ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی

کابینہ نے جے پی ایم ایکٹ، 1987 کے تحت جوٹ سال 22-2021 کے لئے جوٹ پیکجنگ میٹریلز کے لئے ریزرویشن کے اصولوں کو منظوری دے دی ہے


100 فیصد غذائی اجناس اور 20 فیصد چینی جوٹ کے تھیلوں میں لازمی طور پر پیک کی جائے گی

Posted On: 10 NOV 2021 3:43PM by PIB Delhi

نئی دہلی:10  نومبر،2021۔وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کی کمیٹی نے 10 نومبر 2021 کو جوٹ سال 22-2021 (یکم جولائی 2021 تا 30 جون، 2022) کے لئے پیکنگ میں جوٹ کے لازمی استعمال کے لئے ریزرویشن کے اصولوں کو منظوری دے دی ہے۔ جوٹ سال 22-2021 کے لئے منظور شدہ لازمی پیکیجنگ کے اصولوں میں غذائی اجناس کے 100 فیصد ریزرویشن اور 20 فیصد چینی کو لازمی طور پر جوٹ کے تھیلوں میں پیک کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

موجودہ تجویز میں ریزرویشن کے اصول ہندوستان میں خام جوٹ اور جوٹ کی پیکیجنگ مواد کی گھریلو پیداوار کے مفاد کو مزید تحفظ فراہم کریں گے۔ اس طرح ہندوستان کو آتم نربھر بھارت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے خود کفیل بنائے گا۔ 2021-2020 میں ملک میں پیدا ہونے والے خام جوٹ کا تقریباً 66.57 فیصد استعمال جوٹ کی پیکیجنگ میٹریل میں پیکنگ کے لئے کیا گیا۔ جے پی ایم ایکٹ کے نفاذ کو عملی جامہ پہناکر حکومت جوٹ ملوں اور ذیلی یونٹوں میں کام کرنے والے 0.37 ملین کارکنوں کو راحت فراہم کرے گی اور ساتھ ہی تقریباً 4.0 ملین کاشت کار خاندانوں کی روزی روٹی کو سہارا دے گی۔ اس کے علاوہ یہ اقدام ماحول کے تحفظ میں مدد کرے گا کیونکہ جوٹ قدرتی، بایو ڈیگریڈیبل، قابل تجدید اور دوبارہ قابل استعمال ریشہ ہے اور یہ پائیداری کے تمام پیرامیٹرز کو پورا کرتا ہے۔

جوٹ کی صنعت ہندوستان کی قومی معیشت میں بالعموم اور مشرقی خطہ خاص طور پر مغربی بنگال، بہار، اڈیشہ، آسام، تری پورہ، میگھالیہ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ مشرقی علاقے، خاص طور پر مغربی بنگال میں بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے۔

جے پی ایم ایکٹ کے تحت ریزرویشن کے اصول جوٹ سیکٹر میں 0.37 ملین کارکنوں اور 40 لاکھ کسانوں کو براہ راست روزگار فراہم کرتے ہیں۔ جے پی ایم ایکٹ، 1987 جوٹ کے کسانوں، کارکنوں اور جوٹ کے سامان کی پیداوار میں مصروف افراد کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ جوٹ انڈسٹری کی کل پیداوار کا 75 فیصد جوٹ سیکنگ بیگز ہیں جن میں سے 90 فیصد فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) اور ریاستی خریداری ایجنسیوں (ایس پی اے) کو فراہم کیا جاتا ہے اور بقیہ براہ راست برآمد/فروخت کیا جاتا ہے۔

حکومت ہند غذائی اجناس کی پیکنگ کے لئے ہر سال تقریباً 8,000 کروڑ روپے کے جوٹ کی بوری کے تھیلے خریدتی ہے۔ اس طرح یہ جوٹ کے کسانوں اور مزدوروں کی پیداوار کے لیے ضمانتی منڈی کو یقینی بناتا ہے۔

جوٹ کی بوری کے تھیلوں کی اوسط پیداوار تقریباً 30 لاکھ گانٹھیں (9 لاکھ میٹرک ٹن) ہے اور حکومت جوٹ کے کاشتکاروں، مزدوروں اور جوٹ کی صنعت میں مصروف افراد کے مفادات کے تحفظ کے لئے جوٹ کے تھیلوں کی بوری کی پیداوار کو مکمل طور پر یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

 

-----------------------

 

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO: 12710



(Release ID: 1770680) Visitor Counter : 209