وزارت خزانہ
زرعی حکمرانی میں ریاستی سطح کی اختراعات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں: اقتصادی جائزہ
زمین اور وسائل سے متعلق حکمرانی، منڈی اصلاحات، آبی انتظام کاری ، تکنالوجی اور ڈیجیٹل زراعت جیسے وسیع تر شعبوں میں اختراعات کی جارہی ہیں
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 2:00PM by PIB Delhi
خزانہ اور کمپنی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ آج پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزے 2025-26 میں کہا گیا ہے کہ متعدد بھارتی ریاستوں نے حالیہ برسوں میں مخصوص زرعی اصلاحات انجام دی ہیں، جن میں زمین سے متعلق حکمرانی، مارکیٹس، آبی انتظام کاری، تکنالوجی کو اپنانا اور فصلوں کا تنوع، جیسی پہل قدمیاں شامل ہیں۔ یہ پہل قدمیاں نتائج میں بہتری کا سبب بنی ہیں۔
مختلف ریاستوں کے ذریعہ خاص اہم پہل قدمیاں انجام دی گئی ہیں اور حکمرانی اور اسکیم پر مبنی پہل قدمیوں کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں:
زمین اور وسائل سے متعلق حکمرانی: آندھرا پردیش نے ’آندھرا پردیش ریزروی پروجیکٹ (2021)‘ نافذ کیا، اور گڑبڑی سے مبرا ڈیجیٹل لینڈ ٹائٹلز جاری کرنے کے لیے ڈرونس مسلسل آپریٹنگ ریفرینس اسٹیشن (سی او آر ایس)، اور جی آئی ایس کا استعمال کیا۔ 2025 تک، 6901 مواضعات پر احاطہ کیا گیا، اور 81 لاکھ لینڈ پارسلز کا ازسر نو سروے کیا گیا اور تقریباً 86000 باؤنڈری کے تنازعات حل کیے گئے۔
بہار نے مکھیہ منتری سمیکت چوڑ وکاس یوجنا (2025) کا آغاز کیا تاکہ 22 اضلاع میں 1,933 ہیکٹر سے زیادہ مچھلی پر مبنی پیداوار کے تحت آبی زراعت کے لیے چوڑ زمینوں کو تیار کیا جا سکے۔
منڈی اصلاحات: مدھیہ پردیش کی سودا پترک پہل (2021) نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کاشتکاروں سے براہ راست ایم ایس پی پر مبنی خریداری کو یقینی بنایا، منڈی کی بھیڑ کو کم کیا اور ادائیگی کی شفافیت کو بہتر بنایا۔ دسمبر 2025 تک، 1.03 لاکھ سے زیادہ لین دین کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔
آندھرا پردیش کے ای- فارمارکیٹ پلیٹ فارم نے رائتھو بھروسہ کیندروں کے ذریعہ کاشتکاروں اور تاجروں کو جوڑا۔
آبی انتظام کاری: آسام ریاستی آبپاشی منصوبہ(2022) کا مقصد نئی اسکیموں اور شمسی پمپوں کے ذریعے آبپاشی کی کوریج کو بڑھانا ہے، جس سے 2024-25 تک مجموعی آبپاشی والے رقبے کو 24.28 فیصد زرعی اراضی تک بڑھانا ہے۔
اتر پردیش گراؤنڈ واٹر رولز (2020) نے پانی نکالنے کے ضابطے کو مضبوط کیا، 2025 تک زمینی پانی کے ریچارج میں معمولی اضافہ ہوا، حالانکہ نکالنے کی شدت میں بھی اضافہ ہوا۔
تکنالوجی اور ڈیجیٹل زراعت: کرناٹک کے ’فروٹس‘ پلیٹ فارم (2020) نے ایک یونیفائیڈ فارمر ڈیٹا بیس تیار کی جو ڈی بی ٹی، ایم ایس پی خریداری، اور فصلوں کے جائزے میں تعاون فراہم کرتا ہے، اور 55 لاکھ سے زائد کاشتکاروں اور مختلف اسکیموں پر احاطہ کرتا ہے۔
جھارکھنڈ نے جی آئی ایس پر مبنی کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر اینڈ ایگری اسٹیک اسکیم (2024) کا آغاز کیا تاکہ فارم کی سطح سے باخبر رہنے اور آب و ہوا سے آگاہی کی منصوبہ بندی کو قابل بنایا جا سکے، جس کے نتائج کے اشارے ابھی سامنے آر ہے ہیں۔ بہار کا چوتھا زرعی روڈ میپ (2023-28) پہلے کے منصوبوں پر قائم ہے، جو پہلے ہی مچھلی اور دودھ پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کا باعث بن چکے ہیں۔
مذکورہ بالا مثالیں اس امر کو اجاگر کرتی ہیں کہ کیسے زرعی حکمرانی میں ریاستی سطح کی اختراعات بھارت کی زرعی نمو کی داستان کو آگے بڑھا رہی ہے جس کے نتیجے میں مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
UR-ES-20
(रिलीज़ आईडी: 2220288)
आगंतुक पटल : 4