وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا انڈیا-جاپان اقتصادی فورم سےخطاب
Posted On:
29 AUG 2025 11:57AM by PIB Delhi
عزت مآب وزیراعظم اِشیبا جی،
ہندوستان اور جاپان کے کاروباری رہنما،
خواتین و حضرات،
نمسکار،
Konnichiwa!
میں آج صبح ہی ٹوکیو پہنچا ہوں۔ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میرے سفر کا آغاز کاروباری دنیا کے ممتاز افراد کے ساتھ ملاقات سے ہو رہا ہے۔
اور اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جن سے میری ذاتی شناسائی ہے۔ جب میں گجرات میں تھا، تب بھی، اور گجرات سے دلی آیاتو تب بھی۔ آپ میں سے بہت سے لوگوں سے میری قریبی شناسائی رہی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ مجھے آج آپ سب سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔
میں اس فورم میں شامل ہونے پر وزیر اعظم اشیبا کا خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان کے قیمتی خیالات کے لیے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ساتھیو،
جاپان ہمیشہ ہندوستان کی ترقی کے سفر میں ایک اہم شراکت دار رہا ہے۔ میٹرو سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، سیمی کنڈکٹرز سے لے کر اسٹارٹ اپس تک، ہر شعبے میں ہماری شراکت باہمی اعتماد کی علامت بن گئی ہے۔
جاپانی کمپنیوں نے ہندوستان میں 40 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ صرف گزشتہ دو برسوں میں 13 بلین ڈالر کی نجی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ جے بی آئی سی نے کہا ہے کہ ہندوستان سب سے امید افزا منزل ہے۔ جیٹرو کے مطابق 80 فیصد کمپنیاں ہندوستان میں اپنی سرگرمیاں بڑھانا چاہتی ہیں، اور 75 فیصد پہلے سے ہی منافع میں ہیں۔
یعنی ہندوستان میں سرمایہ صرف بڑھتا ہی نہیں بلکہ کئی گُنا بڑھتا ہے!
ساتھیو،
آپ سبھی پچھلے گیارہ برسوں میں ہندوستان کی بے مثال تبدیلی سے بخوبی واقف ہیں۔ آج ہندوستان میں سیاسی استحکام ہے۔ معاشی استحکام ہے۔ پالیسی میں شفافیت ہے، پیش گوئی کے قابل اعتماد امکانات ہیں ۔ آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور بہت جلد یہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہی ہے۔
عالمی ترقی میں ہندوستان کا حصہ 18 فیصد ہے۔ ہندوستان کی کیپٹل مارکیٹس اچھا منافع دے رہی ہیں۔ ایک مضبوط بینکنگ سیکٹر بھی ہے۔ کم مہنگائی اور کم شرح سود ہے۔ تقریباً 700 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔
ساتھیو،
اس تبدیلی کے پیچھے ہمارا‘‘اصلاح، کارکردگی اور تبدیلی’’ کا نقطہ نظر ہے۔ 2017 میں، ہم نے ایک ملک ایک ٹیکس شروع کیا۔ اب اس میں نئی اور بڑی اصلاحات لانے پر کام جاری ہے۔
چند ہفتے پہلے ہماری پارلیمنٹ نے بھی نئے اور آسان انکم ٹیکس کوڈ کی منظوری دی ہے۔
ہماری اصلاحات صرف ٹیکس کے نظام تک محدود نہیں ہیں۔ ہم نے کاروبار کرنے میں آسانی پر زور دیا ہے۔ ہم نے کاروبار کے لیے سنگل ڈیجیٹل ونڈو کی منظوری کا انتظام کیا ہے۔ ہم نے 45,000 ضوابط کو آسان بنایا ہے۔ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ڈی ریگولیشن پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
نجی شعبے کے لیے دفاع اور خلاء جیسے حساس شعبے کھول دئے گئے ہیں۔ اب ہم ایٹمی توانائی کے شعبے کو بھی کھول رہے ہیں۔
ساتھیو،
ان اصلاحات کے پیچھے ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کا ہمارا عزم ہے۔ ہمارے پاس عزم، یقین اور حکمت عملی ہے۔ اور دنیا نے اسے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ سراہا بھی۔
ایس اینڈ پی گلوبل نے دو دہائیوں کے بعد ہندوستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے۔
دنیا صرف ہندوستان کو نہیں دیکھ رہی ہے، وہ ہندوستان پر اعتماد کر رہی ہے۔
ساتھیو،
انڈیا-جاپان بزنس فورم کی رپورٹ ابھی پیش کی گئی۔ کمپنیوں کے درمیان کاروبارکو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا۔ میں آپ سب کو اس پیش رفت کے لیے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ہماری شراکت داری کے لیے، میں آپ کے سامنے عاجزی کے ساتھ کچھ تجاویز رکھنا چاہوں گا۔
سب سے پہلے مینوفیکچرنگ ہے۔ آٹو سیکٹر میں ہماری شراکت داری انتہائی کامیاب رہی ہے اور وزیر اعظم نے اسے بڑی تفصیل سے بیان کیا۔ ہم ایک ساتھ مل کر، وہی میجک ، بیٹریز، روبوٹکس، سیمی –کنڈکٹر، جہاز سازی اور نیو کلیائی توانائی میں بھی دوہرا سکتے ہیں۔ مل کر، ہم گلوبل ساؤتھ، خاص طور پر افریقہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں - آؤ، میک ان انڈیا، میک فار دی ورلڈ۔ ‘سوزوکی ’اور ‘ڈائکن ’کی کامیابی کی کہانیاں آپ کی کامیابی کی کہانیاں بھی بن سکتی ہیں۔
دوسرا ٹیکنالوجی اور اختراع ہے۔ جاپان ایک ‘‘ٹیک پاور ہاؤس’’ ہے۔ اور ہندوستان ایک ‘‘ٹیلنٹ پاور ہاؤس’’ ہے۔ ہندوستان نے اے آئی، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ، بایوٹیک اور خلا میں جرأت مندانہ اور پرجوش اقدامات کیے ہیں۔ جاپان کی ٹیکنالوجی اور ہندوستان کا ہنر مل کر اس صدی کے ٹیک انقلاب کی قیادت کر سکتے ہیں۔
تیسرا شعبہ گرین انرجی ٹرانزیشن ہے۔ ہندوستان تیزی سے 2030 تک 500 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہم نے 2047 تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ سولر سیل ہوں یا گرین ہائیڈروجن، شراکت داری کے بے پناہ امکانات ہیں۔
ہندوستان اور جاپان کے درمیان مشترکہ کریڈٹ میکانزم پر معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر کلین اور گرین مستقبل کی تعمیر میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔
چوتھا نیکسٹ جنریشن انفراسٹرکچر ہے۔ پچھلی دہائی میں، ہندوستان نے اگلی نسل کی نقل و حرکت اور لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے میں بے مثال ترقی کی ہے۔ ہماری بندرگاہوں کی گنجائش دوگنی ہو گئی ہے۔ 160 سے زیادہ ہوائی اڈے ہیں۔ 1000 کلومیٹر طویل میٹرو لائن بنائی گئی ہے۔ جاپان کے تعاون سے ممبئی اور احمد آباد ہائی سپیڈ ریل پر کام جاری ہے۔
لیکن ہمارا سفر یہیں نہیں رکتا۔ جاپان کی مہارت اور ہندوستان کا پیمانہ ایک بہترین شراکت قائم کر سکتا ہے۔
پانچویں نمبر پر اسکل ڈیولپمنٹ اور عوام سے عوام کے تعلقات ہیں۔ ہندوستان کا ہنر مند نوجوان ٹیلنٹ عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جاپان بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ آپ ہندوستانی ٹیلنٹ کو جاپانی زبان اور سافٹ اسکلس میں ٹریننگ دیں اور مل کر ایک ‘‘جاپان ریڈی’’ افرادی قوت تیار کریئے۔ایک مشترکہ افرادی قوت مشترکہ خوشحالی کا باعث بنے گی۔
ساتھیو،
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گا - ہندوستان اور جاپان کی شراکت داری اسٹریٹجک اور اسمارٹ ہے۔ معاشی منطق کے ذریعے ہم نے مشترکہ مفادات کو مشترکہ خوشحالی میں بدل دیا ہے۔
بھارت ، جاپانی کاروبار کے لیے گلوبل ساؤتھ تک پہنچنے کا اسپرنگ بورڈ ہے۔ مل کر ہم ایشیائی صدی کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی سمت دیں گے۔
انہیں الفاظ کے ساتھ، میں وزیر اعظم اشیبا جی اور آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
Arigatou Gozaimasu!
بہت بہت شکریہ۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن م
U.NO.5429
(Release ID: 2161786)
Visitor Counter : 29
Read this release in:
English
,
Hindi
,
Punjabi
,
Nepali
,
Marathi
,
Manipuri
,
Bengali
,
Assamese
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam