وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم نریندر مودی نے گجرات میں کیوڑیا  کےمجسمہ اتحاد پر  مشن  لائف کاآغاز کیا


وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل عالی جناب  انٹونیو گٹریس کے ساتھ باہمی میٹنگ میں شرکت کی

عالمی لیڈروں نے اس پہل کے لئے وزیراعظم کو مبارک باد دی اور حمایت کا  یقین دلایا

اس عزم سے  زبردست حوصلہ افزائی ملی ہے    کہ ہندستا ن نے  ماحولیات کے اعتبار سےمضبوط پالیسی اپنائی ہے : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کا بیان

جناب گٹریس کا  گوا سے آبائی  تعلق  ہے، گجرات میں ان کاخیر مقدم خاندان کے ایک کنبے کےایک رکن کے خیرمقدم کرنے جیسا ہے: وزیراعظم کا بیان

آب و ہوا میں جس طرح کی  تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اسی کے مطابق  پالیسی سازی  ہورہی ہے

آب و ہوا میں جس طرح کی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اس کے خلاف مشن لائف   کے ذریعہ جدوجہد  شروع کردی گئی ہےجس میں ہر شخص تعاون دے سکتا ہے

  ماحولیات کے  تحفظ کے تئیں مشن لائف ہمیں ایک رکن کے طور پر بنارہا ہے

مشن لائف کرہ ارض  پر بسنے والےلوگوں کو  کرہ ارض کے موافق بنا رہا ہے

کمی، دوبارہ استعمال اور پھر سے قابل استعمال اور مدور معیشت ہزاروں سال  سے ہندوستانیوں کی طرز زندگی کا حصہ رہا ہے

ہندوستان ایک ایسی اہم علامت بن گیا ہےکہ کس طرح  ترقی اور فطرت ملکر کام کرسکتے ہیں

جب کبھی بھی ہندوستان اور اقوام متحدہ نے مل کر کام کیا ہے دنیا کو ایک بہتر   مقام  بنانے کے نئےراستے  تلاش کئے گئے ہیں

Posted On: 20 OCT 2022 1:12PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے   اقوام متحدہ کے سکریٹری  جنرل عالی جناب انٹونیو گٹریس کے ساتھ ایک باہمی میٹنگ میں شرکت کی اور بعد میں گجرات میں کیوڑیا کے ایکتانگر  میں مجسمہ اتحاد میں مشن لائف کا آغاز کیا۔ وزیراعظم اور اقوام  متحدہ کے  سکریٹری جناب انٹونیو گٹریس نے مجسمہ اتحاد پر گلہائے عقیدت بھی نذر کئے۔ اقوام متحدہ کے تمام خطوں کی نمائندگی کرنے والے11 ملکو ں کے سربراہان کی طرف سے  مشن لائف کے آغاز پر  مبارک بادی کے  ویڈیو  پیغامات بھی نشر کئےگئے۔

اس موقع پر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ ہندستان،سکریٹری جنرل انٹونیو گٹریس  کے لئے ایک دوسرا گھر ہے اور انہوں نے اپنی نوجوانی کے دنوں میں  کئی مرتبہ ہندستان کا سفر کیا تھا۔انہوں نےمزید  کہا کہ ہندستان میں گوا کی ریاست کے ساتھ جناب گٹریس کا آبائی تعلق ہے۔ وزیراعظم نےہندستان کا دورہ کرنے  کےلئےجناب گٹریس کا شکریہ ادا کیا اور اس  دورے کو ایک اہم موقع قراردیا۔ وزیراعظم نے ا س بات کو اجاگر کیا کہ  گجرات میں ان کا خیر مقدم کرنا ایسا ہے جیسا کہ کنبے کے کسی فرد  کا خیر مقدم کیا گیا ہو۔

وزیراعظم نے اس حمایت پر خوشی کا اظہار کیا جو مشن لائف پہل  شروع کئےجانے پر حاصل ہوئی ہے۔  انہوں نے اس شاندار موقع پر مبار ک باد کےپیغامات بھیجنے کے لئے تمام ملکوں کے سربراہوں کاشکریہ ادا کیا۔ آب و ہوا میں تبدیلی  سے نمٹنےمیں اتحاد کی اہمیت کو  اجاگر کرتے ہوئے جناب مودی نےکہا کہ مشن لائف کا آغازمجسمہ اتحاد کےقریب ہورہی ہے جہاں سردار ولبھ بھائی پٹیل  جیسی عظیم  اور قابل فخر شخصیت کا قدآور مجسمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ  دنیا کا سب سے بڑامجسمہ  طے گئےاہداف کے حصول میں تحریک کا وسیلہ بنے گا۔

