پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
مغربی ایشیا میں تنازعات سے پیدا ہونے والی عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری کا پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے اقدامات پر دیا گیا بیان
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 MAR 2026 5:09PM by PIB Delhi
پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری نے آج لوک سبھا میں ایک بیان دیتے ہوئے مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ سے پیدا ہونے والی عالمی توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے جواب میں پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں ایوان کو آگاہ کیا۔ وزیر نے ایوان کو پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنانے اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ہندوستان کی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزیر موصوف کا بیان ذیل میں دیا گیا ہے:
محترم اسپیکر صاحب،
میں ایوان کو اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کھڑا ہوا ہوں کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کے جواب میں کون سے اقدامات کیے گئے ہیں۔
محترم اسپیکر صاحب،
- جدید توانائی کی تاریخ میں دنیا نے اس جیسا لمحہ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے راستے میں خلل پیدا ہوئے 13 دن ہو چکے ہیں۔ یہ راستہ عالمی سطح پر خام تیل، قدرتی گیس اور ایل پی جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا ذریعہ ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان فوجی کارروائی کے بعد اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ ریکارڈ شدہ تاریخ میں پہلی بار آبنائے ہرمز عملی طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے بند ہو گئی ہے۔ اگرچہ اس تنازع کے پیدا ہونے میں بھارت کا کوئی کردار نہیں ہے، لیکن بہت سے دیگر ممالک کی طرح بھارت کو بھی اس کے نتائج سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔
- اس بحران سے نمٹنے کے حوالے سے دیگر ممالک کے اقدامات کے مقابلے میں بھارت کا ردِعمل اور بھی نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ ہمارے پڑوس میں ایک ملک نے دو ہفتوں کے لیے تمام اسکول بند کر دیے ہیں، سرکاری دفاتر کے لیے چار روزہ ورک ویک نافذ کیا ہے، 50 فیصد سرکاری ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے، سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن الاؤنس آدھا کر دیا ہے اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹا دیا ہے۔ اس ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا یک وقتی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں صرف ایک ہفتے میں پٹرول کی قیمت تقریباً 20 فیصد بڑھ گئی ہے۔ ایک اور ہمسایہ ملک نے یونیورسٹیاں قبل از وقت بند کر دی ہیں اور ایندھن کی بچت کے لیے عیدالفطر کی تعطیلات پہلے کر دی ہیں۔ اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک کو بھی توانائی کی راشن بندی اور بچت کے اقدامات اختیار کرنا پڑے ہیں۔
خام تیل اور پٹرول، ڈیزل:
محترم اسپیکر صاحب،
- بھارت کی خام تیل کی فراہمی کی صورتحال محفوظ ہے اور حاصل کیے گئے ذخائر اس مقدار سے بھی زیادہ ہیں جو آبنائے ہرمز کے راستے سے مل سکتی تھی۔ اس بحران سے پہلے بھارت کی تقریباً 45 فیصد خام تیل کی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے سے آتی تھیں۔ معزز وزیر اعظم کی مؤثر سفارتی کوششوں اور عالمی سطح پر قائم خیرسگالی کی بدولت بھارت نے اتنی مقدار میں خام تیل حاصل کر لیا ہے جو اس مدت کے دوران متاثرہ راستے سے ملنے والی مقدار سے بھی زیادہ ہے۔ غیر ہرمز ذرائع سے خام تیل کی فراہمی بڑھ کر تقریباً 70 فیصد ہو گئی ہے، جو تنازع شروع ہونے سے پہلے 55 فیصد تھی۔ بھارت اس وقت 40 ممالک سے خام تیل حاصل کرتا ہے، جبکہ 2006-07 میں یہ تعداد 27 ممالک تھی۔ برسوں کی مستقل پالیسیوں کے ذریعے حاصل کی گئی یہ ساختی تنوع بھارت کو ایسے متبادل فراہم کرتی ہے جو اس وقت بہت سے دوسرے ممالک کے پاس موجود نہیں ہیں۔ بھارت کی ریفائنریز اس وقت اعلیٰ استعداد کے ساتھ کام کر رہی ہیں، اور بعض معاملات میں ان کی کارکردگی 100 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
- پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل (کیروسین)، اے ٹی ایف یا فیول آئل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان تمام ایندھن کی دستیابی مکمل طور پر یقینی ہے۔ ملک بھر میں ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مناسب ذخیرہ موجود ہے اور ان مصنوعات کی سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ تمام ریاستوں کو پی ڈی ایس کے تحت مٹی کے تیل (کیروسین) کی اضافی مقدار بھی فراہم کی گئی ہے۔
قدرتی گیس:
محترم اسپیکر صاحب،
- قدرتی گیس کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر تقسیم کے ذریعے منظم کیا گیا ہے اور موجودہ صورتحال فوری ضروریات سے کہیں زیادہ مدت تک مستحکم ہے۔ بھارت میں روزانہ تقریباً 90 ایم ایم ایس سی ایم ڈی (ملین میٹرک اسٹینڈرڈ کیوبک میٹر فی دن) قدرتی گیس مقامی طور پر پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 30 ایم ایم ایس سی ایم ڈی گیس پہلے خلیجی ذرائع سے درآمد کی جاتی تھی، جو اب قطر کی ایک بڑی پروسیسنگ سہولت کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ ضروری اشیا ایکٹ کے تحت 9 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے نیچرل گیس کنٹرول آرڈر کے ذریعے فوری طور پر ترجیحی فراہمی کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ گھروں کو فراہم کی جانے والی پائپڈ گیس اور گاڑیوں کے لیے سی این جی کو 100 فیصد فراہمی دی جا رہی ہے اور اس میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبے کو گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے مطابق 80 فیصد تک فراہمی دی جائے گی۔ کھاد کے کارخانوں کو 70 فیصد تک فراہمی دی جائے گی تاکہ بوائی کے موسم سے پہلے زرعی پیداوار کے سلسلے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ ریفائنری اور پیٹروکیمیکل یونٹ کو محدود کمی کے ساتھ گیس فراہم کی جائے گی اور بچائی گئی گیس کو زیادہ ترجیحی شعبوں کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ مجھے ایوان کو یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس کمی کو متبادل ذرائع سے بڑی حد تک پورا کر لیا گیا ہے۔ متبادل راستوں سے ایل این جی کے بڑے کارگو تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پہنچ رہے ہیں اور بھارت کے پاس گیس کی پیداوار اور فراہمی کے ایسے انتظامات موجود ہیں کہ طویل تنازع کی صورت میں بھی یہ صورتحال برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ ہر گھر اور صنعت کے لیے بجلی کی پیداوار مکمل طور پر محفوظ رکھی گئی ہے۔
ایل پی جی:
محترم اسپیکر صاحب،
- یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت پہلے اپنی ایل پی جی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد خلیجی ممالک جیسے قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت سے درآمد کرتا تھا، جبکہ 40 فیصد ایل پی جی ملک میں ہی پیدا کی جاتی ہے۔ اب خریداری کے ذرائع کو فعال طور پر متنوع کیا گیا ہے اور دستیاب خلیجی ذرائع کے علاوہ امریکہ، ناروے، کینیڈا، الجزائر اور روس سے بھی کارگو حاصل کیے جا رہے ہیں۔
8 مارچ 2026 کو جاری کیے گئے ایل پی جی کنٹرول آرڈر کے تحت تمام ریفائنریز کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایل پی جی کی پیداوار کو زیادہ سے زیادہ بڑھائیں اور C3 اور C4 ہائیڈروکاربن سلسلوں—جن میں پروپین، بیوٹین، پروپیلین اور بیوٹینز شامل ہیں—کی پوری پیداوار کو گھریلو استعمال کے لیے کھانا پکانے والی گیس کی فراہمی کے مقصد سے خصوصی طور پر تین آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے حوالے کریں۔ اس ہدایت کے نتیجے میں گزشتہ پانچ دنوں کے دوران ریفائنریز کی ہدایات کے تحت ایل پی جی کی پیداوار میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ مزید ایل پی جی کی خریداری کے لیے اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔
- مودی حکومت کی سب سے اولین ترجیح یہ ہے کہ بھارت کے 33 کروڑ سے زائد خاندانوں کے گھروں کے چولہے، خصوصاً غریب اور محروم طبقات کے، کسی بھی قسم کی کمی کا سامنا نہ کریں۔ گھریلو سپلائی مکمل طور پر محفوظ ہے اور ترسیل کا نظام جوں کا توں برقرار ہے۔ گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی بکنگ سے ترسیل تک کا معیاری وقت 2.5 دن ہی برقرار ہے، جو بحران سے پہلے کے معیار کے مطابق ہے۔ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بلا تعطل ترجیحی فراہمی کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور انہیں ایل پی جی تک رسائی ہر حال میں یقینی بنائی گئی ہے، چاہے مجموعی طلب کی صورتحال کچھ بھی ہو۔ فیلڈ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈسٹری بیوٹر اور ریٹیل سطح پر ذخیرہ اندوزی اور گھبراہٹ میں بکنگ کے واقعات سامنے آئے ہیں، جو کسی حقیقی سپلائی کی کمی کے بجائے صارفین کی تشویش کے باعث ہیں۔ ایوان کو اس بات پر واضح ہونا چاہیے کہ بعض علاقوں میں اچانک زیادہ بکنگ کا دباؤ دراصل طلب میں بگاڑ کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ پیداوار یا سپلائی کی ناکامی کی۔ ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی) کی کوریج کو 50 فیصد سے بڑھا کر 90 فیصد صارفین تک وسعت دی جا رہی ہے۔ اس نظام کے تحت سلنڈر کی ترسیل اسی وقت ریکارڈ کی جائے گی جب صارف اپنے رجسٹرڈ موبائل پر موصول ہونے والے ون ٹائم کوڈ کے ذریعے وصولی کی تصدیق کرے گا، جس سے غیر دستاویزی منتقلی کو چھپانا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ طلب کے نظم و نسق کے لیے کم از کم بکنگ وقفہ متعارف کرایا گیا ہے یعنی شہری علاقوں میں 25 دن اور دیہی اور دور دراز علاقوں میں 45 دن۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فیلڈ افسران اور اینٹی ایڈلٹریشن سیل ڈسٹری بیوٹر سطح پر نفاذ کے لیے باہمی طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی ہوم سیکریٹری نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریوں کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کی ہے تاکہ ریاستی سطح کی انتظامیہ کو مرکزی حکومت کے سپلائی اور نفاذ کے فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔
محترم اسپیکر صاحب،
- کمرشل ایل پی جی کو بلیک مارکیٹنگ روکنے کے لیے منظم کیا گیا ہے، نہ کہ ہاسپیٹیلٹی کے شعبے کو سزا دینے کے لیے۔ کمرشل ایل پی جی ایک مکمل طور پر ڈی ریگولیٹڈ، اوور دی کاؤنٹر مارکیٹ میں مارکیٹ قیمت پر فروخت کی جاتی ہے اور اس پر حکومت کی طرف سے کوئی سبسڈی نہیں دی جاتی۔ اس کے لیے نہ کوئی رجسٹریشن نظام ہے، نہ بکنگ کی شرط، نہ ڈیجیٹل تصدیق اور نہ ہی ترسیل کی تصدیق کا کوئی نظام۔ عام حالات میں کوئی بھی کاروبار یا فرد فروخت کے مقام پر کسی بھی مقدار میں سلنڈر خرید سکتا ہے اور اس پر حکومتی کنٹرول نہیں ہوتا۔ تاہم ایسی صورتحال میں جب سپلائی محدود ہو اور عوامی تشویش زیادہ ہو، یہ غیر منظم ڈھانچہ ذخیرہ اندوزی، سپلائی کی منتقلی اور مہنگے داموں دوبارہ فروخت کے لیے براہِ راست اور غیر قابو شدہ راستہ فراہم کر دیتا ہے۔ اگر کمرشل سپلائی کو مکمل طور پر بغیر کسی پابندی کے چھوڑ دیا جاتا تو کاؤنٹر سے خریدے گئے سلنڈر بلیک مارکیٹ میں منتقل ہو سکتے تھے جس سے حقیقی کمرشل صارفین اور گھریلو صارفین دونوں متاثر ہوتے۔ اسی لیے حکومت نے ذمہ دارانہ قدم اٹھاتے ہوئے اس چینل کو واضح ترجیحات اور شفاف تقسیم کے نظام کے تحت منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 9 مارچ 2026 کو آئی او سی ایل، ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے ملک بھر میں ریاستی سول سپلائی محکموں اور ریسٹورنٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ وسیع پیمانے پر اجلاس کیے ہیں اور یہ عمل جاری ہے۔ کمیٹی نے مختلف خطوں اور شعبوں کے مطابق حقیقی ضرورت کا جائزہ لیا ہے تاکہ دستیاب کمرشل ایل پی جی کی مقدار سب سے پہلے حقیقی صارفین تک پہنچ سکے۔ ایک اہم فیصلے کے تحت آج سے کمرشل ایل پی جی کی اوسط ماہانہ ضرورت کا 20 فیصد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے ریاستی حکومتوں کے تعاون سے مختص کیا جائے گا تاکہ ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکا جا سکے۔
محترم اسپیکر صاحب،
- ایل پی جی اور گیس کی سپلائی پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن کے اختیارات کو فعال کیا جا رہا ہے۔ مٹی کا تیل (کیروسین) ریٹیل آؤٹ لیٹس اور پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کے ذریعے دستیاب کرایا جا رہا ہے، جبکہ فیول آئل صنعتی اور تجارتی صارفین کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے۔ ایم او ای ایف سی سی نے ریاستی آلودگی کنٹرول بورڈز کو مشورہ دیا ہے کہ اس بحران کے دوران ایک ماہ کے لیے مہمان نوازی اور ریسٹورنٹ کے شعبے کو متبادل ایندھن جیسے بایوماس، آر ڈی ایف پیلیٹس اور کیروسین/کوئلہ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اقدام سے زیادہ اداروں کو متبادل ایندھن کی طرف منتقل ہونے میں سہولت ملے گی اور ترجیحی صارفین کے لیے ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
- صارفین کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی صورتحال کے اثرات سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ سعودی کنٹریکٹ پرائس جولائی 2023 سے مارچ 2026 کے درمیان 41 فیصد بڑھنے کے باوجود پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے مستفیدین کے لیے قیمت اسی مدت میں 32 فیصد کم ہوئی ہے اور دہلی میں 14.2 کلوگرام کے ایک سلنڈر کی قیمت 613 روپے ہے۔ غیر سبسڈی یافتہ صارفین کے لیے قیمت حال ہی میں 60 روپے کے ایڈجسٹمنٹ کے بعد 913 روپے ہے، جبکہ مارکیٹ کے مطابق اس کی متوقع قیمت تقریباً 987 روپے بنتی ہے۔ عالمی منڈی کی موجودہ صورتحال کے مطابق فی سلنڈر 134 روپے کے اضافے کی ضرورت تھی، جس میں سے 74 روپے حکومت نے خود برداشت کیے۔ اس طرح پی ایم یو وائی کے ایک گھرانے پر اضافی مؤثر لاگت روزانہ 80 پیسے سے بھی کم بنتی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک میں ایل پی جی کی مساوی قیمتیں اس طرح ہیں: پاکستان: 1,046 روپے، سری لنکا: 1,242 روپے اور نیپال: 1,208 روپے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 2024-25 میں تقریباً 40,000 کروڑ روپے کے نقصانات کے مقابلے میں 30,000 کروڑ روپے کے معاوضے کی منظوری دی جا چکی ہے۔
محترم اسپیکر صاحب،
- ریاستی حکومتوں نے مکمل تعاون اور فعال ہم آہنگی کے ساتھ ردعمل ظاہر کیا ہے۔ 11 مارچ 2026 کو سینیئر او ایم سی حکام نے ہر بڑے ریاست میں ریاستی انتظامیہ کے ساتھ ملاقاتیں کیں، جن میں شامل ہیں مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، گجرات، گووا، اوڈیشہ، مغربی بنگال، بہار، جھارکھنڈ، پنجاب، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، راجستھان، اتر پردیش، دہلی، ہریانہ، اترکھنڈ، کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالہ، تلنگانہ، اور آندھرا پردیش۔ چیف سیکرٹریز اور سینئر اہلکاروں کو سپلائی کی صورتحال، ترجیحی ترتیب، اور نفاذ کے فریم ورک سے آگاہ کیا گیا۔ ضلع سطح کی نگرانی کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ متعدد ریاستوں میں اینٹی-ڈائیورژن چھاپے کیے گئے اور کیس درج کیے گئے۔ یہ اشتراکی وفاقیت کی بہترین مثال ہے جو ایک قومی چیلنج کے جواب میں درکار ہم آہنگی کے ساتھ عمل کر رہی ہے۔
محترم اسپیکر صاحب،
یہ افواہوں یا جعلی بیانیوں کا وقت نہیں ہے۔ بھارت موجودہ عالمی توانائی کے بحران کا سامنا کر رہا ہے، جو تاریخ میں ریکارڈ شدہ سب سے شدید ہے۔ خام تیل کی سپلائی روانہ ہے۔ گیس گھروں اور کھیتوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جا رہی ہے۔ ایل پی جی کی پیداوار 28 فیصد بڑھائی گئی ہے۔ صارفین کے لیے قیمتیں مارکیٹ اور خطے کے تقابلی نرخوں سے کہیں نیچے رکھی گئی ہیں۔ اسکول کھلے ہیں۔ پٹرول دستیاب ہے۔ ہر شہری، چاہے کسی بھی سیاسی وابستگی کا حامل ہو، اس کا حصہ ہے۔ بھارت کو اپنے توانائی کے محاذ پر موجود محنت کشوں، بحران کو سنبھالنے والے اداروں، اور قومی مفاد کے ساتھ متحد رہنا چاہیے۔ تیاری اور ردعمل کا ریکارڈ خود ہی سب کچھ بولتا ہے۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
12-03-2026
U: 3920
(ریلیز آئی ڈی: 2239174)
وزیٹر کاؤنٹر : 42
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
Marathi
,
हिन्दी
,
Nepali
,
Assamese
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Gujarati
,
Odia
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam