PIB Headquarters

کووڈ 19پر پی آئی بی کی روزمرہ بلیٹن

Posted On: 11 MAY 2020 6:15PM by PIB Delhi


 

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image0015L3Z.png http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image002N97X.jpg

کووڈ- 19 پر مشتمل پریس ریلیز، جو گذشتہ 24 گھنٹوں میں جاری کی گئی ہیں، فیلڈ افسران سے حاصل کردہ معلومات اور پی آئی بی کے ذریعہ کئے گئے صحیح تجزیات پر مشتمل ہیں۔

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image003EE7N.png

نئی دہلی ،11مئی2020:

  • کووڈ۔ 19 پر اپ ڈیٹ اب تک 20917 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں؛ صحت یابی کی شرح بڑھ کر 31.15 فیصد ہوئی
  • اب تک مجموعی طور پر 20917 لوگ صحت یاب ہوچکے ہیں۔اس سے مجموعی صحت یابی کی شرح بڑھ کر 31.15 فیصد ہوگئی ہے۔
  • اب تک 67152 تصدیق شدہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ روز سے ہندوستان میں کووڈ۔ 19 کے تصدیق شدہ معاملوں کی تعداد میں 4213 معاملوں کا اضافہ ہوا ہے۔
  • مختلف میڈیکل پروفیشنل کے کام کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ خصوصی طور پر گزشتہ تین ماہ میں کووڈ۔ 19 کے ساتھ مقابلہ کرنے میں میڈیکل پریکٹیشنرس نے جس تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، اس پر ملک کو فخر ہے۔ انہوں نے ملک سے پھر اپیل کی کہ ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر کارکنان کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ اس کے بجائے بڑے پیمانے پر عوام کی مدد کرنے میں ان کی کوششوں کے لئے ان کی تعریف کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر، نرسیں ،ہیلتھ کیئر کارکنان کووڈ۔ 19 کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کے لئے ہمارے احترام ، مدد اور تعاون کے مستحکم ہیں۔

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی وزارت نے آج کووڈ۔ 19 کے لئے ضلعی سطح کی سہولت پر مبنی نگرانی کے لئے رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔ یہ رہنما خطوط : https://www.mohfw.gov.in/pdf/DistrictlevelFacilitybasedsurveillanceforCOVID19.pdfپر دیکھے جا سکتے ہیں۔

کووڈ۔ 19 سے متعلق تکنیکی معاملوں ، رہنما خطوط اور صلاح و مشورے کے بارے میں تمام مستند اور اپ ڈیٹیڈ معلومات کے لئے برائے مہربانی مستقل طور پر : https://www.mohfw.gov.in/دیکھیں۔

کووڈ۔ 19 سے متعلق تکنیکی پوچھ تاچھ technicalquery.covid19@gov.in پتے پر ای۔ میل سے بھیجیں۔ اور دیگر پوچھ تاچھ ncov2019@gov.in پر اور وایا ٹوئٹ @CovidIndiaSeva پر بھیجیں۔

کووڈ۔ 19 سے متعلق کسی بھی پوچھ تاچھ کے معاملے میں براہ کرم صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے ہیلپ لائن نمبر +91-11-23978046 یا 1075 (ٹول فری) پر رابطہ کریں۔ کووڈ۔ 19 کے بارے میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں کے ہیلپ لائن نمبروں کی فہرست https://www.mohfw.gov.in/pdf/coronvavirushelplinenumber.pdfپر بھی دستیاب ہے۔

پنے کے آئی سی ایم آر – این آئی وی میں کووڈ-19 کے اینٹی باڈی کا پتہ لگانے کے لئے ملک کی آئی جی جی ایلیسا جانچ کٹ کو بنانے میں کامیابی حاصل کی:

کووڈ-19 کی نگرانی میں اہم کردار نبھائے گی یہ کٹ: ڈاکٹر ہرش وردھن

پنے میں انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر) – نیشل انسٹی ٹیوٹ آف ویرولوجی (این آئی وی) میں کووڈ-19 کے اینٹی باڈی کا پتہ لگانے کے لئے ملک کی آئی جی جی ایلیسا ٹسیٹ کووڈ کووچ ایلیساکو تیار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرلیا ہے۔

کووڈ-19 وبا 114 ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے، جس کی اب تک کل3855788 معاملوں کی تصدیق ہوئی ہے اور 265862 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک اپنی ممکنہ کوششوں کے ذریعہ اس وبا کو کنٹرول کرنے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔دنیا بھر کے ملکوں کے ذریعہ مختلف قسم کے تشخیصی ٹیسٹوں سے متعلق تجربات کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کووڈ-19 کے لئے ہندستان میں زیادہ تر تشخیص کے سامان دیگر ملکوں سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس لئے ہندستانی سائنس داں کووڈ-19 کے مرض کی وجوہات کا سی او وی-2کے لئے ملک میں تشخیص کئے جانے کے لئے بے انتہا کوشش کررہے ہیں۔ پنے میں واقع آئی سی ایم آر-نیشنل آنسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (این آئی وی) جدید ترین سہولیات کے ساتھ اور وائرلوجی ریسرچ میں مہارت حاصل کرکے ملک کی سرفہرست تجربہ گاہ ہے۔ این آئی وی باصلاحیت سائنسدانوں کی ٹیم نے ہندستان میں اس مرض کے مصدقہ مریضوں میں سے سی او وی وائرس کو لیبارٹری میں کامیابی کے ساتھ الگ کردیا ہے۔ اس کے ساتھ سی او وی-2 کے لئے ملک میں ہی تشخیص ؍جانچ کا راستہ صاف ہوا ہے۔

جبکہ سی او وی -2 کی جانچ کے لئے ریئل ٹائم آر ٹی- پی سی آرایک اہم جانچ ہے اور آبادی میں انفیکشن کی مدت کوسمجھنے کے معاملے میں نگرانی کے لئے مضبوط اینٹی باڈی ٹسٹ کی سمت میں انتہائی اہم قدم ہے۔

پنے میں واقع آئی سی ایم آر –این آئی وی کے سائنس دانوں نے سی او وی -2 کے لئے اینٹی باڈی کا پتہ لگانے کے لئے پوری طرح سے ملک کی آئی جی جی ایلیسا ٹسٹ کو فروغ دینے اور اسے تسلیم کرنے کی سمت میں حوصلہ افزا کام کیا ہے۔ ٹسٹ کو ممبئی کے دو مقامات پر جانچا گیا اور اس میں اعلی حساسیت اور خصوصیات پائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ، ڈھائی گھنٹے کے رن میں ایک ساتھ 90 نمونوں کی جانچ کا بھی فائدہ مل سکے گا۔ اس کے علاوہ ایلیسا پر مبنی ٹسٹ ضلعی سطح پر بھی آسانی سےممکن ہے۔ ریئل ٹائم آر ٹی-پی سی آرٹسٹ کے مقابلے میں اس میں سب سے کم حیاتیاتی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کئی اعلی ٹسٹ کٹس ، جو حال ہی میں ہندستانی بازار میں ا?ئی ہیں، ان کےمقابلے میں جانچ میں حد سے زیادہ حساسیت اور خصوصیات موجود ہیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ پنے کے آئی ایم سی آر اینڈ آئی وی کے ذریعہ بنائی گئی کووڈ-19 کے اینٹی باڈی کا پتہ لگانے کے لئے ملک کی آئی وی وی ایلیسا انسانی جانچ کی آبادی میں سی او وی -2 کے انفکیشن کی نسبت کو سمجھنے کے لئے نگرانی میں اہم رول نبھائے گی۔

آئی سی ایم آر نے ایلیسا جانچ کے بڑے پیمانے پر بنانے کے لئے زائڈس کڈیلا کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ پنے میں واقع آئی سی ایم آر –این آئی وی میں فروخت- کے بعد ، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے لئے اس ٹکنالوجی کو بڑے پیمانے پر جو منتقل کردیا گیا ہے، جو ایک اختراع پر کام کرنے والی عالمی صحت خدمت کمپنی ہے۔ زائڈس نے ایلیسا جانچ کٹوں کے منظوری اور کمرشیل پروڈکشن میں تیزی لانے کے لئے مسلسل چیلنجوں کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے تاکہ انہیں جلد سے جلد استعمال کے لئے دستیاب کرایا جاسکے۔ اس جانچ کو ‘‘کووڈ کوچ ایلیسا’’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ریکارڈ وقت میں ‘‘میک ان انڈیا’’ کی ایک آئیڈل مثال ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کووڈ – 19 سے نمٹنے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منڈولی دیکھ بھال کے مرکز کا دورہ کیا

"کووڈ – 19 سے بلآخر نمٹنے میں ذاتی طور پر لگاتار مشاہدہ کرتے رہنے اور نظام تنفس پر نظر رکھنے اور سماجی طور پر ایک دوسرے سے دوری برقرار رکھنے سے ہی بھرپور فائدہ حاصل ہوگا ": ڈاکٹر ہرش وردھن

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج نئی دلی کے منڈولی جیل میں کووڈ کی دیکھ بھال کے مرکز (سی سی سی) کا دورہ کیا اور کووڈ – 19 سے نمٹنے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس اسپتال کی تیاری کے لیے ابھرتی ہوئی ضرورتوں کو نظرمیں رکھتے ہوئے منڈولی سی سی سی دراصل پولیس کی وہ رہائشی عمارت ہے جسے کووڈ – 19 کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس میں کووڈ – 19 کے ان مریضوں کے لیے جن میں ہلکی اور بہت ہلکی علامتیں ہیں وافر آئیسولیشن رومز اور بستر دستیاب ہیں۔ دورے کے اختتام پر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ کووڈ – 19 سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں حفظاں صحت کا بنیادی ڈھانچہ اور مراکز قائم کیے گیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں میں میں نے کووڈ – 19 سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کےلیے دلی کے ایمز ٹراما سینٹر ، ایل این جے پی ، آر ایم ایل، صفدر جنگ ، ایمز جھجھڑ ، راجیو گاندھی سپر اسپیشلیٹی اسپتال ، ایل ایچ ایم سی جیسے ، کووڈ - 19 کے لیے مخصوص مختلف اسپتالوں کا دورہ کیا۔ لیکن اس مرتبہ میں نے منڈولی اور کووڈ دیکھ بھال مرکز کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مرکز میں کیے گیے انتظامات کا جائزہ لیا۔

