وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی بجٹ 2026–27 کا خلاصہ

प्रविष्टि तिथि: 01 FEB 2026 1:14PM by PIB Delhi


یووا شکتی   سے تحریک یافتہ بجٹ میں حکومت کے ’سنکلپ‘کو غریبوں ،  پسماندہ اور محروم افراد پر مرکوز کرنے کی تجویز

تین کرتویہ سے تحریک یافتہ پہلا بجٹ کرتویہ بھون میں تیار کیا گیا

پہلاکرتویہ پائیدار اقتصادی ترقی کو تیز کرنا

دوسرا کرتویہ لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنااور ان کی صلاحیت سازی ہے

تیسرا  کرتویہ،  سب کا ساتھ،  سب کاوکاس کے  نظریہ سے ہم آہنگ

نیا آمدنی ٹیکس ایکٹ ، 2025 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوگا ، آسان آمدنی ٹیکس ضابطوں اور فارموں کو  جلد نوٹیفائی کیا جائے گا

جرمانے اور سزا میں کمی کی  خاطر کئی اقدامات

 مخصوص پرائمری کوآپریٹو سوسائٹیوں کے لیے پہلے سے دستیاب کٹوتی کی مویشیوں کے چارے اور کپاس کے بیج تک توسیع کی جائے گی

معلومات کی واحد زمرہ ٹیکنالوجی خدمات 15.5 فیصد کے مشترکہ محفوظ ہاربر مارجن کے ساتھ

آئی ٹی  خدمات کے لیے سیف ہاربر حاصل کرنے کی حد 300 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2000 کروڑ روپے کر دی گئی

غیر ملکی کلاؤڈ  خدمات فراہم  کرنے والوں کو 2047 تک ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی

تمام غیر مقیم افراد جو مفروضاتی بنیاد پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں، انہیں منیمم آلٹرنیٹ ٹیکس سے استثناء دیا جائے گا

ٹیکس سال 2027-28 سے وزارت ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرے گی تاکہ انڈاس میں تبدیلی کر کے آئی سی ڈی ایس کی بنیاد پر الگ اکاؤنٹنگ کی ضرورت ختم کی جا سکے

فیوچرز پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس موجودہ 0.02 فیصدسے بڑھا کر 0.05 فیصد کر دیا جائے گا

بیٹری کے لیے لیتھیم آئن سیلز کی تیاری میں استعمال ہونے والے سرمایہ جاتی سازو سامان پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ بڑھائی جائے گی

اہم معدنیات کی پروسیسنگ کے لیے درکار  سرمایہ  جاتی سازو سامان کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی  مستثنیٰ کی جائے گی

ذاتی استعمال کے لیے درآمد  کیے جانے والے محصول شدہ سامان پر  محصول کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی جائے گی

سترہ ادویات یا دواؤں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی ہٹا دی جائے گی

بایوفارما شکتی کے لیے 10,000 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ ملکی سطح پر بایولوجکس اور بایوسیمیلرز کی پیداوار کے لیے ایکو سسٹم بنایا جا سکے

 دس ہزار کروڑ روپے کا ایس ایم ای گروتھ فنڈ تجویز کیا گیا ہے تاکہ ایم ایس ایم ایز کو مستقبل کے چیمپیئن بنانے میں مدد ملے

عوامی سرمایہ کاری ،بجٹ 2025-26 میں 11.2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھا کر مالی سال 2026-27 میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے کر دی گئی ہے

شہروں کے درمیان سات ہائی-اسپیڈ ریل کوریڈورز ترقیاتی رابطوں کے طور پر تیار کیے جائیں گے تاکہ ماحول  کے لیے سازگار مسافر نظام کو فروغ دیا جا سکے

انڈین انسٹیٹیوٹ آف کریئیٹو ٹیکنالوجیز، ممبئی 15,000 ثانوی اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی مواد تخلیق کرنے والی لیبارٹریز قائم کرے گا

اعلیٰ تعلیم کے ایس ٹی ای ایم اداروں میں طالبات کے چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ہر ضلع میں ایک گرلز ہاسٹل قائم کیا جائے گا

حکومت نے ایک منصوبے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ہائبرڈ موڈ میں، کسی آئی آئی ایم کے تعاون سے10000   گائیڈز کو 20 سیاحتی مقامات پر اپنے ہنر کو مزید بہتر کرنے کے لیے 12 ہفتوں کا معیاری، ہائی کوالٹی ٹریننگ کورس کروایا جائے گا

کھیلوں کے شعبے کو اگلی دہائی میں تبدیل کرنے کے لیے’کھیل بھارت‘ مشن شروع کیا جائے گا

بھارت-وِستار، ایک کثیر لسانی  اے آئی ٹول، ایگری اسٹیک پورٹلز اورآئی سی اے آرکے زرعی طریقہ کار کے پیکج کو اے آئی سسٹمز کے ساتھ مربوط کرے گا

بیرون ملک ٹور پروگرام کے پیکج کی شرح موجودہ 5 فیصد اور 20 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دی گئی ہے

کسٹمز ویئر ہاؤسنگ فریم ورک کو ویئر ہاؤس آپریٹر مرکزیت والے نظام میں تبدیل کیا جائے گا، جس میں سیلف ڈیکلریشن، الیکٹرانک ٹریکنگ اور رسک پر مبنی آڈٹ شامل ہوگا

