وزارت اطلاعات ونشریات
ڈاکٹر ایل مروگن نے یو ٹیوب امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران وکست بھارت کی تعمیر میں تخلیقی معیشت اور اے آئی کے کردار کو اجاگر کیا
تکنالوجی تیزی سے بدل سکتی ہے، تاہم آئینی اقدار کا برقرار رہنا لازمی ہے: یوٹیوب امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران نوجوان تخلیق کاروں کے لیے ڈاکٹر ایل مروگن کا پیغام
اٹھارہ ہزار (18000) سے زائد یوٹیوب چینلز ایک ملین سے زائد سبسکرائبرس کے نشان سے تجاوز کر چکے ہیں، جس سے تخلیقی معیشت کی ترقی ظاہر ہوتی ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 SEP 2026 7:46PM by PIB Delhi
وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور، ڈاکٹر ایل مروگن نے نوجوان تخلیق کاروں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو جدت اور بااختیار بنانے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کریں۔ انہوں نے کہا: "مستقبل 'مصنوعی ذہانت بمقابلہ تخلیق کار' نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ یہ 'مصنوعی ذہانت تخلیق کاروں کو بااختیار بناتی ہے' ہونا چاہیے۔" نوجوان تخلیق کاروں سے "حوصلے کے ساتھ تخلیق کریں۔ ذمہ داری کے ساتھ تخلیق کریں۔ مقصد کے ساتھ تخلیق کریں" کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ "ٹیکنالوجی تیزی سے بدلتی ہے، لیکن آئینی اقدار برقرار رہتی ہیں۔"
نئی دہلی میں منعقدہ یوٹیوب امپیکٹ سمٹ 2026، جس کا موضوع "اثرات کی مشترکہ تخلیق: بھارت کی ڈیجیٹل قیادت اور تخلیقی معیشت" تھا، سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ موصوف نے اقتصادی ترقی، روزگار اور عالمی سطح پر ثقافتی رسائی کو فروغ دینے میں بھارت کی ڈیجیٹل اور تخلیقی معیشت کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی۔ اس سمٹ میں پالیسی سازوں، ٹیکنالوجی کے رہنماؤں، تخلیق کاروں، کاروباری شخصیات اور جدت پسندوں کو ایک جگہ جمع کیا گیا، جہاں ڈاکٹر ایل مروگن نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔
تخلیقی معیشت ترقی اور روزگار بہم رسانی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
سمٹ میں سامنے لائی جانے والی یوٹیوب امپیکٹ رپورٹ کے مطابق، یوٹیوب کے تخلیقی ماحولیاتی نظام نے 2025 میں بھارت کے جی ڈی پی میں 18,000 کروڑ روپے سے زیادہ کا تعاون دیا اور ملک بھر میں 9.6 لاکھ سے زیادہ کل وقتی ملازمتوں کو سہارا دیا۔
وزیرِ موصوف نے اس بات کا ذکر کیا کہ بھارت میں تیار کیے جانے والے مواد کو دیکھنے کے کل وقت کا 15 فیصد سے زیادہ حصہ بھارت سے باہر کے ناظرین سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ 18,000 سے زیادہ بھارتی یوٹیوب چینلز نے ایک ملین سبسکرائبرز کا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

’ڈیجیٹل انڈیا‘ سے ’کریٹیو انڈیا تک ‘
ڈاکٹر مروگن نے ڈیجیٹل ادائیگیوں، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، اسٹارٹ اپس، مصنوعی ذہانت، سستی کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل تعلیم کے ذریعے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صارفین سے تخلیق کار، صارفین سے جدت پسند، اور مواد کے استعمال سے دانشورانہ ملکیت کی تخلیق کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے مواقع کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس سے ہر ضلع، زبان اور برادری سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت افراد کے لیے عالمی ناظرین تک پہنچنا ممکن ہو گیا ہے۔
تخلیقی معیشت کو مضبوط بنانا
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے وژن "کریئیٹ ان انڈیا، کریئیٹ فار دی ورلڈ" کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیرِ موصوف نے تخلیقی معیشت کے تین ستونوں: مواد (کنٹینٹ)، تخلیق کاری اور ثقافت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ تخلیق تفریح سے آگے بڑھ کر روزگار بہم رسانی، کاروبار، املاک دانشوراں، برآمدات اور ثقافتی اثرات میں بھی مدد فراہم کر سکتی ہے۔