اس دورے کے دوران ڈاکٹر ہرش وردھن کو بتایا گیا کہ منڈولی سی سی سی نے 12 ٹاورز ہیں جن میں کووڈ - 19 کے 575 مریضوں کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ اس اسپتال میں 750 مریضوں کی گنجائش ہے۔ انہوں نے ٹاور ون کا دورہ کیا اور جموں و کشمیر ، آندھرا پردیش، تمل ناڈو اور آسام کے مریضوں کے ساتھ بات چیت کی اور ان کی صحتیابی اور تشویش کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ انہوں نے ڈاکٹروں ، انتظامی افسران اور پولیس افسران سے بھی بات چیت کی، جس کے جواب میں وزیر موصوف کو سی سی سی میں دستیاب سہولیات کے بارے میں بتایا گیا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ بہت سے مریض جن میں پہلے کووڈ - 19 کی علامت پائی گئی تھیں اب صحت یاب ہو چکے ہیں اور ان کی جانچ کے بعد اس بیماری کی کوئی علامت ا ن میں نہیں پائی گئی۔ جلدی ہی یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جائیں گے اور لمبی اور صحت مند زندگی جیئیں گے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ماسک پہننے ، چہرہ ڈھکنے ، لگاتار ہاتھ دھوتے رہنے اور سماجی طور پر ایک دوسرے سے دوری برقرار رکھنے کے بارے میں کہا کہ ان عادتوں سے ہمیں نہ صرف کووڈ – 19 سے بلکہ دیگر بیماریوں سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ماضی میں چیچک اور پولیو کا خاتمہ کرنے میں حکومت کی کوششیں کامیاب ثابت ہوئی ہیں۔ اب ہم مل کر کورونا وائرس سے بھی لڑیں گے اور اسے شکست دیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی ادروں کو 72 لاکھ این 95 ماسک اور 36 لاکھ ذاتی حفاطتی آلات پی پی ای دستیاب کرائے گئے ہیں۔ اسی طرح مریضوں کے ذریعے حفظاں صحت کے آلات کے صحیح استعمال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس بات پر انحصار کرتے ہوئے کہ کووڈ – 19 کے اب تک جن سرگرم تصدیق شدہ کیسوں کا علاج کیا جا رہا ہے ہم نے اس بات پر توجہ دی ہے کہ ان کووڈ کیسوں میں سے صرف 2 اعشاریہ چار آٹھ فیصد کو ہی آئی سی یو کی سہولت درکار ہے۔ ان میں سے ایک اعشاریہ نو چار فیصد کو آکسیجن نظام کی ضرورت ہے۔ جبکہ محض 0?40 فیصد کو وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے۔

ملک میں جانچ کی صلاحیت کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس 343 سرکاری لیباریٹریز ہیں اور 129 پرائیویٹ لیباریٹریز ہیں دونوں میں ہی جانچ کی صلاحیت کا ضافہ ہوا ہے اور ابھی تک تقریباً 95 ہزار جانچیں روزانہ کی جا سکتی ہیں۔ محض کل ہی ہم نے 86 ہزار 368 جانچیں کی ہیں۔ اس طرح کل تک ہم 169777 جانچیں کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے یہ بھی بتایا کہ ماہرین کی مرکزی ٹیمیں دس ریاستوں گجرات، تمل ناڈو، اتر پردیش ، دلی ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، پنجاب ، مغربی بنگال ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ بھیجی جا چکی ہیں تاکہ وہ کووڈ – 19 سے نمٹنے کے لیے ریاستوں کی کوششوں میں مدد دے سکیں۔

کووڈ – 19 پر قابو پانے کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے 25 مارچ 2020 کو کووڈ – 19 کے مریضوں کی تعداد دوگنا ہونے کی شرح 3.2 تھی، جبکہ محض تین دن کی مدت میں 3.2 تھی اور سات دن کی مدت میں 3.0تھی اور 14 دن کی مدت میں یہ 4.1 ہو گئی۔ آج یہ تین دن میں12.0 ہے۔ سات دن میں 10.1 اور 14 دن میں 11.0 ہے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ دنیا کے ان 20 ملکوں میں جہاں کووڈ – 19 کے سب سے زیادہ کیس پائے گئے ہیں ان میں مجموعی طور پر اتنی ا?بادی ہے جتنی کہ بھارت کی آبادی ہے۔ یعنی یہاں 135 کروڑ کی آبادی ہے اور ان کے یہاں ابھی تک بھارت کے بنسبت تقریباً 84 گنا کیسز ہیں۔ شرح اموات کے بارے میں بھارت کی بنسبت چوٹی کے 20 ملکوں میں 200 گنا اموات کی خبر ملی ہے۔ بھارت نے اس بیماری سے اتنے بڑے پیمانے پر لڑنا ریاستوں اور مرکز کے زیر انتطام علاقوں کی مدد سے مرکزی حکومت کے ذریعے اپنائے جانے والے سرگرم طریقے سے ممکن ہوا ہے۔

کووڈ – 19 سے متعلق تکنیکی معاملات، رہنما خطوط اور ہدایتوں کے بارے میں سبھی صحیح معلومات اور تازہ ترین جانکاری کے لیے اس ویب سائٹ پر لاگ آن کریں : //www.mohfw.gov.in/https

کووڈ – 19 سے متعلق تکنیکی سوالات اس ای – میل پتے پر بھیجے جا سکتے ہیں : technicalquery.covid19@gov.in اور دوسرا ای میل ncov2019@gov.in

کووڈ – 19 کے بارے میں کسی بھی سوال کے جواب کے لےی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے اس ہیلپ لائن نمبر پر کال کریں : +91-11-23978046 or 1075 کووڈ – 19 سے متعلق ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ہیلپ لائن نمبر کی فہرست (ٹال فری نمبر)۔ اس ویب سائٹ پر دستیاب ہے :

https://www.mohfw.gov.in/pdf/coronvavirushelplinenumber.pdf .

طبی پیشہ ور افراد(ڈاکٹر)اور نیم طبی عملے کی بلا روک ٹوک نقل و حمل کو یقینی بنایا جائے اور تمام پرائیویٹ کلینکس، نرسنگ ہومز اور لیبز کو کھولے جانے کو یقینی بنایا جائے، کووڈ-19 اور غیر کووڈ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے:وزارت داخلہ کا ریاستوں کو مشورہ

: کابینہ سیکریٹری نے 10 مئی 2020ئ کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ایک میٹنگ کی صدارت کی، جہاں طبی پیشہ ور افراد (ڈاکٹر حضرات) اور نیم طبی حضرات کی آزادانہ نقل و حمل سے متعلق کچھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے بندوشوں کے معاملے پر غورو خوض کیا گیا۔

اس میٹنگ کی روشنی میں مرکزی وزارت داخلہ(ایم ایچ اے) نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تحریرکرکے کہا ہے کہ صحت کی عوامی ضرورتوں کو پورا کرنے اور قیمتی جانوں کو بچانے کےلئے تمام طبی پیشہ ور افراد کی آزادانہ نقل و حمل ضروری ہے۔ طبی پیشہ ور افراد اورنیم طبی عملے کی نقل و حمل پر کسی طرح کی بندش سے کووڈ اور غیر کووڈ طبی خدمات فراہم کرنے میں شدید رکاوٹیں ہوسکتی ہیں۔

اس نے مزید کہا کہ مذکورہ میٹنگ کی روشنی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ یا سرکاروں کو تمام طبی پیشہ ور افراد ، نرسوں، نیم طبی عملے، صفائی ستھرائی والے عملے اور ایمبولینسز کی بلا روک ٹوک کے عمل کو یقینی بنانا چاہئے۔ اس سے بغیر کسی رکاوٹ کے مریضوں کو تمام کووڈ اور غیر کووڈ طبی خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ریاست و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے تمام طبی پیشہ ور افراد، نرسوں، نیم طبی عملے، صفائی ستھرائی کرنے والے عملے اور ایمبولینسز کے لئے بین ریاستی نقل و حمل میں آسانی فراہم کی جاسکتی ہے۔

اس بات پر بھی مزید زور دیا گیا ہے کہ تمام پرائیویٹ کلینکس ، نرسنگ ہوم اور لیبز کو ان کے طبی پیشہ ور افراد اور ان کے طبی عملے کے ساتھ کھولے جانے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ اس سے بغیر کسی رکاوٹ کے کووڈ اور غیر کوڈ جیسی ہنگامی صورتحال میں تمام مریضوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں آسانی ہوگی اور اسپتالوں پر بوج کم ہوگا۔

پھنسے ہوئے مائیگرینٹ مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات تک بلا رکاوٹ تیزی سے پہنچانے کے لئے مزید شرمک خصوصی ٹرینیں چلانے کے لئے ریلوے کے ساتھ تعاون کریں:مرکزی وزارت داخلہ کا ریاستوں کو مشورہ

کابینہ سیکریٹری نے 10مئی 2020ئ کو ایک ویڈیو کانفرنسنگ کی صدارت کی ، جس میں بسوں اور شرمک اسپیشل ٹرینوں میں پھنسے ہوئے مائیگرینٹ مزدوروں کی نقل و حمل کے لئے تمام ریاستی سرکاروں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سرکاروں کی طرف سے فراہم کردہ مدد اور تعاون کا جائزہ لیا گیا۔

اس میٹنگ کی روشنی میں مرکزی وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو تحریر کیا ہے کہ ان پھنسے ہوئے مائیگرینٹ مزدوروں کو سڑک یا ریلوے ٹریک پر چلنے سے روکیں، جو اپنے اپنے آبائی مقامات پہنچنا چاہتے ہیں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ شرمک خصوصی ٹرینوں اور بسوں کو پہلے ہی اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ ان مزدوروں کو کے سفر کو آسان بنائیں۔اس طرح انہیں شرمک خصوصی ٹرینوں اور بسوں سے اپنے آبائی مقامات تک پہنچنے کے لئے سہولت حاصل ہوسکتی ہے اوراس وقت تک ان مائیگرینٹ مزدوروں کو قریبی پناہ گاہوں میں لے جایاسکتا ہے اور انہیں سمجھا یا جاسکتا ہے۔

اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام ریاستیں اور مرکز کے انتظام سرکاروں کو بغیر کسی اڑچن کے زیادہ تعداد میں شرمک خصوصی ٹرینیں چلانے میں ریلوے کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ پھنسے ہوئے مائیگرینٹ مزدوروں کی نقل و حمل کو آسان بنایا جاسکے۔

ہندوستانی ریلوے کی مسافر خدمات 12 مئی 2020 سے جزوی طور پر بحال کی جائیں گی۔

خصوصی جوڑیوں (30 ٹرینوں) کے 15 جوڑے چلائے جائیں

یہ خدمات لیبر اسپیشل کے علاوہ ہوں گی

فی الحال ، ان خصوصی ٹرینوں میں صرف واتانکولیت کلاسز ہوں گی یعنی فرسٹ ، سیکنڈ اور تھرڈ اے سی۔

صرف آن لائن ای ٹکٹنگ آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ کے ذریعے کی جائے گی

زیادہ سے زیادہ ایڈوانس ریزرویشن میعاد (اے آر پی) زیادہ سے زیادہ 7 دن ہوگی

مسافروں کو اپنے کھانے پینے کا پانی خود لانے کی ترغیب دی جائے گی

اسٹیشن پر تھرمل اسکریننگ کی سہولت کے لئے ، مسافر کم از کم 90 منٹ پہلے اسٹیشن پر پہنچیں گے

ٹرین میں کسی قسم کی چادریں ، کمبل اور پردے مہیا نہیں کیے جائیں گے ، مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی چادریں خود لائیں۔

مسافروں کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشن تک مسافروں کو لے جانے اور لے جانے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو بھی تصدیق شدہ ای ٹکٹ کی بنیاد پر اجازت ہوگی۔

وزارت ریلوے نے مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت اور مرکزی وزارت داخلہ کی مشاورت سے 12 مئی 2020 سے ہندوستانی ریلوے کی مسافر خدمات جزوی طور پر بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انیکس میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ، خصوصی جوڑیوں (30 ٹرینوں) کے 15 جوڑے چلائے جائیں گے۔ (لنک نیچے دیا گیا ہے)

یہ خدمات پھنسے ہوئے افراد کو لے جانے والی لیبر اسپیشل ٹرینوں کے علاوہ ہوں گی ، جن کو یکم مئی 2020 سے چلائی جارہی ہے۔

تمام باقاعدہ مسافر خدمات بشمول تمام میل / ایکسپریس ، مسافر اور مضافاتی خدمات مزید مشاورت تک منسوخ کردی جائیں گی۔

فی الحال ، ان خصوصی ٹرینوں میں صرف واتانکولیت کلاسز ہوں گی یعنی فرسٹ ، سیکنڈ اور تھرڈ اے سی۔ 'اسپیشل ٹرینوں' کے لئے کرایہ کا ڈھانچہ باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے ساتھ ، راجدھانی ایکسپریس (کچھ معاوضوں کو چھوڑ کر) کے لئے قابل اطلاق کرایے کے ڈھانچے کی طرح ہوگا۔

صرف آن لائن ای ٹکٹنگ IRCTC ویب سائٹ یا موبائل ایپ کے ذریعہ کی جائے گی۔ کسی بھی ریلوے اسٹیشن کے ریزرویشن کاو ¿نٹر پر کوئی ٹکٹ بک نہیں کیا جائے گا۔ ایجنٹوں (آئی آر سی ٹی سی ایجنٹ اور ریلوے ایجنٹ دونوں) کے توسط سے ٹکٹوں کی بکنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ ایڈوانس ریزرویشن میعاد (اے آر پی) زیادہ سے زیادہ 7 دن کیلئے ہوگی۔

صرف تصدیق شدہ ای ٹکٹ بک ہوں گے۔ سفر کے دوران آر اے سی ؍ ویٹنگ لسٹ ٹکٹوں کی بکنگ اور ٹکٹ چیکنگ عملہ ٹکٹوں کی بکنگ کی اجازت نہیں دے گا۔ موجودہ بکنگ ، تاتکل اور پریمیم تاتکل بکنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔ غیر محفوظ ٹکٹوں (UTC) کی اجازت نہیں ہوگی۔

کرایہ میں کوئی کیٹرنگ چارجز شامل نہیں ہوں گے۔ پری پیڈ کھانے کی بکنگ ، ای کیٹرنگ کی فراہمی ناکارہ رہے گی۔ تاہم ، آئی آر سی ٹی سی ادائیگی کی بنیاد پر محدود کھانے کی اشیائ اور پیکیجڈ پینے کے پانی کی فراہمی کرے گا۔ اس ضمن میں معلومات مسافروں کو ٹکٹوں کی بکنگ کے دوران فراہم کی جائیں گی۔

مسافروں کو اپنے کھانے پینے کا پانی خود لانے کی ترغیب دی جائے گی۔ مانگ کی بنیاد پر ، ٹرینوں کے اندر خشک تیار شدہ کھانا اور بوتل کا پانی دستیاب کیا جائے گا۔

تمام مسافروں کی مجبوری جانچ پڑتال کی جائے گی اور صرف ان مسافروں کو بیماری کے اشارے کے بغیر ٹرین میں داخل ہونے / سوار ہونے کی اجازت ہوگی۔

ان خصوصی خدمات کے ذریعے سفر کرنے والے مسافر مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے۔

(اے) تصدیق شدہ ٹکٹ والے مسافروں کو ہی ریلوے اسٹیشن میں داخلے کی اجازت ہوگی۔

(بی) تمام مسافروں کو سفر کے دوران اور سفر کے دوران چہرے کا سرورق / ماسک پہننا ہوگا۔

(سی) مسافر اسٹیشن پر تھرمل اسکریننگ کی سہولت کے ل at کم از کم 90 منٹ پہلے اسٹیشن پر پہنچیں گے۔ صرف ان مسافروں کو ہی سفر کی اجازت ہوگی جن کی بیماری میں کوئی علامت نہیں ہے۔

(ڈی) مسافر دونوں اسٹیشنوں اور ٹرینوں پر معاشی فاصلے پر عمل پیرا ہوں گے۔

(ای) اپنی منزل مقصود پر پہنچنے پر ، مسافروں کو منزل مقصود / ریاست کے مرکز کے ذریعہ مقرر کردہ ہیلتھ پروٹوکول پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

آن لائن ٹکٹوں کی منسوخی کو ٹرین کے شیڈول روانگی سے 24 گھنٹے قبل کی اجازت ہوگی۔ ٹرین کی روانگی سے 24 گھنٹے قبل ٹکٹوں کی منسوخی کی اجازت نہیں ہے۔ ٹکٹ منسوخی کی فیس کرایہ کا 50فیصد ہوگی۔

زونل ریلوے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریلوے اسٹیشنوں پر داخلی اور خارجی راستے کے ل separate الگ دروازے کو یقینی بنائیں ، تاکہ نقل و حرکت کے وقت مسافروں کا مقابلہ نہ ہو۔ زونل ریلوے اسٹیشنوں اور ٹرینوں سے متعلق معاشرتی فاصلاتی معیاری رہنما خطوط کے ذریعہ رہنمائی کرے گا اور حفاظت ، حفاظت اور حفظان صحت کے پروٹوکول پر عمل کرنا چاہئے۔

تمام مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ارویا سیٹو ایپلی کیشن کو ڈاؤن لوڈ اور استعمال کریں۔

ٹرین میں کسی قسم کی چادریں ، کمبل اور پردے مہیا نہیں کیے جائیں گے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی چادریں خود لائیں۔ اس مقصد کے لئے ، اے سی کوچوں کے اندر درجہ حرارت کو مناسب طور پر کنٹرول کیا جائے گا۔

پلیٹ فارم پر کوئی اسٹال ؍بوتھ نہیں کھولی جائیں گی۔ کسی بھی ٹرین کی طرف فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مسافروں کو ہلکا سا سامان لے جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

وزارت داخلہ کے رہنما خطوط کے مطابق ، مسافروں کی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ ریلوے اسٹیشن تک مسافروں کو لے جانے اور لے جانے والے گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو تصدیق شدہ ای ٹکٹ کی بنیاد پر اجازت ہوگی۔

بھارتی ریلوے نے ملک بھر میں 11 مئی 2020ئ تک(1000گھنٹے) 468‘شرمک اسپیشل’ٹرینیں چلائیں

مسافروں کو مفت کھانا اور پانی فراہم کیا گیا

مسافروں کو بھیجنے والی ریاستیں اور مسافروں کو حاصل کرنے والی ریاست کی طرف سے دی گئی منظوری کے بعد ہی ریلوے ٹرینیں چلارہی ہیں

سماجی فاصلے کو برقرار رکھا جارہا ہے

تقریباً1200 مسافر “شرمک اسپیشل”ٹرین میں سفر کرتے ہیں

: خصوصی ٹرینوں کے ذریعے مختلف مقامات پر مائیگرینٹ مزدوروں، یاتریوں، سیاحوں، طلباء اور دیگر پھنسے ہوئے افراد کو لانے لے جانے سے متعلق وزارت داخلہ کے حکم کے بعد ہی بھارتی ریلوے نے خصوصی شرمک ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔

11مئی 2020ئ تک ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے کل 468 شرمک اسپیشل ٹرینیں چلائی گئیں ، جن میں 363 اپنی منزل مقصود تک پہنچ چکی ہیں اور 105 ٹرینیں فی الحال اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔

یہ 363 ٹرینیں مختلف ریاستوں مثلاًآندھرا پردیش میں ایک ٹرین، بہار میں 100 ٹرینیں، ہماچل پردیش میں ایک ، جھارکھنڈ میں 22، مدھیہ پردیش میں 30، مہاراشٹر میں 3، ا ُڈیشہ میں 25، راجستھان میں 4، تلنگانہ میں 2، اترپردیش میں 172، مغربی بنگال میں 2 اور تمل ناڈو میں ایک ٹرین پہنچ کر ختم ہوگئی تھیں۔

ان خصوصی ٹرینوں نے مزدوروں کو ان کے اپنے شہروں تک پہنچایا۔ان شہروں میں تروچراپلی، تتلا گڑھ، برونی، کھنڈوا، جگناتھ پور، خوردہ روڈ، پریاگ راج، چھپرا، بلیہ، گیا، پورنیہ ، وارانسی، دربھنگہ، گورکھپور، لکھنؤ، جونپور، ہٹیا، بستی، کٹیہار، دانا پور، مظفر اور سہرسہ وغیرہ جیسے شامل ہیں۔

ان خصوصی شرمک ٹرینوں میں زیادہ سے زیادہ 1200 مسافر سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کر سفر کرسکتے ہیں۔ٹرین میں سوار ہونے سے پہلے مسافروں کی مناسب اسکریننگ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ مسافروں کو سفر کے دوران مفت کھانا اور پانی فراہم کیا گیا ہے۔

دوسرے مقامات پر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات پرتیز رفتار سے پہنچانے کو آسان بنانے کے لئے وزارت داخلہ اور ریلوے ‘شرمک اسپیشل’ ریل گاڑیوں کے چلائے جانے کا جائزہ لینے کے لئے ریاستی نوڈل افسروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا

کئی لاکھ مہاجر مزدوروں کو لے جانے کے لئے 450 سے زیادہ ریل گاڑیاں چلائی گئی؛ اپنے گھر جانے کے خواہش مندہر ایک مہاجر کو لے جانے کے لئے 100 سے زیادہ ریل گاڑیاں روز چلائی جائیں گی