مختلف سرکاری ایجنسیوں سے کارگو کلیئرنس کی منظوری مالی سال کے آخر تک ایک واحد مربوط ڈیجیٹل ونڈو کے ذریعے بغیر رکاوٹ مکمل کی جائے گی

مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2026-2027 پیش کیا۔

حصہ -اول

 ماگھ پُورنما اور گرو رویداس کے یوم پیدائش کےپوتر موقع پر، وزیر خزانہ نے کہا کہ چونکہ یہ پہلا بجٹ ہے جو کرتویہ بھون میں تیار کیا گیا ہے، اس کی ترغیب تین کرتویہ سے لی گئی ہے:

  1. پہلا کرتویہ، اقتصادی ترقی کو تیز اور مستحکم کرنا، پیداواریت اور مسابقت کو بڑھانا، اور عالمی غیر یقینی حالات کے لیے مضبوطی پیدا کرنا۔
  2. دوسرا کرتویہ، عوام کی امنگوں کو پورا کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا، تاکہ وہ بھارت کی خوشحالی کے سفر میں مضبوط شراکت دار بن سکیں۔
  3. تیسرا کرتویہ،’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘‘ کے وژن کے مطابق، ہر کنبے، کمیونٹی، علاقے اور شعبے کو وسائل، سہولیات اور مواقع تک رسائی یقینی بنانا تاکہ وہ بامعنی طور پر حصہ لے سکیں۔

وزیر خزانہ نے یوا شکتی سے تحریک یافتہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ حکومت کے عزم (’’سَنکَلپ‘‘) پر زور دیتا ہے کہ غریب، محروم اور پسماندہ طبقات پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ترقی یافتہ بھارت کی جانب پُراعتماد قدم بڑھاتا رہے گا، جہاں  امنگوں اور شمولیت کو توازن کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ ایک بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر، جس کی تجارت اور سرمایہ کاری کی ضروریات بڑھ رہی ہیں، بھارت کو عالمی منڈیوں کے ساتھ گہرائی سے مربوط رہنا چاہیے، زیادہ برآمدات کرنی چاہیے اور مستحکم طویل مدتی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ملک اس وقت ایسی بیرونی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جہاں تجارت اور کثیرجہتی تعاون خطرے میں ہے اور وسائل و سپلائی چینز تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز پیداوار کے نظام کو بدل رہی ہیں اور پانی، توانائی اور اہم معدنیات پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی 2025 کے یوم آزادی کے اعلان کے بعد 350 سے زائد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں، جن میں جی ایس ٹی کو سہل بنانا، لیبر کوڈز کی نوٹیفیکیشن اور لازمی کوالٹی کنٹرول آرڈرز کو زیادہ منظم بناناشامل ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور اسی دوران مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کے ساتھ ریگولیشن کم کرنے اور عمل درآمدکی شرائط کو آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔

پہلے کرتویہ کے تحت اقتصادی ترقی کو تیز اور مستحکم کرنے کے لیے چھ شعبوں میں اقدامات کی تجویز دی گئی ہے:

  1. سات اسٹریٹجک اور فرنٹیئر شعبوں میں مینوفیکچرنگ کو بڑھانا
  2. قدیمی صنعتی شعبوں کا احیاء
  • III. ’’چیمپیئن ایم ایس ایم ایز‘‘ قائم کرنا
  1.  بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے سلسلے کو مضبوطی سے آگے بڑھانا
  2. طویل مدتی توانائی کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا
  3. شہری اقتصادی خطوں  کو ترقی دینا

بایوفارما شعبے میں بھارت کو مینوفیکچرنگ عالمی مرکز بنانے کے لیےبایوفارما شکتی کے نام سے اگلے 5 سالوں میں10,000 کروڑ روپے کے فنڈ کے ساتھ ایک ایکو سسٹم قائم کیا جائے گا تاکہ ملکی سطح پر بایولوجکس اور بایوسیمیلرز کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔اس حکمت عملی  کے تحت مرکوز نیٹ ورک، جس میں 3 نئے قومی ادارے برائے فارماسیوٹیکل تعلیم اور تحقیق (این آئی پی ای آر) قائم کیے جائیں گے اور 7 موجودہ اداروں کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔1,000 سے زائد تسلیم شدہ کلینیکل ٹرائل سائٹس کا نیٹ ورک بھی قائم کیا جائے گا۔سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کو مضبوط کیا جائے گا تاکہ عالمی معیار اور منظوری کے وقت کی ضروریات پوری کی جا سکیں، اس کے لیے ایک سائینسی  جائزے کے لیے عملہ اور ماہرین بھی تعینات کیے جائیں گے۔

