وزارت خزانہ

مرکزی بجٹ 24-2023 ء کی اہم جھلکیاں

Posted On: 01 FEB 2023 1:35PM by PIB Delhi

خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر  محترمہ  نرملا سیتا رمن نے  آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 24-2023 ء پیش کیا ۔ بجٹ کی اہم جھلکیاں مندرجہ ذیل ہیں :

پارٹ بی

  • فی کس آمدنی  تقریباً 9 سال میں دوگنی سے زیادہ ہوکر 1.97  لاکھ روپئے ہو گئی ہے ۔
  • بھارتی معیشت کا سائز پچھلے نو سالوں میں 10ویں مقام سے بڑھ کر دنیا میں 5ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
  • ای پی ایف او کی رکنیت دوگنی سے زیادہ ہو  کر 27 کروڑ ہوگئی ہے۔
  • 2022 ء میں یو پی آئی  کے ذریعے 126 لاکھ کروڑ روپئے کی 7,400 کروڑ ڈیجیٹل ادائیگیاں کی گئیں ۔
  • سووچھ بھارت مشن کے تحت 11.7 کروڑ گھریلو بیت الخلاء بنائے گئے۔
  • اجوولا یوجنا کے تحت 9.6 کروڑ ایل پی جی کنکشن فراہم کئے گئے۔
  • 102 کروڑ افراد کو 220 کروڑ کوڈ ویکسین کے ٹیکے لگائے گئے ۔
  • 47.8 کروڑ پی ایم جن دھن بینک کھاتے کھولے گئے ۔
  • پی ایم سرکشا بیمہ اور پی ایم جیون جیوتی یوجنا کے تحت 44.6 کروڑ افراد کا بیمہ کرایا گیا ۔
  • پی ایم کسان سمان ندھی کے تحت 11.4 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو 2.2 لاکھ کروڑ روپئے کی نقد رقم ادا کی گئی ۔
  • بجٹ کی سات ترجیحات ، ‘ سپت رشی ’ میں جامع ترقی، آخری میل تک رسائی ،  بنیادی ڈھانچہ اور سرمایہ کاری، صلاحیت کو فروغ دینا، سبز ترقی، نوجوانوں کی قوت اور مالی سیکٹر شامل ہیں ۔
  • اعلیٰ قیمت والی باغبانی فصلوں کے لئے بیماریوں سے پاک، معیاری پودے لگانے کے مواد کی دستیابی کو فروغ دینے کے لئے 2200 کروڑ روپئے کی لاگت کے ساتھ آتم نربھر  کلین پلانٹ پروگرام شروع کیا جائے گا۔
  • 2014 ء کے بعد قائم کئے گئے موجودہ 157 میڈیکل کالجوں کے ساتھ مل کر 157 نئے نرسنگ کالج قائم کئے جائیں گے۔
    • مرکز ، 740 ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کے لئے ، جن میں  3.5 لاکھ قبائلی طلبا تعلیم حاصل کررہے ہیں ، اگلے تین برسوں میں 38,800 اساتذہ اور معاون عملہ بھرتی کرے گا   ۔
    • پی ایم آواس یوجنا کے لئے مختص رقم کو   66 فی صد بڑھا کر 79000 کروڑ روپئے سے زیادہ کیا جا رہا ہے۔
    • ریلوے کے لئے 2.40 لاکھ کروڑ روپئے کی رقم مختص کی گئی ہے ، جو اب تک مختص کی گئی رقم میں سب سے زیادہ ہے اور 14-2013 ء  کے لئے مختص رقم سے تقریباً 9 گنا زیادہ ہے ۔
    • شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ ( یو آئی ڈی ایف ) ترجیحی سیکٹر قرضے میں  کمی کے استعمال کے لئے قائم کیا جائے گا، جس کا انتظام قومی ہاؤسنگ بینک کرے گا اور اسے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے ٹائر 2 اور ٹائر 3 شہروں میں شہری بنیادی ڈھانچہ بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
  • ایم ایس ایم ایز ، بڑے کاروباروں اور خیراتی ٹرسٹوں کے ذریعے دستاویزات کو آن لائن یکجا کرنے ، شیئر کرنے وغیرہ کے لئے این ٹی ٹی ڈِجی لاکر قائم کئے جائیں گے ۔
  • 5 جی  سروسز پر مبنی ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ کے لئے 100 لیبز قائم کی جائیں گی تاکہ مواقع، کاروباری ماڈلز، اور روزگار کے مواقع کی نئی رینج کا ادراک کیا جا سکے۔
    • 10,000 کروڑ روپئے کی کل سرمایہ کاری سے سرکلر اکانومی کو فروغ دینے کے لئے گوبردھن (گیلونائزنگ آرگینک بایو-ایگرو ریسورسز دھن) اسکیم کے تحت 500 نئے ‘ ویسٹ ٹو ویلتھ ’ پلانٹس قائم کئے جائیں گے۔ قدرتی اور بایو گیس کی مارکیٹنگ کرنے والی تمام تنظیموں کے لئے 5 فی صد کمپریسڈ بایو گیس کا مینڈیٹ متعارف کرایا جائے گا۔
    • مرکز اگلے تین سالوں میں ایک کروڑ کسانوں کو قدرتی کھیتی کو اپنانے میں سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے لئے 10,000 بایو ان پٹ ریسورس سینٹرز قائم کئے جائیں گے، جس سے قومی سطح پر تقسیم شدہ مائیکرو فرٹیلائزر اور کیڑے مار ادویات کی تیاری کا نیٹ ورک بنایا جائے گا۔
    • پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 ، اگلے تین سالوں میں لاکھوں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے شروع کی جائے گی ، جس میں صنعت 4.0 کے نئے دور کے کورسز جیسے کوڈنگ، اے آئی ، روبوٹکس، میکیٹرونکس، آئی او ٹی  ، 3 ڈی  پرنٹنگ، ڈرون، اور سافٹ اسکلز شامل ہوں گے۔
    • نوجوانوں کو بین الاقوامی مواقع کے لئے ہنر مند بنانے کی خاطر مختلف ریاستوں میں 30 اسکل انڈیا انٹرنیشنل سینٹر قائم کئے جائیں گے۔
    • ایم ایس ایم ایز  کے لئے یکم  اپریل ، 2023 ء سے 9,000 کروڑ روپئے کے فنڈ کے ذریعے نافذ  ہونے والی کریڈٹ گارنٹی اسکیم کو بہتر بنایا جائے گا۔ یہ اسکیم 2 لاکھ کروڑ روپئے کے اضافی ضمانت کے بغیر قرض دینے کو آسان بنائے گی اور قرضوں کی لاگت میں ایک فی صد کی کمی کرے گی۔
    • کمپنیز ایکٹ کے تحت فیلڈ دفاتر میں داخل کردہ مختلف فارموں کی سنٹرلائزڈ ہینڈلنگ کے ذریعے کمپنیوں کو تیز تر رسپانس کے لئے سینٹرل پروسیسنگ سینٹر قائم کیا جائے گا۔
    • بزرگ شہریوں کی بچت اسکیم کے لئے زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی حد کو 15 لاکھ روپئے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپئے کیا جائے گا۔
    • 26-2025 ء  تک ہدف شدہ مالیاتی خسارہ 4.5 فی صد سے کم  رہے گا۔
  • دیہی علاقوں میں نوجوان کاروباریوں کے ذریعے زرعی اسٹارٹ اَپس کی حوصلہ افزائی کے لئے ایگریکلچر ایکسلریٹر فنڈ قائم کیا جائے گا۔
  • بھارت کو ‘ شری اناّ ’ کا عالمی مرکز بنانے کے لئے، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ملٹ ریسرچ، حیدرآباد کا بین الاقوامی سطح پر بہترین طریقوں، تحقیق اور ٹیکنالوجیز کا اشتراک کرنے کے لئے سنٹر آف ایکسیلنس کے طور پر تعاون کیا جائے گا۔
  • مویشی پروری ، ڈیری اور ماہی پروری کے لئے  20 لاکھ کروڑ روپئے کے زرعی قرضے دینے کا ہدف ہے۔
  • ماہی گیروں، مچھلی فروشوں، اور مائیکرو اور چھوٹے کاروباری اداروں کی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے، ویلیو چین کی افادیت کو بہتر بنانے، اور مارکیٹ کو وسعت دینے کی خاطر پی ایم  متسیا سمپدا یوجنا کی ایک نئی ذیلی اسکیم 6,000 کروڑ روپئے کی سرمایہ  کاری کے ساتھ شروع کی جائے گی۔
  • زراعت کے لئے ڈیجیٹلز سرکاری بنیادی ڈھانچے کو ایک اوپن سورس، اوپن اسٹینڈرڈ اور انٹر آپریبل پبلک گڈ کے طور پر بنایا جائے گا تاکہ کسانوں پر مرکوز حل اور ایگری ٹیک انڈسٹری اور اسٹارٹ اپس کی ترقی کے لئے تعاون کو فعال کیا جاسکے۔
  • 2,516 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے ساتھ 63,000 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز ( پی اے سی ایس ) کا کمپیوٹرائزیشن شروع کیا گیا ہے ۔
  • کسانوں کو ان کی پیداوار کو ذخیرہ کرنے اور مناسب وقت پر فروخت کے ذریعے منافع بخش قیمتوں کو حاصل کرنے میں مدد کے لئے بڑے پیمانے پر غیر مرکوز اسٹوریج صلاحیت قائم کی جائے گی۔
  • موروثی خون کی کمی  کے خاتمے کا مشن شروع کیا جائے گا۔
  • مشترکہ پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل ریسرچ کو منتخب آئی سی ایم آر  لیبز کے ذریعے حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ باہمی تحقیق اور اختراع کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
  • فارماسیوٹیکل میں تحقیق کو فروغ دینے کے لئے نیا پروگرام شروع کیا جائے گا۔
    • ترقی کی صلاحیت اور روزگار کے مواقع کو بڑھانے، نجی سرمایہ کاری میں لوگوں کو راغب کرنے  اور عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات کے لئے مدد فراہم کرنے کی خاطر 10 لاکھ کروڑ روپئے کی کیپٹل سرمایہ کاری کی گئی ہے ، جس میں مسلسل تیسرے سال 33 فی صد کا زبردست اضافہ کیا گیا ہے ۔
