وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم نے اروناچل پردیش کے ایٹانگر میں  اولین گرین فیلڈ ہوائی اڈے ’دونی پولو ہوائی اڈے ‘ کا افتتاح کیا


600 میگا واٹ کے حامل کامینگ پن بجلی اسٹیشن کو قوم کے نام وقف کیا



’’دونی پولو ہوائی اڈے کا آغاز اُن ناقدین کو ایک زوردار جواب ہے جنہوں نے ہوائی اڈے کا سنگ رکھے جانے کو ایک سیاسی شعبدے بازی قرار دینے کی کوشش کی تھی‘‘



’’ہماری حکومت نے سرحدی علاقوں کے مواضعات کو ملک کا اولین گاؤں  تسلیم کرکے کام کیا‘‘



’’خواہ سیاحت ہو یا تجارت، ٹیلی مواصلات ہو یا کپڑا صنعت، شمال مشرق کو اولین ترجیح دی جاتی ہے‘‘

’’یہ توقعات اور امنگوں کا نیا دور ہے اور آج کا پروگرام بھارت کے نئے نقطہ نظر کی ایک بہترین مثال ہے ‘‘

’’گذشتہ آٹھ برسوںمیں شمال مشرق میں 7 ہوائی اڈے تعمیر کیے گئے ہیں‘‘

’’دونی پولو ہوائی اڈہ اروناچل پردیش کی تاریخ اور ثقافت کا گواہ بن رہا ہے‘‘

’’اب آپ کسی دیگر فصل کی طرح بانس کی کاشت، کٹائی اور اسے فروخت کر سکتے ہیں‘‘

’’حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ نادار افراد باوقار زندگی بسر کریں‘‘

’’سب کا پریاس سے ترغیب یافتہ  ریاست کی دوہرے انجن والی حکومت اروناچل پردیش کی ترقی کے لیے پابند عہد ہے‘‘

Posted On: 19 NOV 2022 12:21PM by PIB Delhi

 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ایٹانگر میں دونی پولو ہوائی اڈے کا افتتاح کیا اور 600 میگا واٹ کے حامل کامینگ پن بجلی اسٹیشن کو قوم کے نام وقف کیا۔ اس ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد فروری 2019 میں خود وزیر اعظم کے ذریعہ رکھا گیا تھا۔ وبائی مرض کی وجہ سے درمیان میں پیدا ہوئیں چنوتیوں کے باوجود، ایک چھوٹی سی مدت میں ہی ہوائی اڈے کا کام مکمل کر لیا گیا۔

مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اروناچل کے اکثر کیے گئے اپنے دوروں کو یاد کیا اور بڑے پیمانے پر منعقد کیے جا رہے آج کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ریاست کی ترقی کے لیے اروناچل پردیش کے عوام کی عہدبندگی کی ستائش کی۔انہوں نے اروناچل کے عوام کی خوش مزاجی  اور نظم و ضبط کی پابندی سے متعلق ان کی عادات کی ستائش کی۔ وزیر اعظم نے کام کاج کے تبدیل شدہ رواج کا ذکر کیا ، جس کے تحت وہ ایک پروجیکٹ کے سنگ بنیاد رکھنے اور اس کے آغاز کی روایت قائم کررہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ہوائی اڈے کا افتتاح ان ناقدین کو زبردست جواب ہے جنہوں نے اس ہوائی اڈے کا سنگ بنیاد رکھے جانے کو ایک سیاسی شعبدہ بازی قرار دینے کی کوشش کی تھی۔ وزیر اعظم نے سیاسی ماہرین سے اپنا طرز فکر تبدیل کرنے اور ریاست کے ترقیاتی کاموں کو سیاسی فوائد کی عینک سے دیکھنا بند کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنی بات پر زور انداز میں پیش کرنے کے لیے اس حقیقت کا ذکر کیا کہ یہ ریاست نہ تو انتخابات کے عمل سے گزر رہی ہے اور نہ ہی ریاست میں مستقبل میں کوئی انتخابات منعقد ہونے والے  ہیں۔ حکومت کی ترجیح ریاست کی ترقی  ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنے دن کا آغاز ابھرتے ہوئے سورج کی ریاست سے کر رہا ہوں اور میں اپنے دن کا اختتام دمن میں کروں گا جہاں سورج غروب ہوتا ہے اور درمیان میں، میں کاشی میں رہوں گا۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد کے دور میں، شمال مشرقی خطے نے بے حسی اور بے توجہی کا رویہ برداشت کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی جی کی حکومت کے دوران اس خطے پر توجہ مرکوز کی گئی اور شمال مشرق کے لیے ایک علیحدہ وزارت تشکیل دی گئی۔ بعد ازاں، یہ رفتار کہیں کھو گئی۔ لیکن 2014 کے بعد ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ ’’اس سے پہلے، دوردراز واقع سرحدی مواضعات کو آخری گاؤں سمجھا جاتا تھا۔ ہماری حکومت نے ان سرحدی علاقوں کے مواضعات کو ملک کا اولین گاؤں تسلیم کرکے کام کیا۔ خواہ سیاحت ہو یا تجارت، ٹیلی مواصلات ہو یا کپڑے کی صنعت، شمال مشرق کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ‘‘وزیر اعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، ’’خواہ ڈرون تکنالوجی ہو یا کرشی اُڑان، خواہ ہوائی کنکٹیویٹی ہو یا بندرگاہ کنکٹیویٹی، حکومت  نے شمال مشرق  کی ترقی کی ترجیحات طے کی ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے اس خطے میں انجام دیے گئے ترقیاتی کاموں کو اجاگر کرتے ہوئے بھارت کے طویل ترین پل، طویل ترین ریل روڈ پل، ریل لائن کنکٹیویٹی اور شاہراہوں کی ریکارڈ تعمیرات کی مثالیں پیش کیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’’یہ توقعات اور امنگوں کا نیا دور ہے اور آج کا پروگرام بھارت کے نئے نقطہ نظر کی ایک بہترین مثال ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ دونی پولو ہوائی اڈہ اروناچل پردیش کا چوتھا آپریشنل ہوائی اڈہ ہوگا، اور اس طرح شمال مشرق میں ہوائی اڈوں کی مجموعی تعداد 16 ہو جائے گی۔ 1947 سے لے کر 2014 تک، شمال مشرقی خطے میں محض 9 ہوائی اڈے تعمیر کیے گئے تھے۔ گذشتہ آٹھ برسوں کی چھوٹی سی مدت کے دوران، شمال مشرق میں 7 ہوائی اڈے تعمیر کیے گئے ہیں۔ خطے میں رونما ہونے والی یہ تیز رفتار ترقی شمال مشرق میں کنکٹیویٹی میں اضافہ کے سلسلے میں وزیر اعظم کے ذریعہ دی جانے والی خصوصی توجہ کی عکاس ہے۔ انہوں نے مطلع کیا کہ شمال مشرقی بھارت کو جوڑنے والی پروازوں کی تعداد بڑھا کر دوگنی کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’دونی پولو ہوائی اڈہ ہماچل پردیش کی تاریخ اور ثقافت کا گواہ ہے۔‘‘ ہوائی اڈے کو دیے گئے نام پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ ’دونی‘ کا مطلب سورج ہے جبکہ ’پولو‘ کا مطلب چاند۔ ریاست کی ترقی کے لیے سورج اور چاند کی تشبیہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ہوائی اڈے کی ترقی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ ناداروں کی ترقی۔

اروناچل پردیش میں بنیادی ڈھانچہ ترقی کو اجاگرکرتے ہوئے، وزیر اعظم نے دوردراز اور مشکل رسائی والے علاقوں میں شاہراہوں کی ترقی کی مثال پیش کی اور کہا کہ مرکزی حکومت مستقبل قریب میں مزید 50000 کروڑ روپئے خرچ کرنے جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اروناچل پردیش کی فطری خوبصورتی کو اجاگر کیا  اور کہا کہ یہ ریاست زبردست سیاحتی مضمرات کی حامل ہے۔ انہوں نے ریاست کے دور دراز کے علاقوں تک بہتر کنکٹیویٹی قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور مطلع کیا کہ اروناچل پردیش کے 85 فیصد مواضعات پردھان منتری گرام سڑک یوجنا سے مربوط ہیں۔ نئے ہوائی اڈے کی بنیادی ڈھانچہ ترقی کے ساتھ ہی، وزیر اعظم نے بتایا کہ اس سے کارگو خدمات کے میدان میں زبردست مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے نتیجہ میں، ریاست کے کاشتکار اب اپنی پیداوار بڑے بازاروں میں فروخت کر سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کاشتکار حضرات ریاست میں پی ایم کسان ندھی اسکیم کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس نوآبادیاتی قانون کا ذکر کیا جس نے اروناچل پردیش کے عوام کو بانس کی کاشتکاری سے روکے رکھا۔ انہوں نے اس قانون کو ختم کرنے کے لیے حکومت کے ذریعہ اٹھائے قدم کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ بانس ریاست کے طرز حیات کا حصہ ہے اور اس کی کھیتی خطے کے عوام کو  بھارت اور دنیا بھر میں بانس سے تیار مصنوعات کی برآمدات میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ، ’’اب آپ کسی دیگر فصل کی طرح بانس کی کاشت، کٹائی اور اسے فروخت کر سکتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ’’حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ نادار افراد باوقار زندگی بسر کریں۔‘‘ انہوں نے پہاڑی خطوں میں تعلیم و صحت کی فراہمی میں سابقہ حکومتوں کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپئے کے بقدر بیمہ احاطہ فراہم کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پردھان منتری آواس یوجنا، ماڈل ایکلویہ اسکولوں اور اروناچل اسٹارٹ اپ پالیسی کی مثالیں پیش کیں۔ 2014 میں شروع کی گئی سوبھاگیہ یوجنا ، سب کے لیے بجلی اسکیم پر روشی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے مطلع کیا کہ اروناچل پردیش کے متعدد مواضعات کو آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بجلی حاصل ہوئی۔

جناب مودی نے کہا، ’’ہم ترقی کو آگے بڑھاکر ریاست کے ہر گھر اور ہر گاؤں تک پہنچانے کے مقصد سے مشن موڈ میں کام انجام دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے وائبرینٹ بارڈر ولیج پروگرام کے تحت تمام تر سرحدی مواضعات کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشی ڈالی جس سے سیاحت کو تقویت بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ خطے میں نقل مکانی میں تخفیف لانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نوجوانوں کو این سی سی سے مربوط کرنے کے لیے ریاست میں ایک خصوصی پروگرام چلایا جا رہا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو دفاعی تربیت فراہم کرائی جا رہی ہے اور ان میں ملک کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا، ’’سب کا پریاس سے ترغیب یافتہ ریاست کی دوہرے انجن والی حکومت اروناچل پردیش کی ترقی کے لیے پابند عہد ہے۔‘‘

اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب پیما کھانڈو، اروناچل پردیش کے گورنر جناب بی ڈی مشرا اور مرکزی وزیر کرن رجیجو اس موقع پر موجود دیگر معززین میں شامل تھے۔

پس منظر

دونی پولو ہوائی اڈہ، ایٹانگر

شمال مشرقی خطے میں کنکٹیویٹی کو تقویت بہم پہنچانے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر، وزیر اعظم نے اروناچل پردیش میں اولین گرین فیلڈ ہوائی اڈے – دونی پولو ہوائی اڈہ، ایٹانگر- کا افتتاح کیا۔ اس ہوائی اڈے کا نام اروناچل پردیش کے مالامال ثقافتی ورثے اور سورج(دونی) اور چاند (پولو) کے لیے ریاست کی قدیم علاقائی عظمت کی عکاسی کرتا ہے۔

اروناچل پردیش کا یہ اولین گرین فیلڈ ہوائی اڈہ  ، 640 کروڑ روپئے سے زائد کی لاگت سے 690 ایکڑ سے زائد کے رقبہ میں تعمیر کیا گیا ہے۔2300 میٹر طویل یہ ہوائی اڈہ بارہ ماسی پروازوں کے لیے موزوں ہے۔ ہوائی اڈہ ٹرمنل ایک جدید عمارت ہے، جو کہ توانائی اثر انگیزی، قابل احیا توانائی اور وسائل  کے دوبارہ استعمال  کو فروغ دیتی ہے۔

ایٹانگر میں نئے ہوائی اڈے کی ترقی سے نہ صرف اس خطے میں کنکٹیویٹی بہتر ہوگی بلکہ اس سے تجارت و سیاحت کی نمو بھی مہمیز ہوگی، اور اس طرح خطے کی اقتصادی ترقی کو تقویت حاصل ہوگی۔

شمال مشرق کی پانچ ریاستوں ، یعنی میزروم، میگھالیہ، سکم، اروناچل پردیش، اور ناگالینڈ کے ہوائی اڈوں سے 75 برسوں میں پہلی مرتبہ طیاروں کو اڑان بھرتے ہوئے دیکھا جا چکا ہے۔

شمال مشرق میں 2014 سے طیاروں کے نقل وحمل میں 113 فیصد اضافہ ملاحظہ کیا گیا ہے، جو 2014 ،میں ہر ہفتہ 852 سے بڑھ کر 2022 میں 1817 ہوگیا ہے۔

600 میگا واٹ کے بقدر کامینگ پن بجلی اسٹیشن

اروناچل پردیش کے مغربی کامینگ ضلع میں 80 کلو میٹر سے زائد کے علاقہ میں 8450 کروڑ روپئے سے زائد کے بقدر کی لاگت سے تیار شدہ  یہ پروجیکٹ اروناچل پردیش کو اضافی بجلی کی حامل ریاست میں تبدیل کردے گا، اس کے علاوہ یہ پروجیکٹ گرڈ استحکام اور انٹیگریشن کے لحاظ سے نیشنل گرڈ کو فوائد بہم پہنچائے گا۔ یہ پروجیکٹ سبزتوانائی کو اپنانے میں اضافہ کرنے کے لیے ملک کی عہدبندگی کی تکمیل میں بڑے پیمانے پر تعاون فراہم کرے گا۔

******

ش ح۔ا ب ن۔ م ف

U-NO.12706



(Release ID: 1877263) Visitor Counter : 51