مزدوروں پر مرکوز ٹیکسٹائل شعبے کے لیے ایک مربوط پروگرام پانچ ذیلی حصوں میں تجویز کیا گیا ہے جس میں نیشنل فائبر اسکیم کے تحت ریشم، اون، پٹسن جیسے قدرتی ریشوں، مصنوعی ریشوں اور نئے دور کے ریشوں میں خود انحصاری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ٹیکسٹائل ایکسپینشن اور ایمپلائمنٹ اسکیم کے ذریعے روایتی کلسٹرز کو جدید بنانے کے لیے مشینری، ٹیکنالوجی اپ گریڈ اور مشترکہ ٹیسٹنگ و سرٹیفیکیشن سینٹرز کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ نیشنل ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹ پروگرام کے تحت موجودہ اسکیموں کو مربوط اور مضبوط بنایا جائے گا اور بُنکروں اور دستکاروں کو متعلقہ مدد فراہم کی جائے گی۔ ٹیکس-ایکو انیشیٹو عالمی مقابلہ کے قابل اور پائیدار ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو فروغ دے گا جبکہ سمرتھ 2.0 صنعت اور تعلیمی اداروں کے تعاون سے ٹیکسٹائل کی مہارت بڑھانے اور اپ گریڈ کرنے کا نظام فراہم کرے گا۔

ایم ایس ایم ایزکو ترقی کا اہم محرک سمجھتے ہوئے، ایک 10,000 کروڑ روپے کا  ایس ایم ای گروتھ فنڈ تجویز کیا گیا ہے تاکہ مستقبل کے چیمپیئنز پیدا کیے جا سکیں اور منتخب معیار کی بنیاد پر کاروبار کو فروغ دیا جائے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عوامی سرمایہ کاری مالی سال2014-15 میں 2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر بی ایی 2025-26 میں 11.2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے مالی سال2026-27 کے لیے اس رقم کو 12.2 لاکھ کروڑ روپے تک بڑھانے کی تجویز  پیش کی تاکہ ترقی کا سلسلہ جاری رہے۔

ماحول  کے لیے ساز گار نقل و حرکت کے ذرائع کو فروغ دینے کے لیے وزیر خزانہ نے نئےمال برداری متعلقہ کوریڈور کی تجویز  پیش کی جو مشرق میں ڈانکونی کو مغرب میں سورت سے  مربوط کریں گے اور اگلے پانچ سالوں میں 20 نئی آبی گزر گاہیں فعال کی جائیں گی، جس کی شروعات  این ڈبلیو-5اوڈیشہ سے ہوگی تاکہ تالچر اور انگول کے معدنیاتی علاقے اور کالنگا نگر جیسے صنعتی مراکز پورٹس آف پارادیپ اور دھمرا سے مربو ط ہو سکیں۔ مطلوبہ افرادی قوت کی تیاری کے لیے ٹریننگ انسٹیٹیوٹس کو ریجنل سینٹرز آف ایکسیلنس کے طور پر قائم کیا جائے گا۔

بجٹ کا مقصد شہروں کی صلاحیت کو بڑھانا اور ان کے اقتصادی اثرات کو زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنانا ہے۔ اس کے لیےشہروں کے اقتصادی خطوں کی  ان کے مخصوص ترقیاتی عوامل کی بنیاد پر نقشہ سازی کی جائے گی اور ہرسی ای آرکے لیے اگلے پانچ سال میں5000 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے تاکہ منصوبوں کو چیلنج موڈ میں اصلاحات اور نتائج کی بنیاد پر نافذ کیا جا سکے۔

ماحول کے لیے ساز گارمسافر نظام کو فروغ دینے کے لیے سات ہائی-اسپیڈ ریل کوریڈورز تیار کیے جائیں گے جو شہروں کو  ترقی کے رابطہ کار کے طور پر جوڑیں گے، جن میں(i) ممبئی-پونے،(ii) پونے-حیدرآباد(iii) حیدرآباد-بنگلورو(iv) حیدرآباد-چنئی(v) چنئی-بنگلور(vi) دہلی-وارانسی(vii) وارانسی-سلی گڑی شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ دوسرا کرتوویہ عوام کی امنگوں کو پورا کرنا اور صلاحیت سازی کو بڑھانا ہے۔ حکومت کی مسلسل اور اصلاحاتی کوششوں  کی ایک دہائی کے دوران تقریباً 25 کروڑ افراد کثیر جہتی غربت سے باہر آئے ہیں۔

بھارت کو میڈیکل ٹورزم کا مرکز بنانے کے لیے وزیر خزانہ نے ایک اسکیم تجویز کی ہے جس کے تحت نجی شعبے کے تعاون سے ریاستوں کی مدد سے پانچ ریجنل میڈیکل ہبز قائم کیے جائیں گے۔ یہ ہبز انٹیگریٹڈ ہیلتھ کیئر کمپلیکس کے طور پر کام کریں گے جن میں طبی، تعلیمی اور تحقیقی سہولیات موجود ہوں گی، ان میں آیوش سینٹرز، میڈیکل ویلیو ٹورزم فسیلیٹیشن سینٹرز اور تشخیص، بعد از علاج اور بحالی کے لیے ضروری  بنیادی ڈھانچے شامل ہیں ۔ یہ ہبز صحت کے پیشہ ور افراد،  جن میں ڈاکٹروں اور معاون عملے، کے لیے متنوع روزگار کے مواقع بھی فراہم کریں گے۔

جانوروں کے امراض کے ماہر افراد کی دستیابی کو 20,000 سے زیادہ بڑھانے کے لیے نجی شعبے میں ویٹرنری اور پیرا ویٹ کالجز، ویٹرنری  اسپتال، تشخیصی لیبارٹریز اور بریڈنگ سہولیات کے قیام کے لیے لون-لنکڈ کیپیٹل سبسڈی تجویز کی گئی ہے۔

بھارت کے اینیمیشن، ویژول ایفیکٹس، گیمنگ اور کامکس شعبے میں پیشہ ور افراد کی ضرورت 2030 تک تقریباً 20 لاکھ متوقع ہے۔ وزیر خزانہ نے ممبئی کے انڈین انسٹیٹیوٹ آف کریئیٹو ٹیکنالوجیز کی مدد سے 15,000 ثانوی اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی کونٹینٹ کریئیٹر لیبارٹریز قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

 اعلیٰ تعلیم ایس ٹی ای ایم اداروں میں طویل مطالعہ اور لیبارٹری کام کی وجہ سے طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وی جی ایف/کیپیٹل سپورٹ کے ذریعے ہر ضلع میں ایک گرلز ہاسٹل قائم کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے موجودہ نیشنل کونسل فار ہوٹل مینجمنٹ اینڈ کیٹرنگ ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کر کے ایک نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہاسپیٹیلٹی قائم کرنے کی تجویز  پیش کی، جو ماہر تعلیم، صنعت اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے 20 سیاحتی مقامات پر 10,000 گائیڈز کے ہنر کو مزید بہتر بنانے کے لیے 12 ہفتوں کے معیاری ہائی کوالٹی ٹریننگ کورس کی بھی تجویز پیش کی، جسے ہائبرڈ موڈ میں کسی  ا ٓئی آئی ایم کے تعاون سے  انجام دیا جائے گا۔

کھیلوں  بھارت پروگرام کے تحت  ہنرکو منظم انداز میں پروان چڑھانے کے لیے،  وزیر خزانہ نے اگلی دہائی میں کھیلوں کے شعبے کو تبدیل کرنے کے لیے کھیلو ں  انڈیا مشن شروع کرنے کی تجویز  پیش کی۔ یہ مشن درج ذیل کو آسان بنائے گا،(a)تربیتی مراکز کی مدد سے ہنر مندی کے فروغ کے لیے ایک مربوط طریقہ کار(b) کوچز اور معاون عملے کی منظم تربیت(c) کھیلوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی کا انضمام(d) مقابلے اور لیگیں کھیلوں کے کلچر کو فروغ دینا اور پلیٹ فارم فراہم کرنا اور (e)ٹریننگ و مقابلے کے لیے  بنیادی ڈھانچے کا فروغ شامل ہے ۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ کا تیسرا کرتویہ وکست بھارت کے نظریے سے مطابقت رکھتے ہوئے’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘‘  پر مبنی ہے ۔ اس کے لیے کسانوں کی آمدنی بڑھانے،معذوروں کو بااختیار بنانے، کمزور طبقات کو ذہنی صحت اور صدمے کے علاج تک رسائی دلانے اور پوروودیہ ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں پر توجہ دے کر ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ نے بھارت-وِستار(زرعی وسائل تک رسائی کے لیے ورچوئل مربوط نظام) کی تجویز  پیش کی، جو ایک کثیر لسانی مصنوعی ذہانت ٹول ہے۔ یہ ایگری اسٹیک پورٹلز اورآئی سی اے آر کے زرعی طریقہ کار کے پیکج کو اے آئی سسٹمز کے ساتھ مربوط کرے گا، جس سے کسانوں کی پیداوار بڑھے گی، بہتر فیصلے ممکن ہوں گے اور ذاتی مشورہ فراہم کر کے خطرات کم ہوں گے۔

لکھپتی دیدی پروگرام کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے،اپنی مدد آپ انٹر پرینیور (ایس ایچ ای مارٹس) قائم کی جائیں گی جو کمیونٹی کی ملکیت والے ریٹیل آؤٹ لیٹس ہوں گے اور کلسٹر سطح کی فیڈریشنز کے ذریعے جدید اور بہتر مالیاتی طریقے کار کے ساتھ چلائی جائیں گی۔

ذہنی صحت اور صدمے کے علاج کے عزم کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے، وزیر خزانہ نے نم ہنس -2قائم کرنے اور رانچی اور تیزپور میں نیشنل مینٹل ہیلتھ انسٹی ٹیوٹس کو علاقائی اعلیٰ ادارے کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے مزید تجویز  پیش کہ مشرقی ساحل صنعتی کوریڈور تیار کیا جائے جس کا ایک مربوط نوڈ دُرگاپور میں ہو، پانچ پوروودیہ ریاستوں میں پانچ سیاحتی مقامات قائم کیے جائیں اور 4,000 ای-بسز فراہم کی جائیں۔ وزیر خزانہ نے اروناچل پردیش، سِکم، آسام، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں بدھ مت سرکٹس کی ترقی کے لیے ایک اسکیم بھی پیش کی، جو مندروں اور خانقاہوں کے تحفظ ، یاترا کے لیے معلوماتی مراکز، رابطے کے نظام اور  عقیدتمندوں کی سہولیات کو شامل کرے گی۔

مالی استحکام

متوقع ہے کہ قرض کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب بی ایس 2026-27 میں 55.6 فیصد ہوگا، جو آر ای 2025-26 میں 56.1 فیصد تھا۔ قرض کے تناسب میں کمی سے سود کی ادائیگیوں پر اخراجات کم ہوں گے اور ترجیحی شعبوں میں وسائل دستیاب ہوں گے۔ آرای 2025-26 میں مالیاتی خسارہ بی ای 2025-26 کے برابر، یعنی جی ڈی پی کا 4.4 فیصد، رہنے کا اندازہ ہے۔ قرض میں کمی کے نئے مالیاتی محتاط طریقہ کارکے مطابق، بی ای  2026-27 میں مالیاتی خسارہ  جی ڈی پی کا 4.3 فیصد ہونے کا اندازہ ہے۔

نظر ثانی شدہ تخمینے 2025-26

غیر قرض کی آمدنی کے نظر ثانی شدہ تخمینے 34 لاکھ کروڑ روپے ہیں، جن میں سے مرکزی حکومت کی کُل ٹیکس آمدنی 26.7 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ کُل اخراجات کا نظر ثانی شدہ تخمینہ 49.6 لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں سے سرمایہ جاتی اخراجات تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے ہیں۔

بجٹ کے تخمینے 2026-27

 آئند ہ 2026-27کے لیے بجٹ تخمینےغیر قرض کی آمدنی اور کُل اخراجات بالترتیب 36.5 لاکھ کروڑ روپے اور 53.5 لاکھ کروڑ روپے تخمینے گئے ہیں۔ مرکزی حکومت کی کُل ٹیکس آمدنی کا اندازہ 28.7 لاکھ کروڑ روپے ہے۔

مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے ڈیٹڈ سیکیورٹیز سے نیٹ مارکیٹ قرضہ کا اندازہ 11.7 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ باقی مالی مدد چھوٹے ذخائر اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے کی توقع ہے۔ کُل مارکیٹ قرض کا اندازہ 17.2 لاکھ کروڑ روپے ہے۔

حصہ- دوئم

براہِ راست ٹیکس:

براہِ راست ٹیکس میں،  مرکزی بجٹ 2026-27 میں کئی نئی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ نیو انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 اپریل 2026 سے نافذ ہوگا۔ اس کے علاوہ، سہل انکم ٹیکس رابطے اور فارم بھی جلد نوٹیفائی کیے جائیں گے۔ فارم کو اس طرح دوبارہ ڈیزائن کیا گیا ہے کہ عام شہری آسانی سے  عمل درآمد کر سکیں۔

ٹی سی ایس کی شرح میں کمی بھی تجویز کی گئی ہے۔ اوورسیز ٹور پروگرام پیکج بغیر کسی حد کےموجودہ 5 فیصد اور 20 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم اور طبی مقاصد کے لیےآزادانہ ترسیل زر اسکیم(ایل آر ایس) کے تحت ٹی سی ایس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا گیا ہے۔

یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ  افرادی قوت سے متعلق خدمات کی سپلائی کو ٹی ڈی ایس کے دائرہ کار میں لایا جائے اور اس پرٹی ڈی ایس کی شرح صرف 1 فیصد یا 2 فیصد ہوگی۔ چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے ایک  ضابطے پر مبنی خودکار نظام بنایا جائے گا جو کم یا صفر کٹوتی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے میں مدد دے گا، اس کے لیے اسیسنگ آفیسر کے پاس درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ریٹرن کی نظر ثانی کی مدت معمولی فیس کے ساتھ 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ تک کی جائے گی۔ مزید یہ کہ ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی ٹائم لائن کو مرحلہ وار بنایا جائے گا۔

چھوٹے ٹیکس دہندگان کے عملی مسائل کے حل کے لیے ایک ون ٹائم 6 ماہ کی غیر ملکی اثاثے کے  انکشاف سے متعلق اسکیم متعارف کروائی جائے گی، جس میں طلبہ، نوجوان پیشہ ور، ٹیکنالوجی کے ملازمین، دوبارہ بسنے والے این آر آئی اور دیگر شامل ہیں، تاکہ ایک مقررہ حد سے کم آمدنی یا اثاثے ظاہر کیے جا سکیں۔

جرمانے اور قانونی کارروائی میں معقولیت

 مرکزی بجٹ 2026-27 میں جرمانے اور قانونی کارروائی کو معقول بنانے کے لیے کئی تجاویز دی گئی ہیں تاکہ کارروائیوں کی تعداد کم کی جا سکے۔  جائزے اور جرمانے  کی کارروائیوں کو ایک ہی مشترکہ آرڈر کے ذریعے مربوط کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ پیشگی ادائیگی کی شرح 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کی جائے گی، جو صرف بنیادی ٹیکس  مانگ پر لاگو ہوگی۔ قانونی تنازعات کو کم کرنے کے لیے ٹیکس دہندگان کو اجازت دی جائے گی کہ وہ نظر ثانی کے بعد بھی اپنے ریٹرنز اپ ڈیٹ کر سکیں، اس کے لیے متعلقہ سال کی شرح کے علاوہ اضافی 10 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