مرکزی وزارت داخلہ اور ریلوے کی وزارت نے آج صبح ‘شرمک اسپیشل’ ٹرینوں کے ذریعہ مہاجر مزدوروں کے آنے جانے کے بارے میں ایک ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے نوڈل افسروں نے شرکت کی۔

اس کانفرنس میں اس بات کی ستائش کی گئی کہ کئی لاکھ مہاجر مزدوروں کو لے جانے کے لئے 450 سے زیادہ ریل گاڑیاں چلائی گئی ہیں، جن میں سے 101 ریل گاڑیاں تو گزشتہ روز ہی چلائی گئیں۔

ویڈیو کانفرنس کے دوران کئی مسائل پر بات چیت کی گئی اور ان کو حل کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مہاجر مزدوروں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ گھر جانے کے خواہش مند تمام لوگوں کے سفر کرنے کے لئے کافی تعداد میں ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ دوسرے مقامامت پر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات تک تیز رفتار سے پہنچائے جانے کو آسان بنانے کے لئے آئندہ چند ہفتوں کے لئے 100 سے زیادہ ریل گاڑیاں روز چلائے جانے کی توقع ہے۔

دوسرے مقامات پر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات پرتیز رفتار سے پہنچانے کو آسان بنانے کے لئے وزارت داخلہ اور ریلوے ‘شرمک اسپیشل’ ریل گاڑیوں کے چلائے جانے کا جائزہ لینے کے لئے ریاستی نوڈل افسروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا۔

کئی لاکھ مہاجر مزدوروں کو لے جانے کے لئے 450 سے زیادہ ریل گاڑیاں چلائی گئی؛ اپنے گھر جانے کے خواہش مندہر ایک مہاجر کو لے جانے کے لئے 100 سے زیادہ ریل گاڑیاں روز چلائی جائیں گی

مرکزی وزارت داخلہ اور ریلوے کی وزارت نے آج صبح ‘شرمک اسپیشل’ ٹرینوں کے ذریعہ مہاجر مزدوروں کے آنے جانے کے بارے میں ایک ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے نوڈل افسروں نے شرکت کی۔

اس کانفرنس میں اس بات کی ستائش کی گئی کہ کئی لاکھ مہاجر مزدوروں کو لے جانے کے لئے 450 سے زیادہ ریل گاڑیاں چلائی گئی ہیں، جن میں سے 101 ریل گاڑیاں تو گزشتہ روز ہی چلائی گئیں۔

ویڈیو کانفرنس کے دوران کئی مسائل پر بات چیت کی گئی اور ان کو حل کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ مہاجر مزدوروں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ گھر جانے کے خواہش مند تمام لوگوں کے سفر کرنے کے لئے کافی تعداد میں ریل گاڑیاں چلائی جائیں گی۔ دوسرے مقامامت پر پھنسے ہوئے مزدوروں کو ان کے آبائی مقامات تک تیز رفتار سے پہنچائے جانے کو آسان بنانے کے لئے آئندہ چند ہفتوں کے لئے 100 سے زیادہ ریل گاڑیاں روز چلائے جانے کی توقع ہے۔

آفات کے قومی بندوبست کی اتھارٹی این ڈی ایم اے (داخلی امور کی وزارت ، ایم ایچ اے)نے لاک ڈاؤن کی مدت کے بعد سازو سامان تیار کرنے والی صنعتوں کو پھر سے شروع کرنے سے متعلق رہنما خطوط جاری کئے ہیں

زمینی سطح پر کام کرنے والے عہدیدارن رہنما خطوط پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنائیں

داخلی امور کی مرکزی وزارت (ایم ایچ اے)نے لاک ڈاو ¿ن کی مدت کے بعد سازو سامان تیار کرنےو الی صنعتوں کو پھر سے شروع کرنے سے متعلق آفات کے بندوبست کے قانون 2005ئ کے تحت تفصیلی رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔

کووڈ-19 سے جلد سے جلد نمٹنے کے سلسلے میں 25 مارچ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن کا حکم دیا گیا تھا۔چونکہ کچھ زونز(علاقوں ) میں آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی برتی جارہی ہے،لہٰذا یکم مئی 2020ء کو این ڈی ایم اے کے احکامات نمبر 1-29/2020-PP اور ایم ایچ اے کے یکم مئی 2020ئ کے حکم نمبر 40- 3/2020-DM-I(A)کے مطابق کچھ اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت دی جارہی ہے۔

کئی ہفتے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اور لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران صنعتی اکائیوں کو بند ہونے کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ کچھ آپریٹرس نے قائم شدہ ایس او پی کو نہیں اپنایا ہو، اس کے نتیجے میں مینوفیکچرنگ کی کچھ سہولتوں پائپ لائنس، والووز وغیرہ کے پاس باقی ماندہ کیمیکلز ہوں جو خطرہ پیدا کرسکتی ہیں۔ خطرناک کیمیکلز اور آتشی سامان کے ساتھ اسٹور کرنے والی سہولتوں کے لئے بھی اسی طرح کی پریشانی ہے۔

نیشنل مینجمنٹ ڈیزاسٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) نے جاری کی ہے-

کیمیکل آفات سے متعلق رہنما خطوط 2007۔

کیمیکل کے بندوبست (دہشت گردی) آفات 2009 سے متعلق رہنما خطوط اور

پی او ایل ٹینکرز 2010ء کے ٹرانسپورٹ کے لئے تحفظ اور سلامتی کا استحکام ، جو کیمیکل صنعتوں کےلئے ضروری ہیں۔ ماحولیات کے تحفظ کے قانون 1086 کے تحت خطرناک کیمیکلزکی درآمد، ان کو تیار کرنے اور ان کو اسٹور کرنے کے ضابطے 1989 ان صنعتوں کے لئے قانونی ضرورتیں فراہم کرتا ہے۔

جب لاک آؤٹ؍ٹیگ آؤٹ طریقہ کار نافذ نہیں ہوتی ہے تو توانائی کے بہت سے وسائل آپریٹرس ؍سپر وائزر کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، جو الیکٹرکل ، میکینکل یا کیمیکل آلات برقرار رکھنے یا ان کی سروس کررہے ہیں۔ جب بھاری مشینری اور آلات کو وقتاً فوقتاً برقرار نہیں رکھا جاتا ہے تو وہ آپریٹرس ؍انجینئرس کے لئے خطرناک بن سکتے ہیں۔

آتش گیر مادے، گیسوں سے بھری چیزیں، کھلی تاریں، کنویئر بیلٹ، خود کار گاڑیاں مینوفیکچرنگ کی سہولیات کو زیادہ خطرے والا ماحول بناتی ہے۔حفاظتی کوڈز کے غلط نفاذ اور غلط طریقے سے لیبل لگائے جانے والے کیمیکلز سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

جب غیر متوقع طور پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو تیزی سے کارروائی کرنا چیلنج بن جاتا ہے۔جوکھم کو کم سے کم کرنے اور صنعتی یونٹوں کو کامیابی سے پھر سے شروع کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے حسب ذیل رہنما خطوط جاری کئے ہیں۔

ریاستی سرکاریں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ متعلقہ میزر ایکسیڈنٹل ہزارڈ (ایم اے ایچ)(زیادہ خطرے والے)یونٹس کے آفات سے بندوبست کے منصوبے اَپ ڈیٹ کئے گئے ہیں، تاکہ انہیں نافذ کیا جاسکے۔ یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ ضلع تمام ذمہ داران افسران انڈسٹریل آن سائٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو یقینی بنائیں گے۔کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران اور بعد میں صنعتوں کو محفوظ طریقے سے پھر سے شروع کرنے کیلئے آفات کے بندوبست کے منصوبے بھی موجود ہیں اور ان صنعتوں کو دوبارہ شروع کرنے لئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کا احاطہ بھی کیا جائے گا۔

ہندوستانی فضائیہ نے وزاگ گیس لیک سے نمٹنے میں ریاستی حکومت کی مدد کرنے کے لئے ضروری کیمیکل کی طیارے سے ڈھلائی کی

ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے 9 مئی 2020 کو آفات میں انسانی امداد اور آفات میں راحت پہنچانے کی اپنی کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر وزاگ گیس لیک سے نمٹنے میں آندھرا پردیش کی ریاستی حکومت کی مدد کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔ حکومت آندھ پردیش کے صنعت اور کامرس کے محکمے کی درخواست پر ہندوستانی فضائیہ نے وزاگ آندھرا پردیش میں ایل جی پالیمرس میں اسٹائرین منومر اسٹوریج ٹینک میں ہونے والی گیس لیگ پر موثر طریقے سے قابو پانے کےلئے مطلوب 8.3 ٹن ضروری کیمیکلز کی طیارے کے ذریعہ ڈھلائی کی۔

فضائیہ کے 2 اےاین۔32 ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ، مندرا گجرات سے تقریباً 1100 کلوگرام ٹرشری بوٹائل کیٹیکول اور 7.2 ٹن پالیمرائزیشن انہی بیٹرس اور گرین ریٹارڈرس کو فضائیہ راستے سے آندھرا پردیش میں وزاگ تک پہنچانے کے لئے لگائے گئے۔ اسٹوریج ٹینک سے لیکن ہونے والی گیس کے زہرے اثرات کو کم کرنے کے لئے ان کیمیکلز کی ضرورت تھی۔ ہندوستانی فضائیہ نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پٹرولیم کے ڈائرکٹر کو دلی سے اور اسٹائرین گیس کے اسپیشلسٹ کو ممبئی سے وزاگ پہنچانے کی بھی سہولت فراہم کرائی۔ گیس لیک پر قابو پانے کے لئے کئے جانے والی کارروائیوں کی نگرانی کے لئے ان دونوں ماہرین کی ضرورت تھی۔

کووڈ۔ 19 عالمی وبا کے دوران حکومت ہند کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو پورا کرنے کے ایک حصے کے طور پر بھی ہندوستانی فضائیہ اس وبا کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں ریاستی حکومت اور معاون ایجنسیوں کو ضروری سپلائز فراہم کرانے کے لئے طیاروں سے ڈھلائی کررہی ہے۔ 25 مارچ 2020 کو حکومت ہند کی مدد کی اپنی کارروائیاں شروع کرنے کے وقت سے اب تک ہندوستانی فضائیہ مجموعی طور پر 703 ٹن سامان کی طیارے کے ذریعہ ڈھلائی کرچکی ہے۔کووڈ۔ 19 سے متعلق کاموں کے لئے ہندوستانی فضائیہ نے مجموعی طور پر طیارے کے ذریعہ 30 بھاری اور میڈیم ڈھلائی کے کام انجام دیئے ہیں۔

وطن واپس آنے والے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس جلاشوا میں مالدیپ سے سوار ہوکر کوچی پہنچ گئے