    • صحت، غذائیت، تعلیم، زراعت، آبی وسائل، مالی شمولیت، مہارت کی ترقی، اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسے متعدد شعبوں میں ضروری سرکاری خدمات کو بڑھانے کی خاطر  500 بلاکس پر مشتمل امنگوں والے بلاکس پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
    • درج فہرست قبائل کے لئے ترقیاتی ایکشن پلان کے تحت اگلے تین سالوں میں پردھان منتری پی وی ٹی جی ڈیولپمنٹ مشن کو نافذ کرنے کے لئے 15000 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔
    • بندرگاہوں، کوئلہ، اسٹیل، کھاد اور اناج کے شعبوں میں ایک سو اہم ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچے  کے پروجیکٹوں کو شروع سے آخر تک مربوط کرنے کی خاطر 15000 کروڑ روپئے کی پرائیویٹ ذرائع سے سرمایہ کاری سمیت 75000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
    • انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لئے نیا انفراسٹرکچر فائنانس سیکرٹریٹ قائم کیا گیا۔
    •  ڈسٹرکٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کو اساتذہ کی تربیت کے لئے متحرک اداروں کے طور پر تیار کیا جائے گا۔
    • بچوں اور نوعمروں کے لئے جغرافیہ، زبانوں، انواع اور سطحوں پر معیاری کتابوں کی دستیابی اور آلات کی علمی رسائی کی سہولت کے لئے ایک قومی ڈیجیٹل لائبریری قائم کی جائے گی۔
    • پائیدار مائیکرو اریگیشن اور پینے کے پانی کے لئے سطح کے ٹینکوں کو بھرنے کے لئے اپر بھدرا پروجیکٹ کو مرکزی امداد کے طور پر 5,300 کروڑ روپئے دیئے جائیں گے۔
    • ‘ بھارت کے مشترکہ کتبات کے ذخیرے ’ قائم کئے جائیں گے ، جس میں پہلے مرحلے میں  ایک لاکھ قدیم کتبات کے ساتھ ڈیجیٹل ایپی گرافی میوزیم قائم کیا جائے گا ۔
    • مرکز کے ‘ موثر کیپٹل اخراجات ’ 13.7 لاکھ کروڑ روپئے کے ہوں گے۔
    • ریاستی حکومتوں کو بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تکمیلی پالیسی اقدامات میں انہیں ترغیب دینے کی خاطر  ، انہیں مزید ایک سال کے لئے 50 سالہ بلاسود قرض جاری رکھا جائے گا ۔
    • ریاستوں اور شہروں کو شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات اور اقدامات کرنے کی ترغیب دینا تاکہ ہمارے شہروں کو ‘ کل کے پائیدار شہروں ’ میں تبدیل کیا جا سکے۔
    • تمام شہروں اور قصبوں کے سیپٹک ٹینکوں اور گٹروں کی 100 فیصد مشینوں کے ذریعے صفائی کے قابل بناکر مین ہول سے مشین ہول موڈ میں تبدیلی۔
    • لاکھوں سرکاری ملازمین کو اپنی مہارتوں کو اپ گریڈ کرنے اور لوگوں پر مرکوز نقطہ نظر کو آسان بنانے کے لئے مسلسل سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کی خاطر ایک آن لائن پروگرام آئی گوٹ کرم یوگی کا آغاز کیا گیا ہے ۔
    • کاروبار کرنے میں آسانی میں اضافہ کرنے کے لئے 39,000 سے زیادہ تعمیلی ضابطوں کو کم کیا گیا اور 3,400 سے زیادہ قانونی دفعات کو غیر مجرمانہ قرار دیا گیا۔
    • اعتماد پر مبنی حکمرانی میں اضافے کے لئے 42 مرکزی ایکٹ میں ترمیم کرنے کی خاطر  جن وشواس بل پیش کیا گیا ۔
    • مصنوعی ذہانت کے لئے تین مراکز اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قائم کئے جائیں گے تاکہ میک اے آےآئی اِن انڈیا اور میک اے آئی ورک فار انڈیا  ’’ کے ویژن کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
    •  اسٹارٹ اپس اور اکیڈمی کے ذریعہ جدت طرازی اور تحقیق کو آگے بڑھانے کے لئے نیشنل ڈاٹا گورننس پالیسی لائی جائے گی ۔
    • ڈجی لاکر  سروس اور آدھار کو بنیادی شناخت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کی شناخت اور پتے کی مفاہمت اور اپ ڈیٹ کرنے کے لئے ایک اسٹاپ حل فراہم کیا جائے گا۔
    • پین  کو کاروبار کرنے میں آسانی لانے کے لئے مخصوص سرکاری ایجنسیوں کے تمام ڈیجیٹل سسٹمز کے لئے مشترکہ شناخت کنندہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
    • بولی یا کارکردگی کی حفاظت سے متعلق ضبط شدہ رقم کا 95 فیصد، حکومت اور حکومتی اداروں کے ذریعے ایم ایس ایم  کو واپس کر دیا جائے گا اگر ایم ایس ایم ایز  کووڈ کی مدت کے دوران معاہدوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے۔
    • مسابقتی ترقیاتی ضروریات کے لئے قلیل وسائل کو بہتر طریقے سے مختص کرنے کے لئے نتائج پر مبنی فنڈنگ کی جائے گی ۔
    • انصاف کے موثر انتظامیہ کی خاطر ای کورٹس پروجیکٹ کے تیسرے مرحلے  کو 7000 کروڑ روپئے کی لاگت سے شروع کیا جائے گا۔
  • لیب میں تیار کردہ ہیرے  ( ایل جی ڈی ) کے لئے تحقیق و ترقی کی ہمت افزائی کی خاطر ایل جی ڈی سیڈس اور میشنوں کے لئے درآمداتی انحصار کو کم کیا جائےگا ۔
  • گرین ہائیڈروجن مشن کے تحت 5 ایم ایم ٹی کی سالانہ پیداوار کو 2030 ء تک ہدف بنایا جائے گا تاکہ معیشت کو کم کاربن کی شدت میں منتقل کرنے اور جیواشم ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔
  • توانائی کی سکیورٹی  اور  توانائی کی منتقلی اور صفر اخراج کے مقاصد کے لئے 35000 کروڑ روپئے کا فنڈ ۔
  • معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کو فروغ دیا جائے گا۔
  • قابل تجدید توانائی کے گرڈ انضمام اور لداخ سے انخلاء کے لئے 20,700 کروڑ روپئے فراہم کئے گئے ہیں۔
    • کھادوں اور کیمیائی کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دینے کے لئے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ترغیب دینے کے لئے ‘‘ پی ایم پروگرام برائے بحالی، بیداری، پرورش اور مادرِ ارض کی بہتری ’’ ( پی ایم – پرنام ) متبادل شروع کیا جائے گا۔
    • ‘ مینگرو انیشی ایٹو فار ساحلی رہائش گاہوں اور ٹھوس آمدنی ’ ، مشٹی، کو ساحلی پٹی کے ساتھ اور نمکین زمینوں پر، منریگس، کیمپا فنڈ اور دیگر ذرائع کے درمیان ہم آہنگی کے ذریعے مینگروو کے شجرکاری کے لئے شروع کیا جائے گا۔
    • ماحولیات (تحفظ) ایکٹ کے تحت گرین کریڈٹ پروگرام کو مطلع کیا جائے گا تاکہ ماحولیاتی طور پر پائیدار اور جوابدہ اقدامات کے لئے اضافی وسائل کو ترغیب اور متحرک کیا جا سکے۔
    • امرت دھروہر اسکیم کو اگلے تین سالوں میں لاگو کیا جائے گا تاکہ گیلی زمینوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے، حیاتیاتی تنوع، کاربن اسٹاک، ماحولیاتی سیاحت کے مواقع اور مقامی کمیونٹیز کے لئے آمدنی پیدا کی جاسکے۔
    • ڈیمانڈ پر مبنی رسمی ہنر مندی کو فعال کرنے، ایم ایس ایم ایز سمیت آجروں کے ساتھ جوڑنے اور انٹرپرینیورشپ اسکیموں تک رسائی کو آسان بنانے کے لئے ایک متحد سکل انڈیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کیا جائے گا۔
    • 3 سالوں میں 47 لاکھ نوجوانوں کو وظیفہ فراہم کرنے کے لئے پین انڈیا نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم کے تحت براہ راست فائدہ کی منتقلی شروع کی جائے گی۔
    • چیلنج موڈ کے ذریعے کم از کم 50 سیاحتی مقامات کا انتخاب کیا جائے گا ، جنہیں  ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک مکمل پیکج کے طور پر تیار کیا جائے گا۔
    • ‘ دیکھو اپنا دیش ’ اقدام کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے سیکٹر کے لئے مخصوص ہنر مندی اور انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پر توجہ دی جائے گی۔
    • متحرک دیہاتوں کے پروگرام کے ذریعے سرحدی دیہاتوں میں سیاحت کا بنیادی ڈھانچہ اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
    • ریاستوں کو اپنے اور دیگر تمام ریاستوں کے او ڈی او پیز  (ایک ضلع، ایک پروڈکٹ)، جی آئی  مصنوعات اور دستکاری کے فروغ اور فروخت کے لئے یونٹی مال قائم کرنے کی ترغیب دی جائے۔
    • نیشنل فائنانشل انفارمیشن رجسٹری قائم کی جائے گی تاکہ قرض کے موثر بہاؤ کو آسان بنانے، مالی شمولیت کو فروغ دینے اور مالی استحکام کو فروغ دینے کے لئے مالی اور ذیلی معلومات کے مرکزی ذخیرے کے طور پر کام کرے۔ اس کریڈٹ پبلک انفراسٹرکچر کو چلانے کے لئے آر بی آئی کے ساتھ مشاورت سے ایک نیا قانون سازی کا فریم ورک تیار کیا جائے گا۔
    • مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز سرکاری اور باضابطہ اداروں کی مشاورت سے موجودہ ضوابط کا جامع جائزہ لیں گے۔ مختلف ضوابط کے تحت درخواستوں کا فیصلہ کرنے کے لئے وقت کی حد بھی مقرر کی جائے گی۔
    • جی آئی ایف ٹی – آئی ایف ایس سی میں کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانے کے لئے، درج ذیل اقدامات کئے جائیں گے ۔
    • دوہرے ضابطے سے بچنے کے لئے ایس ایس زیڈ  ایکٹ کے تحت اختیارات آئی ایف ایس سی اے  کو سونپنا۔
    • آئی ایف ایس سی اے ، ایس ای زیڈ  حکام، جی ایس ٹی این ، آر بی آئی ، سیبی  اور آئی آر ڈی اے آئی  سے رجسٹریشن اور منظوری کے لئے سنگل ونڈو آئی ٹی سسٹم قائم کرنا۔
    • غیر ملکی بینک کے آئی ایف ایس سی  بینکنگ یونٹس کے ذریعے حصول فائنانسنگ کی اجازت دینا۔
    • تجارتی ری فائنانسنگ کے لئے ایگزم بینک کا ایک ذیلی ادارہ قائم کرنا ۔
    • ثالثی، ذیلی خدمات، اور ایس ای زیڈ  ایکٹ کے تحت دوہرے ضابطے سے بچنے کے لئے قانونی دفعات کے لئے آئی ایف ایس سی اے  ایکٹ میں ترمیم ۔
    • غیر ملکوں سے درآمد کئے گئے آلات کو درست معاہدوں کے طور پر تسلیم کرنا۔
    • بینک گورننس کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بڑھانے کے لئے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ، بینکنگ کمپنیز ایکٹ اور ریزرو آف انڈیا ایکٹ میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
    • ڈیجیٹل تسلسل کے حل تلاش کرنے والے ممالک کو جی آئی ایف ٹی – آئی ایف ایس سی میں اپنا ڈاٹا ایمبیسی قائم کرنے کے لئے سہولت فراہم کی جائے گی۔
    • سیبی  کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیکیورٹیز مارکیٹس میں تعلیم کے لئے اصولوں اور معیارات کو قائم  کرنے، ریگولیٹ کرنے، برقرار رکھنے اور نافذ کرنے اور ڈگریوں، ڈپلوما اور سرٹیفکٹس کو تسلیم کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
    • انٹیگریٹڈ آئی ٹی پورٹل قائم کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کو انویسٹر ایجوکیشن اینڈ پروٹیکشن فنڈ اتھارٹی سے غیر دعویٰ شدہ حصص اور غیر دعویٰ شدہ  منافع  کو آسانی سے دعویٰ کرنے کے قابل بنایا جائے۔
    • آزادی کا امرت مہوتسو کی یاد میں، ایک بار کی نئی چھوٹی بچت اسکیم، مہیلا سمان سیونگ سرٹیفکیٹ شروع کیا جائے گا۔ یہ خواتین یا لڑکیوں کے نام پر 2 سال (مارچ 2025 ء تک) کی مدت کے لئے 2 لاکھ روپئے تک ڈپازٹ کی سہولت فراہم کرے گا ، جس میں جزوی رقم نکالنے کے متبادل کے ساتھ 7.5 فیصد مقررہ شرح سود ہے۔
    • ماہانہ آمدنی اکاؤنٹ اسکیم کے لئے زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی حد کو سنگل اکاؤنٹ کے لئے 4.5 لاکھ روپئے سے بڑھا کر 9 لاکھ روپئے اور مشترکہ اکاؤنٹ کے لئے 9 لاکھ روپئے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپئے کیا جائے گا۔
    • ریاستوں کو پورا پچاس سال کا سود سے پاک قرض 24-2023 ء  کے اندر کیپٹل سرمائے پر خرچ کیا جائے گا۔ قرض کا کچھ حصہ ریاستوں کے اصل سرمائے کے اخراجات میں اضافے پر مشروط ہے اور اخراجات کے کچھ حصے مخصوص قرضے لینے والی ریاستوں سے منسلک ہوں گے۔
    • ریاستوں کو جی ایس ڈی پی کے 3.5 فی صد  کے مالیاتی خسارے کی اجازت ہو گی ، جس میں سے 0.5 فی صد  پاور سیکٹر کی اصلاحات سے منسلک ہے۔

نظرثانی شدہ تخمینہ 23-2022 ء :

  • قرضوں  کے علاوہ کل آمدنی  24.3 لاکھ کروڑ روپئے ہیں، جن میں سے خالص ٹیکس سے وصولیابیاں 20.9 لاکھ کروڑ روپئے ہیں۔
  • کل خرچ 41.9 لاکھ کروڑ روپئے ہے، جس میں کیپٹل اخراجات تقریباً 7.3 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔
  • بجٹ تخمینہ کے مطابق مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 6.4 فیصد ہے۔

بجٹ تخمینہ 24-2023 ء :

  • قرضے کے علاوہ دیگر وصولیابیوں کا تخمینہ 27.2 لاکھ کروڑ روپئے ہے اور کل اخراجات کا تخمینہ 45 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔
  • خالص ٹیکس وصولیابیوں کا تخمینہ 23.3 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔
  • مالیاتی خسارے کا تخمینہ جی ڈی پی کا 5.9 فیصد ہے۔
  • 24-2023 ء  میں مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے خاطر ، ڈیٹڈ سیکیورٹیز سے خالص مارکیٹ قرضے کا تخمینہ 11.8 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔
  • مارکیٹ سے مجموعی قرضوں کا تخمینہ 15.4 لاکھ کروڑ روپئے ہے۔

پارٹ بی
براہ راست ٹیکس

  • براہ راست ٹیکس کی تجاویز کا مقصد ٹیکس کے ڈھانچے کے تسلسل اور استحکام کو برقرار رکھنا، تعمیل کے بوجھ کو کم کرنے، انٹرپرینیورشپ کے جذبے کو فروغ دینے اور شہریوں کو ٹیکس میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف التزامات کو مزید آسان اور معقول بنانا ہے۔
  • انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ٹیکس دہندگان کو فراہم کی جانے والی  خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے تاکہ تعمیل کو آسان اور ہموار بنایا جا سکے۔
  • ٹیکس دہندگان  کو فراہم کی  جانے والی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے، ٹیکس دہندگان کی سہولت کی خاطر اگلی نسل کے کامن آئی ٹی ریٹرن فارم متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کو مزید مضبوط کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
  • نئے ٹیکس نظام میں ذاتی انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس طرح، نئے ٹیکس نظام میں، 7 لاکھ روپے تک کی آمدنی والے افراد کو کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
  • پرسنل انکم ٹیکس کے نئے نظام میں سلیب کی تعداد 6 سے کم کر کے 5 کر دی گئی ہے اور ٹیکس چھوٹ کی حد 3 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس نئے ٹیکس نظام میں تمام ٹیکس دہندگان کو بڑی راحت ملے گی۔

نئی ٹیکس شرحیں

کل آمدنی

شرح (فیصد)

 3,00,000 تک

Nil

3,00,001 سے6,00,000  تک

5

 6,00,001 سے   9,00,000 تک

10

  9,00,001  سے  12,00,000 تک

15

1200001 سے  1500000 تک

20

 15,00,000اوپر

30

 

 