بجٹ میں یہ تجویز بھی ہے کہ انڈر ریپورٹنگ کے معاملات میں جرمانے اور قانونی کارروائی سے استثنیٰ کی شق کو غلط رپورٹنگ تک بھی بڑھایا جائے۔ اس کے لیے ٹیکس دہندہ کو اصل ٹیکس اور سود کے علاوہ 100 فیصد اضافی انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔مزید برآں، انکم ٹیکس ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کے فریم ورک کو بھی معقول بنایا جائے گا۔ اس میں کھاتوں اور دستاویزات پیش نہ کرنے اور ادائیگی میں ٹی ڈی ایس کی ضرورت، اگر ادائیگی  مہربانی کی صورت میں ہو، تو اسے جرم نہیں سمجھا جائے گا۔ غیر منقولہ غیر ملکی اثاثے جن کی مجموعی مالیت 20 لاکھ روپے سے کم ہو، ان کے لیے یکم اکتوبر 2024  سے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

امدادی باہمی ادارے

اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ، نرملا سیتا رمن نے کہا کہ پرائمری کوآپریٹو سوسائٹی کو پہلے ہی دستیاب  رعایت، جو اپنے ممبران کی پیدا کردہ دودھ،  تلہن کے بیج، پھل یا سبزیاں فراہم کرنے پر ملتی تھی، اب ممبرز کی پیدا کردہ چارے اور کپاس کے بیج کی سپلائی پر بھی فراہم کی جائے گی۔

انٹر-کوآپریٹیو سوسائٹی ڈیوڈنڈ کی آمدنی کو نئے ٹیکس نظام کے تحت کٹوتی کے طور پر اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ یہ آمدنی مزید ممبران میں تقسیم کی جائے۔ مزید برآں، نوٹیفائیڈ نیشنل کوآپریٹو فیڈریشن کی جانب سے کمپنیوں میں کی گئی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے ڈیوڈنڈ کی آمدنی پر تین سال کی چھوٹ دی جائے گی، بشرطیکہ یہ ڈیوڈنڈ بعد میں اس کے ممبر کوآپریٹیوز میں تقسیم کی جائے، اور یہ چھوٹ 31 جنوری 2026 تک کی سرمایہ کاری پر لاگو ہوگی۔

آئی ٹی شعبے کو بھارت کی ترقی کا انجن بنانے میں مدد

آئی ٹی شعبے کی بھارت کی ترقی میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، بجٹ میں تجویز  پیش کی گئی ہے کہ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ سروسز، آئی ٹی ایبل سروسز، نالج پروسیس آؤٹ سورسنگ سروسز اور کانٹریکٹ آر اینڈ ڈی سروسز کو ایک ہی زمرے انفارمیشن ٹیکنالوجی خدماتمیں شامل کیا جائے، جس پر مشترکہ سیف ہاربر مارجن 15.5 فیصد ہوگا۔ مزید برآں، آئی ٹی سروسز کے لیے سیف ہاربر کا تھریش ہولڈ 300 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2,000 کروڑ روپے کیا جائے گا۔ سیف ہاربر کی منظوری خودکار رول-ڈریون پروسیس کے ذریعے دی جائے گی، اور جب کسی آئی ٹی سروس کمپنی نے اسے اپلائی کیا تو یہ سیف ہاربر مسلسل پانچ سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔

یونیلٹرل ایڈوانسڈ پرائسنگ ایگریمنٹ (اے پی اے) کے عمل کو آئی ٹی سروسز کے لیے تیز کرنے کی تجویز ہے تاکہ یہ دو سال میں مکمل ہو جائے، جسے ٹیکس دہندہ کی درخواست پر مزید چھ ماہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ، اے پی اے میں شامل ادارے کے لیے دستیاب ماڈیفائیڈ ریٹرنز کی سہولت اس کے متعلقہ اداروں پر بھی بڑھائی جائے گی۔

عالمی کاروبار اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا

مرکزی بجٹ 2026-27 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی جو بھارت سے ڈیٹا سینٹر سروسز استعمال کرتے ہوئے عالمی صارفین کو کلاؤڈ سروسز فراہم کرے گی، 2047 تک ٹیکس سے مستثنیٰ رہے گی۔ اگر بھارت سے ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی متعلقہ ادارہ ہے تو 15 فیصد کا سیف ہاربر فراہم کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ غیر مقیم افراد کو بنڈڈ ویئر ہاؤس میں کمپوننٹ وئیر ہاؤسنگ پر انوائس ویلیو کے 2 فیصد منافع پر سیف ہاربر دیا جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ اس کے نتیجے میں لگنے والا ٹیکس تقریباً 0.7 فیصد ہوگا، جو دیگر مقابلہ کرنے والے دائرہ اختیار کی نسبت کہیں کم ہے۔

بجٹ میں یہ تجویز بھی ہے کہ کوئی بھی غیر مقیم جو بنڈڈ زون میں ٹول مینوفیکچرر کو کیپٹل گڈز، آلات یا ٹولنگ فراہم کرتا ہے، اسے پانچ سال کے لیے انکم ٹیکس سے چھوٹ دی جائے۔ عالمی ہنر مندوں کو بھارت میں طویل عرصے تک کام کرنے کی ترغیب دینے کے لیے، غیر بھارت ماخذ آمدنی پر پانچ سال کے لیے چھوٹ دی جائے گی۔ مزید یہ کہ، تمام غیر مقیم افراد جو اندازے کی بنیاد پر پیشگی ٹیکس ادا کرتے ہیں، انہیں کم از کم متبادل ٹیکس (ایم اے ٹی )سے استثناء دیا جائے گا۔

ٹیکس بندو بست

ٹیکس  بندو بست کو مضبوط بنانے کے لیے بجٹ میں تجویز پیش کی ،وزارتِ کارپوریٹ  امور اور مرکزی براڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز(سی بی ڈی ٹی) کی مشترکہ کمیٹی بنائی جائے، جو انکم کمپیوٹیشن اینڈ ڈسکلوزر اسٹینڈرڈز (آئی سی ڈی ایس) کو انڈین اکاؤنٹنگ اسٹینڈرڈز(انڈاس) میں شامل کرے۔  آئی سی ڈی ایس کی بنیاد پر الگ اکاؤنٹنگ کی ضرورت ٹیکس سال 2027-28 سے ختم کر دی جائے گی۔ مزید برآں، سیف ہاربر  رابطوں کے لیے اکاؤنٹنٹ کی تشریح بھی معقول بنائی جائے گی۔

دیگر ٹیکس تجاویز

اقلیت کے حصص یافتگان کے مفاد میں، مرکزی بجٹ 2026-27 میں تجویز دی گئی ہے کہ تمام  طرح کے شیئر ہولڈرز کے لیے بائی بیک کپیٹل گینز کے طور پر ٹیکس کیا جائے۔ اس کے لیے پروموٹرز کو اضافی بائی بیک ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جس سے مؤثر ٹیکس کارپوریٹ پروموٹرز کے لیے 22 فیصد اور نان کارپوریٹ پروموٹرز کے لیے 30 فیصد ہوگا۔

مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے کہا کہ مخصوص اشیاء کےفروخت کرنے والوں کے لیے ٹی سی ایس کی شرح، یعنی الکوحلک لیکر، اسکریپ اور معدنیات کے لیے، 2 فیصد کی جائے گی اور تندو کے پتے پر یہ شرح 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کی جائے گی۔ ایک اور اہم تجویز فیوچرز پر  ایس ٹی ٹی کو موجودہ 0.02 فیصد سے بڑھا کر 0.05 فیصد کرنے کی ہے۔ آپشن پریمیم اور آپشنز کے استعمال پرایس ٹی ٹی بھی موجودہ 0.1 فیصد اور 0.125 فیصد سے بڑھا کر 0.15 فیصد کیا جائے گا۔

کمپنیوں کو نئے ٹیکس نظام کی طرف راغب کرنے کے لیے، بجٹ میں تجویز ہے کہ بروٹ فارورڈ  ایم اے ٹی کریڈٹ کا سیٹ آف صرف نئے نظام میں کمپنیوں کو دیا جائے۔ دستیاب  ایم اے ٹی کریڈٹ کا استعمال نئے نظام میں ٹیکس ذمہ داری کے ایک چوتھائی حصے تک کیا جا سکے گا۔ ایم اے ٹی کو فائنل ٹیکس بنانے کی تجویز کے مطابق، یکم اپریل 2026 سے مزید کریڈٹ جمع نہیں ہوگا۔ فائنل ٹیکس کی شرح موجودہ ایم اے ٹی  کی 15 فیصد کے بجائے 14 فیصد ہوگی۔ مزید یہ کہ 31 مارچ 2026 تک ٹیکس دہندگان کے جمع شدہ ایم اے ٹی کریڈٹ انہیں سیٹ آف کے لیے دستیاب رہیں گے۔

 بالواسطہ ٹیکسز :

وزیر خزانہ نے کہا کہ کسٹمز اور سینٹرل ایکسائز کی تجاویز کا مقصد محصول ڈھانچے کو مزید آسان بنانا، گھریلو مینوفیکچرنگ کی  مدد، برآمدی مسابقت کو فروغ دینا اور ڈیوٹی میں ردو بدل کو درست کرنا ہے۔

کسٹم ڈیوٹیز میں معقولیت:

میرین، لیدر اور ٹیکسٹائل مصنوعات،سمندری  اشیاء کی مصنوعات برآمد کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مخصوص  سازو سامان کی ڈیوٹی فری امپورٹ کی حد موجودہ 1 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد ایف او بی ویلیو کی جائے گی۔ لیدر یا سنتھیٹک جوتوں کی برآمدات کے لیے دستیاب ڈیوٹی فری امپورٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔

 توانائی کے شعبے ،بیٹریز کے لیے لیتھیم آئن سیلز کی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والے سرمایہ جاتی سازو سامان پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ بڑھائی جائے گی اور سولر گلاس کی تیاری میں استعمال ہونے والے سوڈیم اینٹیمونیٹ پر کسٹم ڈیوٹی  نہیں ہو گی۔

نیوکلئیر پاور پروجیکٹس،ضروری اشیاء کی موجودہ بنیادی کسٹم ڈیوٹی چھوٹ کو 2035 تک بڑھایا جائے گا اور مائیکروویو اوون کی تیاری میں استعمال ہونے والے مخصوص پرزوں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی نہیں ہوگی۔

اہم معدنیات کی پروسیسنگ، سرمایہ جاتی سازو سامان کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی  نہیں ہوگی اور بایوگیس کے مکمل ویلیو کو بایوگیس ملا ہوا سی این جی پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی کے حساب میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

شہری اور دفاعی  شہری ہوا بازی کے شعبے میں شہری، تربیتی اور دیگر ہوائی جہاز کی تیاری کے لیے اجزاء اور پرزوں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی  نہیں ہوگی اور دفاعی شعبے کے یونٹس کے رکھ رکھاؤ، مرمت اوور ہال کے لیے ہوائی جہاز کے پرزوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی  نہیں ہوگی۔

مزید برآں، اسپیشل اکنامک زون کی اہل مینوفیکچرنگ یونٹس کے لیے ڈومیسٹک ٹریف ایریا(ڈی ٹی اے ) میں فروخت پر خصوصی ایک وقتی رعایتی ڈیوٹی کی تجویز  پیش کی۔

 رہن سہن میں آسانی کو بہتر بنانے کے لیے، ذاتی استعمال کے لیے درآمد کی جانے والی تمام  محصول شدہ مصنوعات پر ٹریف ریٹ 20 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کیا جائے گا۔ 17 ادویات یا دواؤں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی  نہیں ہوگی اور 7 مزید نایاب بیماریوں کو شامل کیا جائے گا تاکہ ان بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی دوائیں، ادویات اور ایف ایس ایم پی پر ذاتی درآمد کی ڈیوٹی  نہ ہو۔

کسٹم کا عمل :

کسٹمز کے عمل میں کم سے کم مداخلت کی جائے گی تاکہ سامان کی نقل و حرکت تیز اور آسان ہو۔ مزید برآں، ٹیر 2 اور ٹیر 3 آتھرائزڈ اکنامک آپریٹرز (اے ای اوز) کے لیے ڈیوٹی ڈیفرل پیریڈ 15 دن سے بڑھا کر 30 دن کیا جائے گا۔ یہ سہولت اہل مینوفیکچرر-امپورٹرز پر بھی لاگو ہوگی۔ کسٹمز پر بائنڈنگ ایڈوانس رولنگ کی میعاد موجودہ 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کی جائے گی۔ حکومت کی ایجنسیاں اے ای او کی جانب سے تسلیم شدہ کیے جانے کو اپنے کارگو کی کلیئرنگ میں ترجیحی سہولت کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دی جائیں گی۔

بجٹ میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ کسٹمز وئیر ہاؤسنگ فریم ورک کو ویئر ہاؤس آپریٹر سینٹرک سسٹم میں تبدیل کیا جائے، جس میں سیلف ڈیکلریشنز، الیکٹرانک ٹریکنگ اور رسک بیسڈ آڈٹ شامل ہوں۔

کاروبار کرنے میں آسانی:

اس شعبے میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، مختلف حکومتی ایجنسیوں سے کارگو کلیئرنس کی منظوری کو ایک مربوط ڈیجیٹل ونڈو کے ذریعے مالی سال کے اختتام تک آسان بنایا جائے گا۔ جن اشیاء کے لیے کوئی کمپلائنس ضرورت نہیں، کسٹمز انہیں آن لائن رجسٹریشن کے فوراً بعد کلیئر کرے گا۔کسٹمز انٹیگریٹڈ سسٹم (سی آئی ایس ) کو 2 سال میں متعارف کرایا جائے گا تاکہ یہ تمام کسٹمز عمل کے لیے ایک مربوط اور قابل توسیع پلیٹ فارم بن جائے۔ مزید یہ کہ غیر مداخلتی اسکیننگ، جدید امیجنگ اور  اے آئی ٹیکنالوجی کے ساتھ رسک اسیسمنٹ کے لیے تمام بڑی بندرگاہوں پر ہر کنٹینر کی اسکیننگ کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔

 مرکزی بجٹ 2026-27 میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ بھارت کی ماہی گیری کشتی کے ذریعہ مخصوص اقتصادی زون(ای ای زیڈ) یا ہائی سیز میں پکڑی گئی مچھلی پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہوگی۔ ایسی مچھلی کی غیر ملکی بندرگاہ پر لینڈنگ برآمدات کے طور پر شمار ہوگی۔بجٹ میں کوریئر برآمدات پر موجودہ 10 لاکھ روپے فی کوریئر کی حد کو مکمل ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ بھارت کے چھوٹے کاروبار، ہنرمند اور اسٹارٹ اپس ای کامرس کے ذریعے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکیں۔

بیگیج کلیئرنس کے  ضوابط بھی بین الاقوامی سفر کے دوران نظر ثانی کے قابل ہوں گے، تاکہ ڈیوٹی فری الاؤنس موجودہ سفر کی حقیقتوں کے مطابق بڑھایا جا سکے۔ مزید یہ کہ ایماندار ٹیکس دہندگان جو تنازعات حل کرنے کے خواہشمند ہوں، اضافی رقم ادا کر کے کیس بند کر سکیں گے۔

****

ش ح- اع خ۔ ش ب ن

UR-UB-26


(रिलीज़ आईडी: 2221717) आगंतुक पटल : 24
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Malayalam , Assamese , English , हिन्दी , Punjabi , Gujarati