وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

یو پی آئی نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے انقلاب کے  10 سال مکمل کئے، عالمی سطح پر دنیا کے سب سے بڑے ریئل ٹائم ادائیگی نظام کے طور پر شناخت


لین دین کی تعداد میں تقریباً  13,000 گنا اضافہ، سالانہ لین دین کی تعداد مالی سال  17-2016ء  میں  1.78 کروڑ سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 ء  میں  24,162 کروڑ سے زیادہ ہوئی

مالی سال  17-2016 ء   میں   لین دین کی مالیت 0.07  لاکھ کروڑ  روپے سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 ء   میں تقریباً   314 لاکھ کروڑ  روپے ہوئی، جو تقریباً  4,000 گنا  زیادہ ہے

یو پی آئی اس وقت  گیارہ  ممالک میں فعال ہے  اور سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے

یو پی آئی پر فعال بینکوں کی تعداد مالی سال  17-2016 ء   میں  44 سے بڑھ کر  مالی سال  26-2025 ء   میں  703 ہوگئی، جس سے یو پی آئی کی وسیع جغرافیائی رسائی اور مالی شمولیت ممکن ہوئی

یو پی آئی کی کامیابی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ بھارت قابلِ توسیع، جامع اور اختراعی ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں  قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے

प्रविष्टि तिथि: 24 AUG 2026 1:57PM by PIB Delhi

یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس ( یو پی آئی )  کو  ، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا ( این پی سی آئی )  نے  ، ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی )  کی نگرانی میں 25 اگست  ، 2016  ء کو شروع کیا تھا۔ اب اس نے  ، بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں  میں بڑی  تبدیلی لانے کے   10 سال مکمل کر لیے ہیں۔ یو پی آئی   ، بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی اور مالی شمولیت کا ایک اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے۔

ایک دہائی کے دوران  ، یو پی آئی  نے غیر معمولی پیمانے اور رفتار کا مظاہرہ کیا ہے۔ سالانہ لین دین کی تعداد   ، مالی سال  17-2016 ء  میں صرف 1.78 کروڑ  روپے سے بڑھ کر  ، مالی سال  26-2025 ء   میں  24,162 کروڑ سے زیادہ ہوگئی، جو لین دین کی تعداد میں تقریباً 13,000 گنا اضافہ ہے۔ اسی طرح لین دین کی مالیت بھی  ، مالی سال  17-2016 ء  میں  0.07 لاکھ کروڑ  روپے سے تیزی سے بڑھ کر  ، مالی سال  26-2025 ء   میں تقریباً  314 لاکھ کروڑ  روپے ہوگئی، جو لین دین کی مالیت میں  4,000 گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔

یو پی آئی   ، بھارت کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ( ڈی پی آئی ) کے سب سے کامیاب ستونوں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔ یہ ایک ایسا باہمی طور پر قابلِ استعمال، ریئل ٹائم ادائیگی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جو ایک ہی ایپلی کیشن کے ذریعے فرد سے فرد اور فرد سے تاجر کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے لین دین کو ممکن بناتا ہے۔ آج یہ لاکھوں صارفین کے لیے ادائیگی کا پسندیدہ ذریعہ ہے، جس نے بھارت میں لین دین کے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے۔ ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے، مالی شمولیت کو آگے بڑھانے اور ڈیجیٹل مالی خدمات تک رسائی کو وسیع کرکے یو پی آئی  نے  ، ملک بھر کے افراد اور برادریوں کو بااختیار بنایا ہے، جب کہ وسیع پیمانے پر اقتصادی شمولیت کو بھی فروغ دیا ہے۔

لین دین کی تعداد اور مالیت، دونوں میں بیک وقت ہونے والا یہ اضافہ   ، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ تعداد میں ہونے والی خردہ ادائیگیوں میں یو پی آئی  کا کردار مزید گہرا ہو رہا ہے۔ یو پی آئی  کی حاصل کردہ بے مثال وسعت، قابلِ اعتماد کارکردگی اور باہمی طور پر قابلِ استعمال نظام کو  ، عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  ( آئی ایم ایف )  نے لین دین کی تعداد کے لحاظ سے اسے دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ادائیگی نظام قرار دیا ہے، جو قابلِ توسیع، جامع اور اختراعی ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں بھارت کے قائدانہ کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

I۔  اعداد و شمار میں ایک دہائی

 

یو پی آئی  ایک نظر میں: اہم اعداد و شمار  ( این پی سی آئی )

سالانہ لین دین کا حجم ( مالی سال 2016-17 ء ) 

1.78 کروڑ

سالانہ لین دین کا حجم  ( مالی سال  26-2025 ء )

24,162  کروڑ

سی اے جی آر

188 فی صد

سالانہ لین دین کی قدر ( مالی سال 2016-17 ء ) 

0.07 لاکھ کروڑ روپے

سالانہ لین دین کی قدر ( مالی سال  26-2025 ء )

314  لاکھ کروڑ روپے

سی اے جی آر

155 فی صد

سالانہ حجم میں اضافہ  ( 2026-2025 ء )

30 فی صد

سالانہ مالیت میں اضافہ ( 2026-2025 ء )

21 فی صد

یومیہ اوسط لین دین  ( 2026 ء )

66  کروڑ

ریکارڈ ماہانہ حجم  (  جولائی ، 2026 ء )

2,366  کروڑ

ریکارڈ ماہانہ قدر  (  جولائی ، 2026 ء )

29.88 لاکھ کروڑ روپے

یو پی آئی   سے منسلک بینک   (  جولائی ، 2026 ء  تک )

741 بینک

لانچ کے وقت بینک  ( اپریل ، 2016 ء )

21 بینک

پہلے مہینے کے لین دین  ( اگست ، 2016 ء )

90,000

بھارت کی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یو پی آئی  کا حصہ

84 فی صد  ( مالی سال  26-2025 ء )

گلوبل ریئل ٹائم والیوم کا حصہ

دنیا کا 49 فی صد (2025)

یو پی آئی کو قبول کرنے والے ممالک

11  ممالک

 

سالانہ لین دین کا حجم (مالی سال 17-2016 ء  سے مالی سال 27-2026 ء  *)

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001YCDA.jpg

شکل 1:  یو پی آئی  کے سالانہ لین دین کا حجم کروڑ میں                                              *  31 جولائی  ، 2026 ء  تک

سالانہ لین دین کی مالیت (مالی سال 17-2016 ء  سے مالی سال 27-2026 ء  *)

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002E60X.jpg

شکل 2:  یو پی آئی  کی سالانہ لین دین کی مالیت  لاکھ کروڑ  روپے میں                                     *  31 جولائی  ، 2026 ء تک

 

II۔ ماہانہ کارکردگی، 2026 ء

سال  ، 2026 ء  نے  ، یو پی آئی  کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل قائم کیا۔ مئی  ، 2026 ء میں پہلی بار ماہانہ لین دین کی تعداد 2,300 کروڑ سے تجاوز کرتے ہوئے 2,320 کروڑ تک پہنچ گئی، جو اسے اپنانے کے ایک نئے پیمانے کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ رفتار سال بھر جاری رہی اور جولائی  ، 2026 ء میں 2,366 کروڑ لین دین  کا ریکارڈ  قائم کیا  ، جو یو پی آئی  کے ایک دہائی پر محیط سفر میں ماہانہ لین دین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

III۔ ماحولیاتی نظام کی مضبوطی، بینک، ایپس اور جغرافیہ

یو پی آئی  پر فعال بینک، بے مثال شرکت

یو پی آئی  کے آغاز کے بعد سے  ، ادارہ جاتی شرکت میں مسلسل اور وسیع پیمانے پر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یو پی آئی  پر فعال بینکوں کی تعداد مالی سال 17-2016 ء  میں 44 بینکوں سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 ء   تک 703 بینک ہوگئی۔ اس میں سرکاری شعبے کے بینک، نجی بینک، اسمال فنانس بینک، پیمنٹ بینک اور کوآپریٹو بینک شامل ہیں، جس سے یو پی آئی  کی وسیع جغرافیائی رسائی ممکن ہوئی ہے۔ ہر بینک ریمیٹر  پی ایس پی  (بھیجے جانے والے لین دین پر کارروائی کرنے والا) اور/یا  بینیفیشری  پی ایس پی  (رقم وصول کرنے والا) کے طور پر کام کرتا ہے، جب کہ  این پی سی آئی  تمام شرکاء کی کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار کی نگرانی کرتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003J22G.jpg

شکل  4:  یو پی آئی  پر فعال بینکوں کی تعداد (مالی سال 2026-2017 ء  )