  • نئے ٹیکس نظام میں تنخواہ دار شخص کو 50,000 روپے کی معیاری کٹوتی کا فائدہ دینے اور فیملی پنشن سے 15,000 روپے تک کٹوتی کرنے کی تجویز ہے۔
  • نئے ٹیکس نظام میں سرچارج کی شرح 37 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے نتیجے میں، زیادہ سے زیادہ ذاتی انکم ٹیکس کی شرح 39 فیصد تک کم ہو جائے گی۔
  •  غیر سرکاری تنخواہ دار ملازم کی ریٹائرمنٹ پر چھٹی کی رقم پر ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھا کر 25 لاکھ کر دی گئی ہے۔
  • نئے ٹیکس نظام کو ڈی فالٹ ٹیکس نظام بنایا جائے گا، حالانکہ شہریوں کے پاس پرانے ٹیکس نظام کے فوائد حاصل کرنے کا اختیار جاری رہے گا۔
  • مائیکرو انٹرپرائزز اور بعض پیشہ ور افراد کے لیے ممکنہ ٹیکس کے فوائد سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر حدیں تجویز کی گئی ہیں۔ بڑھی ہوئی حد کا اطلاق سال کے دوران نقد میں موصول ہونے والی کل رقم کی صورت میں ہو گا جو کل مجموعی وصولیوں/ٹرن اوور کے 5 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
  • ایم ایس ایم ایز کو کی جانے والی ادائیگیوں پر اخراجات میں کٹوتی کی اجازت صرف ان صورتوں میں دی جائے گی جہاں ادائیگیاں اصل میں ایم ایس ایم ایز کو ادائیگیوں کی بروقت وصولی میں مدد کرنے کے لیے کی گئی ہوں۔
  • ایسی نئی کوآپریٹو سوسائیٹیاں جنہوں نے نئی  مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے فی الحال دستیاب 15 فیصد ٹیکس کی کم شرح کا فائدہ اٹھانےکےلئے  31 مارچ  2024 تک مینوفیکچرنگ سرگرمیاں شروع کی ہیں۔
  • شوگر کوآپریٹیو  اداروں کو ایادائیگی کی شکل میں تشخیصی سال 2016-17 سے پہلے کی مدت کے لیے گنے کے کاشتکاروں کو کی گئی ادائیگی کا  دعویٰ کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ اس سے انہیں تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی راحت ملنے کی امید ہے۔
  • پرائمری ایگریکلچرل کوآپریٹو سوسائٹیز (پی اے سی ایس) اور پرائمری کوآپریٹو ایگریکلچرل رورل ڈیولپمنٹ بینک (پی سی اے آر ڈی بی) کو نقد رقم میں دیے جانے والے ڈپازٹس اور قرضوں کے لیے فی ممبر 2 لاکھ روپے کی اعلی ترین حد کی تجویز۔
  • کوآپریٹو سوسائٹیوں کو ٹی ڈی ایس کے لیے نقد رقم نکالنے پر 3 کروڑ روپے کی اعلی ترین حد فراہم کرنے کی تجویز۔
  • اسٹارٹ اپس کے ذریعہ انکم ٹیکس کے فوائد حاصل کرنے کے لیے  ان  کاپوریشن کی تاریخ  31 مارچ 2023 سے  بڑھاکر31 مارچ 2024 کرنے کی  تجویز۔
  • اسٹارٹ اپس کی شیئر ہولڈنگ میں سات سال سے 10 سال تک شمولیت کے بعد نقصانات کا فائدہ فراہم کرنے کی تجویز۔
  • ٹیکس مراعات اور چھوٹ کے بہتر ہدف کے لیے سیکشن 54 اور 54 ایچ  کے تحت رہائشی مکان میں سرمایہ کاری پر کیپیٹل گین سے کٹوتی کی حد کو بڑھا کر 10 کروڑ روپے کرنے کی تجویز۔
  • یکم  اپریل 2023 کو یا اس کے بعد جاری کی گئی لائف انشورنس پالیسیوں (یو ایل آئی پی کے علاوہ) کے لیے، اگر مجموعی پریمیم 5 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، تو صرف ان پالیسیوں کو جن کا پریمیم 5 لاکھ روپے تک ہےسے ہونے والی آمدنی پر  چھوٹ کا التزام۔ اس سے بیمہ شدہ شخص کی موت پر ملنے والی رقم پر دی  گئی ٹیکس چھوٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
  • انکم ٹیکس اتھارٹیز، بورڈز اور کمیشن جو مرکزی یا ریاستی حکومتوں کے ذریعہ ریگولیٹری اور ترقیاتی سرگرمیوں یا ہاؤسنگ، شہری ترقی، قصبوں اور دیہاتوں کے کاموں کے لیے قائم کیے گئے ہیں، ان کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز ہے۔
  • آن لائن گیمنگ میں ٹی ڈی ایس 10,000 روپے  کی کم از کم حد کو ختم کرنا اور آن لائن گیمنگ سے متعلق ٹیکس ذمہ داریوں کو واضح کرنے کی تجویز۔ ٹی ڈی ایس اور  نیٹ وننگ کی نکاسی کے وقت یا مالی سال کے آخر میں ٹی ڈی ایس اور ٹیکس کی ذمہ داری کی تجویز ٹی ۔
  • گولڈ کو  الیکٹرانک گولڈ رسپٹ یا الیکٹرانک گولڈ کو  گولڈ میں تبدیل کرنے پر اسے سرمایہ جاتی فائدہ تصور نہیں کیا جائے گا۔
  • غیر پین  معاملات میں ای پی ایف نکالنے کے  لئے قابل ٹیکس حصے پر ٹی ڈی ایس کی شرح  کو 30 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کیا گیا ہے۔
  • مارکیٹ سے منسلک ڈیبینچرز سے ہونے والی آمدنی ٹیکس کے تحت آئے گی۔
  • کمشنریٹ کی سطح پر اپیلوں کے زیر التواء  معاملات کو کم کرنے کے لیے معمولی اپیلوں کو نمٹانے کے لیے تقریباً 100 جوائنٹ کمشنروں کو تعینات کرنے کی تجویز۔ ہم اس سال جانچ پڑتال کے لیے پہلے سے موصول ہونے والے ریٹرن کو منتخب کرنے میں اور زیادہ سلیکٹیو ہوں گے۔
  • آئی ایف ایس سی، گفٹ سٹی کو منتقل کیے گئے فنڈز کے ٹیکس فوائد کی مدت کو 31 مارچ 2025 تک بڑھانے کی تجویز۔
  • یکم اپریل 2023 سے انکم ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 276اے  کے تحت لکویڈیٹرس  کے کچھ کام کو غیر مجرمانہ قرار دیا گیا۔
  • آئی ڈی بی آئی بینک سمیت اسٹریٹجک ڈس انویسٹمنٹ کی صورت میں نقصانات کو آگے بڑھانے کی تجویز۔
  • اگنی ویر فنڈ کو ای ای ای کا درجہ دینے اور اگنی پتھ یوجنا 2022 میں رجسٹرڈ اگنی ویروں کو اگنی ویر کارپس فنڈ کے ذریعے کی گئی ادائیگی کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز۔ اگنی ویروں کی کل آمدنی میں کمی اگنی ویروں کو دینے کی تجویز، جو انہوں نے تعاون دیا ہے یا مرکزی حکومت نے ان کی خدمت کے لیے ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کیا ہے۔

 

بالواسطہ ٹیکس

 

  • ٹیکسٹائل اور زراعت کے علاوہ بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی شرح 21 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔
  • بعض اشیاء پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی، سیس اور سرچارجز میں معمولی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن میں کھلونے، سائیکل، آٹوموبائل اور نیفتھا شامل ہیں۔
  • کمپریسڈ بائیو گیس پر ایکسائز ڈیوٹی میں چھوٹ دینے کی تجویز جس پر جی ایس ٹی ادا کیا گیا ہے۔
  • الیکٹرک گاڑیوں کے لیے لیتھیم آئن بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی مشینری/کیپٹل گڈز پر کسٹم ڈیوٹی 31 جنوری 2024 تک بڑھا دی گئی۔
  • سبز نقل و حرکت کو مزید تقویت دینے کے لیے، الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کے لیے لیتھیم آئن سیلز کی تیاری کے لیے درکار کیپٹل گڈز اور مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ دی جا رہی ہے۔
  • موبائل فون کی مینوفیکچرنگ میں ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن کو مزید بڑھانے کے لیے، کچھ ان پٹ جیسے پرزہ جات اور کیمرہ لینز کی درآمد پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی ریلیف میں توسیع اور لیتھیم آئن بیٹری سیلز پر مزید ایک سال تک رعایتی ڈیوٹی جاری رکھنے کی تجویز ہے۔
  • ٹی وی پینلز کے اوپن سیل حصوں پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کو 2.5 فیصد تک کم کرنے کی تجویز۔
  • الیکٹرک کچن چمنیوں کی ہیٹ کوائلز پر درآمدی ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز۔
  • ڈی نیچرڈ ایتھائل الکحل جو  کیمیائی صنعت میں استعمال ہوتا ہےاس  کو بنیادی کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز۔
  • مقامی فلورو کیمیکل انڈسٹری میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ایسڈ گریڈ فلوراسپار پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کو 5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کیا جا رہا ہے۔
  • ایپی کلورو ہائڈرین  کی تیاری میں استعمال ہونے والی خام گلیسرین پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی 7.5 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • شرمپ  فیڈ کی گھریلو تیاری کے لیے کلیدی ان پٹس پر ڈیوٹی میں کمی کی تجویز۔
  • لیبارٹری کریٹڈ ڈائمنڈز (ایل جی ڈی) کی تیاری میں استعمال ہونے والے بیجوں پر کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز۔
  • سونے کی ڈوڑی اور سلاخوں اور پلاٹینم پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز۔
  • سلور وائر، بارز اور آرٹیکلز پر درآمدی ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز۔
  • سی آر جی او اسٹیل کی تیاری کے لیے خام مال، فیرس اسکریپ اور نکل کیتھوڈ پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ۔
  • تانبے کے اسکریپ پر 2.5 فیصد کی رعایتی بی سی ڈی جاری رکھی گئی۔
  • کمپاؤنڈڈ ربر پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کو  10 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد یا فی کلو گرام 30  روپے  میں سے جو بھی کم ہو، کرنے کی تجویز ہے۔
  • مخصوص سگریٹ پر قومی آفات کی ہنگامی ڈیوٹی (این سی سی ڈی) میں تین سال پہلے نظر ثانی کی گئی تھی۔ اس میں تقریباً 16 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔

کسٹم قوانین میں قانونی تبدیلیاں

  • کسٹم ایکٹ، 1962 میں، درخواست دائر کرنے کی تاریخ سے 9 ماہ کی مدت کا تعین کرنے کے لیے سیٹلمنٹ کمیشن کے ذریعے حتمی احکامات پاس کرنے کے واسطے ترمیم  کی تجویز۔
  • اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی (اے ڈی دی)، کاؤنٹر ویلنگ ڈیوٹی (سی وی ڈی) اور حفاظتی اقدامات سے متعلق التزامات کے دائرہ کار کو واضح کرنے کے لیے کسٹم ٹیرف ایکٹ میں ترمیم کرنے کی تجویز۔

سی جی ایس ٹی ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی

  • جی ایس ٹی کے تحت قانونی چارہ جوئی  کی شروعات کرنے کے لیے ٹیکس کی رقم کی کم از کم حد کو ایک  کروڑ روپے سے بڑھا کر 2 کروڑ روپے کردیا جائے گا۔
  • کمپاؤنڈنگ ٹیکس کی  50 سے 150 فیصد کی موجودہ حد کو کم کر کے 25 سے 100 فیصد کر دیا جائے گا۔
  • بعض جرائم کو جرم کے دائرے سے باہر کر دیا جائے گا۔
  • متعلقہ ریٹرن اسٹیٹمنٹ  کو بھرنے  کی مقررہ تاریخ سے کم از کم تین سال کی مدت تک ریٹرن اسٹیٹمنٹ  بھرنے  پر پابندی لگائی جائے گی۔
  • ای کامرس آپریشنز (ای سی او) کے ذریعے سامان کی بین ریاستی فراہمی کو یقینی بنانے کے  لئے غیر رجسٹرڈ سپلائرز  اور  کمپوزیشن  ٹیکس دہندگان کو اہل بنایا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ و ا ۔ ع ا  ۔ م م ۔ ن ا۔

U-1089



(Release ID: 1895488) Visitor Counter : 982