وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وارانسی میں اکھل بھارتیہ شکشا سماگم کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 07 JUL 2022 8:43PM by PIB Delhi

اتر پردیش کی گورنر  محترمہ آنندی بین پٹیل، یہاں کے مقبول وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی، میرے کابینہ کے ساتھی دھرمیندر پردھان، قومی تعلیمی پالیسی ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین، کے کستوری رنگن جی، حکومت کے دیگر وزراء، اس کانفرنس میں شریک تمام وائس چانسلرز، تعلیمی اداروں کے ڈائریکٹرز، تمام اساتذہ، ماہرین تعلیم اور خواتین و حضرات۔

‘آل انڈیا شکشا سماگم’  کا یہ پروگرام اسی پاک سرزمین پر منعقد کیا جا رہا ہے، جہاں آزادی سے پہلے ملک کی اتنی اہم یونیورسٹی قائم ہوئی تھی۔ یہ اجلاس آج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک اپنی آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے۔ امرتکال کے دوران ملک کے امرت سے متعلق عزائم کو پورا کرنے کی عظیم ذمہ داری ہمارے تعلیمی نظام پر، ہماری نوجوان نسل پر عائد ہوتی ہے۔  ہمارے یہاں یہ اپنشدوں میں بھی کہا گیا ہے – ودیا امرتم اشنوٹ۔ یعنی علم امرتو اور امرت کی طرف لے جاتا ہے۔ کاشی کو نجات کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ آزادی کا واحد راستہ علم کو سمجھا جاتا ہے اور اسی لیے تعلیم و تحقیق، سیکھنے اور سمجھنے کا اتنا  بڑا غوروخوض، جب علم کے مرکز کاشی میں ہو گا، تو اس سے یقیناً ملک کو ایک نئی سمت ملے گی۔ اس موقع پر میں مالویہ جی کے قدموں میں  سرجھکاتا ہوں اور آپ سب کو اس تقریب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ میں کاشی کا ایم پی ہوں۔ آپ میری کاشی میں آئے ہیں تو ایک طرح سے میں بھی میزبان ہوں۔ آپ ان سب کے ساتھ میرے مہمان ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو انتظامات میں زیادہ تکلیف نہیں ہوگی، سب نے انتظامات کرنے کی پوری کوشش کی ہوگی۔ لیکن پھر بھی اگر کوئی کوتاہی ہے۔ تو وہ قصور میرا ہو گا اور بحیثیت میزبان اگر کوئی آپ کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو میں اس کے لئے پیشگی معافی کا طلبگار ہوں۔

ساتھیو،

میں ابھی ایک تقریب میں آرہا ہوں۔ یہاں دوپہر کے کھانے کے لیے ایک مرکزی باورچی خانہ کا کام تھا۔ لیکن وہاں مجھے کاشی میں اپنے سرکاری اسکول کے 10-12 سال کے بچوں سے گپ شپ کرنے کا موقع ملا اور وہاں سے نکل کر میں ان کی باتیں سننے اور آپ کو بتانے آیا ہوں۔ اور مجھے یہ کہنا ضروری ہے، میں چاہوں گا کہ، جب میں اگلی بار آؤں، تو اس اسکول کے بچے جن سے میں ملا ہوں۔ میں اس کے اساتذہ سے ملنا چا ہو گا۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ خیال میرے ذہن میں کیوں آیا ہوگا۔ میرے ذہن پر ایسا اثر ہوا، مجھے وہ موقع صرف  15-10 منٹ کے لیے ملا، لیکن جو صلاحیت ان بچوں میں تھی، جو ٹیلنٹ تھا، جو اعتماد تھا اور جو تنوع تھا اور وہ بھی سرکاری اسکول کے ہمارے عام گھرانوں کے بچوں کا۔ وہ ٹیلنٹ جو وہ بچے وہاں پیش کر رہے تھے، آپ کے خاندان میں بھی، اگر آپ کاپوتا یا نواسہ آپ کے سامنے ایسا ٹیلنٹ رکھتا ہے، تو جب بھی گھر میں مہمان آئے گا، آپ اسے کھڑا کر دیں گے، ذرا دیکھو، مہمان آئے۔ تم فلاں چیز سناؤں۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ نسل کی یہ صلاحیت ان کی قابلیت ہے جب وہ وہاں پہنچیں گے جہاں آپ ہیں، اس  عہدے پر نہیں ، بلکہ ادارے میں ۔ آپ وہاں نہیں ہوں گے، آپ ایسا انسٹی ٹیوٹ بناکر جائیں گے کہ اس ٹیلنٹ کے بچوں کی وہاں  آنے والے دنوں میں  کمی محسوس کی جائے گی۔ یہ آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگلے تین دن تک یہاں ہونے والی بحث ومباحثہ قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کو موثر سمت دے گی۔