اے آئی تخلیق کاروں کی جگہ لینے کے بجائے انہیں بااختیار بنائے گی
ڈاکٹر مروگن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت لکھنے، ترجمہ کرنے، ایڈیٹنگ، اینیمیشن، کمپوزیشن، ڈیزائننگ اور مواد کی تقسیم میں تخلیق کاروں کی مدد کر سکتی ہے، جبکہ تخلیق کاری کے لیے انسانی تخیل ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت کو تخلیق کاروں کی جگہ لینے کے بجائے انہیں بااختیار بنانا چاہیے، جبکہ انہوں نے نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے آسان، ذمہ دارانہ اور اخلاقی استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سمٹ میں "کریئیٹ ود اے آئی" فلموں کی رونمائی بھی کی گئی، جنہیں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کریئیٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی) کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔

تخلیقی صلاحیت کے لیے سرکاری پہل قدمیاں
وزیرِ موصوف نے تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے، انہیں تیار کرنے اور مارکیٹ کے ساتھ جوڑنے کے راستوں کو مضبوط بنانے کے لیے ویوز، آئی آئی سی ٹی، کریئیٹ ان انڈیا چیلنجز، جیمز آف انڈیا، ویوز بازار، مائی ویوز اور کریئیٹرز کارنر جیسے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے 15000 سیکنڈری اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی کنٹینٹ کریئٹر لائبریریز کے لیے مرکزی بجٹ 2026-27 کے پروویژن پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ایک اندازے کے مطابق 2030 تک اس صنعت کو تقریباً 2 ملین پیشہ ور افراد کی ضرورت ہوگی۔
ڈیجیٹل دور میں آئینی اقدار
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ "ٹیکنالوجی تیزی سے بدلتی ہے، لیکن آئینی اقدار برقرار رہتی ہیں،" ڈاکٹر مروگن نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی میں انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔
آئین کے دفعہ 19 اور واجبی آئینی پابندیوں کے تابع تقریر و اظہار رائے کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تخلیق کرنے کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا ہونا بھی لازمی ہے۔
انہوں نے دفعہ 51اے کے تحت بنیادی فرائض پر بھی روشنی ڈالی، اور ڈیجیٹل دور میں ذمہ دارانہ تخلیق، مواد کو شیئر کرنے، اس کی تصدیق اور جدت طرازی کی اپیل کی۔
بھارت کی داستانوں کو دنیا تک پہنچانا
ڈاکٹر مروگن نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کا ثقافتی ورثہ سنیما، موسیقی، گیمنگ، اینیمیشن، ڈیجیٹل داستان گوئی، ڈیزائن، دستکاری اور ادب کے ذریعے نئے ناظرین تک پہنچ سکتا ہے۔
نوجوان تخلیق کاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی زبان، ثقافت اور کہانیاں عالمی سطح پر مقبول ہو سکتی ہیں اور انہوں نے تخلیق کاروں پر زور دیا کہ وہ بھارت کے تنوع پر مکمل اعتماد کے ساتھ تخلیق کاری کریں۔
وزیرِ موصوف نے کہا کہ بھارت کی ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ ملک ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا تخلیق کرتا ہے، اور انہوں نے وکست بھارت 2047 کی جانب روزگار، دانشورانہ ملکیت، عالمی مواقع اور ہمہ گیر ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔
سمٹ میں وکست بھارت 2047 کو آگے بڑھانے میں بھارت کی ڈیجیٹل اور تخلیقی صنعتوں کے بڑھتے ہوئے کردار پر روشنی ڈالی گئی، جس میں وزیرِ موصوف نے ایک ہمہ گیر اور عالمی سطح پر مسابقتی تخلیقی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل کی۔ اس موقع پر محترمہ گنجن سونی، کنٹری منیجنگ ڈائریکٹر، یوٹیوب انڈیا، محترمہ لیسلی ملر، وائس پریسیڈنٹ، گلوبل گورنمنٹ افیئرز اینڈ پبلک پالیسی، یوٹیوب، اور جناب سنتھل راجن، جوائنٹ سکریٹری، وزارتِ اطلاعات و نشریات بھی موجود تھے۔
**********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:4321
(ریلیز آئی ڈی: 2316722)
وزیٹر کاؤنٹر : 12