وزارت خزانہ

اقتصادی جائزہ 21۔2020 کی کلیدی خصوصیات

Posted On: 29 JAN 2021 3:47PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  29  جنوری 2021،         مالیہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے  آج پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 21۔2020 پیش کیا۔ اقتصادی جائزے 21۔2020 کی، جو کووڈ جانبازوں کے نام وقف ہے،   اہم خصوصیات  اس طرح ہیں:

صدی میں ایک بار ہونے والے بحران کے دوران زندگیاں اور گزر بسر کی حٖفاظت

  • کووڈ۔19 وبا کے دوران بھارت نے  طویل مدتی فائدے کے لئے مختصر  پریشانی اختیار کرنے کے لئے  زندگیوں اور گزر بسر کی حفاظت پر توجہ دی۔
  • یہ اقدام اس انسانی اصول کی بنیاد پر کیا گیا کہ :
  1. اگر انسان کی زندگی چلی جائے تو اسے واپس نہیں لایا جاسکتا
  • جی ڈی پی شرح ترقی جسےعالمی وبا کے سبب  دھچکا پہنچا تھا، بحال ہوجائے گی۔
  •  ایک جلد اور شدید طریقے سے کئے جانے والے  لاک ڈاؤن کی وجہ سے  ایک متوازن حکمت عملی فراہم ہوئی جس سے اوسط سے طویل عرصے میں اقتصادی بحالی کے ذریعہ  زندگیوں اور گزر بسر کی حفاظت کی گئی۔
  • ہینسن اور سرجنٹ (2001) کے ذریعہ نوبل انعام یافتہ ریسرچ سے تحریک حاصل کرتے ہوئے  بھی حکمت عملی اپنائی گئی: یہ ایک پالیسی ہے جس میں  انتہائی غیر یقینی صورتحال میں  ایک بد ترین تناظر میں کم سے کم نقصانات ہوں، اس پر توجہ دی گئی ہے۔
  • بھارت کی اس حکمت عملی سے یہ روکاوٹ دور ہوئی اور  معیشت  کی صورتحال بحال ہوکر ستمبر 2020 جیسی ہوگئی۔
  • ستمبر کے عروج کے بعد بھارت میں، موبیلیٹی بڑھنے کے باوجود  روزانہ کمی آتی گئی۔
  • وی شکل والی بحال، دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 7.5 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی تھی اور پہلی سہ ماہی میں 23.9 فیصد جی ڈی پی  کے بقدر  سبھی کلیدی اقتصادی عندیوں میں بحالی آئی۔
  • کووڈ وبا نے  مانگ اور سپلائی دونوں کو متاثر کیا
  • بھارت واحد ملک ہے جس نے اوسط – مختصر مدت میں سپلائی میں اضافہ کرنے کی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا اعلان کیا اور پیداواری صلاحیتوں کے طویل مدتی نقصانات سے گریز کیا۔
  •  بتدریج مانگ سے متعلق پالیسیاں، جن کا مقصد یہ یقین دہانی ہے کہ تیز رفتاری میں محض اس وقت کمی لائی جائے گی جب اقتصادی سرگرمیوں پر سے روک ہٹادی جائے گی۔
  • مانگ میں تیزی لانے اور مزید بحالی کے لئے قومی بنیادی ڈھانچہ پائپ لائن کے مقصد سے  ایک سرکاری سرمایہ کاری پروگرام
  • انفیکشن کی دوسری لہر سے گریز کرتے ہوئے ، معیشت میں  بحالی۔ ایک صدی ایک بار آنے والی وبا کے دوران  حکمت عملی پر مبنی پالیسی سازی میں اس کا اپنا کیس۔

21۔202 میں معیشت کی صورتحال : ایک طائرانہ جائزہ

  • کووڈ۔ 19 وبا کے سبب عالمی اقتصادیات کو دھچکا جو عالمی مالی بحال کے بعد سے اب تک کا سب سے زیادہ شدید دھچکا ہے۔
  • لاک ڈاؤن اور سوشل ڈسٹنسنگ کے اصولوں کی وجہ سے معیشت میں رکاوٹ آئی جس میں پہلے سے ہی سست رفتاری کا سلسلہ جاری تھا۔
  • عالمی معاشی ماحصل کا تخمینہ لگایا گیا کہ اس میں 2020 میں 3.5 فیصد تک گراوٹ آئے گی (آئی ایم ایف جنوری 2021 تخمینے)
  • دنیا بھر کی حکومتوں اور مرکزی بینکوں نے  پالیسی شرحوں میں کمی، خاطر خواہ آسانی والے اقدامات وغیرہ جیسی اپنی معیشتوں کو مدد دینے کے لئے مختلف پالیسی کے طریقہ کار کا استعمال کیا۔
  • بھارت نے کنٹنمنٹ، مالی، مالیات اور طویل مدتی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی 4 ستون والی حکمت عملی اختیار کی۔
  • لاک ڈاؤن کے دوران معاشی کمزوری کو ختم کرنے کے لئے اور لاک ڈاؤن ختم کرتے ہوئے صرفے  اور سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کے لئے بتدریج مالی مدد فراہم کی گئی۔
  • ایک مناسب مالیاتی پالیسی سے  وافر نقد رقم کی یقین دہانی کی گئی اور مالی پالیسی کی ترسیل میں روکاوٹ دور کرتے ہوئے قرض داروں کو فوری راحت دی گئی۔
  • این ایس او کی طرف سے دیئے گئے پیشگی تخمینوں کے مطابق بھارت کی جی ڈی پی کے بارے میں اندازہ ہے کہ مالی سال 2021 میں یہ منفی 7.7 فیصد ہوں گے۔
  • مالی سال 22۔2021 میں 11.0 فیصد شرح ترقی ریکارڈ کرنے کے لئے بھارت کی اصل جی ڈی پی اور 15.4 فیصد تک شرح ترقی کے لئے برائے نام جی ڈی پی۔ آزادی  کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔
  • کووڈ۔ 19 ویکسین کی شروعات سے  ، جیسا کہ   معیشت میں کشیدگی آئی، اقتصادی سرگرمیوں کے آغاز میں سست روی رہی لیکن معمول پر آنے کا سلسلہ جاری رہا۔
  • سرکاری صرفہ  اور برآمدات میں  اضافہ ہوا، جس سے  شرح ترقی میں اضافہ ہوا جبکہ سرمایہ کاری اور نجی صرفے  کی وجہ سے اس میں کمی آئی۔
  • سرکاری صرٖفے کی وجہ سے جس کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ 17 فیصد سال در سال بڑھے گا، مالی سال 21۔2020 کے دوسرے نصف حصے میں بحالی کی امید ہے۔
  • مالی 2021 کے دوسرے نصف حصے میں برآمدات کے بارے میں اندازہ ہے کہ ان میں 5.8 فیصد کمی آئے گی اور درآمدات کے بارے میں اندازہ ہے کہ ان میں 11.3 فیصد کی کمی آئے گی۔
  • امید ہے کہ بھارت میں مالی سال 2021 میں  جی ڈی پی کے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں 2 فیصد  اضافی ہوگا جو 17 سال کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
  • سپلائی کے رخ پر مالی سال 2021 میں مجموعی ویلیو ایڈیڈ (جی وی اے) کی شرح ترقی  منفی 7.2 فیصد رہی جبکہ مالی سال 2020 میں یہ 3.9 فیصد تھی۔
  • مالی سال 2021 میں  زراعت  کی وجہ سے  بھارتی معیشت پر کووڈ۔ 19 کے نقصانات کی بھرپائی ہوئی، جس کے تحت 3.4 فیصد  کی شرح ترقی ہوئی۔
  • صنعت اور خدمات کے بارے میں اندازہ ہے کہ ان میں  مالی سال 2021 کے دوران 9.6 فیصد  کی کمی آئے اور مالی سال 2021 کے دوران 8.8 فیصد کی کمی آئے۔
  • زراعت کا شعبہ اس اندھیرے میں امید کرن بنا رہا جبکہ  رابطے پر مبنی خدمات، مصنوعات سازی اور تعمیر کے شعبے کو زبردست دھچکہ لگا  ۔ اگرچہ اس میں رفتہ رفتہ بحالی آرہی ہے۔ مالی سال 21۔2020 میں بھارت ایک ترجیح والا سرمایہ کاری کا ملک بنا رہا، جس میں  عالمی سطح پر اثاثے حصص میں منتقل ہونے کے دوران غیر ملکی راست سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہا اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں تیزی سے بحال ہوتی ہوئی معیشت کے امکانات جاری رہے۔
  • نومبر 2020 میں جیسا کہ سرمایہ کاروں کے اندیشوں میں کمی آئی، اب تک کے سب سے زیادہ ماہانہ 9.8 ارب امریکی ڈالر  کی ایف پی آئی آمد ریکارڈ کی گئی
  • ان ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھارت ایک واحد ملک ہے ، جس نے  2020 میں ایف آئی آئی آمد کے حصص حاصل کئے۔
  • اضافےکے رجحان والے سینسکس اور نفٹی  میں اکتوبر 2010 کے بعد سے پہلی مرتبہ  بھارت کی مارکیٹ کی حد، جی ڈی پی کے اس تناسب   تک پہنچ گئی کہ یہ 100 فیصد سے تجاوز کرگئی۔
  • حال ہی میں سی پی آئی کی افراط زر میں نرم روی سے سپلائی کے رخ پر  مشکلات  میں کمی کی عکاسی ہوتی ہے۔ان مشکلات کی وجہ سے افراط زر میں اور بھی اضافہ ہوا تھا۔
  • مالی سال 2021 کے دوسرے نصف میں  (مجموعی طے شدہ اثاثہ فراہمی  کے اقدامات  کے مطابق ) سرمایہ کاری میں 0.8 فیصد کی معمولی کمی آئی جبکہ مالی 2021 کے پہلے نصف میں  یہ کمی 29 فیصد تھی۔
  • ریاستوں کے مابین اور ریاست کے اندر  دوبارہ پیدا ہونے والی تحریک اور ریکارڈاونچی سطح پر ماہانہ جی ایس ٹی کی وصولی  سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئیں۔
  • باہری شعبے میں شرح ترقی کو موثر طور پر مدد دی اور بھارت میں مالی سال 2021 کے پہلے نصف میں جی ڈی پی کا  3.1 کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔
  • مضبوط خدمات والی برآمدات اور کمزور مانگ کی وجہ سے برآمدات  (تجارتی برآمدات میں 21.2 فیصد کی کمی)کے مقابلے  درآمدات  (تجارتی درآمدات میں 39.7 فیصد کی کمی) میں  تیزی سے گراوٹ آئی۔
  • غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ یہ دسمبر 2020 میں 18 مہینے میں کی گئی درآمدات کی مالیت  کی سطح پر پہنچ گئے۔
  • جی ڈی پی کے تناسب کے طور پر غیر ملکی قرضوں میں ستمبر 2020 کے اختتام تک 21.6 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ مارچ 2020 کے اختتام پر 20.6 فیصد تھا۔
  • ذخائر میں خاطر خواہ اضافے کی وجہ سے مجموعی اور قلیل مدتی قرضے کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کے تناسب میں بہتری آئی۔
  • وی شکل والی بحالی کا سلسلہ جاری ہے، جیسا کہ  بجلی کی مانگ، ای وے بلوں، جی ایس ٹی وصولی، اسٹیل کا صرفہ وغیرہ جیسے،  اعلی تکریری عندیوں میں ایک دیرپا اضافے سے ظاہر ہوتا ہے۔
  • بھارت  6 دن میں 10 لاکھ ویکسین   شروع کرنے والا سب سے تیز رفتار ملک بن گیا۔ یہ ملک پڑوسی ملکوں اور برازیل کو ویکسین کے سرکردہ سپلائر کے طور پر بھی سامنے آیا۔
  • معیشت کے معمول پر آنے سے  ٹیکہ کاری کی ایک بڑی مہم کا آغاز ہوا:
  • خدمات ، صرفے اور سرمایہ کاری کے شعبے میں  ایک زبردست بحالی کی امید پید اہوئی ہے۔
  • بھارت اپنی امکانی شرح ترقی کو حاصل کرلے اور  وبا کے منفی اثرات سے ابھر آئے اس کے لئے اصلاحات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔  

ایک صدی میں  ایک بار آنے والے بحران کے تئیں بھارت کی سنجیدہ پالیسی سے متعلق کارروائی  سے جمہوریتوں کو اہم سبق فراہم ہوئے کہ وہ  آنکھیں بند کرکے بنائی جانے والی پالیسیوں سے گریز کرسکیں اور  جن سے دیرپا فائدوں پر توجہ دینے کے رجحان  کا اظہار ہوسکے۔

کیا شرح ترقی کی وجہ سے قرضے میں دیرپائیگی پیدا ہوتی ہے؟ جی ہاں، ایک دوسرے کا بدل نہیں!

  • شرح ترقی سے بھارت کے ضمن میں ، قرضوں میں دیرپائیگی آئے ہیں لیکن ضروری  نہیں کہ یہ ایک دوسرے کا متبادل ہوں۔
  • قرضے کی دیرپائیگی کا انحصار ’شرح سود شرح ترقی  کا فرق‘ (آئی آر جی ڈی)  پر ہے۔
  • بھارت میں  قرضے پر شرح سود، شرح ترقی سے کم ہے جو معمول کے تحت ہے نہ کہ استثنیٰ کی بنیاد پر۔
  • بھارت میں منفی آئی آر جی ڈی۔ یہ کم شرح سود کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ کافی زیادہ شرح ترقی کی وجہ سے ہے۔ اس پر مالی پالیسی خاص طور پر شرح ترقی میں سست روی اور معاشی بحران کے دوران بحث شروع ہوئی۔
  • شرح ترقی کی وجہ سے ان ملکوں میں قرض میں دیرپائیگی پیدا ہوئی جن کی شرح ترقی زیادہ ہے؛ عارضی سمت سے متعلق اس طرح کی شفافیت  ان ملکوں میں نہیں دیکھی گئی جن کی شرح ترقی کم ہے۔
  • اقتصادی  اضافے کی مدت کے مقابلے اقتصادی بحران کے دوران مالی اضافے ، غیر متناسب طور پر زیادہ ہیں۔
  •  سرگرم مالی پالیسی سے یہ بات یقینی ہوسکتی ہے کہ  اصلاحات کے مکمل فائدے، پیداواری صلاحیت کو پہنچنے والے امکانی نقصانات کو محدود کرکے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔
  • مالی پالیسی جس سے شرح ترقی کو رفتار ملتی ہے، اس سے  کم قرضوں کے جی ڈی پی  تناسب میں کمی واقع ہوگی۔
  • اگر بھارت کی ترقی کی صلاحیت پر نظر ڈالی جائے تو  قرضوں کی دیرپائیگی کے بارے میں امید یہ ہے کہ یہ بدترین حالات میں بھی ایک مسئلہ نہیں بنیں گے۔
  • معاشی سست روی کے دوران شرح ترقی میں اضافے کے لئے  مروجہ مالی پالیسی کو ترک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
  • سرگرم، مروجہ پالیسی کو ترک کرنے والی پالیسی،  جو غیر ذمہ دارانہ نہ ہو،  البتہ دانشورانہ بالا  دستی  کو ختم والی ہو اور جس سے مالی پالیسی کے خلاف  ایک عجیب قسم کا ماحول پیدا ہوا ہے۔

کیا بھارت کی خود مختار قرضہ درجہ بندی سے ، اس کے بنیادی اصولوں کی عکاسی ہوتی ہے؟ جی نہیں