ساتھیو،

آپ سب جانتے ہیں کہ قومی تعلیمی پالیسی کا بنیادی مقصد تعلیم کو تنگ نظری سے نکال کر 21ویں صدی کے جدید نظریات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں ذہانت کی کبھی کمی نہیں رہی۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں ایسا نظام بنایا گیا جس میں تعلیم کا مطلب صرف اور صرف نوکری سمجھا گیا۔ تعلیم میں یہ خرابی انگریزوں نے غلامی کے دور میں، اپنی ضروریات پوری کرنے، اپنے لیے نوکر طبقہ تیار کرنے کے لیے پیدا کی تھی۔ آزادی کے بعد اس میں ہلکی سی تبدیلی آئی لیکن کافی تبدیلی رہ گئی۔ اب انگریزوں کا بنایا ہوا نظام نہ کبھی ہندوستان کی بنیادی فطرت کا حصہ تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کے پرانے دور کو دیکھیں تو ہم پائیں گے کہ ہمارے یہاں تعلیم میں مختلف فنون کا تصور تھا۔ اور بنارس، میرا کاشی اس کی زندہ مثال ہے۔ بنارس صرف اس لیے علم کا مرکز نہیں تھا کہ اس میں اچھی دانش گاہ  اور تعلیمی ادارے تھے۔ بنارس علم کا مرکز تھا کیونکہ یہاں کا علم اور تعلیم کثیر جہتی تھی۔ تعلیم میں یہ تنوع ہمارے تعلیمی نظام کے لیے بھی تحریک کا باعث ہونا چاہیے۔ ہمیں صرف ڈگری ہولڈر نوجوانوں کو ہی تیار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ملک کو آگے بڑھنے کے لیے جو بھی انسانی وسائل درکار ہیں، وہ ہمارے تعلیمی نظام کو، ہمارے ملک کو مہیا کئے جائیں ۔ اس عزم کی قیادت ہمارے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو کرنی ہے۔ ہمارے اساتذہ جتنی تیزی سے اس جذبے کو  بروئے کار  لائیں گے۔ اتنا ہی ملک کے نوجوان طلبہ اور ملک کے مستقبل کو فائدہ پہنچے گا۔

ساتھیو،

نئے ہندوستان کی تعمیر کے لیے، نئے نظاموں کی تشکیل، جدید نظاموں کو شامل کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جو پہلے کبھی نہیں ہوا، جن مقاصد کو حاصل کرنے کا ملک نے تصور بھی نہیں کیا تھا، وہ دراصل آج کے ہندوستان میں ہمارے سامنے پورے ہو رہے ہیں۔ اب آپ دیکھیں، نہ صرف ہم کورونا کی اتنی بڑی وبا سے اتنی تیزی سے اُبھر پائے ، بلکہ آج ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ آج ہم دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم ہیں۔ خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں، جہاں پہلے صرف حکومت ہی سب کچھ کرتی تھی، اب پرائیویٹ عناصر کے ذریعے نوجوانوں کے لیے ایک نئی دنیا تیار کی جا رہی ہے۔دوستو، پورا خلاء  ان کے بہت قریب آ رہاہے۔ ملک کی بیٹیوں کے لیے، خواتین کے لئے  پہلے جن شعبوں کے  دروازے بند رہا کرتے تھے، آج وہ شعبے بیٹیوں کے ہنر کی مثالیں پیش کر رہے ہیں۔

ساتھیو،

جب ملک کا مزاج ایسا ہو، جب ملک کی رفتار ایسی ہو تو ہمیں بھی کھلی پرواز کے لیے اپنے نوجوانوں کو نئی توانائی سے آراستہ کرنا ہو گا۔ اب تک اسکول، کالج اور کتابیں طے کرتی تھیں کہ بچوں کو کس طرف جانا ہے۔ لیکن قومی تعلیمی پالیسی کے بعد اب نوجوانوں پر ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہماری ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے کہ ہم نوجوانوں کے خوابوں اور پرواز کی مسلسل حوصلہ افزائی کریں، ان کے ذہن کو سمجھیں، ان کی امنگوں کو سمجھیں، تب ہی ہم  ان لوگوں کے لئے ضروری وسائل  فراہم کر سکیں گے۔ کچھ بھی سمجھے بغیر اپنی رائےمسلط کرنے کا دور چلا گیا دوستو۔ ہمیں اس بات کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا ہے، ہمیں خود کو ایک جیسی تعلیم، ایک جیسے اداروں کا نظام، انسانی وسائل کی ترقی  کے ایک ہی مزاج سے آراستہ کرنا ہے۔ نئی پالیسی میں پوری توجہ بچوں کی صلاحیتوں اور انتخاب کے مطابق انہیں ہنر مند بنانے پر مرکوز ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو ہنرمند، پراعتماد، پریکٹیکل،  سوچنے سمجھنے والے ہونا چاہیے، تعلیمی پالیسی اس کے لیے زمین تیار کر رہی ہے۔

ساتھیو،

ملک میں آنے والی تیز رفتار تبدیلیوں کے درمیان، میں ایک مثال دوں گا کہ تعلیمی نظام اور اس سے جڑے آپ تمام حضرات کا کردار کتنا اہم ہے۔  میں اپنے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے دور کے آغاز کا ایک تجربہ بتاؤں گا۔ میں نیا وزیر اعلیٰ بن گیا تھا، حکومت کی دنیا سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا، میں دور تھا، اچانک کام آگیا۔ تو میرا ایک پروگرام تھا۔ میں نے اپنے تمام سیکرٹریوں سے کہا کہ آپ اپنے محکمے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور یہ بتائیں  کہ پانچ سال میں اپنا شعبہ آپ  کہاں تک  لے جائیں گے؟  کس طرح لے جائیں گے  اور اس سےآپ کیا حاصل کریں گے؟ اس سے گجرات کے عام آدمی کی زندگی کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ اپنے وژن اور مکمل تفصیلات کے ساتھ اس کی ایک پریزنٹیشن بنائیں۔ میں نے یہ بات تمام محکموں کے سیکرٹریوں کو بتائی اور ہر روز شام پانچ بجے میری کونسل آف منسٹر کے تمام وزراء اور تمام سیکرٹریزاور ہم بیٹھتے تھے اور ایک سیکرٹری آ کر اپنے ڈپارٹمنٹ کی  مکمل پریزنٹیشن دیتا تھا۔ اس کے بعد  اس پر مباحثہ ہوتا تھا۔ وہ تمام سیکرٹریز جو پہلے زراعت کے سیکرٹری رہ چکے تھے، وہیں بیٹھے ہیں۔ سب کی اپنی اپنی رائے تھی۔ بحثیں ہوتی تھیں، ہمارے وزیر بھی بحث کرتے تھے۔ میں سنتا رہتا تھا  اور سیکھنے کی کوشش  کرتا تھااور میرا یہ پروگرام تقریباً ایک ماہ تک چلتا رہا اور یہ پروگرام  شام 5 بجے شروع ہوتا تھا، رات 10 بجے بھی  گھر جانے کی اجازت ملنا مشکل ہوتا تھا اور پروگرام بہت، بہت شدت سے چلا اور شاید ایسا ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہو گا۔ تو میں نے یہاں انڈسٹری سے متعلق ایک پریزنٹیشن دی تھی۔  کہ وہ آنے والے دنوں میں صنعت کار کیا کیا دیکھیں گے، آنے والے دنوں میں صنعتی ترقی کیسی ہوگی۔ چنانچہ جیسے ہی سارا پروگرام ختم ہوا سیکرٹری تعلیم میرے پاس آئے۔ کیونکہ دوسرے دن سیکرٹری تعلیم کا پروگرام تھا۔ انہوں نے کہا جناب میں کل نہیں کر سکوں گا۔ میں نے کہا کیا بات کر رہے ہو؟ ایک مہینہ پہلے تیاری کرنے کو کہا اور تم آخری لمحے  میں کہہ رہے ہو، میں نہیں کر پاؤں گا۔تب  انہوں نے کہا کہ میں تیار ہوں اور اس کام کو کر سکتا ہوں۔ لیکن صنعتی ترقی کی جو پیش رفت میں نے آج دیکھی، مجھے لگتا ہے کہ ہمارا ان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ہم بائیں جا رہے ہیں، وہ دائیں جا رہے ہیں۔ اس لیے مجھے اپنی  پریز یٹیشن کو اس کی روشنی میں نظر ثانی کرنے کے لیے وقت درکار ہے، تب ہی ہم اکیڈمی اور صنعت میں ایک ساتھ مل کر ایک جامع ترقی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ ہمیں بھی اب پوری دنیا کے بارے میں جاننا چاہیے، ہر یونیورسٹی کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ دنیا کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، کیسی جا رہی ہے۔ اس میں ہمارا ملک کہاں ہے؟ اس میں ہمارے نوجوان کہاں ہیں؟ آنے والے 15-20 سالوں میں ہندوستان ان بچوں کے ہاتھ میں ہوگا، میں انہیں کیسے تیار کر رہا ہوں۔ یہ ہماری بڑی ذمہ داری ہے دوستو۔ اور ان ہی خطوط پر ہمارے تمام تعلیمی اداروں کو بھی اپنے آپ سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مستقبل کے لیے تیار ہیں؟ میں آج کا دن امتحان دے رہا ہوں۔ میں کانووکیشن کر رہا ہوں، کیا یہ میرا کام ہے جس پوزیشن پر ہوں، کیا یہ میرا کام ہے کہ میں ایسا ادارہ بناؤں کہ آج جو بچہ میرے سکول، کالج میں آئے گا، جب آزادی کے 100 سال ہوں گے، جب اس نے بہت اہم کردار ادا کیا ہوگا تو میرا ملک وہاں پہنچے گا، میں آج وہ نظام بنا کر جاؤں گا۔ آپ سب نے حال کو سنبھالنا ہے، جو کام پہلے کیا ہے اُسے آپ کو آگے بڑھانا ہے، لیکن جو کام آج کر رہے ہیں، انہیں صرف مستقبل کے لیے سوچنا ہو گا اور مستقبل کے لیے سہولیات کوترقی دینا ہوگی۔ کیونکہ آج بچوں کے تجسس ایسے ہیں جن کے جوابات میں نے صرف بچوں کو بتائے ہیں جن سے ملنے آیا ہوں۔ آپ کو گھر میں پتہ چل گیا ہو گا کہ آپ کے چھوٹے پوتے بھی آپ سے سوال کر رہے ہوں گے، آپ کے چھوٹے بچے آپ سے سوال کر رہے ہوں گے، آپ کو سوچنا ہو گا، ارے بھائی یہ کہاں سر کھا رہا ہے۔ وہ سر نہیں کھا رہاآپ کا،  آپ اسے جواب دینے کے قابل نہیں، دوستو، بس۔ یہ تجربہ ہر کسی کے گھر میں دوہرایا گیا ہوگا۔ وہ گوگل پر 10 چیزوں کے سوال پوچھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں، گوگل یہ کہہ رہا ہے۔ یہ بچہ  آپ کو غلط ثابت کرتا ہے۔ اب یہ بچے دس سال بعد تمہاری یونیورسٹی میں آئیں گے تو تمہارا کیا بنے گا؟ ہمیں ابھی سے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ آپ گھر میں بھی اپنے بچوں کے ساتھ عدم مطابقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب سکول، کالج کیمپس کے اندر نوجوان نسل کی بڑی تعداد موجود ہو گی۔ اس طرح نئی سوچ  کے ساتھ سامنے آئی ہوگی اور ہم وہاں اس کا ساتھ دینے کے قابل نہیں ہوں گے،  تو ان کے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہو گی، اور اس لیے ضروری ہے کہ ہم مستقبل کو جانیں، سمجھیں اور نظام کو تیار کریں۔ میں ڈیجیٹل انڈیا مہم کے تحت چند دن پہلے گاندھی نگر میں ایک نمائش دیکھنے گیا تھا۔ سرکاری سکولوں کے بچے تھے۔ بارہویں، دسویں گیارہویں کے بچے تھے۔ وہاں بچوں نے جو پراجیکٹس تیار کیے تھے، جو آئیڈیاز رکھے تھے، میں انہیں سمجھنے کی بہت کوشش کر رہا تھا، اور میں ان بچوں کے کام سے بہت متاثر ہوا۔ اتنی چھوٹی عمر میں ایسی تحقیقی صلاحیت، ایسی اختراعات سن کر میں دنگ رہ گیا۔ وہاں بہت سے بچے بائیوٹیک اور جینیٹکس میں دلچسپی رکھتے تھے۔ جب اس کی کلاس میں سائنس کے بنیادی اصول پڑھائے جا رہے تھے، وہ جین میپنگ، افینیٹی کرومیٹوگرافی اور جینیاتی لائبریری پر مبنی ٹولز کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اب سوچو کتنا بڑا فرق ہے۔ ایک بچےکا کام دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ جب وہ اعلیٰ تعلیم تک پہنچ جائے گا تو کیا ہمارے ادارے اس کی جدید سوچ کے مطابق تیار ہوں گے؟ اگر ہم ان بچوں کی اعلیٰ تعلیم تک پہنچنے کا انتظار کریں تو اس وقت تک دنیا بہت آگے نکل جائے گی دوستو۔ اس لیے ہمیں اب سوچنا ہو گا کہ  جس عمر میں بھی بچوں میں تحریک اور تجسس پایا جائے، اسی عمر میں انہیں رہنمائی اور وسائل فراہم کئے جائیں ہمیں اس پر سوچنا ہوگا ہمیں اپنے ادارے میں ایسانظام تیار کرنے کی سمت میں کام کرنا چاہئے۔

ساتھیو،

رواں ماہ کے آخر میں 29 جولائی کو تعلیم سے متعلق قومی پالیسی کو دو سال مکمل ہونے جا رہے ہیں۔ اور ابھی دھرمیندر جی بتا رہے تھے کہ کافی سوچ بچار کے بعد یہ تعلیمی پالیسی بنائی گئی ہے۔ کستوری رنگن جی نے بہت اچھی قیادت دی، ان کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔ اور  اتناتنوع سے مالا مال  ملک ہونے کے ساتھ ، قومی تعلیمی پالیسی کا اس طرح خیرمقدم کرنا اپنے آپ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ لیکن اس کی خاصیت دیکھیں، اس کو بنانے میں کافی غورو خوض کیا گیا ،یہ عام طور پر حکومت کا یہ مجاز ہوتا ہے کہ ایک  دستاویز تیار کرلی جاتی ہے اور دستاویز کو وقت کے رحم و کرم پر اور کچھ افراد  کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ایک دستاویز جو چند دنوں کے لیے آپ کی میز کی زینت بنتی ہے۔ پھر اسے بھی میز سے ہٹا دیا جاتا ہے، ایک نئی دستاویز آ کر اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ بات وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کو بھی اس کا تجربہ ہے، یہاں بیٹھے لوگوں کو بھی ہے۔ ہم نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ ہم نے اس قومی تعلیمی پالیسی کو ہر لمحہ زندہ رکھا ہے۔ میں نے خود شاید اتنے کم وقت میں کم از کم 25 سیمینارز میں شرکت کی ہے، بلکہ 25 سے زیادہ اور میں اس موضوع پر بات کر رہا ہوں۔ اس رپورٹ کو دینے کے بعد، کستوری رنگن خود بھی مسلسل طور پر  ، زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اس کی وضاحت درکار ہے، اس کے پیچھے کیا وژن ہے، پس منظر کی معلومات وہ بیان کر رہے ہیں ۔ پوری حکومت کے تمام محکمے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ 30 سال بعد آنے والی دستاویز صرف کاغذی  کے ڈھیر کی صورت میں  ہم تک نہ پہنچے۔ جب آپ یہاں تین دن تک غور وفکر کریں گے تو اس کی جو بہت سی باریکیاں ہیں،اُنہیں آپ نے ایک ایک  صفحہ کے اندر پڑھ لیا ہوگا، لیکن اب یہ ایک نئے انداز میں آپ کے سامنے آئے گا۔ اس لیے اپنی یونیورسٹی کے اندر بھی اسی طرح کی مسلسل  غورو فکر کے پروگراموں کا  منصوبہ بنا کر آپ کو یہاں سے جانا ہوگا۔ آپ یہاں سے صرف یہ  باتیں سن کر نہ چلے جائیں، بلکہ  باقی لوگ جو آپ سے وابستہ ہیں،  وہ بھی اسی طرح  غورو فکر کریں، اس میں سے مزید  غور وفکر کی راہ  نکالیں، تب ہی فائدہ ہوگا اور اس کے نفاذ کے سلسلے میں  ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے، ان کی تمام باریکیوں پر ہمیں توجہ دیتے رہنا چاہیے۔

ساتھیو،

آج جب کوئی کام اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے تو مسائل کا حل بھی تیزی سے نکلتا ہے۔ مسئلہ پر غور کرتے ہوئے، یہ سوچنا کہ میں اس میں کیاکروں، اس طریقہ سے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ دوستو، ان دو سالوں میں ملک نے قومی تعلیمی پالیسی کو لاگو کرنے کی سمت میں بہت سے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ اس دوران رسائی، معیار اور مستقبل کی تیاری جیسے اہم موضوعات پر ورکشاپس نے بھی کافی مدد کی ہے۔ میں نے ملک اور بیرون ملک کے ماہرین تعلیم سے جو بات چیت کی، ملک کے وزرائے تعلیم کے ساتھ جو بات چیت ہوئی، اس نے بھی اپنی رفتار کو آگے بڑھایا اور ابھی کچھ دن پہلے ہمارے دھرمیندر جی نے ملک بھر کے وزیر تعلیم کو بھی بلایا ہے۔   جس طرح  اس وقت ہم آپ کے ساتھ بحث کر رہے ہیں، میں نے ان کے ساتھ  بھی کی تھی۔مسلسل کوششیں جاری ہیں کہ ہم ان چیزوں کو سو فیصد حقیقی کیسے بنا سکتے ہیں؟ ریاستی حکومتوں نے بھی اپنی سطح پر اس سمت میں کئی اہم قدم اٹھائے ہیں اور آج سب کی کوششوں کا   ہی  یہ نتیجہ ہے کہ ملک بالخصوص ملک کے نوجوان اس بڑی تبدیلی میں حصہ دار بن رہے ہیں۔

ساتھیو،

نئی قومی تعلیمی پالیسی کے لیے ملک کے تعلیمی شعبے میں ایک بڑے بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر بھی کام کیا گیا ہے۔ آج ملک میں بڑی تعداد میں نئے کالج کھل رہے ہیں، نئی یونیورسٹیاں کھل رہی ہیں، نئے آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم قائم ہو رہے ہیں۔ 2014 کے بعد سے اب تک ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد میں 55 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے اس سال سے یونیورسٹیوں میں یکساں معیار کے لیے کامن یونیورسٹی انٹرینس ٹیسٹ (CUET) کو بھی نافذ کیا گیا ہے۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی اصلاحات کی گئی ہیں۔ ملک کی ان کوششوں کا نتیجہ ہے کہ عالمی یونیورسٹی رینکنگ میں ہندوستانی اداروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف شروعات ہے۔ ہمیں اس سمت میں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

ساتھیو،

میں اس بات سے بھی مطمئن ہوں کہ قومی تعلیمی پالیسی اب مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی راہیں کھول رہی ہے۔ اسی سلسلے میں سنسکرت جیسی قدیم ہندوستانی زبانوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ میں یہاں دیکھ رہا ہوں کہ اس تقریب میں بھی سنسکرت سے وابستہ لوگوں کے لیے خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ کاشی کی سرزمین سے یہ آغاز یقیناً ہندوستانی زبانوں اور ہندوستانی عزم کو نئی توانائی بخشنے کا کام کرے گا۔

ساتھیو،

مجھے پورا یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ہندوستان دنیا میں عالمی تعلیم کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ ہندوستان نہ صرف دنیا کے نوجوانوں کے لیے تعلیم کی منزل بن سکتا ہے، بلکہ دنیا کے ممالک میں بھی ہمارے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار پر تیار کرنا ہوگا۔ اس سمت میں ملک بھی مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کرنے کے لیے نئے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں۔ تقریباً  180 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی امور کے لیے خصوصی دفاتر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ سب اس سمت میں نہ صرف ضروری بات چیت کریں بلکہ ہندوستان سے باہر کے انتظامات سے بھی واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ نئے نظام ہندوستان کے تعلیمی نظام کو بین الاقوامی تجربات سے جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔

ساتھیو،

ان تین دنوں میں آپ لوگ الگ الگ سیشنز میں بہت سے اہم موضوعات پر بات چیت کرنے والے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ کی اس بات چیت سے ملک کے لیے مختلف شعبوں میں نئی ​​راہیں کھلیں، نوجوان نسل کی رہنمائی ہو۔ دنیا کے کئی ممالک نے مختلف شعبوں میں جس رفتار کو پکڑا ہے، اس میں وہاں کی یونیورسٹیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ یونیورسٹیاں سماجی، اقتصادی اور سائنسی موضوعات پر مسلسل تحقیق کرتی ہیں، حکومت کو تجاویز پیش کرتی ہیں۔ یہی کلچر، یہی طریقہ کار ہمیں اپنے یہاں بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نوجوان نسل کو ملک اور ملک کی پالیسیوں کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ اس کے امکانات سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ میرا ہمیشہ سے خیال رہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی اختراعی سوچ اور نئے خیالات سے زیادہ سے زیادہ نئے نظام کو بھی جوڑا جانا چاہیے۔ اس سے نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے، نئے آئیڈیاز آتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب اس پر بھی بات بات کریں، روڈ میپ تیار کریں۔ یونیورسٹیاں مختلف شعبوں میں حکومت کے ساتھ کس طرح شراکت کر سکتی ہیں اس پر بھی سوچنا چاہیے۔ آپ کو اپنی مہارت کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ آپ جس شعبے سے وابستہ ہیں اس کا سروے اور مطالعہ کریں، حکومت کو تجاویز دیں۔ آپ کی یونیورسٹی کا جو  50-100 کلومیٹر کو جو دائرہ ہوگا، وہاں کے لوگوں کو کن مسائل کا سامنا ہے؟ اس کا حل کیا ہے؟ وسائل کیا ہیں؟ ان وسائل کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟ وہاں کے عام لوگوں کا رویہ کیا ہے؟ آپ کے طلباء کو ایک پروجیکٹ ملے گا۔ مقامی طور پر اچھی رپورٹ بنے گی، حکومت کی کوئی اسکیم نافذ ہو تو اس کے فائدے کیا ہیں، اس کی کیا خامیاں ہیں، بہتری کے کیا امکانات ہیں، اچھی رپورٹ بن سکتی ہے۔ اگر حکومت کے اندر ان تمام باتوں کو سنجیدگی سے لیا جائے تو بہت بڑا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں گجرات میں تھا، ایک بار سردار پٹیل یونیورسٹی میں میرا پروگرام تھا۔ سردار پٹیل یونیورسٹی کے لوگوں نے دیہی ترقی میں کافی تحقیق کرنے کے بعد کچھ کتابیں تیار کی تھیں۔ اس دن انھوں نے مجھے تحفہ دیا۔ میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا، مجھے بہت دلچسپی محسوس ہوئی۔ میں نے محکمے کو کام دے دیا۔ میں نے کہا بھائی یہ کام تو طلبہ نے کیا ہے۔ آپ ذرا دیکھیں کہ حکومت جہاں جارہی ہے اور یہ بچے جو کہہ رہے ہیں، کتنا فرق ہے۔ اور آپ حیران ہوں گے کہ ان میں سے بہت سی چیزوں نے دیہی ترقی کے میرے کام میں میری اتنی مدد کی۔ طلباء نے اساتذہ کا کام کیا، جس کا فیصلہ حکومت میں ایئرکنڈیشن روم میں بیٹھ کر کرنا مشکل ہے۔ ہماری یہ نسل جس شعبے میں جاتی ہے، بہت اچھا اس کا عرق نکال کر لے آتی ہے۔ اور کچھ چیزوں کا تصور کرنے کا بھی فائدہ ہوا ہو، یہ بھی ذہن میں آتا ہے، اور مجھے یقین ہے۔ اب جیسے ہمارے یہاں زرعی یونیورسٹی ہے۔ اب ایگریکلچر یونیورسٹی لیب میں یہی کرتی ہے۔ چاہے کتنا ہی اچھا کام کرے، لیکن اس کو سرٹیفکیٹ بھی مل جائے، اس کا مضمون بھی انٹرنیشنل میگزین میں شائع ہوجائے۔ اس کو ڈگری بھی مل جائے، لیکن وہ تو معاملہ لیب میں ہی رہ جائے گا۔ ہمارے پاس لیب ٹو لینڈ کا روڈ میپ بھی ہونا چاہیے۔ جو لیب میں ہے وہ لینڈ میں بھی تو اترنا چاہیے نا۔ اور جیسے لیب ٹو لینڈ ہونا چاہئے ویسے ہی لینڈ پر یونیورسٹی میں نہیں گئے ایسے لوگوں کا تجربہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اور جو لینڈ کا تجربہ ہے اس کو لیب میں بھی لانا چاہئے۔ اور لیب میں وہ کیسے آئے؟ ریسرچ کو کیسے مضبوط کرے؟ روایتی تجربے کو کیسے تقویت دی جائے۔ یہ سوچ کر ہم قدم اٹھاسکتے ہیں۔  اسی طرح، اگر ہمارے پاس روایتی ادویات یعنی آیوروید کا علم ہے، تو آپ بھی اسے چیلنج نہیں کریں گے، میں بھی نہیں کروں گا۔ لیکن دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جو روایتی ادویات میں ہم سے آگے نکل رہے ہیں۔ ایسا اس لئے  کیونکہ  آج کے دور میں نتیجہ اور ثبوت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم یہ کہیں کہ بھئی ہمیں یہ جڑی بوٹی لیتے ہوئے فائدہ ہوتا ہے، نتیجہ حاصل ہوتا ہے، لیکن ہم مان کر چلیں اور سبھی یونیورسٹی کے طلبہ میرا کچھ نہ یہاں سے سن کرکے جائیں، چلے گا، دو الفاظ میرے سن کر یہاں سے جائیے گا اور اس پر غور کیجئے گا۔ ہمیں نتائج تو مل جاتے ہیں لیکن ثبوت نہیں ہوتے ہیں۔ اور اس لیے ہمارے پاس نتائج کے ساتھ ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس ڈیٹا بیس ہونا چاہیے۔ ہمارے پاس اس کا مکمل تفصیلی ریکارڈ ہونا چاہیے کہ تبدیلی کہاں سے اور کیسے ہوئی ہے۔ ہم جذبات کی بنیاد پر دنیا نہیں بدل سکتے ہیں۔ دنیا کے سامنے اسے ماڈل کے طور پر پیش نہیں کرسکتے ہیں۔ اور اس لئے نتائج ہونے کے باوجود بھی ثبوت کی ضرورت آج کی دنیا کو بہت ضروری ہے۔ اور اس لئے اب ہماری یونیورسٹیاں جن نتائج سے ہم واقف ہیں، لیکن جس میں ثبوت کی کمی ہے، ان ثبوتوں کو پورا کرنے کے لیے طریقہ کار بنانا، نظام تیار کرنا، روایات تیار کرنا، یہ سب کچھ آپ سب ساتھیوں کے تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ہماری یونیورسٹیاں بھی شواہد کی بنیاد پر روایتی ادویات پر تحقیق کا یہ کام بہت اچھے طریقے سے کرسکتی ہیں۔

ساتھیو،

ہمارے ملک میں ہماری آبادیاتی تنوع ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہم بحث بھی کرتے ہیں، لیکن کیا کوئی یونیورسٹی ہے جس نے اس کا مطالعہ کیا ہو کہ آخر یہ ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ ہے کیا ؟ جب دنیا میں ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کا موقع آیا تھا تو اس دنیا کے مقصد نے کس طرح سے قدم اٹھائے تھے؟ وہاں کی یونیورسٹی کیسے برتاؤ کرتی تھی اور اس کا فائدہ کیسے اٹھایا۔ کئی بار ہم کہتے ہیں ، دہراتے رہتے ہیں، لیکن ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کے امکانات پر ہم کیوں نہ کام کریں؟ ہم اس صلاحیت کو آنے والے 20، 25، 30 سالوں کے لیے ملک کو کیسے دے سکتے ہیں۔ ایسے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ اب دنیا کے ممالک کی حالت دیکھئے۔ خوش حال سے خوش حال ملک بھی اس بات سے پریشان ہیں کہ وہاں کے لوگوں کی عمر بہت زیادہ  بڑھ رہی ہے۔ بڑھاپے کا مسئلہ ہے اور نوجوان نسل نہ کے برابر ہورہی ہے۔ ایک بہت بڑا حصہ بزرگوں کا ہے۔ ان کو جو دنیا چلانی ہے وہ اس کو چلا نہیں پاتے ہیں۔ اب یہ چکر ایسا ہے کہ اس میں ہر ایک کو آنا ہی آنا ہے۔ آج ہمارا ملک نوجوان ہے، کبھی ہمارا ملک بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس میں نوجوان کم ہوں گے، بوڑھے زیادہ ہوں گے، وہ دن آنے والے ہیں۔ کیا دنیا میں ابھی سے کوئی ہے جو اس قسم کے بڑھاپے سے پیدا ہونے والے حالات کو حل کرنے کے طریقے تلاش کیے ہوں؟ نوجوانوں کی عدم موجودگی میں وہ مسائل کیسے حل کر رہے ہیں۔ کون سا میکانزم بنایا ہے کہ معاملات بہت آسانی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ سب سوچنے کا کام میری یونیورسٹیز کی فطری نوعیت کی ہونی چاہیے۔ یونیورسٹی میں آپ کے لیے ابھی سے، میں مانتا ہوں ریسرچ اور کام کرنے کی اچھی گنجائش ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے جن بچوں کو یہ پروجیکٹ دیتے ہیں، ان کا ایک وژن بنتا ہے۔ ان کو نئی ​​چیزوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اب موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اتنی بڑی بحث ہو رہی ہے۔ اگر ہمارے لوگ آب و ہوا کے شعبے میں بھی کام کریں تو ہمارے پاس لامحدود امکانات ہیں۔ اب ہمارے ملک میں سی ڈی آر آئی کی ایک اسکیم بنائی گئی ہے۔ آب و ہوا کی صورت میں ہمارا انفراسٹرکچر ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اسے برداشت کرسکے۔ لچکدار ہونا ضروری ہے۔ اب ہم اس پر تحقیق کیے بغیر کیسے کریں گے، پہلے کے زمانے میں جو چیزیں بناتے تھے، تب نہ اتنا سیلاب آتا تھا، نہ اتنی بارش ہوتی تھی، قدرت ہمارے ساتھ چلتی تھی، ہم قدرت کے ساتھ چلتے تھے۔ اب وہ ہم سے الٹا چل رہی ہے، ہم اس سے الٹا چل رہے ہیں، اور اس لیے ہمیں نئے بحران کے سامنے جینا کیسے ہے، اس کو سیکھنے کے لئے انتظام کرنا چاہئے۔ آج پوری دنیا شمسی توانائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بھارت خوش قسمت ہے کہ اس کے پاس تپتا ہوا سورج ہے۔ اس تپتے ہوئے سورج کا ہم کیسے استعمال کریں گے؟ ہم اس کی طاقت کو اپنے نظام زندگی کا حصہ کیسے بنائیں؟ ہمارے یہاں شمسی توانائی کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ حکومت کی پالیسیوں میں دیا گیا ہے۔ لیکن ہم ریسرچ کے ذریعے، نئی نئی تحقیق کے ذریعے آج نئے دور کے حساب سے، نئے سائنسی وسائل کے ساتھ اس توانائی کو استعمال کرنے کے لئے ہمیں کافی کام کرنے کی ضرورت لگتی ہے۔ اسی طرح ساتھیو، سووچھ بھارت ابھیان ہر آدمی کے دل میں یہ بات اب گھر گئی ہے۔ ہاں بھئی سووچھ بھارت کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن بات وہاں سے بنتی نہیں ہے۔ جب تک ہم ویسٹ ٹو ویلتھ کی طرف منصوبہ بندی نہیں کرتے، یہ جو کوڑا کچرا نکلتا ہے، اس کی سرکولر ایکونومی کیا ہوسکتی ہے، اس کا بیسٹ پروڈکٹ کیا ہوسکتا ہے، یہ تو یونیورسٹی ریسرچ کرکے دے سکتی ہے۔ ہمارے نئے نئے لوگ ہوتے ہیں، تجربہ کرکے دیکھ سکتے ہیں، ہم ویسٹ میں سے بیسٹ کیسے بنائیں۔ ہم سرکولر ایکونومی کو کیسے مضبوط کریں اور خاص کر مقامی سطح پر سرکولر ایکونومی جیسے کتنے ہی شعبے آج ہمارے طلباء کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ آج ملک اسپورٹس کے شعبے میں بھی نئی خوداعتمادی کے ساتھ نئی کامیابیاں حاصل کررہا ہے۔ ہماری یونیورسٹیز، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اسپورٹس یونیورسٹی یہاں بن رہی ہیں، اس لئے باقی یونیورسٹی کے نوجوانوں کو اسپورٹس سے کوئی لینا نہیں ہے، جی نہیں ہماری یونیورسٹی کا میدان شام کو بھرا رہنا چاہئے۔ بچوں کو گھر بھیجنے کے لئے آپ کو محنت کرنی پڑے، یہ ماحول ہر یونیورسٹی کے میدان میں ہونا چاہیے۔ ہماری یونیورسٹیاں یہ اہداف بنا سکتی ہیں۔ ایک ایک یونیورسٹی طے کر سکتی ہے کہ آنے والے سالوں میں میری یونیورسٹی کتنے گولڈ میڈل لے آئے گی، میرے اسکول کے کتنے طلباء، میرے کالج کے کتنے طلباء آگے بڑھیں گے۔ یہ یونیورسٹی کے ٹارگیٹ کیوں نہیں ہونے چاہئیں دوستو۔ دنیا کے کتنے ممالک میں میری یونیورسٹی کے بچے کھیلنے کے لئے جائیں گے، میں ان کو کیسے تیار کروں؟ ان کو ایکسپوزر ملے گا، وہ بھی میری ایک بہت بڑی امانت بن جائے گا۔ ساتھیو، میں اس قسم کے خیالات آپ کے سامنے اس لئے رکھ رہا ہوں، کیونکہ لاتعداد  امکانات ہیں اور قومی تعلیمی پالیسی نے آپ کے ہاتھ میں موقع دیا ہے۔ جو پچھلے سالوں میں ہمارے پاس نہیں تھا۔ یہ قومی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے آیا ہے۔ اسے آگے بڑھانا ہمارا کام ہے۔

ساتھیو،

ہم سب کو یاد رکھنا ہوگا کہ ملک کے مستقبل کی تعمیر کا، قومی تعلیمی پالیسی کی قیادت آپ سب ساتھیوں کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اکھل بھارتیہ شکشا سماگم میں آپ کے منتھن سے نکلا امرت، آپ کے مشورے، ملک کو ایک نئی سمت عطا کریں گے۔ جن نوجوانوں کے ساتھ آپ کا وقت گزرتا ہے، ان کو حال کے لئے نہیں، آنے والے کل کے لئے تیار کرنا ہے۔ اگر آنے والے کل کے لئے تیار کرنا ہے تو آپ کو آنے والے سال کے لئے تیار ہونا ہے۔ اگر آپ آنے والے سال کے لیے تیار ہوتے ہیں، تو آپ کو، انسٹی ٹیوٹ کو  آنے والے 100 سالوں کے لیے تیار کرنا ہے، تب جاکر اس کام کو حاصل کر سکتے ہیں اور اسی جذبے کے ساتھ آپ لوگ کاشی کی اس مقدس سرزمین پر ہیں۔ ماں گنگا کے کنارے بیٹھے ہیں۔  پوری ثقافتی روایت وہ روایت ہے جو ہمیں نیا شعور اور تحریک دیتی ہے۔ اس روایت کے کچھ نہ کچھ امرت نکات آپ کے نصیب میں بھی آئیں گے، جو امرت نکات لے کر جائیں گے۔ جب آپ اسے وہاں رکھیں گے تو نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی آنے والے امرت کال میں بھارت کے روشن مستقبل کی تشکیل کے لیے کام آئے گی۔ میں ایک بار پھر اس پروگرام کو منعقد کرنے کے لیے محکمہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ سب نے جوش اور جذبے کے ساتھ اس میں شرکت کی ہے۔ مجھے یقین ہے تین دن میں آپ تھک نہیں جائیں گے، میں بیٹھے بیٹھے  پروگرام دیکھ رہا تھا۔ مجھے لگ رہا ہے پتا نہیں آپ کا کیا ہوگا تین دن کے بعد۔ لیکن آپ کا تعلق علمی دنیا سے ہے تو ضرور اس کو آگے بڑھائیں گے۔ میں آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔

بہت بہت شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ س ب ۔ ق ت  ۔ ر ض ۔ م ر

Urdu No. 7359

 


(ریلیز آئی ڈی: 1840025) وزیٹر کاؤنٹر : 417