 وزیراعظم نے کہاکہ جب معیارات  غیر معمولی ہوتے ہیں تو ریکارڈ بھی بڑے بنتے ہیں۔  گجرات میں مشن لائف کےآغاز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے  وزیراعظم نے کہا کہ گجرات   ملک کی ایک ایسی پہلی ریاست ہے جس نے قابل تجدید توانائی اور  موسمیاتی تحفظ کی سمت میں  اقدامات شروع کئے ہیں۔  چاہے نہر پرشمسی پینل نصب کرنے کا معاملہ ہویا ریاست کے خشک سالی سے متاثرہ  علاقوں   کے لئےپانی کے تحفظ  کے پروجیکٹ شروع کرنے کا معاملہ ہو، گجرات ہمیشہ   ایک لیڈر اور پرانی روش کو توڑنےوالی ریاست کے طور پرہمیشہ آگے  رہا ہے۔

وزیر اعظم نے اس  عام  تصور کی طرف اشارہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف پالیسی  سازوں کی غوروفکر کا ایک ایسا مسئلہ ہے جو اس تمام اہم مسئلے کو صرف حکومت یا بین الاقوامی تنظیموں پر چھوڑ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے گردونواح میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں اور گزشتہ چند دہائیوں میں غیر متوقع آفات کا مشاہدہ کیا گیا۔ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو رہی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف پالیسی سازی سے بالاتر ہے اور لوگ خود  اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ انہیں ایک فرد، خاندان اور کمیونٹی کے طور پر ماحولیات میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

وزیر اعظم نے اظہار خیال کی کہ"مشن لائف کا منتر 'ماحول کے لیے طرز زندگی' ہے۔ مشن لائف کے فوائد پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ اس دھرتی کے تحفظ کے لیے لوگوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے، اور انہیں اس کا بہتر طریقے سے استعمال کرنا سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشن لائف موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کو عوامی بناتا ہے، جس میں ہر کوئی اپنی صلاحیت کے مطابق حصہ ڈال سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ "مشن لائف ہمیں وہ سب کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی میں ماحول کے تحفظ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ مشن لائف ای کا تصور یہ ہے کہ ہمارے طرز زندگی میں تبدیلیاں لا کر ماحولیات کو محفوظ کیا جا سکتا ہے"۔ انہوں نے بجلی کے بلوں کو کم کرنے اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے ہندوستان میں ایل ای ڈی بلب کو اپنانے کی مثال دی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ "اس سے بڑے پیمانے پر بچت اور ماحولیاتی فوائد حاصل ہوئے اور یہ ایک مستقل فائدہ ہے"۔

 اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ گجرات مہاتما گاندھی کی جائے پیدائش ہے، وزیر اعظم نے کہا "وہ ان مفکرین میں سے ایک تھے جنہوں نے بہت پہلے ماحولیاتی تحفظ اور فطرت کے مطابق زندگی گزارنے کی اہمیت کو سمجھا تھا۔ انہوں  نے ٹرسٹی شپ کا تصور تیار کیا۔ مشن لائف ہم سب کو ماحولیات کا ٹرسٹی بناتا ہے۔ ٹرسٹی وہ ہوتا ہے جو وسائل کے اندھا دھند استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک ٹرسٹی پروان چڑھانے والے کے طور پر کام کرتا ہے نہ کہ استحصال کرنے والے کے طور پر"۔

وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ مشن لائف پی 3 ماڈل یعنی پرو پلینیٹ پیو پل کے جذبے کو تقویت دیتا ہے۔ مشن لائف، زمین کے لوگوں کو کرہ ارض کے دوست لوگوں کے طور پر متحد کرتا ہے، ان سب کو اپنے خیالات میں یکجا کرتا ہے۔ یہ '  کرہ ارض کے طرز زندگی، کرہ ارض کے لیے اور کرہ ارض کے ذریعے' کے بنیادی اصولوں پر کام کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہی مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہندوستان میں ہزاروں سالوں سے فطرت کی پوجا کرنے کی روایت رہی ہے۔ ویدوں میں فطرت کے عناصر جیسے پانی، زمین، زمین، آگ اور پانی کی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے اتھرو وید کا حوالہ دیا اور پڑھا، ’’ماتا بھومیہ پوتروہم پرتھیویہ‘‘ یعنی زمین ہماری ماں ہے اور ہم اس کے بچے ہیں۔

وزیر اعظم نے 'تخفیف، دوبارہ استعمال اور ری سائیکل' کے تصور اور سرکلر اکانومی پر روشنی ڈالی اور ذکر کیا کہ یہ ہزاروں سالوں سے ہندوستانیوں کے طرز زندگی کا حصہ رہا ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس طرح کے رواج  عام ہیں جو ہمیں فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، "مشن لائف فطرت کے تحفظ سے متعلق ہر طرز زندگی کا احاطہ کرے گا، جسے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنایا، اور اسے آج ہمارے طرز زندگی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے" ۔

ہندوستان موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ آج، وزیر اعظم نے بتایا، "ہندوستان میں سالانہ فی کس کاربن  اخراج صرف 1.5 ٹن ہے، جبکہ عالمی اوسط 4 ٹن سالانہ ہے۔" اس کے باوجود، بھارت موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے سب سے آگے  آکرکام کر رہا ہے۔ جناب مودی نے اجولا یوجنا، ہر ضلع میں 75 ’امرت سروور‘ جیسے اقدامات اور دولت کے ضیاع پر بے مثال زور دینے کے بارے میں بات کی۔ آج ہندوستان کے پاس قابل تجدید توانائی کی دنیا میں چوتھی سب سے بڑی صلاحیت ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا "آج ہم ہوا کی توانائی میں چوتھے اور شمسی توانائی میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ پچھلے 7-8 سالوں میں ہندوستان کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں تقریباً 290 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے مقررہ تاریخ سے 9 سال قبل غیر قدرتی ایندھن کے ذرائع سے بجلی کی 40 فیصد صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف بھی حاصل کر لیا ہے۔ ہم نے پٹرول میں 10 فیصد ایتھنول ملاوٹ کا ہدف بھی حاصل کر لیا تھا اور وہ بھی آخری تاریخ سے 5 ماہ پہلے۔ نیشنل ہائیڈروجن مشن کے ذریعے، ہندوستان ماحول دوست توانائی کے ذریعہ کی طرف بڑھا ہے۔ اس سے ہندوستان اور دنیا کے بہت سے ممالک کو خالص صفر کاربن کے اخراج  کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی" ۔ ہندوستان اس بات کی بہترین مثال بن گیا ہے کہ کس طرح ترقی اور فطرت ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ہندوستان بھی دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے، ہمارے جنگلات کے رقبے میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور جنگلی حیات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ون سن، ون ورلڈ، ون گرڈ کی عالمی مہم پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اب اس طرح کے اہداف کے تئیں اپنے عزم کو مضبوط کرتے ہوئے دنیا کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید بڑھانا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا " قدرتی آفات سے بچاؤ کرنےوالے بنیادی ڈھانچے کے لئے اتحاد کی تشکیل کی قیادت کرتے ہوئے، ہندوستان نے ماحولیاتی تحفظ کے تئیں اپنے تصور کو دنیا تک پہنچایا ہے۔ مشن لائیف ای اس سلسلے کا اگلا قدم ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے اس حقیقت  کاذکرکیا کہ جب بھی ہندوستان اور اقوام متحدہ نے مل کر کام کیا ہے، دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کے نئے طریقے تلاش کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا، "ہندوستان نے یوگا کے عالمی دن کی تجویز پیش کی تھی، جس کی اقوام متحدہ نے حمایت کی تھی۔ آج یہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ جوار کے بین الاقوامی سال کی مثال دیتے ہوئے جس میں اقوام متحدہ کے لیے گہرا تعاون ملا، وزیر اعظم نے اظہار خیال کیا کہ ہندوستان دنیا کو اپنے روایتی اور ماحول دوست، موٹے اناج سے جوڑنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال جوار کا عالمی سال پوری دنیا میں زیر بحث آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا، "مشن لائف اسے دنیا کے کونے کونے، ہر ملک تک لے جانے میں کامیاب ہو گا۔" وزیر اعظم نے  اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا "ہمیں اس منتر کو یاد رکھنا ہے - پراکرتی رکشتی رکشتا، یعنی جو لوگ فطرت کی حفاظت کرتے ہیں، فطرت ان کی حفاظت کرتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے مشن لائف کی پیروی کرتے ہوئے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کریں گے" ۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، ایچ ای مسٹر انتونیو گٹیرس نے کہا کہ ہمارے  کرہ ارض کے لیے ان خطرناک اوقات میں، ہمیں تمام لوگو ں کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کے لیے طرز زندگی - لائف اقدام ضروری اور امید افزا سچائیوں کو اجاگر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہم سب، افراد اور کمیونٹیز، اپنے سیارے اور اپنے اجتماعی مستقبل کی حفاظت کے اقدامات کا حصہ بن سکتے ہیں اور ہمیں ہونا چاہیے۔ بالآخر، زیادہ کھپت آب و ہوا کی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع کو ہونے وا لے نقصان اور آلودگی کی سیارے کی  تہری ہنگامی صورتحال کی  بنیادی وجہ ہے۔ ہم اپنے طرز زندگی کو سہارا دینے کے لیے 1.6 سیارے زمین کے برابر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ زبردست تجاوززبردست عدم مساوات  کی وجہ سے اور زیادہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ لائف تحریک کے اقدامات پوری دنیا میں پھیل جائیں گے۔ انہوں نے کہا "میں اس عزم سے بے حد حوصلہ افزائی  پاتا ہوں جو ہندوستان نے ماحولیاتی طور پر صحیح پالیسیوں کو آگے بڑھانے اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر بڑھانے کے  لئے بین الاقوامی سولر الائنس کی قیادت کرتے ہوئے  کیا ہے ،.... ہمیں قابل تجدید انقلاب برپا کرنے کی ضرورت ہے اور میں اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ہندوستان کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔ مصر میں آئندہ ہونے والے سی او پی 27 کے بارے میں بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ کانفرنس پیرس معاہدے کے تمام ذمہ داروں پر اعتماد کو ظاہر کرنے اور کارروائی کو تیز کرنے کا ایک اہم سیاسی موقع پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، "آب و ہوا کے اثرات اور اس کی بڑی معیشت کے خطرے کے ساتھ، بھارت ایک اہم پل کا کردار ادا کر سکتا ہے"۔

مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے، مسٹر گوٹیرس نے کہا، "دنیا کے پاس ہر ایک کی ضرورت پورا کرنے کے لیے کافی وسائل ہیں لیکن ہر کسی کی لالچ کو پورا کرنے کے لئے  نہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں زمینی وسائل کے ساتھ حکمت اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے معیشتوں اور طرز زندگی کو تبدیل کرنے کا عہد کیا تاکہ ہم زمین کے وسائل کو منصفانہ طور پر بانٹ سکیں اور صرف وہی لیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ انہوں نے ہر ایک پر زور دیا کہ وہ ہندوستان پر بھروسہ کریں کیونکہ اس نے جی 20 کی صدارت سنبھالی ہے تاکہ اس کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کی روایت کے مطابق پائیداری کے ایک نئے دور کے آغاز میں مدد ملے۔

دیگرافراد کے علاوہ ،گجرات کے چیف منسٹر جناب بھوپیندر پٹیل، مرکزی وزیر خارجہ جناب سبھرامنیم جے شنکر اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل عزت مآب مسٹر انتونیو گوٹیرس بھی اس موقع بھی موجود تھے۔

پس منظر

مشن لائیف ای کا مقصد پائیداری کی طرف ہمارے اجتماعی نقطہ نظر کو منتقل کرنے کے لیے تین جہتی حکمت عملی پر عمل کرنا ہے۔ سب سے پہلے افراد کو ان کی روزمرہ کی زندگی میں آسان لیکن موثر ماحول دوست اصولوں پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا (مطالبہ)؛ دوسرا صنعتوں اور منڈیوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی طلب (سپلائی)  کے سلسلے میں تیزی سے  اقدام کرسکیں اور؛ تیسرا یہ ہے کہ حکومت اور صنعتی پالیسی پر اثر انداز ہوا جائے تاکہ پائیدار کھپت اور پیداوار (پالیسی) دونوں کی حمایت کی جا سکے۔

*************

ش ح ۔ س ب ۔ ف ر

U. No.11646



(Release ID: 1869508) Visitor Counter : 74