IV۔  لین دین کی تقسیم،  پی 2 پی  اور پی 2 ایم   کا تجزیہ

یو پی آئی  کے لین دین کے تجزیے سے ادائیگی کی مختلف اقسام میں تعداد اور مالیت کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔ فرد سے تاجر ( پی 2 ایم )  لین دین، کل لین دین کی تعداد کا 63 فی صد ہیں، جو زیادہ تعداد میں ہونے والی کم مالیت کی خردہ ادائیگیوں کے لیے  ، یو پی آئی  کے وسیع استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، فرد سے فرد  لین دین ( پی 2 پی ) ، لین دین کی مالیت میں غالب ہیں اور اس کا  71 فی صد حصہ  ہے ، جو افراد کے درمیان زیادہ مالیت کی رقم کی منتقلی کے لیے  ، ان کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ فرق اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ یو پی آئی  ایک طرف بڑے پیمانے پر خردہ ادائیگیوں کے پلیٹ فارم اور دوسری طرف زیادہ مالیت کی رقم کی منتقلی کے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ، دونوں کے طور پر کام کر رہا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004C3S9.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image005Q074.jpg

 

شکل 5: یو پی آئی  میں پی 2 پی  بمقابلہ پی 2 ایم  تقسیم — تعداد اور مالیت

رقم کی مالیت کے لحاظ سے لین دین کی تقسیم، مائیکرو ادائیگیوں کا غلبہ

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006PARU.jpg

مالی سال  ، 2026  ء میں  ، یو پی آئی  کے کل 24,162 کروڑ  لین دین نے  ، ملک بھر میں روزمرہ کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں پلیٹ فارم کے گہرے انضمام کی عکاسی کی، جس میں خاص طور پر مرچنٹ طبقے میں مضبوط رفتار دیکھی گئی۔  پی 2 ایم  لین دین بڑی حد تک کم مالیت کی ادائیگیوں سے چلتے رہے، جن میں سے  86 فی صد  500  روپے سے کم مالیت کے تھے۔ یہ معمول کی خردہ خریداری اور روزمرہ تجارت میں یو پی آئی  کے گہرے انضمام کو اجاگر کرتا ہے، جب کہ زیادہ مالیت کے لین دین میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔  پی 2 پی  لین دین میں بھی کم مالیت کی رقم کی منتقلی کا وسیع استعمال دیکھا گیا، جن میں سے 59 فی صد  500  روپے سے کم مالیت کے تھے، جب کہ  500  روپے سے زیادہ مالیت کے لین دین کا نمایاں 41 فی صد حصہ  ، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یو پی آئی  عام ذاتی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ مالیت کی رقم کی منتقلی کو سہولت فراہم کرنے میں بھی تیزی سے متنوع کردار ادا کر رہا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007MNRM.jpg

 

شکل 6: رقم کی مالیت کے لحاظ سے یو پی آئی  کے لین دین کی تقسیم

V۔ عالمی سطح پر یو پی آئی

جو چیز ایک گھریلو ادائیگی کی اختراع کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ آج ڈیجیٹل ادائیگیوں کے  شعبے میں ایک عالمی معیار بن چکی ہے۔

سال 2025  ء تک، دنیا میں ریئل ٹائم ادائیگیوں کے لین دین کی کل تعداد میں ، یو پی آئی  کا حصہ تقریباً 49 فی صد ہے، جسے آئی ایم ایف  نے ایک اہم سنگِ میل کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

روزانہ 66 کروڑ سے زیادہ لین دین کی کارروائی  کی بدولت ، یو پی آئی  نے عالمی ادائیگی نیٹ ورکس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو فوری، محفوظ اور جامع ڈیجیٹل ادائیگیوں میں  ، بھارت کی عالمی قائدانہ حیثیت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

یو پی آئی  سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے بھی ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے اور اس وقت 11 ممالک، یعنی متحدہ عرب امارات، فرانس، بھوٹان، سری لنکا، نیپال، سنگاپور، ماریشس، قطر، کمبوڈیا، یونان اور مالدیپ میں فعال ہے۔

VI۔ آگے کا راستہ، یو پی آئی  کی اگلی دہائی

یو پی آئی  کی اگلی دہائی  ، بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے منظرنامے میں مزید بڑی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے۔ یو پی آئی  کے ماحولیاتی نظام میں نئے صارفین اور تاجروں کو شامل کرکے، حکومتِ ہند مسلسل پالیسی تعاون، تکنیکی ترقی اور زیادہ مالی شمولیت کے ذریعے یو پی آئی  کی قیادت میں اختراع کے اگلے مرحلے کو ممکن بنانے اور بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

 

..................................................... ...................................................

) ش ح – م م       -  ع ا )

U.No. 2517


(रिलीज़ आईडी: 2302728) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Khasi , English , Gujarati , Nepali , हिन्दी , Marathi , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Odia , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam