وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا قوم سے خطاب


خواتین سب کچھ بھول سکتی ہیں، لیکن اپنی عزت پر ہونے والی توہین کبھی فراموش نہیں کرتیں: وزیر اعظم

جو جماعتیں پارلیمنٹ میں ناری شکتی وندن ادھینیم ترمیم کی مخالفت کر رہی ہیں، وہ خواتین کی طاقت کو کم تر سمجھ رہی ہیں: وزیر اعظم

ناری شکتی وندن ادھینیم ترمیم 21ویں صدی کی خواتین کو بااختیار بنانے کا ایک ’مہایگیہ‘ تھا: وزیر اعظم

خاندانی سیاست کرنے والی جماعتوں کی جانب سے اس قانون کی مخالفت کی ایک بڑی وجہ ان کا خوف ہے: وزیر اعظم

ملک کی سو فیصد ناری شکتی کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں: وزیر اعظم

ہم خواتین کے ریزرویشن کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کریں گے: وزیر اعظم

خواتین کے حقوق چھینتے ہوئے یہ لوگ میزیں بجاتے رہے؛ یہ خواتین کی عزت اور خودداری پر حملہ تھا: وزیر اعظم

خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کو اپنے اس گناہ کی سزا ملے گی: وزیر اعظم

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 18 APR 2026 11:39PM by PIB Delhi

ہندوستان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے متعلق ایک نہایت اہم مسئلے پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے خواتین کی ترقی رکنے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھرپور اور مخلصانہ کوششوں کے باوجود ناری شکتی وندن ادھینیم ترمیم منظور نہ ہو سکی، جس کے باعث خواتین کے جائز خوابوں کو دھچکا پہنچا۔ انہوں نے کہا، "میں اس افسوسناک صورتحال پر ملک کی تمام ماؤں اور بہنوں سے دل کی گہرائیوں سے معذرت خواہ ہوں۔"

وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد ہمیشہ سب سے مقدم ہے اور بعض سیاسی جماعتوں نے ملک کے مفاد کے بجائے اپنے سیاسی فائدے کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ اس بل کی ناکامی پورے ملک میں مایوسی کا باعث بنی ہے اور یہ خواتین کے وقار پر براہ راست ضرب ہے، جسے خواتین کبھی فراموش نہیں کریں گی۔ "خواتین سب کچھ بھول سکتی ہیں لیکن اپنی عزت پر ہونے والی توہین کبھی نہیں بھولتیں،" جناب نریندر مودی نے کہا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی خواتین ان بدنیتی پر مبنی عزائم کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور مستقبل میں ذمہ دار سیاستدانوں کو جوابدہ ٹھہرائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ناری شکتی وندن ادھینیم ترمیم ایک انقلابی قدم تھا، جس کا مقصد نصف آبادی کو طویل عرصے سے محروم حقوق دینا اور نئے مواقع فراہم کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس بل کا مقصد نظامی رکاوٹوں کو دور کرنا اور تمام ریاستوں کو، چاہے وہ بڑی ہوں یا چھوٹی، سیاسی طور پر برابر مضبوط بنانا تھا۔ "یہ ترمیم خواتین کو ہندوستان کی ترقی کے سفر میں برابر کا شریک بنانے کی ایک مخلصانہ کوشش تھی،" انہوں نے کہا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے عوام اس منفی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور اس کے پس پردہ مقاصد سے واقف ہیں۔ "ملک نے خواتین کے حقوق چھیننے والی اس گندی سیاست کو پوری طرح پہچان لیا ہے،" انہوں نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی سیاست کرنے والی جماعتیں اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر ان کے خاندان سے باہر کی خواتین بااختیار ہو گئیں تو ان کی قیادت کو چیلنج درپیش ہوگا۔ انہوں نے پنچایتوں میں خدمات انجام دینے والی ہزاروں باصلاحیت خواتین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس خوف کی جڑ ہیں۔

حد بندی سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے واضح طور پر یہ یقینی بنایا تھا کہ کسی بھی ریاست کی نمائندگی کم نہیں ہوگی بلکہ تمام ریاستوں کی نشستیں منصفانہ اور یکساں تناسب سے بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے تمل ناڈو، بنگال اور اتر پردیش جیسی ریاستوں کی پارلیمانی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوتا۔

انہوں نے ماضی کی متعدد اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن دھن-آدھار-موبائل)جے اے ایم) نظام، ڈیجیٹل ادائیگی، جی ایس ٹی اور تین طلاق کے خلاف قانون جیسے اقدامات کی بھی مخالفت کی گئی تھی۔ اسی طرح سی اے اے قانون اور نکسل ازم کے خاتمے کی کوششوں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد ضروری فیصلوں کو ٹالتے رہنے کی پالیسی نے ہندوستان کی ترقی کو سست کیا اور دیگر ممالک آگے نکل گئے۔ انہوں نے کہا کہ 40 سال اہم قومی مسائل جیسے سرحدی تنازعات، او بی سی ریزرویشن اور ون رینک ون پنشن جیسے معاملات کو لٹکانے میں ضائع ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تاخیر اور دھوکے نے کئی نسلوں کو متاثر کیا اور موجودہ جدوجہد صرف ایک قانون کی نہیں بلکہ ایک منفی اور اصلاحات مخالف سوچ کے خلاف ہے۔ "مجھے یقین ہے کہ ملک کی بیٹیاں اور بہنیں اس سوچ کو منہ توڑ جواب دیں گی،" انہوں نے کہا۔

وزیر اعظم نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ بل کی ناکامی حکومت کی کمزوری ہے، اور کہا کہ اگر اپوزیشن تعاون کرتی تو وہ انہیں اس کا پورا کریڈٹ دینے کو تیار تھے۔ "یہ معاملہ سیاسی کریڈٹ کا نہیں بلکہ حقوق دینے کا تھا،" انہوں نے کہا۔

آخر میں وزیر اعظم نے خواتین کو بااختیار بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور ان کا عزم کسی بھی صورت کمزور نہیں پڑا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اس قانون کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کیا جائے گا اور ملک کی سو فیصد خواتین کی دعاؤں سے یہ مقصد ضرور حاصل کیا جائے گا۔ جناب نریندر مودی نے زور دے کر کہا"نصف آبادی کے خوابوں اور ملک کے مستقبل کے لیے ہمیں اس عزم کو ہر حال میں پورا کرنا ہے،" ۔

 

 

,/center>

 

 

 

 

 


***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U : 6033


(ریلیز آئی ڈی: 2253519) وزیٹر کاؤنٹر : 8