی میٹروسے متعلق کوئی پالیسی ہی نہیں تھی۔ کوئی رہنما کہیں وعدہ کر آتا تھا، کہیں سرکار کسی کو مطمئن کرنے کے لیے میٹرو کا اعلان کر دیتی تھی۔ ہماری سرکار نے اس ٹال مٹول سے باہر آکر میٹرو کے سلسلے میں پالیسی بھی بنائی اور اسے چوطرفہ حکمت عملی کے ساتھ لاگو بھی کیا۔ ہم نے زور دیا مقامی مانگ کے حساب سے کام کرنے پر۔ ہم نےزور دیا مقامی معیارات کو فروغ دینے پر۔ ہم نے زور دیا میک ان انڈیا کی زیادہ توسیع پر ۔ ہم نے زور دیا جدید ٹکنالوجی کے استعمال پر۔

ساتھیو،

آپ میں سے زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ ملک کے الگ الگ شہروں کی الگ الگ ضرورتیں، امیدیں اور چنوتیاں الگ الگ ہوتی ہیں۔ اگر ہم ایک ہی طے ماڈل بناکر میٹرو ریل کا کام کاج کرتے تو تیزی سے وسعت ممکن  نہیں تھی۔ ہم نے توجہ دی کہ میٹرو کی وسعت ٹرانسپورٹ کے جدید، طور طریقوں کا استعمال شہر کے لوگوں کی ضرورتوں اور وہاں کے پیشہ ورانہ طرز حیات کے  مطابق ہی ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ الگ الگ شہروں میں الگ الگ طرح کی میٹرو ریل پر کام ہو رہا ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں – آر آر ٹی ایس یعنی ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم  - دلی میرٹھ آر آر ٹی ایس کا شاندار ماڈل دلی اور میرٹھ کی دوری کو گھٹا کر ایک گھنٹے سے بھی کم کر دیگا۔

میٹرو لائٹ – ان شہروں میں جہاں مسافروں کی تعداد کم ہے وہاں میٹرو لائٹ ورژن پر کام ہو رہا ہے۔ یہ عام میٹرو کی 40 فیصد لاگت سے ہی تیار ہوجاتی ہے۔ میٹرو نیو – جن شہروں میں سواریوں اور بھی کم ہی وہاں پر میٹرو نیو پر کام ہو رہا ہے۔ یہ عام میٹرو کی 25 فیصد لاگت سے ہی تیار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ہے واٹر میٹرو – یہ بھی آؤٹ آف دی باکس سوچ کی مثال ہے۔ جن شہروں میں بڑی واٹر باڈیز ہیں وہاں کے لیے اب واٹر میٹرو پر کام کیا جارہا ہے۔ اس سے شہروں کو بہتر کنکٹیویٹی کے ساتھ ہی، ان کے پاس موجود جزیروں کے لوگوں کو آخری سِرے تک کنکٹیویٹی کا فائدہ مل سکے گا۔ کوچی میں یہ کام تیزی سے چل رہا ہے اور

ساتھیو،

ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا ہے کہ میٹرو آج محض  سہولت والے   عوامی ٹرانسپورٹ کا   وسیلہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ آلودگی کم کرنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ میٹرو نیٹ ورک کے سبب سڑک سے ہزاروں گاڑیاں کم ہوئی ہے جو آلودگی کا اور جام کا سبب بنتی تھیں۔

ساتھیو،

میٹرو سروسز کی توسیع کے لیے ، میک ان انڈیا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میک ان انڈیا سے لاگت کم ہوتی ہے، غیرملکی زر مبادلہ بچتا ہے، اور ملک میں ہی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار ملتا ہے۔ رولنگ اسٹاک کے معیارات مقرر کرنے سے جہاں بھارت کے مصنوعات سازوں کو فائدہ ہوا ہے وہیں ہر کوچ کی لاگت اب 12 کروڑ سے گھٹ کر 8 کروڑ پر آگئی ہے۔

ساتھیو،

آج چار بڑی کمنیاں ملک میں ہی میٹرو کوچ کی تعمیر کر ہی ہے۔ درجنوں کمپنیاں میٹرو کل پرزوں کو بنانے میں لگی ہیں۔ اس سے میک ان انڈیا کے ساتھ ہی، آتم نربھر بھارت کی مہم کو مدد مل رہی ہے۔

ساتھیو،

جدید سے جدید تکنیک کا استعمال ، یہ وقت کا تقاضہ ہے۔ ابھی مجھے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی میٹرو ریل کا افتتاح کرنے کا موقع ملا ہے۔ آج اس دستیابی کے ساتھ ہی ہمارا ملک دنیا کے ان چنندہ ملکوں میں شمال ہو گیا ہے جہاں اس طرح کی سہولت ہے۔ ہم ایسے بریکنگ سسٹم کا بھی استعمال کر رہے ہیں جن میں بریک لگانے پر 50 فیصد توانائی واپس گرڈ میں چلی جاتی ہے۔ آج میٹرو ریل میں 130 میگاواٹ شمسی بجلی کا استعمال کیا جا رہا ہے، جسے بڑھا کر 600 میگاواٹ تک لے جایا جائے گا۔ مصنوعی ذہانت سے لیس پلیٹ فارمس اور اسکریننگ دروازے ان جدید تکنیکوں پر بھی کام تیزی سے چل رہا ہے۔

ساتھیو،

جدیدکاری کے لیے ایک ہی طرح کے معیار اور سہولیات مہیا کرنا بہت ضروری ہے۔ قومی سطح پر کامن موبیلیٹی کارڈ اسی سمت ایک بڑا قدم ہے۔ کامن موبیلیٹی کارڈ کا مقصد بالکل واضح ہے۔ آپ جہاں کہیں سے بھی سفرکریں، آپ جس عوامی ٹرانسپورٹ سے سفر کریں، یہ ایک کارڈ آپ کو مربوط رسائی فراہم کرے گا۔ یعنی ، ایک کارڈ ہی ہر جگہ کے لیے کافی ہے۔ یہ ہر جگہ چلے گا۔

ساتھیو،

میٹرو میں سفر کرنے والے جانتے ہیں، کس طرح اکثر صرف ایک ٹوکن لینے کےلیے کتنی کتنی دیر لائن میں لگے رہنا ہوتا تھا۔ دفتر یا کالج پہنچنے میں دیر ہو رہی ہے، اور اوپر سے ٹکٹ کی  پریشانی۔ میٹرو سے اتر بھی گئے تو بس کا ٹکٹ ۔ آج جب ہر کسی کے پاس وقت کی کمی ہے تو راستوں میں وقت نہیں گنوایا جاسکتا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے ایسی دقتیں اب ملک کے لوگوں کے سانے رکاوٹ نہ بنیں، ہم اس سمت کام کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

ملک کے صلاحیت اور وسائل کا ملک کی ترقی میں صحیح استعمال ہو، یہ ہم سبھی کی ذمہ داری ہے۔ آج تمام سہولیات کو یکجا کر کے ملک کی طاقت کو بڑھایا جا رہا ہے، ایک بھارت – شریشٹھ بھارت کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ ایک ملک، ایک موبیلیٹی کارڈ کی طرح ہی پچھلے برسوں میں ہماری سرکار نے ملک کے بندوبست کو یکجا کرنے کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔  ایک ملک ایک فاسٹ ٹیگ سے ملک بھر کی شاہراہوں پر سفر بلارکاوٹ بنا ہے۔ غیرضروری روک ٹوک رکی ہے۔ جام سے نجات ملی ہے، ملک کا وقت اور تاخیر سے ہونے والا نقصان کم ہوا ہے۔ ایک ملک ، ایک ٹیکس یعنی جی ایس ٹی سے ملک بھر میں ٹیکس کا جام ختم ہوا ہے، ڈائریکٹ ٹیکس سے متعلق صورتحال ایک جیسی ہوئی ہے۔ ایک ملک، ایک بجلی گرڈ سے ملک کے ہر حصے میں وافر اور بلارکاوٹ بجلی کی دستیابی یقینی ہو رہی ہے۔

بجلی کا نقصان کم ہوا ہے۔ ایک ملک ، ایک گیس گرڈ، اس سے سمندر سے دور ملک کے ان حصوں کی بلارکاوٹ گیس کنکٹیویٹی یقینی ہو رہی ہے، جہاں گیس پر مبنی زندگی اور معیشت پہلے خواب ہوا کرتی تھی۔ ایک مل، ایک صحت بیمہ اسکیم یعنی آیوشمان بھارت سے ملک کے کروڑوں لوگ ایک ریاست میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں کہیں بھی اس کا فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ ایک ملک، ایک راشن کارڈ، اس سے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والے شہریوں کو نیا راشن کارڈ بنانے کے چکروں سے نجات ملی ہے۔ ایک راشن کارڈ سے پورے ملک میں کہیں بھی سستی راشن کی  سہولت   ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح نئی زرعی اصلاحات اور ای – نیم جیسے انتظامات سے ایک ملک ، ایک زرعی مارکٹ کی جانب ملک آگے بڑھ رہا ہے۔

ساتھیو،

ملک کا ہر چھوٹا – بڑا شہر، 21ویں صدی کے بھارت کی معیشت کا بڑا سینٹر ہونے والا ہے۔ ہماری دلی تو ملک کی راجدھانی بھی ہے۔ آج جب 21ویں صدی کا بھارت دنیا میں نئی شناخت قائم کر رہا ہے تو ہماری راجدھانی میں وہ دلکشی ظاہر ہونی چاہیے۔ اتنا پورانا شہر ہونے کی وجہ سے اس میں چنوتیاں ضرور ہیں لیکن ان چنوتیوں کے ساتھ ہی ہمیں اسے جدت کی نئی پہچان دینی ہے۔ اس لیے آج دلی کو جدید شکل دینے کے لیے بہت سی کوششیں کی جارہی ہے۔  دلی میں الیکٹرک موبیلیٹی کو بڑھانے کے لیے سرکار نے ان کی خرید پر ٹیکس میں بھی چھوٹ دی ہے۔

دلی کی سیکڑوں کالونیوں کی ضابطہ کاری ہو یا پھر جھگیوں میں رہنے والے کنبوں کو بہتر رہائش دینے کی کوشش۔ دلی کی پرانی سرکاری عمارتوں کو آج کی ضرورت کے مطابق ماحول کے لیے سازگار بنایا جا رہا ہے۔ جو پرانا بنیادی ڈھانچہ ہے اسے جدید ٹکنالوجی پر مبنی بنیادی ڈھانچے سے بدلا جا رہا ہے۔

ساتھیو،

دلی میں پرانے سیاحتی مقامات کے علاوہ 21 ویں صدی کی نئی دلکشی بھی ہوں، اس کے لیے کام جاری ہے۔ دلی، بین الاقوامی کانفرنس، بین الاقوامی نمائش، بین الاقوامی تجارتی صنعت کا اہم مرکز ہونے والا ہے۔ اس کے لیے دوارکا میں ملک کا سب سے بڑا مرکز بن رہا ہے ۔ اسی طرح ایک طرف جہاں نئے پارلیمنٹ بھون کی تعمیر کا کام شروع ہوا ہے، وہیں ایک بہتر بڑے بھارت وندنا پارک کو بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ ایسے ہر کام سے دلی والوں کے لیے ہزاروں روزگار بھی پیدا ہو رہے ہیں اور شہر کی تصویر بھی بدل رہی ہے۔

دلی 130 کروڑ سے آبادی کی ، دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی اور حکمت عملی والی طاقت کی راجدھانی ہے، اسی دلکشی کا نظارہ یہاں ہونا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر کام کرتے ہوئے، دلی کے شہریوں کی زندگی اور بہتر بنائیں گے، دلی کو اور جدید بنائیں گے۔

ایک بار پھر نئی سہولتوں کے لیے میں ملک کو بھی اور دلی والوں کو بھی بہت بہت مبارکباد دیتا ہوں۔

شکریہ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

                                                                       

 

م ن ۔ اس۔ ت ح ۔                                               

8404U –

 



(Release ID: 1684278) Visitor Counter : 343