وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے اعلیٰ سطح کے حصے سے کلیدی خطاب کیا


وزیر اعظم نے ایک اصلاح شدہ اقوام متحدہ کے ساتھ ایک اصلاح شدہ کثیر ملکی نظام کی ضرورت پر زور دیا

ہمارا سب کا ساتھ سب کا وکاس وسب کا وشواس کا منتر کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائےکے اہم ایس ڈی جی اصول کے ساتھ گونجے گا: وزیر اعظم

ترقی کے راستے پر آگے بڑھتے ہوئے ہم اپنے کرہ ارض کے تئیں اپنی ذمہ داری نہیں بھول رہے ہیں: نریندر مودی

ہمارا بنیادی سطح کا صحت کا نظام کووڈ 19 سے نمٹنے اور دنیا میں صحت یابی کی ایک بہترین شرح کے حصول میں ہندوستان کی مدد کررہا ہے: پی ایم

Posted On: 17 JUL 2020 8:46PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج (جمعہ) مورخہ 17 جولائی 2020 کو نیویارک میں اقوام متحدہ میں اقوام متحدہ کے معاشی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے اجلاس کے اس سال کے اعلیٰ سطح کے سیگمینٹ (حصے) میں ورچوئل طریقے سے کلیدی خطاب کیا۔

 17 جون کو سلامتی کونسل کا 22-2021 کی مدت تک کے لئے ایک غیر مستقل ممبر کی حیثیت سے بھارت کے زبردست طور پر منتخب ہونے کے بعد سے اقوام متحدہ کی وسیع رکنیت حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم کی جانب سے یہ پہلا خطاب تھا۔

اس سال ای سی او ایس او سی کے اعلیٰ سطح کے سیگمینٹ کا موضوع ہے۔ کووڈ-19 کے بعد کثیر ملکی نظام یعنی تکثریت: اقوام متحدہ کس نوعیت کا کام کرے ہمیں 75 ویں سالگرہ پر ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر یہ موضوع اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی اس کی آئندہ رکنیت کے لئے ہندوستان کی ترجیح کے ساتھ بھی گونجتا ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کی کووڈ-19 کے بعد کی دنیا میں ایک اصلاح شدہ تکثریت کی اپیل کو دوہرایا جو عصری دنیا کی سچائیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ای سی او ایس او سی کے ساتھ بھارت کی طویل وابستگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے پائیدار ترقیاتی مقاصد سمیت اقوام متحدہ کے ترقیاتی کام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا سب کا ساتھ سب کا وکاس ، سب کا وشواس کا ترقیاتی نعرہ، منتر کوئی پیچھے نہ رہ جائے کے ایس ڈی جی کے کلیدی اور اہم اصول کے ساتھ گونجتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی اپنی وسیع آبادی کے سماجی اقتصادی عدد نما یعنی انڈی کیٹرس کو سدھارنے اور بہتر بنانے میں کامیابی سے عالمی ایس ڈی جی کے نشانوں پر ایک خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے اس عزم کو بھی دوہرایا کہ وہ دیگر ترقی پذیر ملکوں کے نشانوں کو پورا کرنے میں ان کی مدد کرے گا۔

انہوں نے ہندوستان کی جاری ترقیاتی کوششوں کے بارے میں بھی بات کی، نیز سووچھ بھارت ابھیان کے ذریعے صفائی ستھرائی تک رسائی کو بہتر بنانے وخواتین کو بااختیار بنانے ، مالی شمولیت کو یقینی بنانے اور سب کے لئے مکان پروگرام اور آیوشمان بھارت اسکیم جیسے فلیگ شپ اسکیموں کے ذریعے مکان اور حفظان صحت کی فراہمی، دستیابی کو وسعت دینے کی دیگر کوششوں کے بارے میں بھی بات کی۔ وزیر اعظم نے ماحولیاتی پائیداری اور بائیو ڈائیورسٹی یعنی حیاتیاتی تنوع پرہندوستان کی توجہ کو بھی اجاگر کیا اور بین الاقوامی شمسی اتحاد، آفات کے لچکدار بنیادی ڈھانچے کے لئے مخلوط اتحاد قائم کرنے میں ہندوستان کے کلیدی رول کا بھی ذکر کیا۔

ایک پہلے ریسپونڈر یعنی ردعمل ظاہر کرنے والے کے طور پر اپنے خطبے میں ہندوستان کے رول کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہندوستان کی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ تعاون کا ذکرکیا۔ انہوں نے مختلف ملکوں کو دوائیں سپلائی کرنے کو یقینی بنانے کے لئے ہندوستان کی دوا ساز کمپنیوں کی طرف سے فراہم کئے گئے تعاون کا بھی ذکر کیا اور سارک ملکوں میں مشترکہ جواب دہی کی ایک حکمت عملی تیار کرنے کے لئے تال میل قائم کرنے کے بارے میں بھی بات کی ہے۔

 

یہ دوسرا موقع ہے کہ جب وزیر اعظم نے ای سی او ایس او سی سے خطاب کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے جنوری 2016 میں ای سی او ایس او سی کی 70 ویں سالگرہ پر کلیدی خطبہ دیا تھا۔

 

...............................................................

 

م ن، ح ا، ع ر

17-07-2020

U-3995



(Release ID: 1639543) Visitor Counter : 260