آپریشن سمندر سیتو” کے لیے تعینات کیا گیا آئی این ایس جلاشوامالدیپ میں پھنسے ہوئے کل ملاکر 698 بھارتی شہریوں کو لے کر 10 مئی کو صبح دس بجے کے قریب کوچی بندرگاہ میں داخل ہوا۔ ان مسافروں میں خواتین، بزرگ افراد اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ جہاز مسافروں کو جہاز میں چڑھانے کی تمام کارروائیاں مکمل ہونےکے بعد 8 مئی کو شام دیر گئے مالدیپ سے روانہ ہوا تھا۔ مسافروں کو جہاز میں سوار کرنے کی تمام محفوظ کارروائیوں کو یقینی بناکر جس میں ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کا طریقہ بھی شامل تھا، متعلقہ ٹیموں نے تمام ضروری اقدامات کا خیال رکھا۔ معمر افراد، حاملہ خواتین اور بچوں کے سلسلے میں خصوصی احتیاط برتی گئی۔ تمام مسافروں کی متعلقہ کارروائیاں بھارتی بحریہ کے تربیت یافتہ افراد کے ذریعے انجام دی گئیں جو ذاتی تحفظ کا لباس پہنے ہوئے تھے۔ بھارتیوں کو وطن واپس لانے کی کارروائی بھارت سرکار کی طرف سے جاری کردہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیزرس (ایس او پی) اور رہنما خطوط کے مطابق انجام دی گئی تھیں۔

کوچن پورٹ ٹرسٹ کے کروز ٹرمنل پر، جہاں یہ جہاز آکر لگا تھاوہاں موجود بحریہ اور سول انتظامیہ کے حکام نے مسافروں کا خیر مقدم کیا۔ کروز ٹرمنل پر کووڈ-19 کی اسکریننگ اور امیگریشن کی کارروائیاں تیز رفتاری سے مکمل کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے وسیع انتظامات کیے تھے۔ ٹرمنل پر طبی پروٹوکول کے مطابق کسٹم، امیگریشن، پولیس، محکمہ صحت، بی ایس این ایل اور ضلع انتظامیہ کے لیے شیشے کے کاو ¿نٹر بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کوچن انٹرنیشنل ایئر فورس لمیٹڈ (سی آئی اے ایل)کی طرف سے مسافروں کے لیے سامان کی ٹرالیوں کا انتظام کیا گیا تھا اور اس سب کا مقصد جہاز سے تیز رفتار سے نیچے اترنے اور صحت نیز طبی کارروائیاں تیزی سے مکمل کرنے کو یقینی بنانا تھا۔

وشاکھاپٹنم میں لنگر انداز ا ٓئی این ایس جلاشوا بھارتی شہریوں کو بچا کر نکالنے کی اسی طرح کی کوششوں اور انسان دوستی کی بڑی امداد نیز بھارتی بحریہ کی بحران سے بچا کر نکالنے کی کوششوں کی صف اول میں رہا ہے۔ یہ جہاز فوجیوں کو لے جانے کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا ہے اور موجودہ کارروائیوں کے لیے اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں۔ جہاز کے عملے میں بھارتی بحریہ کی تربیت یافتہ میڈیکل ٹیمیں شامل تھیں جنھیں خاص طور پر موجودہ آپریشن کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

بھارتیوں کو واپس لانے کی جو کارروائی آج مکمل کی گئی ہے وہ اس مشن کا پہلا حصہ ہے۔ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ایک اور جہاز آئی این ایس مگر ، جو کوچی میں لنگر انداز رہا کرتا تھا،202 بھارتی شہریوں کو لے کر آج مالے سے روانہ ہوا۔ یہ پوری کارروائی کووڈ-19 وبائی بیماری کے پس منظر میں مشرق وسطی اور مالدیپ سے بھارتی شہروں کو واپس لانے کے بھارت سرکار کے وندے بھارت مشن کا ایک حصہ ہے۔

آپریشن سمندر سیتو- آئی این ایس مگر بھارتی شہریوں کو لے کر مالے روانہ ہوا

بھارتی بحریہ کا دوسرا جہاز آئی این ایس مگر بھارتی شہریوں کو لانے کے لیے مالدیپ میں مالے پہنچا تھا جو لوگوں کو ا پنے اندر سوار کرنے کی تمام کارروائیاں مکمل کرنے کے بعدمالے سے روانہ ہوگیا ہے۔

وندے بھارت مشن کے تحت آپریشن سمندر سیتو کے ایک حصے کے طور پر بھارتی بحریہ نے مالدیپ سے بھارتی شہروں کو واپس لانے کے دوسرے مرحلے کے لیے آئی این ایس مگر کو تعینات کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں آئی این ایس جلاشوا نے مالدیپ سے 10 مئی 2020 کو وہاں پھنسے ہوئے 698 بھارتی باشندوں کو بچا کر نکالا تھا۔

مالے میں شدید بارش کے باوجود اس جہاز نے لوگوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے تمام انتظامات کیے۔ کل ملاکر 202 افراد جہاز میں سوار ہوئے جن میں 24 خواتین، 2 حاملہ عورتیں اور 2 بچے شامل تھے۔آدمیوں میں سے ایک کی کان میں فریکچر تھا جس کا تعلق تمل ناڈو سے ہے۔

آٹھ مئی کو اختیار کیے گئے طریقہ کار کے مطابق نکالے جانے والے افراد کی طبی اسکریننگ کی گئی۔ ان کے سامان کو جراثیم سے پاک کیا گیا اور جہاز کے اوپر ہی انھیں مختلف زونوں کے مطابق آئی ڈیز الاٹ کیے گئے۔

آئی این ایس مگر لوگوں کو جہاز میں سوار کرنے کی تمام کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ا?ج شام مالے سے کوچی کے لیے روانہ ہوگیا۔

زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کے لئے 10 ریاستوں اور مرکزی علاقوں کی 177 نئی مینڈیاں ای نام پلیٹ فارم سے منسلک ہیں

کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ENAM کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے - شری نریندر سنگھ تومر

مرکزی وزیر زراعت اور کسانوں کی بہبود وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج زرعی مارکیٹنگ کو مستحکم کرنے اور کسانوں کو آن لائن پورٹلز کے ذریعے اپنی فصلوں کی پیداوار فروخت کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے قومی زرعی منڈی (E-NAM) کے ساتھ 177 نئی منڈیوں میں شمولیت اختیار کی۔ شامل آج جو منڈیاں شامل ہیں وہ ہیں: گجرات (17) ، ہریانہ (26) ، جموں و کشمیر (1) ، کیرالہ (5) ، مہاراشٹر (54) ، اڈیشہ (15) ، پنجاب (17) ، راجستھان (25) ، تمل ناڈو (13) اور مغربی بنگال (1)۔ 177 اضافی منڈیوں کے اجرائ کے ساتھ ہی ، ملک بھر میں ENAM منڈیوں کی کل تعداد 962 ہوگئی ہے۔

ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے نئی منڈیوں کا افتتاح کرتے ہوئے مسٹر تومر نے کہا کہ کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ENAM کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ENAM پورٹل کا تصور وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے کسانوں کے مفاد کے لےئے ٹکنالوجی کے ایک مہتواکانکشی استعمال کے طور پر کیا ہے۔

اس سے پہلے ، 1766 ریاستوں اور 2 مرکزی خطوں میں 785 منڈیوں کو ENAM کے ساتھ کلب کیا گیا تھا ، جس میں 1.66 کروڑ کسان ، 1.30 لاکھ تاجر اور 71،911 کمیشن ایجنٹ استعمال کیے گئے تھے۔ 9 مئی 2020 تک ، مجموعی طور پر 1 لاکھ کروڑ روپئے کی مجموعی قیمت کے ساتھ ENAM پلیٹ فارم پر مجموعی طور پر 3.43 کروڑ میٹرک ٹن اور 37.93 لاکھ (بانس اور ناریل) کا کاروبار ہوا۔ این اے ایم پلیٹ فارم کے ذریعے 708 کروڑ ڈیجیٹل ادائیگیاں کی گئیں ، جس سے 1.25 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ اٹھایا گیا۔ ENAMMandy / ریاست کی حدود سے باہر تجارت میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ مجموعی طور پر 236 منڈیوں نے 12 ریاستوں میں بین منڈی تجارت میں حصہ لیا ، جبکہ 13 ریاستوں / ریاستوں کی حکومتوں نے بین ریاستی تجارت میں حصہ لیا جس سے کسانوں کو براہ راست دور کے تاجروں کے ساتھ بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت ، این اے این ایم پر کھانے پینے کے اناج ، تیلی دالوں ، فائبر ، سبزیوں اور پھلوں سمیت 150 اشیائ کی تجارت کی جارہی ہے۔ ENAM پلیٹ فارم پر 1،005 سے زیادہ FPOs رجسٹرڈ ہیں اور انہوں نے 7.00 ارب روپے کی 2900 میٹرک ٹن زرعی پیداوار کا کاروبار کیا ہے۔

کوپیڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران منڈیوں سے بھیڑ کو کم کرنے کے لئے 2 اپریل 2020 کو ایف پی او ٹریڈ ماڈیول ، لاجسٹک ماڈیول اور ENWR پر مبنی اسٹوریج ماڈیول وزیر زراعت نے شروع کیا تھا۔ اس وقت سے 15 ریاستوں کے 82 ایف پی اوز نے ENAM پر تجارت کی ہے جس کی مجموعی حجم 12048 کوئٹل ہے جس کی مالیت 2.22 کروڑ روپے ہے۔ نو (9) لاجسٹک سروس ایگریگیٹرز نے ENAMK کے ساتھ شراکت کی ہے ، جس میں 2،31،300 ٹرانسپورٹرز ہیں ، جو ENAM شراکت داروں کی ٹرانسپورٹ سروس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 11،37،700 ٹرک کی دستیابی فراہم کرتے ہیں۔

قومی زرعی منڈی (E-NAM) حکومت ہند کی ایک انتہائی مہتواکانکشی اور کامیاب اسکیم ہے جو زرعی اجناس کے لئے مربوط قومی مارکیٹ بنانے کے لئے موجودہ اے پی ایم سی کا ایک گروپ تشکیل دے گی۔ یہ خریدار اور بیچنے والے کے مابین انفارمیشن کی تفاوت کو ختم کرکے اور اصل مانگ اور رسد پر مبنی اصل قیمت کی دریافت کو فروغ دے کر مربوط مارکیٹوں میں عمل کو آسان بنانے کے ذریعہ زرعی مارکیٹنگ میں یکسانیت کو فروغ دے سکتا ہے۔

یکم مئی 2020 کو ، مسٹر تومر نے 7 کسانوں سے 200 ای این نمونڈ شامل کرنا شروع کی ، اور ہندوستانی کسانوں کی مدد کے لئے 1 نئی ریاست کرناٹک کو این-این ایم میں شامل کرنا شروع کیا۔ اس کے علاوہ ، مرکزی وزیر زراعت نے آر ای ایم ایس (انٹیگریٹڈ مارکیٹ پورٹل-یو ایم پی) اور کرناٹک کے ای نام پورٹل کے مابین باہمی تعاون کا آغاز بھی کیا تھا۔ یہ ان دونوں پلیٹ فارمز کے مابین انٹرآپریبلٹی خصوصیت کا استعمال کرتے ہوئے ، دونوں پلیٹ فارمز کے تاجروں اور کاشتکاروں کو تجارت کے لئے زیادہ منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

اپنے پہلے مرحلے میں (5 585 منڈیوں کو شامل کرتے ہوئے) ن لیگ کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے ، یہ 15 مئی 2020 سے پہلے 415 اضافی منڈیوں کے ساتھ اپنے پروں کو پھیلاتے ہوئے توسیع کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم کے "ون نیشن ون مارکیٹ" کے وڑن کو پورا کرنے کے لئے 18 ریاستوں اور 3 مرکزی علاقوں میں ENAM منڈیوں کی کل تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

ہندوستانی زرعی اجناس کے لئے موجودہ منڈیوں کو "ون نیشن ون مارکیٹ" سے جوڑنے کے مقصد کے تحت 14 اپریل 2016 کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایک آل انڈیا الیکٹرانک تجارتی پورٹل نیشنل زرعی مارکیٹ (E-NAM) کا آغاز کیا تھا۔ فیکلٹی آف سمال فارمرز ایگری بیزنیس (SFAC) وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود ، حکومت ہند کے زیراہتمام ENAM کو نافذ کرنے کی ایک اولین ایجنسی ہے۔

اے این ایم پورٹل اے پی ایم سی سے متعلق تمام معلومات اور خدمات کے لئے ایک سنگل ونڈو سروس مہیا کرتا ہے جس میں اشیا کی آمد ، معیار اور قیمت ، تجارت کے تجاویز کی براہ راست تصفیہ کرنے کا بندوبست اور کسانوں کے کھاتوں میں الیکٹرانک ادائیگی اور مارکیٹ تک رسائی میں بہتری شامل ہے۔ ان کی مدد کرتا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران دالوں اورتلہن کی وصولی متبادل نہیں

موسم گرما کی فصلوں کے لیے بوائی کے علاقے میں خاطر خواہ کا اضافہ ہوا

ربیع کے موسم 2020-21کے دوران 241 ایل ایم ٹی سے زیادہ گیہوں ا?یا جس میں سے 233 ایل ایم ٹی سے خرید لیا گیا

بھارت سرکار کے زراعت ، تعاون اور کسانوں کی فلاح وبہبود کا محکمہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران کھیتوں میں کسانوں اور آب پاشی کی سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہا ہے۔ زراعت اور کسانوں کی فلاح وبہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر صورت حال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ اب تک کی صورت حال اس طرح ہے:

1۔ این اے ایف ڈی کے ذریعے لاک ڈاؤن کے دوران فصلوں کی وصولی کی صورتحال

نو ریاستوں سے 2.74 لاکھ ایم ٹی گرام (چنا) وصول کیا گیا ہے۔ ان ریاستوں میں آندھراپردیش، تلنگانہ، کرناٹک، راجستھان، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، گجرات، اترپردیش اور ہریانہ شامل ہیں۔

پانچ ریاستوں سے 3.40 لاکھ ایم ٹی سرسوں حاصل کی گئی ہے جن میں راجستھان، مدھیہ پردیش، اترپردیش، گجرات اور ہریانہ کی ریاستیں شامل ہیں۔

تلنگانہ سے ایک ہزار 700 ایم ٹی سورج مکھی کا پھول حاصل کیا ہے۔

آٹھ ریاستوں سے 1.71 لاکھ ایم ٹی تور حاصل کی گئی ہے۔ ان ریاستوں میں تمل ناڈو، تلنگانہ، آندھراپردیش، مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، گجرات اور اڈیشہ شامل ہیں۔

2۔ گرمیوں کی فصلوں کے دوران بوائی کا علاقہ

چاول: گرمی کی فصل کے دوران تقریباً 34.87 لاکھ ہیکٹئرز رقبہ میں چاول کی کاشت کی گئی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 25.29 لاکھ ہیکٹئرس میں کاشت کی گئی تھی۔

دالیں: تقریباً 10.37 لاکھ ہیکٹئرزرقبے میں دالوں کی کاشت کی گئی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 5.92 لاکھ ہیکٹئرز میں دالوں کی بوائی کی گئی تھی۔

موٹے اناج: تقریباً 9.57 لاکھ ہیکٹئرز رقبے میں موٹے اناج ک کاشت کی گئی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 6.20 لاکھ ہیکٹئرز رقبے پر کاشت کی گئی تھی۔

تلہن: تقریباً 9.17 لاکھ ہیکٹئرز رقبے پر تلہن کی بوائی کی گئی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت کے دوران 7.09 لاکھ ٹن ہیکٹئر رقبے پر بوائی کی گئی تھی۔

3۔ ربیع کے مارکیٹنگ سیزن (ا?ر ایم ایس)2020-21 میں کل ملاکر 241.36 لاکھ ایم ٹی گیہوں ایف سی ا?ئی میں پہنچا جس میں سے 235.51 لاکھ ایم ٹی گیہوں کی خرید لیا گیا۔

4۔ ربیع کے موسم 2020-21 میں ربیع کی دالوں اور تلہن کے لیے گیارہ ریاستوں میں کل ملاکر 3206 وصولی کے مخصوص مراکز دستیاب ہیں۔

وزیراعظم نے ٹکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر سائنس دانوں کو خراج تحسین پیش کیا

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج ملک کے تمام سائنس دانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو کہ دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کو استعمال کررہے ہیں۔

جناب نریندر مودی نے ٹکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر ٹوئٹ کیا ہے۔

انہوں نے کہا “ٹکنالوجی کے قومی دن کے موقع پر قوم سبھی کو سلام پیش کرتی ہے، جو دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ٹکنالوجی کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ 1998 میں آج ہی کے دن ہمارے سائنس دانوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ہندوستان کی تاریخ میں یہ ایک یادگار لمحہ تھا”۔

گیارہ مئی 1998 کو انجام دیئے جانے والے پوکھرن تجربات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت ایٹمی تجربات صرف مضبوط سیاسی قیادت کی وجہ سے ممکن ہوپائے تھے۔ وزیراعظم نے ان تجربات کے بارے میں اپنے “من کی بات ” پروگرام کے دوران کہی جانے والی ایک بات بھی شیئر کی۔

انہوں نے کہا “سن 1998 میں پوکھرن میں کئے گئے تجربات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مضبوط سیاسی قیادت کیا تبدیلی لا سکتی ہے۔ یہی بات میں نے ایک من کی بات پروگرام کے دوران پوکھرن ، ہندوستان کے سائنس دانوں اور اٹل جی کی شاندار قیادت کے بارے میں کہی تھی”۔

جناب نریندر مودی نے مزید ٹوئٹ کیا کہ “آج ٹکنالوجی ، دنیا کو کووڈ۔ 19 سے پاک کرنے کی کوششوں میں بہت سے لوگوں کی مدد کررہی ہے۔ میں ان سبھی کو سلام پیش کرتا ہوں جو کورونا وائرس کو شکست دینے کے طریقوں کا پتہ لگانے کے لئے تحقیق اور اختراع کے صف اول میں ہے۔ اپنے سیارے کو ایک نسبتاً زیادہ صحت مند اور بہتر سیارہ بنانے کے لئے ہمیں ٹکنالوجی کے استعمال کو جاری رکھنا چاہیے”۔

ڈی آر ڈی او کے قومی یوم تکنالوجی کے موقع پر ، وزیر دفاع شری راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان کو ٹیکنالوجی کا برآمد کنندہ بننے کا مطالبہ کیا۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان کو خود انحصاری اور "ٹکنالوجی کا برآمد کنندہ" بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آج قومی ٹیکنالوجی ڈے (این ٹی ڈی) کے موقع پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دفاعی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے سائنسدانوں سے خطاب کیا۔

مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا ، "پچھلے پانچ سالوں میں ، ہم نے نئے اہداف طے کیے ہیں ، اور ان کے حصول کے لئے صحیح پالیسی فریم ورک بنانے کے لئے سخت محنت کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ دفاعی تحقیق ، ترقی اور تیاری کے ہر شعبے میں اس تبدیلی کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ، "ہمیں ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ دیسی ٹکنالوجی اور دیسی مینوفیکچرنگ کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ ہم واقعی خود انحصار اس وقت کریں گے جب ہندوستان ٹکنالوجی کے خالص درآمد کنندہ کی بجائے خالص برآمد کنندہ بننے میں کامیاب ہوجائے گا۔"

ماہرین کو ہندوستان کو تکنیکی طور پر طاقتور ملک بنانے میں کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شری راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اور دیش کے لوگ اس سمت میں آپ کی آئندہ کی کوششوں کی مکمل حمایت کریں گے۔

شری راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی تنظیموں کو جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کوویڈ 19 کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بھارت کی دفاعی قوتوں اور تحقیقی و ترقیاتی کوششوں نے اس پوشیدہ دشمن کو درپیش چیلنجوں کے حل تلاش کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا ، "کوآرڈ 19 کے خلاف جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کی مستقل کوششوں کے ذریعے ڈی آر ڈی او نے گزشتہ 3-4 ماہ کے دوران 50 سے زائد مصنوعات تیار کیں۔ ان میں بائیو سوٹ ، سینیٹائزر ڈسپینسر ، پی پی ای کٹ وغیرہ شامل ہیں۔ ہماری دفاعی صنعت کی ناقابل برداشت روح نے ریکارڈ وقت میں بڑے پیمانے پر اعلی معیار کی مصنوعات تیار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ "

این ٹی ڈی 11 مئی کو پوکھران میں 1998 کے جوہری تجربات کی یاد میں منایا جارہا ہے۔ یہ ملک میں ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی کامیاب کامیابی کی علامت ہے۔ انہوں نے اہم علاقوں میں خود کفالت کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیر دفاع نے اس موقع کی اہمیت کے بارے میں کہا ، ‘‘یہ دن ہمارے ہندوستانی سائنسدانوں ، خاص طور پر ان لوگوں کے علم ، قابلیت اور استقامت کے لئے وقف ہے ، جنہوں نے ملک کے پیچیدہ قومی سلامتی چیلنجوں کا حل تلاش کرنے میں اپنا قیمتی کردار ادا کیا ہے۔’’ انہوں نے مزید کہا ، "قومی یوم تکنالوجی اپنی تکنیکی ترقی کا جائزہ لینے کا ایک موقع ہے اور اگر ہم نے ایک تکنیکی قوت بن کر ابھرنا ہے تو ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ اس نوعیت کا انتشار اس لئے ضروری ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی ملکی معیشت میں سب سے اہم عوامل بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اہم ٹیکنالوجیز میں خود کفالت کے حصول ، جدتوں کی حوصلہ افزائی اور مصنوعات کی وصولی کے لئے ٹکنالوجی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لئے مستقل کوششیں کریں۔

سائنس دانوں اور انجینئروں کی لگن ، عزم اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ڈی آر ڈی او میں قومی یوم ٹکنالوجی 2020 منایا گیا۔ خاص طور پر ان سائنس دانوں اور انجینئروں کو یاد کیا گیا جنہوں نے شکتی پوکھران 2 کی کامیابی سے قومی تکنیکی شناخت حاصل کرنے کے لئے کام کیا۔ اس موقع پر ، کوویڈ۔19 کے خلاف لڑنے کے لئے ایک ویبینار کا اہتمام کیا گیا تھا اور ڈی آر ڈی او ٹکنالوجی پر ایک پریزنٹیشن پیش کی گئی تھی۔

این آئی ٹی آئی کے ممبر ڈاکٹر وی کے سرسوت نے اپنے خطاب میں ڈی آر ڈی او کو کوڈ 19 کے خلاف جنگ میں پہلے 45 دنوں کے دوران کئے گئے عمدہ کام پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑائی میں ، ملک نے سائنس اور ٹکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے ڈی آر ڈی او کو مشورہ دیا کہ لائف سائنس لیبارٹریوں پر زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ڈیفنس پروگرام کو دوبارہ زندہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے ڈی آر ڈی او کے مضبوط اڈے کے ساتھ مزید روبوٹک ڈیوائسز کی ترقی کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر کے وجیراگھاون ، پرنسپل سائنسی مشیر (پی ایس اے)، حکومت ہند ، نے اپنے خطاب میں ڈی آر ڈی او کی تعریف کی اور کہا کہ کوڈ۔19 کے خلاف جنگ میں اس موقع پر کام کرنا غیر معمولی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام ٹکنالوجی شعبوں میں دیسی صلاحیت کو ترقی دینا چاہئے۔ انہوں نے آئی ٹی سے چلنے والی ٹیکنالوجیز اور ایپلیکیشنز کی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

سیکرٹری ، ڈی ڈی آر اینڈ ڈی اور ڈی آر ڈی او کے چیئرمین ، ڈاکٹر جی ستیش ریڈی نے کویڈ۔19 کا مقابلہ کرنے میں ساتھی شہریوں ، مسلح افواج اور کورونا واریرس کی مدد کرنے پر تمام ٹیموں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ ملک کو مستحکم اور خود انحصار کرنے کے لئے جدید ترین ٹکنالوجی کی فراہمی کے لئے کام کریں اور اس کے لئے قوم کی خدمت میں خود کو وقف کریں۔

ڈاکٹر ریڈی نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ، مصنوعات کو پوری دنیا میں فراہم کی جانی چاہئے۔ تاخیر سے سپلائی نہیں ہے۔ کو آرڈ 19 سے لڑنے کے لئے ڈی آر ڈی او نے 53 مصنوعات تیار کیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سسٹم ریکارڈ ٹائم میں شامل کیے گئے تھے۔

اس موقع پر وزارت دفاع اور ڈی آر ڈی او کے اعلی عہدیدار بھی موجود تھے۔

بھارت ایس اینڈ ٹی کے ذریعہ معیشت کو پھر سے چلانے کے لئے تیار ہے: ڈاکٹر ہرش وردھن

ڈیجیٹل کانفرنس ، ‘دوبارہ شروع - سائنس ، ٹکنالوجی اور ریسرچ ٹرانسلیشنز کے ذریعہ معیشت کو دوبارہ شروع کریں’ ، جو قومی یوم ٹیکنالوجی منانے کے لئے منعقدہ ، خطاب

ان کمپنیوں کے ورچوئل نمائش کا بھی افتتاح کیا جن کی ٹیکنالوجیز کو ٹی ڈی بی نے تعاون کیا ہے

مختلف تنظیمیں اور کمپنیاں ڈیجیٹل بی 2 بی لاؤنج کے ذریعہ نمائش میں اپنی مصنوعات کی نمائش کررہی ہیں

مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹکنالوجی ، ارتھ سائنسز اور صحت و خاندانی بہبود ، ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج کہا کہ ہندوستان کی کوویڈ 19 کے خلاف لڑائی مضبوط اور مستقل طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ یہاں قومی ٹیکنالوجی کے دن کو منانے کے لئے منعقدہ ایک ڈیجیٹل کانفرنس ، آر-اسٹارٹ - ‘سائنس ، ٹکنالوجی اور ریسرچ ٹرانسلیشنز کے ذریعے اکانومی کو پھر بوٹ کریں’ سے خطاب کررہے تھے۔ اس کانفرنس کا انعقاد ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ بورڈ (ٹی ڈی بی) نے سائنس و ٹکنالوجی (ڈی ایس ٹی) اور کنڈیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کی ایک قانونی ادارہ کے ذریعہ کیا تھا۔

ملک میں COVID جیسی وبائی امراض کے بارے میں وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے ، ڈاکٹر ہرش وردھن نے اس بات پر زور دیا کہ S&T ردعمل پورے S&T ماحولیاتی نظام کی باہمی تعاون کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت ، اکیڈمیا ، سائنس دان ، اسٹارٹ اپس ، کاروباری افراد اور صنعت اس وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے حل تلاش کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ہمیں اپنے سائنس دانوں ، اپنے کاروباری افراد اور کوائڈ۔19 کے لئے قابل تعی .ن حل تلاش کرنے کے لئے کام کرنے والے اپنے اداروں کی کوششوں کو سراہنا چاہئے۔ وزیر نے کہا ، نئی دریافتیں ، صنعت کی شراکت داری ، اور بہتر تحقیق ، تیزی سے تیار اور اپنایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ، "قلیل مدت کے بعد ، قوم متعدد محققین کو نئی جانچ کٹس ، حفاظتی سازوسامان ، سانس لینے والے آلات وغیرہ تیار کرنے کے قابل بنا چکی ہے۔"

وزیر نے سامعین کو حکومت کی جانب سے کوویڈ 19 سے متعلق ٹکنالوجی صلاحیتوں کا نقشہ بنانے کے لئے تشکیل دی گئی ” COVID-19 ٹاسک فورس “ کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ "ہماری حکومت نے 'میک ان انڈیا' پروگرام کی بھرپور حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے سائنسی اداروں اور اسٹارٹاپس نے کوویڈ 19 ٹیسٹ ، ماسک ، سینیٹائزرز ، ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) اور وینٹیلیٹر تیار کیے ہیں۔

رواں سال قومی یوم تکنالوجی کے مرکزی خیال ، موضوع پر ، ڈاکٹر ہرش وردھن نے نشاندہی کی ، "ہمیں نئے منتر کی حیثیت سے خود انحصاری کا استعمال کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر معاشی اثرات کو کم کرنے اور مضبوط بحالی کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح ، ہم تکنیکی اور صنعتی شعبے میں اضافے کے نئے مواقع کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اپنے خصوصی خطاب کے دوران ، NITI کے ممبر ، ڈاکٹر وی کے سارسوت نے ، معیشت کو فروغ دینے میں نئی ??عمر کی ٹکنالوجیوں ، میڈیکل اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز جیسی ٹیکنالوجیز کی اہمیت کی نشاندہی کی جب کہ دنیا نئے معمول کے مطابق ہے۔

حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر کے وجے راگھوان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کس طرح ٹکنالوجی ہماری زندگی اور ہمارے مستقبل کے طریقوں کو تبدیل کرسکتی ہے ، خاص طور پر کوویڈ کے بعد کے دور میں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ مستقبل کے لئے تیار کرنے کا ایک موقع ہے  اور ایک بہتر لیس آر اینڈ ڈی ورک فورس اور ماحولیاتی نظام ہندوستان کو مستقبل کے چیلنجوں کے لئے بہتر طور پر تیار کرے گا۔

ڈی ایس ٹی نے اپنے وجود کے 50 ویں سال میں قدم رکھا ہے۔ ڈی ایس ٹی کے سکریٹری پروفیسر آشوتوش شرما نے اس طرح ، کواویڈ 19 کے اوقات میں درپیش چیلنجوں کے پیش نظر قومی یوم تکنالوجی کی اہمیت کو واضح کیا۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ کوڈ 19 کے بحران نے آر اینڈ ڈی اور ٹکنالوجی کی ترقی کو مختلف طریقوں سے کام کرنے کا باعث بنا ہے۔ نجی عوامی ماڈل نے آر اینڈ ڈی کو زیادہ اونچائیوں کی طرف راغب کیا ہے۔ قابل تعبیر ترجمہ ، پروٹو ٹائپنگ ، اسٹارٹ اپس اور صنعت میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ ان کے بقول ، معیشت کی بحالی کے لئے فوری عمل میں آنے کے لئے نئی دور کی ٹکنالوجیوں ، مناسب قومی مشنوں ، پروگراموں اور اسکیموں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں بھی ریڈی میڈ حل دستیاب نہیں ہیں ، وہاں تحقیق اور ترقی کو زیادہ گہرا ، متعلقہ ، تیز ، مؤثر اور مضبوطی سے صنعت سے منسلک ہونے کی ضرورت ہے۔ اب سیکھے گئے اسباق مستقبل کی اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں ہماری مدد کرتے رہیں گے۔ پائیدار ترقی ، ماحولیاتی تبدیلی ، صنعت 4.0 ، مائکروبیل مزاحمت، وغیرہ۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے چیف سائنس دان ڈاکٹر سومیا سوامیاتھن نے وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات اور آگے کے راستے پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر سوامیاتھن نے ہندوستان کوویڈ ون چیلنج سے نمٹنے کے طریقے کی تعریف کی۔

ڈی جی ، CII مسٹر چندرجیت بینرجی؛ افتتاحی اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں صدر ، CII مسٹر وکرم کرلوسکر ، ٹی ڈی بی کے سکریٹری ، ڈاکٹر نیرج شرما بھی شامل تھے۔

اس موقع پر ، ڈاکٹر ہرش وردھن نے ان کمپنیوں کے ورچوئل نمائش کا افتتاح بھی کیا جن کی ٹیکنالوجیز کو ٹی ڈی بی نے سپورٹ کیا ہے۔ مختلف تنظیموں اور کمپنیوں نے ڈیجیٹل بی 2 بی لاؤنج کے ذریعہ نمائش میں اپنی مصنوعات کی نمائش کی۔

کوجیڈ 19 کے تناظر میں یو جی سی نے طلباء، اساتذہ اور اداروں کے متعلقہ سوالات ، شکایات اور دیگر تعلیمی مسائل پر غور کرنے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔

آپ کی شکایات یو جی سی کے موجودہ آن لائن طلباءکی شکایات کے ازالے کے پورٹل پر بھی درج کی جاسکتی ہیں۔

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے کوویڈ 19 وبا کے بعد 29 اپریل 2020 کو امتحانات اور تعلیمی تقویم کے بارے میں رہنما اصول جاری کیے تھے۔ اسی کے تحت ، تمام یونیورسٹیوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی حفاظت اور مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان ہدایات کو اپناتے اور ان پر عمل کرتے ہوئے اپنی تعلیمی سرگرمیوں یا سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کریں اور تمام متعلقہ افراد کی صحت کو اولین ترجیح دیں۔ ہے

یونیورسٹیوں سے بھی اس مہاماری کے تناظر میں طلبائ کے امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں یا سرگرمیوں سے متعلق شکایات سے نمٹنے کے لئے ایک خصوصی سیل تشکیل دینے کی درخواست کی گئی ہے اور طلبا کو اس کی اطلاع دیں۔

اس کے علاوہ ، کوجیڈ 19 کی وبا کے تناظر میں طلبائ ، اساتذہ اور اداروں سے متعلق سوالات ، شکایات اور دیگر علمی امور پر غور کرنے کے لئے یو جی سی نے مندرجہ ذیل اقدامات کیے ہیں۔

1. ایک خصوصی ہیلپ لائن نمبر: 011-23236374 متعین کیا گیا ہے۔

2. ایک ای میل پتہ: covid19help.ugc@gmail.com تشکیل دیا گیا ہے۔

طلبہ یو جی سی https://www.ugc.ac.in/grievance/student_reg.aspxکے موجودہ آن لائن طلبائ کی شکایات کے ازالہ پورٹل پر بھی اپنی شکایات درج کرسکتے ہیں۔

طلباء، اساتذہ اور انسٹی ٹیوٹ کے خدشات / شکایات کو تلاش کرنے اور اسی کے مطابق ان کے ازالے کے لئے یو جی سی میں ایک ٹاسک فورس (ٹاسک فورس) تشکیل دی گئی ہے۔

تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں سے گزارش ہے کہ وہ اس عوامی معلومات کی ایک کاپی اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں اور ای-میل اور دیگر ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعہ اساتذہ اور طلبائ برادری کے ساتھ بھی شیئر کریں۔

مرکزی وزیر برائے انسانی وسائل ترقی ، شری رمیش پوکھریال 'نشانک' نے اوڈیشہ یونیورسٹی کے طلبائ کے لئے علمی جذباتی بحالی خدمات پر مبنی اوڈیشہ سنٹرل یونیورسٹی ہیلپ لائن "بھروسا" کا آغاز کیا۔

انسانی وسائل کی ترقی کے مرکزی وزیر ، شری رمیش پوکریال ‘نشانک’ نے آج اوڈیشہ سنٹرل یونیورسٹی (سی یو او) ہیلپ لائن “بھروسا”اور اس کی ہیلپ لائن نمبر 08046801010 کو نئی دہلی میں ایک ورچوئل پلیٹ فارم کے ذریعے شروع کیا ، جس کا مقصد کوڈ 19 وبائی بیماری ہے۔ اس دوران طلبائ برادری کی پریشانیوں کو دور کرنا ہوگا۔ اس ہیلپ لائن کا مقصد اوڈیشہ کی تمام یونیورسٹیوں کے طلبائ کو علمی جذباتی بحالی خدمات فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ارون کمار ساہو ، وزیر مملکت اوڈیشہ ، محکمہ اعلی تعلیم ، حکومت اوڈیشہ ، بھی موجود تھے۔ پروگرام کوآرڈینیٹ کرتے ہوئے ، وسطی یونیورسٹی کے اڈیشہ کے وائس چانسلر پروفیسر I. رامبراہم نے انجام دیا۔

اس موقع پر مسٹر رمیش پوکریال ‘نشانک’ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوویڈ 19 وبائی بیماری کے مہلک انفیکشن کی وجہ سے ملک ایک مشکل مرحلے سے گذر رہا ہے اور انہوں نے اس وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہندوستان کے وزیر اعظم ، جناب نریندر مودی کی بااثر قیادت کی قیادت کی۔ ہم نے حکومت ہند کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے طلباؤکے محفوظ مستقبل کے لئے وزارت انسانی وسائل کی ترقی کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نئے تعلیمی تقویم اور مجازی نظام تعلیم کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات پر زور دیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ طلبا کی ذہنی صحت کے بارے میں فکر کرنا بہت ضروری ہے اور اڈیشہ سنٹرل یونیورسٹی کے ذریعہ شروع کردہ ہیلپ لائن اس سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ انہوں نے اس ہیلپ لائن کو باضابطہ طور پر شروع کیا اور طلباؤ، ان کے والدین اور دیگر کو فائدہ پہنچانے کے لئے اس کی تعداد کا اعلان کیا۔ مرکزی وزیر نے ہیلپ لائن لانچ تقریب میں موجود وائس چانسلرز ، اداروں کے سربراہان ، اڈیشہ کے مختلف اداروں کے رجسٹروں اور فیکلٹی ممبران کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ملک بھر کی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں اور دیگر اعلی تعلیمی اداروں پر بھی "بھروسا" اقدام کی تقلید کرنے کی اپیل کی۔

سنٹرل یونیورسٹی آف اڈیشہ کے وائس چانسلر پروفیسر I. رامبراہم نے ، سی یو او ہیلپ لائن 'بھروسا' کی کلیدی خصوصیات اور خدمات پر روشنی ڈالی جس میں کوویڈ۔19 سے پریشان طلبائ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کا اعادہ کیا کہ سی یو او ہیلپ لائن 'بھروسا' نے اوڈیشہ میں یونیورسٹی کے کسی بھی طالب علم کے خدشات کو دور کیا اور کہا کہ سی یو او ہیلپ لائن کے پائلٹ فیز میں 400 سے زائد کالز موصول ہوئی ہیں۔

مسٹر مدھوسوڈن مشرا ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، کورپوت نے 'بھروسا' اقدام کو انجام دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، جو آج باضابطہ طور پر شروع کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ارون کمار ساہو وزیر اعلی تعلیم محکمہ ، اڈیشہ نے اوڈیشہ سنٹرل یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس سے طلبا کو کوڈ۔19 کے دوران پریشانیوں سے نکلنے میں مدد فراہم کریں گے۔

ڈی بی ٹی ڈی بی آئی آر اے سی کووڈ – 19 تحقیقی کنشورشیم نے ویکسین، تشخیص ، علاج اور دیگر ٹیکنالوجی کے لیے 70 تجاویز پیش کیں

سارس سی او وی – 2 سے نمٹنے کے لیے محفوظ اور موثر بایو میڈیکل طریقے فوری طور پر تیار کرنے کے لیے بایو ٹیکنالوجی کے محکمے اور بایو ٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنٹس کونسل میں کووڈ – 19 کی تحقیق کے کنشورشیم کے لیے درخواستیں طلب کی تھیں۔ اس کے علاوہ براک میں کووڈ – 19 کو رقم فراہم کرنے کے لیے ایک سہولت قائم کی ہے جو تیزی جائزہ لینے والے عمل کے تحت فوری طور پر خرچ کی جائے گی۔

تحقیقی کنشورشیم کے تحت، ڈی بی ٹی اور براک ان درخواستوں کا لگاتار جائزہ لیتی رہی ہے تاکہ تشخیص کا عمل طے کرنے ، ٹیکہ تیار کرنے ، نوویل علاج، دواؤں کو نیے سِرے سے استعمال کرنے اور کووڈ – 19 پر قابو پانے کے لیے صنعت ؍ ماہرین تعلیم اور ان دونوں کو مشترکہ طور پر مدد دی جا سکے۔ کثیر جہتی نظام کے جائزے کے ذریعے آلات ، تشخیص ، ٹیکہ کاری، علاج اور دیگر طیرقہ کار ، مالی مدد کے لیے 70 تجاویز کی سفارش کی گئی ہے جس کے لیے مالی مدد دی جائے گی۔ منتخبہ تجاویز میں 10 ٹیکہ کاری کے امیدوار ، 34 تشخیصی مصنوعات یا مزید سہالیات ، 10 علاج کے متبادل ، دواؤں کو نئے سِرے سے استعمال کرنے کی دو تجاویز اور 14 پروجیکٹس جنہیں روک تھام کے طریقے کے طور پر زمرہ بند کیا گیا ہے۔

ٹیکہ تیار کرنے کے لیے ایک تیز طریقہ کار فراہم کرنےکی غرض سے ڈی بی ٹی نے ایسے اداروں کی نشاندہی کی ہے جو ابتدائی تجربات کے لیے مویشیوں پر تجربات کی سہولت فراہم کریں گے۔ آئی آئی ٹی اندور ، فرضی وائرس سارس سی او وی – 2 تیار کرے گا جسے تجربات میں استعمال کیا جائے گا۔ این زین بایو سائنسیز لمیٹڈ اسپائی پروٹین اور ریسیپٹر بائنڈنگ ڈومین پروٹین ، ٹیکے اور تشخیصی کمپنیوں میں بڑے پیمانے پر فراہم کرے گا۔ ٹیکہ امیدواروں کے پورٹ فولیو میں اگلے مرحلے کے ایم آر این اے ٹیکہ امیدوار کی تیاری کے لیے مدد فراہم کر کے اضافہ کیا گیا ہے۔

کووڈ – 19 کے لیے ناک کے ذریعے ٹیکہ لگائے جانے والے کسی امیدوار کی تیاری کے لیے ابتدائی کام ، کیمیاوی ٹیکنالوجی کے بھارتی ادارے کو سونپا گیا ہے۔

د لی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس میں اینٹی باڈی کو ناکارہ بنانے کی تحقیق کا کام شروع کیا ہے۔

 


FACT CHECK

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image0046KKP.jpg

 

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image005YBQA.jpg

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image006X1HI.jpg

 

 

م ن۔ ن ع

 

(U: 2466)



(Release ID: 1623484) Visitor Counter : 9


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Assamese , Manipuri , Bengali , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam