صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

کابینہ سکریٹری نے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ کووڈ کی حالت کا جائزہ لیا

گیارہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کووڈ کی حالت ’گہری تشویش‘ کا باعث

مہاراشٹر، پنجاب اور چھتیس گڑھ کی حالت خاص طور سے تشویش ناک

موجودہ پھیلاؤ کو روکنے کے پانچ آلات – بڑے پیمانے پر جانچ کرنا، سختی سے روکنا، تیزی سے رابطہ کا پتہ لگانا اور کووڈ سے متعلق مناسب برتاؤ کو نافذ کرنا – میں سے ایک ٹیکہ کاری بھی ہے

Posted On: 02 APR 2021 6:26PM by PIB Delhi

کابینہ سکریٹری جناب راجیو گوبا نے تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز، ڈی جی پولیس اور ہیلتھ سکریٹریز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی، جس میں اُن 11 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں کووڈ-19 کے سبب یومیہ معاملوں اور یومیہ اموات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ کووڈ کے انتظام اور رد عمل کی حکمت عملی کا جائزہ لینے اور اس پر مزید غوروخوض کرنے کے لیے بلائی گئی اس میٹنگ میں تمام ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز، ڈی جی پی اور سینئر ہیلتھ پیشہ وروں نے ممبر (ہیلتھ) نیتی آیوگ، مرکزی ہوم سکریٹری، مرکزی ہیلتھ سکریٹری، مرکزی سکریٹری (آئی اینڈ بی)، ڈی جی آئی سی ایم آر، اور این سی ڈی سی کے ڈائرکٹر کے ساتھ شرکت کی۔

گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران کووڈ کی لگاتار بگڑتی صورتحال کی وجہ سے موجودہ حالت کے پیش نظر، کابینہ سکریٹری نے کہا کہ فی الحال کووڈ کے معاملے میں مارچ 2021 میں 6.8 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے، جو 5.5 فیصد (جون 2020) کے پچھلے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اسی مدت میں، ملک میں کووڈ کی وجہ سے اموات کی شرح بھی 5.5 فیصد رہی ہے۔ ستمبر 2020 میں جب وبائی مرض اپنے عروج پر تھا تب یومیہ کووڈ کے 97000 معاملے درج کیے جا رہے تھے، لیکن اب ملک میں کووڈ کے یومیہ نئے معاملے خطرناک حد تک بڑھ کر 81000 ہو چکے ہیں۔

مرکزی ہوم سکریٹری نے تفصیلی اور جامع پیشکش کے ذریعہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کووڈ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بتایا، وہیں مرکزی سکریٹری (آئی اینڈ بی) نے عوام کے درمیان کووڈ سے متعلق مناسب برتاؤ کو اپنانے کے لیے مؤثر طریقوں کے بارے میں بتایا۔ ڈاکٹر وی کے پال نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستوں کو جینوم کی درجہ بندی کے لیے وائرس کے میوٹینٹ اسٹرین کے مزید تفصیلی مطالعہ کے لیے کلینیکل اور ایپیڈیمیولوجیکل ڈیٹا شیئر کرنے کے پروٹوکول پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی ہوم سکریٹری نے توجہ دلائی کہ جن 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں یومیہ کووڈ کے معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے انہوں نے احتیاطی تدابیر کے نفاذ میں اضافہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز اور ڈی جی (پولیس) سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں مناسب سخت قدم اٹھائیں۔

11 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان کے یہاں تیزی سے بڑھنے والے یومیہ معاملے اور زیادہ یومیہ اموات کی بنیاد پر ’’گہری تشویش والی ریاستوں‘‘ کے زمرہ میں رکھا گیا ہے۔ ان کے یہاں گزشتہ 14 دنوں میں کووڈ کے 90 فیصد معاملے (31 مارچ تک) اور 90.5 فیصد اموات (31 مارچ تک) درج کی گئی ہیں، اور پچھلے سال کے ابتدائی عروج کے مقابلے یہ تعداد وہاں پر یا تو تجاوز کر چکی ہے یا اس کے قریب ہے۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ مہاراشٹر کی صورتحال خاص طور سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ فعال معاملوں اور یومیہ اموات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور انتہائی مؤثر قدم اٹھائیں اور اس کے لیے معیاری کلینیکل مینجمنٹ پروٹوکول پر عمل کریں جو اس سے پہلے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا۔

ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدام کا تفصیل اور جامع جائزہ لینے کے بعد، کابینہ سکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ بیماری کو روکنے اور نگرانی کرنے کے اقدام پر سختی سے اور لگاتار کام کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ٹیکہ کاری میں اضافہ کرنے اور کووڈ سے متعلق مناسب برتاؤ کو سختی سے نافذ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ریاستوں سے خاص طور سے درج ذیل قدم اٹھانے کے لیے کہا گیا:

  • ٹیسٹنگ میں لگاتار اضافہ کریں تاکہ مثبت معاملے کی شرح 5 فیصد یا 5 فیصد سے کم کی جا سکے
  • کل جانچ میں سے 70 فیصد آر ٹی- پی سی آر ٹیسٹ کو یقینی بنانے پر زور
  • جانچ کے نتائج کے لیے انتظار کے وقت کو کم کریں اور ٹیسٹنگ لیب کا مسلسل جائزہ لیں
  • زیادہ آبادی والے علاقوں اور جہاں نئے معاملے سامنے آ رہے ہیں وہاں اسکریننگ ٹیسٹ کے طور پر ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ (آر اے ٹی) کا استعمال کریں۔
  • ادارہ جاتی سہولیات (کووڈ کیئر سینٹر) میں اس مرض سے متاثر ہونے والوں کو مؤثر طریقے سے اور فوری علیحدگی کو یقینی بنائیں۔ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ جن مریضوں کو گھر پر علیحدہ کیا گیا ہے ان کی روزانہ نگرانی کی جا رہی ہے۔

ریاستوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ہر اسپتال کے حساب سے شرح اموات کی جانچ کریں، مناسب حکمت عملی تیار کریں اور اسپتالوں میں داخل ہونے میں دیری اور نیشنل کلینیکل مینجمنٹ پروٹوکول کی تعمیل میں کوتاہی کو کم کریں۔ معاملوں کا پتہ لگانے کے لیے ڈسٹرکٹ ایکشن پلان تیار کرنے کی ضرورت، وارڈ/بلال وار تجزیاتی اشاریے، 7*24 ایمرجنسی آپریشن سینٹر، انسیڈنٹ کمانڈ سسٹم، علاقہ پر مخصوص فوری رد عمل ٹیم اور وقت پر معلومات کے اشتراک پر بھی زور دیا گیا۔

یومیہ ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے، ریاستوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ عوامی اور نجی حفظان صحت کے وسائل کو مضبوط کریں۔ ان سے خاص طور سے کہا گیا کہ

  • علیحدگی والے بستروں، آکسیجن بیڈز، وینٹی لیٹرز/آئی سی یو بیڈز میں ضرورت کے مطابق اضافہ کریں۔
  • مناسب مقدار میں آکسیجن کی سپلائی کا منصوبہ بنائیں۔
  • ایمبولینس سروس کو مضبوط کریں اور مقامی انتظامیہ کے ذریعہ مسلسل نگرانی کے ساتھ رد عمل کے وقت اور انکار کی شرح کو کم کریں۔
  • ٹھیکہ پر رکھے گئے عملہ کی وافر تعداد کو یقینی بنائیں اور ان کی زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی لگائیں۔
  • ایمس، نئی دہلی کی کور ٹیم یا ریاستی کور ٹیم کے ساتھ ضلع میں آئی سی یو ڈاکٹروں کے مسلسل مواصلاتی صلاح و مشورہ کا منصوبہ بنائیں۔ ایمس، نئی دہلی کے ذریعہ مواصلاتی صلاح و مشورہ ہفتہ میں دو بار، منگل اور جمعہ کو ہوتا ہے۔
  • کووڈ سے متعلق مناسب برتاؤ (سی اے بی) پر سختی سے عمل کو دوہرایا گیا۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعہ درج ذیل کی تعمیل پر زور دیا گیا:
  • غلطی کرنے والوں پر جرمانہ لگانے کے لیے پولیس ایکٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ اور دیگر قانونی/انتظامی التزامات کا استعمال۔
  • صحیح طریقے سے ماسک پہننے اور جسمانی دوری اپنانے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے مقامی اہلکاروں، سیاسی، ثقافتی، کھیل کود سے متعلق، مذہبی شخصیات کا استعمال۔
  • بازاروں، میلے، سماجی اور مذہبی اجتماع پر توجہ جہاں سے بڑے پیمانے پر بیماری پھیل سکتی ہے۔
  • بیداری میں اضافہ کیا جائے کہ ٹیکہ کاری کی طرح سی اے بی بھی اہم ہے، اور اس پر ٹیکہ کاری کے بعد بھی عمل کیا جانا چاہیے۔
  • ملٹی میڈیا اور کثیر جہتی پلیٹ فارموں کے توسط سے ’دوائی بھی، کڑائی بھی‘ کے پیغام کو مؤثر اور منظم طریقے سے پھیلایا جائے۔

جن ضلعوں میں کووڈ کے یومیہ معاملوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے وہاں ترجیحی عمر والوں کی ٹیکہ کاری کے لیے، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو درج ذیل مشورے دیے گئے:

  • اہل حفظان صحت کے کارکنان، صف اول کے کارکنان اور اہل عمر والوں کی متعینہ مدت کے اندر 100 فیصد ٹیکہ کاری کا منصوبہ تیار کیا جائے۔
  • مناسب مقدار میں ٹیکہ کی خوارک کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی وزارت صحت کے ساتھ تعاون۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ٹیکے کی کوئی کمی نہیں ہے؛ مرکز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ضروریات کو لگاتار پورا کر رہا ہے۔
  • ریاستی سطح پر ہر ایک کولڈ چین پوائنٹ سے کھپت کا یومیہ جائزہ، تاکہ وقت پر ضروریات پوری کی جا سکیں۔

کابینہ سکریٹری نے چیف سکریٹریز سے کہا کہ وہ کووڈ کے معاملے میں حالیہ اضافہ کو سے نمٹنے کے لیے ریاستی انتظامیہ کو بروئے کار لائیں اور اپنے ماتحت تمام وسائل کا استعمال کریں۔ آج کی میٹنگ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ محکمہ صحت کے علاوہ دیگر محکموں کی کوششوں کو بھی وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مرکز تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو صحت عامہ کے اقدام اور کووڈ-19 سے لڑنے کے لیے کلینیکل مینجمنٹ کے طور پر تمام وسائل اور امداد مسلسل فراہم کر رہا ہے۔

*****

ش ح – ق ت – م ف

U No. 3117



(Release ID: 1709276) Visitor Counter : 5