دنیا میں  پانچویں سب سے بڑی معیشت کو ، خود مختار قرضہ درجہ بندیوں میں سرمایہ کاری کے (بی بی بی۔/بی اے اے 3) درجے کی سرمایہ کاری کا سب سے نیچا مقام کبھی نہیں دیا گیا۔

اقتصادی وسعت کی عکاسی کرتے ہوئے قرض واپسی کی صلاحیت کے سلسلےمیں  پانچویں سب سے بڑی معیشت کو اے اے اے کا درجہ دیا گیا ہے۔

  • صرف چین اور بھارت اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔  چین کو 2005 میں اے۔/اے2 کا درجہ دیا گیا اور اب بھارت کو بی بی بی ۔/ بی اے اے 3 کا درجہ دیا گیا ہے۔
  • بھارت کی خود مختار قرض درجہ بندی سے  بنیادی اصولوں کی عکاسی نہیں ہوئی۔
  • بہت سے معیارات پر  ایس اینڈ پی/ موڈیز  کے لئے، اے پلس/ اے ون اور کو بی بی بی ۔/ بی اے اے 3 کے درمیان درجہ بندی والے ملکوں میں ایک واضح خاکہ
  • معیارات  پر مبنی  خود مختار درجہ بندی  میں لازمی کے مقابلے تخفیف کا راستہ ہموار کیا ۔
  • قرضوں کی درجہ بندی میں نادہندگی کے امکانات بھی شامل کئے گئے ہیں۔ لہذا اس درجہ بندی سے  قرضے حاصل کرنے والے کی اس خواہش اور اہلیت کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔
  • بھارت کی، ادئیگی کرنے کی خواہش پر کوئی شک نہیں ہے ، اس کا اظہار  اس کی بالکل برداشت نہ کرنے والی خود مختار نہ دہندگی کی تاریخ سے ہوتا ہے۔
  • بھارت کی قرض ادا کرنے کی صلاحیت کا اندازہ، کم غیر ملکی کرنسی والے نوٹوں کے قرض اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر سے ہوتا ہے۔
  • بھارت کے لئے خود مختار قرضہ درجہ بندی میں تبدیلیوں  کا تعلق  میکرو اقتصادی عندیوں کے ساتھ یا تو بالکل ہے ہی نہیں یا بہت  کمزور ہے۔
  • بھارت کی مالی پالیسی سے  ’’ اندیشے سے مبرا ذہن ‘‘کے، گرودیو  رویندر ناتھ ٹیگور کے جذبات کی عکاسی ہونی چاہیے۔
  • خود مختار قرض درجہ بندی کے طریقہ کار کو مزید  شفاف، کم تفصیلی اور اقتصادی بنیادی اصولوں کے اور زیادہ مطابق بنایا جانا چاہیے۔

نامساوات اور ترقی: تنازع یا انضمام؟

  • نامساوات اور سماجی و اقتصادی نتائج  کے درمیان تعلقات بالمقابل اقتصادی ترقی اور سماجی و اقتصادی نتائج ،  جدید ترین معاشرے والی معیشتوں کی بنسبت بھارت میں کافی مختلف ہیں۔
  • نامساوات اور فی کس آمدنی (ترقی) دونوں میں ہی ، جدید ترین معاشرے والی معیشتوں سے ہٹ کر، بھارت میں سماجی و اقتصادی عندیوں کے ساتھ ایک جیسے تعلقات ہیں۔
  • اقتصادی ترقی کا، نامساوات کی بنسبت، غریبی کو دور کرنے پر زیادہ اثر ہے۔
  • بھارت کو غریبی کو دور کرنے کے لئے اقتصادی ترقی پر توجہ دینا جاری رکھنا چاہیے۔
  • مجموعی صورتحال میں توسیع ۔ ایک ترقی پذیر معیشت میں تقسیم نو اس وقت ناگزیر ہے جب معاشی صورتحال میں اضافہ ہوا۔

حفظان صحت کو آخرکار  مرکزی مقام  حاصل ہوا

  • کووڈ۔ 19 عالمی وبا سے حفظان صحت کے شعبے اور دیگر شعبوں کے ساتھ اس کے رابطوں کی اہمیت واضح ہوئی ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت سے متعلق کوئی بحران کس طرح ایک اقتصادی اور سماجی بحران میں بدل جاتا ہے۔
  • بھارت کا صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچہ اتنا  چست ہونا چاہیے کہ یہ عالمی وباؤں میں مناسب کارکردگی انجام دے سکے۔ حفظان صحت سے متعلق پالیسی ،صرف اعلی درجے کے لوگوں  کے لئے نہیں ہونی چاہیے۔
  • قومی صحت مشن (این ایچ ایم) نے نامساوات کو دور کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ جیسا کہ غریب ترین شخص کو ہی، زچگی سے پہلے / زچگی کے بعد کی دیکھ بھال اور ادارہ جاتی زچگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
  • آیوشمان بھارت کے ساتھ این ایچ ایم پر زور دیا جانا چاہیے۔
  • صحت عامہ کے اخراجات میں جی ڈی پی کے ایک فیصد سے 2.5 سے 3 فیصد تک کے اضافہ  سے  حفظان صحت کے مجموعی غیر منصوبہ بند اخراجات  کا 65 فیصد سے 35 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔
  • اطلاعاتی نابرابری کی وجہ سے ہونے والی مارکیٹ ناکامی کے پیش نظر ، حفظان صحت کے شعبے کے لئے ایک ضابطہ کارپر  غور و خوض کیا جانا چاہیے۔
  • معلومات کی نابرابری سے نمٹنے میں  بیمے کے پریمیم کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ بہتر مصنوعات کی پیش کش کی جاسکے گی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کا بیمہ کیا جاسکےگا۔
  • اطلاعات کا استعمال، جس سے حفظان صحت کے شعبے میں معلومات کی نابرابری کو دور کرنے میں  مدد ملتی ہے، مجموعی بہبود میں اضافے کے لئے مفید رہے گا۔
  • ٹیلی میڈیسن کو ، انٹرنیٹ کنکٹی وٹی اور صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرکے پوری طرح فروغ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

عمل میں اصلاحات

  • بھارت میں معیشت سے متعلق ضرورت سے زیادہ ضابطے بنائے گئے ہیں جن کے نتیجے میں ، ان کا  عمل درآمد تک میں کوئی اثر نہیں رہا ہے۔
  • ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی کے مسئلے کی اصل وجہ وہ نظریہ ہے  جس کے تحت ہر ممکن نتیجے کو شامل کیا جاتا ہے۔
  • اختیارات میں کمی کرنے کے مقصد سے بنائے گئے ضابطوں کی پیچیدگی میں اضافے کا نتیجہ اور  زیادہ  غیر شفاف  اختیارات  کی شکل میں برآمد ہوا ہے۔

ضبط ِتحمل ایک ہنگامی دوا ہے ،  کوئی مستحکم غذا نہیں!

  • عالمی مالیاتی بحران کے دوران ضبطِ تحمل نے وقتی دقت پر قابو پانے میں قرض خواہوں کو مدد فراہم کی۔
  • اقتصادی ابھار کے بعد بھی طویل عرصہ تک تحمل جاری رہا جس کا نتیجہ معیشت کے لئے غیر متوقع نتائج کی شکل میں سامنے آیا۔
  • بنکوں نے اپنے کھاتوں اور غلط طور پر مختص کردہ قرضوں کی لیپاپوتی کرنے کے لئے تحمل کی ونڈو کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں معیشت میں سرمایہ کاری کے معیار کو زک پہنچی ۔
  • تحمل ہنگامی دوا کی نمائندگی کرتی ہے جسے اس وقت فوراً ترک کردینا چاہیے جب معیشت میں ابھار کے اثار آنے لگے کیونکہ یہ کوئی مستحکم غذا نہیں جو برسوں تک جاری رکھی جاسکے۔
  • غیر یقینی کی  صورتحال کے مابین فیصلوں کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے ، واقعے سے پہلے تعصب کی پوشیدہ کھوج کی تحقیقات کی جانی چاہئے اور اس کے مخالف نتائج ،ناقص فیصلوں یا غلط ارادوں سے وابستہ نہیں ہونا چاہئے۔
  • تحمل کے خاتمے کے بعد فوری طور پر اثاثون کی معیار کے جائزے کی مشق کی جانی چاہئے ۔
  • قرضوں کی وصولی کے لئے قانونی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

اختراع :پیش قدمی کرتی ہوئی البتہ خاص طور پر نجی شعبے سے اعتماد کی ضرورت ہے

  • 2007 میں عالمی اختراعی اشاریہ کے آغاز کے بعد سے سن 2020 میں ہندوستان پہلی مرتبہ اعلیٰ 50 اختراعی ممالک کی فہرست میں شامل ہوا، جس کے ساتھ یہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں پہلے مقام پر کم وسطی آمدنی گروپ کی معیشتوں کے مابین تیسرے مقام پر پہنچا۔
  • تحقیق و ترقی (جی ای آر ڈی) پر ہندوستان کے مجموعی  گھریلو اخراجات، 10 اعلیٰ معیشتوں کے مابین سب سے کم ہیں۔
  • ہندوستان کی خواہشات کو اعلیٰ 10 معیشتوں کے ساتھ اختراع سے متعلق مقابلہ کیا جانا چاہیے ۔
  • سرکاری شعبہ مجموعی جی ای آر ڈی میں غیرمتناسب بڑا حصہ رکھتا ہے جو کہ اعلیٰ 10 معیشتوں کے اوسط کے اعتبار سے تین مرتبہ ہے۔
  • یہ صورتحال اختراع کے لئے اعلیٰ ٹیکس ترغیبات اور اکویٹی سرمایہ تک رسائی کے باوجود پیدا ہوئی ہے۔

ہندوستان کے کاروباری شعبے کو تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری میں اہم اضافہ کرنے کی ضرورت ہے

  • ملک میں مجموعی پیٹنٹ کے شعبے میں ہندوستانی قیام پذیری کا حصہ موجودہ 36 فیصد سے زیادہ ہونا چاہئے جو کہ اعلیٰ دس معیشتوں میں 62 فیصد کے اوسط سے بہت کم ہے۔
  • اختراعی ماحصل میں اعلیٰ ترقی حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کو اداروں اور کاروباری مستحکم اختراعی ماحصل سے متعلق اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

جے ہو ! وزیراعظم ‘ جے’ کو اپنانا اور صحت سے متعلق نتائج

  • پردھان منتری جن آروگیا یوجنا (پی ایم- جے) ، 2018 میں حکومت ہند کے ذریعہ شروع کردہ ایک بامقصد پروگرام ہے جو انتہائی دبے کچلے درجے کے لوگوں کو صحت دیکھ بھال کی رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس نے قدیم مدت میں صحت دیکھ بھال سے متعلق نتائج پر انتہائی مثبت اثرات کا اظہار کیا ہے۔
  • پی ایم- جے، ڈائلیسیس جیسی بیماریوں کے لئے بڑے پیمانے پر اور کم لاگت کی دیکھ بھال کے لئے نمایاں طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور یہ کووڈ وبا اور لاک ڈاؤ ن کے دوران بھی جاری رہا۔
  • صحت نتائج سے متعلق پی ایم – جے کا وقتی اثر درج ذیل رہا ہے۔ جو کہ قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس )- 4  (16-2015) اور این ایف ایچ ایس -5 (20-2019)پر مبنی ڈفرنس اِن ڈفرنس  تجزیہ کرکے سامنے آیا ہے:
  • وسیع صحت بیمہ کوریج :صحت بیمہ رکھنے والے کنبوں کا تناسب بہار، آسام  اور سکّم میں سن 16-2015 سے سن 20-2019 میں  89 فیصدبڑھ گیا ہے جبکہ اسی مدت میں مغرب بنگال میں اس میں 12 فیصد سے زیادہ کی کمی سامنے آئی ہے۔
  • نوزائدہ  کی شرح اموات میں تخفیف :سن 16-2015 سے 20-2019 کے درمیان نوزائدہ بچوں کی شرح اموات میں مغربی بنگال میں 20 فیصد کی کمی ہوئی جبکہ پڑوسی تین ریاستوں میں اس میں 28 فیصد کی تخفیف ہوئی ہے۔
  • پانچ برس سے کم اطفال کی شرح اموات میں کمی :بنگال میں اس میں 20 فیصد کی جبکہ پڑوسی ریاستوں میں 27 فیصدی کی کمی سامنے آئی ہے۔
  • تولید کی روک تھام کے جدید طریقے ، خواتین کی اسٹرلائزیشن اور گولیوں کے استعمال  میں ،تین پڑوسی ریاستوں میں بالترتیب 36 فیصد ، 22 فیصد اور 28 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ مغربی بنگال میں متعلقہ تبدیلیاں درگزر کرنے کے قابل رہی۔
  • ایک جانب مغربی بنگال میں مسلسل بچوں کی پیدائش کے درمیان وقت کو بڑھانے کی ضرورت میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی تو دوسری طرف پڑوسی تین ریاستوں میں اس میں 37 فیصدی کی تخفیف ریکارڈ کی گئی۔
  • مغربی بنگال کے مقابلے میں تین پڑوسی ریاستوں میں ماں اور بچے کی دیکھ بھال کے لئے مختلف طریقہ کار کہیں زیادہ بہتر ہوئے ہیں۔
  • صحت سے متعلق ان اثرات کا اظہار یکساں طور پر اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان ریاستوں جنہوں نے پی ایم- جے نافذ کیا ہے ،  کا مقابلہ ان ریاستوں سے کرتے ہیں جنہوں نے اسے نہیں نافذ کیا۔
  • مجموعی  طور پر تقابل اس بات کا اظہار ہے کہ ان ریاستوں جنہوں نے پی ایم- جے نافذ کیا ہے ، ان میں نمایاں بہتریاں سامنے آئی ہیں بمقابلہ ان ریاستوں  کے جنہوں نے اسے نہیں نافذ کیاہے۔

بنیادی ضروریات

‘بنیادی ضروریات ’ تک رسائی ملک میں تمام ریاستوں میں 2012  کے مقابلے 2018 میں بہتر ہوئی ہیں۔

  • یہ کیرالہ ، پنجاب ، ہریانہ  اور گجرات جیسی ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے جبکہ اڈیشہ ، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور تری پورہ میں سب سے کم ہے۔
  • تمام پانچ سمتوں میں بہتری یعنی پانی ، ہاؤسنگ ، صفائی ستھرائی ، مائکرو-ماحول اور دیگر سہولیات تک رسائی
  • دیہی اور شہری علاقوں میں بین -ریاستی  فرق میں کمی آئی ہے  کیونکہ پیچھے رہنے والی ریاستوں کو 2012 اور 2018 کے درمیان نسبتاً زیادہ حاصل ہواہے۔
  • دیہی  اور شہری علاقوں میں غریب ترین گھرانوں کا امیر ترین گھرانوں سے مقابلہ کرنے میں غیرمتناسب عنصر میں بہتری آئی  ہے۔
  • ‘بنیادی ضروریات تک بہتر رسائی کے باعث کہ نوزائدہ کی اموات اور پانچ برس سے کم اطفال کی شرح اموات جیسے  صحت سے متعلق اشاریوں میں بہتری آئی اور یہ تعلیمی اشاریوں میں مستقبل کی بہتری کے  ساتھ منسلک بھی ہوگئے۔
  • تمام ریاستوں ، دیہی اور شہروں اور آمدنی کے گروپوں کے درمیان بنیادی ضروریات تک رسائی میں تفریق کو کم کرنے پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔
  • جل جیون مشن ، ایس بی ایم – جی ، پی ایم اے وائی – جی وغیرہ جیسی اسکیمیں اس فرق کو کم کرنے کے لئے متناسب حکمت عملی تیار کرسکتی ہے۔
  • بڑے پیمانے پر گھرانوں کا سالانہ سروے کے اعداد وشمار  پر مبنی بنیادی ضروریات کا ایک اشاریہ (بی این آئی) تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ جس میں مناسب اشاریوں اور طریقہ کار کو ، تمام منتخبہ اضلاع کے لئے ضلعی سطح پر بنیادی ضروریات تک رسائی سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مالیاتی فروغ

  • ہندوستان نے کووڈ-19 وبا سے اپنی معیشت کو مستحکم طور پر ابھارنے کے لئے ،بہت سے ممالک کے ذریعہ جلا دینے کے ان ہراول اپنائے گئے پیکجوں کے ساتھ، اسی تناظر میں ،وسیع تر رسائی اپنائی ،جو معیشت کے استحکام کے لئے لازمی تھی ۔
  • 21-2020 میں اخراجاتی پالیسی ابتدائی طور پر انتہائی نازک زمروں کو حمایت فراہم کرنے پر مرکوز تھی  لیکن لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اسے مجموعی مطالبے اور سرمایہ جاتی اخراجات کو فروغ دینے کے لئے  دوبارہ تشکیل  کیا گیا۔
  • ماہانہ جی ایس ٹی کے محصولات ، گزشتہ تین مہینوں کے دوران مسلسل ایک لاکھ کروڑ سے زیادہ کا نشانہ پار کرچکے ہیں جو کہ دسمبر 2020 میں اپنے اعلیٰ تر مقام تک پہنچ گئے جو جی ایس ٹی کے متعارف ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔
  • ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات نے شفافیت اور احتساب کا ایک عمل شروع کیا ہے اور ایماندار ٹیکس دہندگان کے تجربے کو فروغ دے کر ٹیکس ادا کرنے کے ماحول کو مستحکم کیا ہے۔
  • وبا کے چیلنجنگ دور کے دوران ریاستوں کو مدد فراہم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے بھی پائیدار اقدامات کئے ہیں۔

بیرونی شعبہ 

  • کووڈ-19 وبا کے باعث عالمی تجارت ، اشیا کی کمترین قیمتیں اور سخت بیرونی مالیاتی صورتحال پیدا ہوئی جس کے ساتھ مختلف ممالک کے کرنٹ کھاتے کے توازن میں پیچیدگیاں کھڑی ہوگئیں۔
  • 08 جنوری 2021 کو ہندوستان کا زرمبادلہ کے ذخائر اب تک کے سب سے زیادہ 586.1 ارب امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا جو برآمدات کے تقریباً 18 مہینوں کی رقوم کا احاطہ کرتا ہے۔
  • ہندوستان کو کرنٹ اکاؤنٹ  سرپلس کے ساتھ ساتھ وسیع سرمایہ جاتی آمد کا سامنا ہے جس کے باعث اسے  مالی برس 20-2019 کی چوتھی سہ ماہی سے ادائیگی کے توازن کے سرپلس کا سامنا ہے۔
  • مستحکم غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری اور ایف پی آئی کی آمد سے سرمایہ کاری سے متعلق بیلنس میں استحکام آیا ۔
  • اپریل سے اکتوبر 2020 کے دوران 27.5 ارب امریکی ڈالر کی مجموعی غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کی آمد:20-2019 کے مالیاتی سال کے پہلے سات مہینوں کے مقابلے میں یہ 14.8 فیصد زیادہ ہے
  • اپریل سے دسمبر 2020 کے دوران مجموعی ایف پی آئی کی آمد 28.5 ارب امریکی ڈالر رہی جبکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران یہ 12.3 ارب امریکی ڈالر تھی۔
  • ایچ آئی میں  : مالیاتی برس 21 ، مرچنڈائیز برآمدات میں تخفیف اور سفری خدمات کے لئے کم اخراجات کے باعث درج ذیل اثرات ہوئے :
  • موجودہ وصولیوں (15.1 فیصد ) کے مقابلے میں موجودہ ادائیگیوں میں ( 30.1 فیصد) تیز گراوٹ ۔
  • کرنٹ اکاؤنٹ سر پلس 34.7 بلین امریکی ڈالر (مجموعی گھریلو پیداوار کا 3.1 فیصد) ہوگیا۔
  • 17 سال کی مدت کے بعد ہندوستان  کا،  سالانہ کرنٹ اکاونٹ سر پلس  کو ختم کرنے کا ہدف
  • ہندوستان کا مرچنڈائیز کا تجارتی خسارہ اپریل سے دسمبر 2020 میں گزشتہ برس اسی مدت کے دوران 125.9 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 57.5 ارب امریکی ڈالر رہا۔
  • اپریل- دسمبر 2020 میں مرچنڈائیز کی برآمدات  میں 15.7 فیصد کی کمی کے ساتھ یہ 200.8 ارب امریکی ڈالر مالیات کی رہی جبکہ یہ اپریل-دسمبر 2020 میں 238.3 بلین امریکی ڈالر مالیات کی تھی :
  • پیٹرولیم ، تیل اور لبریکینٹس(پی او ایل) کی برآمدات نے زیرجائزہ مدت کے دوران درآمداتی کارکردگی پر منفی اثرڈالا
  • غیر – پی او ایل برآمدات مثبت رہی اور انہوں نے 21-2020 کی تیسری سہ ماہی میں برآمداتی کارکردگی کو بہتر ہونے میں مدد دی۔
  • غیر – پی او ایل برآمدات کے دائرے میں  زراعت اور اس سے منسلک مصنوعات ، ادویہ اور ادویہ جاتی مصنوعات نیز ابرق اور معدنیات میں توسیع ریکارڈ کی گئی
  • تجارتی اشیا کی مجموعی درآمدات میں (-) 29.1 فیصد کی کمی ہوکر یہ اپریل –دسمبر 2020 کے دوران 258.3  ارب امریکی ڈالر  ہوگئی جو کہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران 364.2 ارب امریکی ڈالر تھی  :
  • پی او ایل درآمدات میں تیزی کے ساتھ تخفیف سے مجموعی درآمداتی نشونما میں کمی واقع ہوئی
  • سن 21-2020 کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں تیزی کے ساتھ تخفیف کا رجحان پیدا ہوا، اور یہ سکڑاؤ کا رجحان آنے والی سہ ماہیوں میں کچھ بہتر ہوا جس کی وجہ سونے اور چاندی کی درآمدات میں تیز تر مثبت شرح نمو اور غیرپی او ایل نیز غیر – سونا اور غیر چاندی کی درآمدات میں تخفیف کو کم کرنے کے عناصر تھے 
  • کھاد ، سبزیوں کے تیل ، ادویہ اور ادویہ جاتی مصنوعات نیز کمپیوٹر ہارڈ ویئر اور اس سے منسلک آلات نے غیر -پی او ایل  ، غیر ۔سونا اور غیر-چاندی درآمدات میں مثبت طور پر اپنا کردار ادا کیا
  • درآمدات میں سستی کے ساتھ چین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی توازن میں استحکام
  • اپریل- ستمبر 2020 میں 41.7 ارب امریکی ڈالر کی مالیات کی مجموعی خدماتی محصولات مستحکم رہی جوکہ پچھلے سال اسی مدت میں 40.5 ارب امریکی ڈالر تھی
  • خدماتی  شعبہ کا احیا بنیادی طور پر سافٹ ویئر خدمات کے ذریعہ آگے بڑھا جس میں مجموعی خدمات جاتی برآمدات میں 49 فیصد کا حصہ رہا۔
  • نجی منتقلی کے مجموعی محصولات  :اس میں  بنیادی طور پر غیرمقیم ہندوستانی ملازم کے ذریعہ پیسے کی منتقلی کا عمل دخل ہے جو ایچ 1 میں مجموعی طورسے 35.8  ارب امریکی ڈالر رہی جبکہ مالیاتی برس 21 میں گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں اس میں 6.7 فیصد کی تخفیف سامنے آئی
  • ستمبر 2020 کے اواخر میں ہندوستان کا بیرونی قرضہ 556.2 ارب امریکی ڈالر تھا جو کہ مارچ 2020 کے اختتام کے مقابلے میں 2.0 ارب (0.4 فیصد) رہا
  • قرضہ جاتی عدم استحکام کے اشاریوں میں بہتری :
  • مجموعی غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی شرح برائے میزان اور قلیل مدتی  قرضہ (اصل اور بقایا جات )
  • قلیل مدتی قرضے ( اصل میچیورٹی ) کی شرح برائے بیرونی قرضہ کے مجموعی اسٹاک
  • قرضہ جاتی خدمت کی شرح ( اصل  کی ادائیگی  جمع سود کی ادائیگی ) بڑھ کرستمبر 2020 کے اختتام پر  9.7 فیصد ہوگئی  جوکہ مارچ 20 کے اختتام پر 6.5 فیصد تھی۔
  • روپئے کی مالیت میں استحکام / کمی
  • 6- کرنسیوں کے معمول کے تاثراتی شرح تبادلہ (این ای ای آر) (تجارت پر مبنی حصہ ) کے ضمن میں روپئے کی مالیت میں مارچ 2020 کے مقابلے دسمبر 2020 میں 4.1 فیصد کی کمی ہوئی جو کہ حقیقی موثر شرح تبادلہ (آر ای ای آر) کے ضمن میں 2.9 فیصد کے ساتھ مستحکم ہوا
  • 36- کرنسی نیر (تجارت پر مبنی حصہ ) کے ضمن میں مارچ 2020 کے مقابلے میں دسمبر 2020 میں روپئے کی مالیت میں 2.9 فیصد کی کمی آئی جو کہ  اصل میں آر ای ای آر کی ضمن میں 2.2 فیصد کے تناسب سے مستحکم ہوا
  • زرمبادلہ کی مارکٹوں میں ہندوستان کے ریزرو بینک کی مداختوں نے مالیاتی استحکام اور منضبط صورتحال ، عدم استحکام کو کنٹرول کرنے اور روپئے کو یکطرفہ طور پر مستحکم کرنے کو یقینی بنایا
  • برآمدات کو فروغ دینے کے لئے کئے گئے اقدامات
  •  پیداوار سے منسلک ترغیباتی (پی ایل آئی) اسکیم
  • برآمداتی مصنوعات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں راحت (آر او ڈی ٹی ای پی)
  • لاجیسٹک بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل اقدامات میں بہتری

پیسے کا انتظامیہ اور مالیاتی مداخلت

  • 2020 کے دوران راحت دینے والی مالیاتی پالیسی : مارچ 2020 کے بعد سے ریپو ریٹ میں 115 بی پی ایس کی کٹوتی 
  • 21-2020 کے مالیاتی برس میں نظام جاتی لکویڈٹی ابھی تک زیادہ رہی ہے ۔ ہندوستان کے ریزرو بینک نے مختلف  روایتی اور غیرروایتی اقدامات کئے ہیں جیسے کہ :
  • کھلی منڈی کی کارروائیاں
  • طویل مدتی ریپو کی کارروائیاں
  • ہدف شدہ طویل مدتی ریپو کی کارروائیاں
  • درج فہرست تجارتی بینکوں کے مجموعی غیر – کارکردگی والے اثاثوں کی شرح میں مارچ 2020 کے اواخر تک 8.21 فیصد کی کمی ہوئی جو کہ ستمبر  2020 کے اواخر میں 7.49 فیصد تھی۔
  • مالی برس 21-2020 کے دوران رقم جمع کرنے اور اُدھار لینے کی شرحوں کی کم تر پالیسی کی شرحوں  کی مالیاتی ترسیل میں بہتری آئی
  • نفٹی –فیفٹی اور بی ایس ای سینسکس20 جنوری 2021 کو  بالترتیب  14644.7 اور 49792.12کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا
  • آئی بی سی کے ذریعہ (اس کے وجود میں آنے کے بعد سے) درج ذیل تجارتی بینکوں کی ری کووری کی شرح 45 فیصد سے زیادہ رہی ہے۔

قیمتیں اور افراط زر :

  • ہیڈلائن سی پی آئی افراط زر :
  • اپریل – دسمبر 2020 کے دوران اوسطاً 6.6 فیصد رہی اور دسمبر 2020 میں یہ 4.6 فیصد پر تھی۔ اس کی وجہ خوراک کی افراط زر میں اضافہ رہا (20-2019 میں 6.7 فیصد سے اپریل – دسمبر 2020 کے دوران 9.1 فیصد ہونا ، جو کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ہوئی)
  • سی پی آئی ہیڈلائن اور اس کے ذیلی گروپوں نے اپریل – اکتوبر 2020 کے دوران افراط زر کا سامنا کیا جوکہ کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے ذریعہ ابتدائی خلل کے باعث قیمتوں کے ٹھہر اؤ میں نمایاں اضافے کے باعث سامنے آیا۔
  • اکثر ذیلی گروپوں کے ذریعہ نومبر 2020 میں اوسط قیمتوں کے ٹھہراؤ کے ساتھ ساتھ مثبت بنیادی اثر نے افراط زر میں آسانی آنے میں مدد کی۔
  • 2020 میں سی پی آئی افراط زر میں دیہی – شہری فرق
  • نومبر 2019 کے بعد سے سی پی آئی – شہری افراط زر اور  سی پی آئی – دیہی افراط زر  میں فرق ختم ہوگیا
  • خوراک  سے متعلق افراط زر اب تقریباً تحلیل ہوچکا ہے
  • تیل اور لائٹ ، ملبوسات اور جوتے ، متفرقات وغیرہ جیسے سی پی آئی کے دیگر عناصر میں جاری دیہی –شہری افراط زر  اب تحلیل ہورہا ہے
  • اپریل- دسمبر 2019 کے ساتھ ساتھ اپریل – دسمبر 21-2020 کے دوران سی پی آئی – سی افراط زر کی بڑی وجہ خوراک اور مشروبات کا گروپ رہا :
  • اپریل- دسمبر 2019 کے دوران 53.7 فیصد کے مقابلے میں اس کا حصہ اپریل – دسمبر 2020 کے دوران بڑھ کر 59 فیصد ہوگیا
  • جون 2020 اور نومبر 2020 کے درمیان تھالی کی قیمت میں اضافہ ہوا البتہ دسمبر کے مہینے میں اس میں تیزی سے کمی واقع ہوئی جو بہت سی لازمی خوراک کی اشیا کی قیمتوں میں گراوٹ کا مظہر ہے
  • ریاست – وار رجحان :
  • رواں برس میں ریاستوں میں سے اکثر میں سی پی آئی – سی افراط زر میں اضافہ ہوا
  • علاقائی فرق قائم ہے
  • جون-  دسمبر 2020 کے دوران ریاستوں نیز مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں افراط زر کی شرح 3.2 فیصد سے لے کر 11 فیصد تک رہی  جوکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران (-) 0.3 فیصد سے لے کر 7.6 فیصد تھی۔
  • خوراکی افراط زر ، اشاریہ میں خوراکی اشیا کے زیادہ تناسبی وزن کے باعث سی پی آئی ۔ سی کی مجموعی افراط زر کا باعث بنا
  • خوراکی اشیا کی قیمتوں کو استحکام بخشنے کے لئے کئے گئے اقدامات :
  • پیاز کی برآمدات پر پابندی عائد کرنا
  • پیاز کی ذخیرہ بندی کی حد کا اطلاق
  • دالوں کی درآمدات پر پابندیوں میں راحت
  • سونے کی قیمتیں
  • سرمایہ کاروں کے ذریعہ کووڈ-19 کے دوران سونے کو سرمایہ کاری کی محفوظ جنت کے طور پر اپنانے کے باعث قیمتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ سے اقتصادی غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوئی
  • دیگر اثاثوں کے مقابلوں میں ، مالیاتی برس 21-2020 کے دوران سونے سے کہیں زیادہ بہتر منافع حاصل ہوا
  • درآمداتی پالیسی میں پائیداری نے توجہ مبذول کرائی :
  • خوردنی تیلوں کی برآمدات سے متعلق بڑھی ہوئی آزادی کے باعث، درآمداتی قیمتوں میں نشیب و فراز کا خطرہ کھڑا ہوا۔
  • درآمدات سے متاثر ہونے والی پیداوار اور اندرون ملک خوردنی تیلوں کی منڈی کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ دالوں  اور خوردنی تیلوں کی درآمداتی پالیسی میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے کسانوں ، پیداوار کرنے والوں کے درمیان تذبذب کی صورتحال پیدا ہوئی اور برآمدات میں تاخیر ہوئی۔
  • پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تبدیلی
  • ہندوستان نے ایس ڈی جیز کو اصل دھارے میں لانے کے لئے پالیسیوں ، اسکیموں اور پروگراموں میں شامل کرنے کے بہت سے فعال اقدامات کئے ہیں
  • رضاکارانہ قومی جائزہ ( وی این آر)  کو پائیدار ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (ایچ ایل پی ایف ) کو پیش کیا گیا۔ کسی بھی حکمت عملی کے لئے ایس ڈی جیز کا مقامی پن اہمیت رکھتا ہے جس کا مقصد 23 ایجنڈے کے تحت اہداف کو حاصل کرنا ہے۔
  • مختلف ریاستوں نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے ایس ڈی جیز کے نفاذ کے لئے ادارہ جاتی ڈھانچے وضع کئے ہیں نیز ہر محکمے میں نوڈل طریقہ کار بھی وضع کئے گئے ہیں جو کہ بہتر تعاون اور تبدیلی کے لئے ضلعی سطح پر کام کریں گے۔
  • کووڈ19 وبا کے غیرمتوقع بحران کے باوجود ترقیاتی حکمت عملی میں پائیدار ترقی کلیدی حیثیت رکھتی ہے
  • ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق قومی ایکشن پلان ( ایل اے پی سی سی ) ، ماحولیاتی خطرات سے متعلق طریقہ کار اپنانے اور تیار ی  کے مقاصد پر مرکوز ہے۔ ہندوستان کا قومی پیمانہ کا عہدجاتی عطیہ (این ڈی سی) ظاہر کرتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اقدامات کے لئے مالیہ انتہائی حساس ہوتا ہے۔
  • لہذا مالیاتی غور و خوض، خاص طور پر اہداف میں پائیداری کے لئے ملک کے پیش رفت کرنے کے ساتھ بدستور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
  • ترقی یافتہ ملکوں کے ذریعہ ماحولیاتی مالیہ فراہم کرنے کے لئے 2020 تک 100 ارب امریکی ڈالر مشترکہ طور پر  حاصل کرنے کا مقصد مشکل رہا ہے۔
  • سی او پی 26 کو 2021 تک ملتوی کرنے سے 2025 کے بعد کے مقصد  کو مطلع کرنے کی غرض سے مذاکرات اور دیگر شواہد پر مبنی کام کے لئے کم وقت رہ گیا ہے۔
  • عالمی دائرہ اختیار منڈی میں مجموعی شرح نمو کے باوجود 2020 کے پہلے نصف میں گرین بونڈ کا اجرا 2019 کے مقابلے میں کم ہوگیاجو کہ ممکنہ طور پر جاری کووڈ 19 وبا کا نتیجہ ہے۔
  • بین الاقوامی شمشی اتحاد (آئی ایس اے) نے دو نئے اقدامات شروع کئے ہیں – ‘ عالمی شمشی بینک ’ اور ‘ایک سورج ایک دنیا ایک گریڈ اقدام’- اس کا اصل مقصد عالمی پیمانے پر شمشی توانائی کا انقلاب لانا ہے۔

زراعت اور خوراک انتظامیہ

  • ہندوستان کے زرعی  (اور منسلکہ سرگرمیوں  ) کے شعبے میں کووڈ19  اور اس کے بعد لاک ڈاون کے منفی اثرات کے دوران لچک کا مظاہرہ کیا ہے جس میں 21-2020 (پہلا ایڈوانس تخمینہ ) کے دوران پائیدار قیمتوں پر 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔
  • ملک میں مجموعی قدر اعداد (جی وی اے) میں زراعت اور منسلکہ شعبوں کا حصہ 20-2019 کے لئے موجودہ قیمتوں کا 17.8 فیصد ہے (29 مئی 2020 کوقومی آمدنی  کے ابتدائی تخمینے – سی ایس او)
  • جی وی اے سے متعلق مجموعی سرمایہ کی تشکیل (جی سی ایف ) نے 14-2013 میں 17.7 فیصد سے 19-2018 میں 16.4 فیصد کا نشیب و فراز کا رجحان ظاہر کیا ہے جو کہ 16-2015 میں گر کر 14.7 فیصد ہوگیا۔
  • زرعی سال 20-2019 میں ملک میں مجموعی اناج کی پیداوار (چوتھے ایڈوانس تخمینے کے مطابق ) 19-2018 کے دورانیہ کے مقابلے میں 11.44 ملین ٹن زیادہے۔
  • اصل زراعتی قرضہ جاتی  فلو 1392469.81 کروڑ تھا  جو کہ 20-2019 میں ہدف شدہ 1350000 کروڑ روپئے کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ 21-2020 کے لئے 1500000 کا ہدف مقرر کیا گیا تھا اور 30 نومبر 2020 تک مجموعی طور پر 973517.80 کروڑ روپئے کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے :
  • فروری 2020 کے بجٹ اعلان کے بعد، 1.5 کروڑ کوآپریٹیو ملک کی ڈیری کے کسانوں اور دودھ کی پیدواری کمپنیوں کو   وزیراعظم کے آتم نربھر پیکج کے حصے کے طور پر کسان کریڈٹ کارڈ ( کے سی سی ) فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا
  • جنوری  2021 کے وسط تک مجموعی طور پر 44673 کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی ) ، ماہی گیروں اور ماہی کسانوں کو جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ ماہی گیروں اور ماہی کسانوں کی 4.04 لاکھ اضافی درخواستیں بینکوں کے پاس اجرا کے مختلف مراحل میں ہیں
  • پردھان منتری فصل بیما یوجنا سال بہ سال 5.5 کروڑ کسانوں کا احاطہ کرتی ہے۔
  •  12 جنوری   2021 تک 90000 کروڑ روپئے مالیت کے دعووں  کی ادائیگی کردی گئی ہے۔
  • آدھار منسلک کرکے کسانوں کے کھاتوں میں برائے راست دعووں کی تصفیہ جاتی رقم کی تیزی کے ساتھ دستیابی
  • 70 لاکھ کسانوں نے استفادہ کیا اور کووڈ19 لاک ڈاون کی مدت کے دوران 8741.3 کروڑ روپئے کی مالیت کے دعوے منتقل کئے گئے  ۔
  •  پی ایم کسان اسکیم کے تحت مالیاتی فائدے کی  ساتویں قسط کے ضمن میں دسمبر 2020 میں ملک کے 9 کروڑ کسان خاندانوں کے بنک کھاتوں میں 18000 کروڑ روپئے کی رقم براہ راست جمع کرائی گئی
  • 20-2020 کے دوران مچھلی کی پیداوار اب تک کی سب سے زیادہ 14.16 ملین میٹرک ٹن رہی
  • قومی معیشت نے ماہی گیری کے شعبے کے ذریعہ جی وی اے کا تناسب 212915 کروڑ روپئے رہا جو کہ قومی مجموعی جی وی اے کا 1.24 فیصد اور زرعی جی وی اے کا 7.28 فیصد ہے
  • ڈبہ بند کی صنعتوں ( ایف پی آئی) صنعتوں کے شعبے میں تقریباً 9.99 فیصد کی اوسط سالانہ شرح نمو (اے اے جی آر)  ہورہی ہے جو کہ 19-2018 پر ختم ہونے والے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران زراعت میں تقریباً 3.12 فیصد  اور مینوفیکچرنگ میں 12-2011 کی قیمتوں میں 8.25 فیصد کے مقابلے میں  زیادہ ہے
  • پردھان منتری غریب کلیان ان یوجنا :
  • نومبر 2020 تک 80.96 کروڑ مستفدین کو این ایف ایس اے میں لازمی ضروریات سے بالاتر بلاقیمت اناج فراہم کرایا گیا
  • 200 ایل ایم ٹی سے زیادہ  اناج کی فراہمی کی گئی جو کہ 75000 کروڑ روپئے سے زیادہ کے مالیاتی اخراجات کے برابر ہے
  • آم نربھر بھارت پیکج : 5 کلو فی فرد فی ماہ برائے چار ماہ (مئی سے اگست ) ، تقریبا 8 کروڑ مہاجرین کو فراہم کیا گیا(این ایف ایس اے اور ریاستی راشن کارڈ کے علاوہ ) جس سےتقریباً 3109 کروڑ روپئے کی سبسڈی فراہم کی گئی

صنعت اور بنیادی ڈھانہ

آئی آئی پی ڈاٹا نے اقتصادی سرگرمی کی ایک مستحکم وی ۔ شیپڈ ری کووری کی مزید توثیق کی ۔ آئی آئی پی اور آٹھ – کور انڈیکس کووڈ سے پہلے کی سطح تک پہنچ گیا۔ آئی آئی پی میں وسیع پیمانے کی ری کوور ی سے نومبر 2020 میں (-) 1.9 فیصد کی پیش رفت ہوئی جو کہ نومبر 2019 میں 2.1 فیصد کی پیش رفت تھی نیز اپریل 2020 میں ( -) 57.3 فیصد کاانحطاط رہا ۔

صنعتی سرگرمیوں میں مزید بہتری اور استحکام سرکار کی جانب سے مالیاتی اخراجات میں اضافہ کے ساتھ نظرآتی ہیں ۔جو ٹیکہ کاری کی مہم اور طویل مدت سے التوا کی شکار اصلاحی اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم سے ظاہر ہے۔

آتم نربھر بھارت ابھیان ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیداوار کی 15 فیصد کی مالیت کے مستحکم پیکج کے ساتھ اعلان کیا گیا ۔

  • کاروبار کرنے سے متعلق رپورٹ (ڈی بی آر) کے مطابق 2019 کے لئے کاروبار کرنے میں آسانی میں ہندوستان کا درجہ ، 2018 میں 77 ویں مقام سے بڑھ کر 2020 میں 63 ویں مقام پر پہنچ گیا
  • ہندوستان نے 10 اشاریوں میں سے 7 میں اپنی پوزیشن میں اضافہ کیا ہے ۔ ہندوستان کو اعلیٰ 10 بہتری حاصل کرنے والوں میں سے ایک کو تسلیم کرتے ہوئے ، مسلسل تیسری مرتبہ ، تین برسوں میں 67 درجوں کی بہتری
  • سن 2011 سے یہ کسی بھی بڑے ملک کے ذریعہ سب سے زیادہ اونچی چھلانگ ہے۔
  • غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری اکویٹی کی آمد مالی برس 2020 میں 49.98 ارب امریکی ڈالر تھی جو کہ مالی برس 2019 کے دوران 44.37 ارب امریکی ڈالر ہی تھی
  • یہ مالی برس 2021 (ستمبر 2020 تک) 30.0 ارب امریکی ڈالر ہے
  • براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری اکویٹی کی مجموعی آمد غیر مینوفیکچرنگ شعبے میں ہے
  • مینوفیکچرنگ کے شعبے کے اندر ہی ، آٹوموبائل ، ٹیلی مواصلات ، دھات سازی ، غیرروایتی توانائی کیمیکل ( فرٹی لائزر کے علاوہ)، ڈبہ بند خوراک ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس جیسی صنعتوں نے وسیع پیمانے پر غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری حاصل کی۔
  • سرکار نے ہندوستان کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں اور برآمدات کو بڑھانے کی غرض سے آتم نربھر بھارت کے زیرسایہ دس کلیدی شعبوں میں پیدوار سے منسلک ترغیباتی ( پی ایل آئی) اسکیم کا اعلان کیا ہے :
  • مجموعی اخراجاتی 1.46 لاکھ کروڑ روپئے کے تخمینے اور شعبہ مخصوص مالیاتی حدود کے ساتھ متعلقہ وزارتوں کے ذریعہ نافذ کیا جانا

خدمات کا شعبہ

  • ایچ 1 کے دوران ہندوستان کا خدمات کا شعبہ تقریبا 16 فیصد تک سکڑ کر رہ گیا جو کہ کووڈ 19 وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈاون کا نتیجہ تھا اور جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے متاثر ہونا ہی تھا ۔
  • خدمات کی خریداری کے منیجر کے اشاریہ،ریل مال برداری کے ٹریفک  اور ساحلی ٹریفک جیسے کلیدی اشاریوں میں لاک ڈاون کے دوران تیز تخفیف درج کی گئی جس میں اب وی شیپڈ ری کوور درج کی جارہی ہے
  • عالمی پیمانے پر جاری خلل کے باوجود ہندوستان کے خدمات کے شعبے میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری  کی آمد میں سال بہ سال اپریل سے ستمبر 2020 کے دوران بڑھ کر 34 فیصد اضافے کے ساتھ 23.6 ارب امریکی ڈالر تک جاپہنچی
  • خدمات کا شعبہ ہندوستان کی جی ای وی کا 54 فیصد سے زیادہ اور ہندوستان میں مجموعی غیرملکی براہ راست سرمایہ کاری کی آمدکا تقریبا ًچوتھا – پانچواں حصہ ہے ۔
  • جی وی اے میں اس شعبے کا حصہ 50 فیصد سے تجاوز کرگیا جو کہ 33 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے 15 میں نمایاں ہے نیز دہلی اور چنڈی گڑھ میں خاص طور پر بہت زیادہ نمایاں ہے ( 85 فیصد سے زیادہ)
  • خدمات کا شعبہ مجموعی برآمدات کا 48 فیصد ہے جو حالیہ برسوں میں اشیا کی برآمدات کی غیرمعمولی کارکردگی کا مظہر ہے
  • ساحلوں پر جہازرانی کی آمدورفت کا وقت تقریباً کم ہوگیا ہے جو کہ 11-2010 میں 4.6 دنوں سے کم ہو کر 20-2019 میں 2.62 ایام ہوگیا ہے
  • کووڈ 19 وبا کے دوران ہندوستانی اسٹارٹ اپ ایکو نظام مستحکم طور پر پیش رفت کررہا ہے جو 38 یونی کورنس کا گھر بن رہا ہے ۔ جس سے اس سال کی یونی کورن کی لسٹ میں 12 اسٹارٹ اپ کی ریکارڈ تعداد کا اضافہ ہوا ہے
  • ہندوستان کا خلاکا شعبہ گزشتہ چھ دہائیوں میں مہم جوئیانہ پیمانہ پر پیش رفت کررہا ہے :
  • 20-2019 میں خلائی پروگراموں پر تقریباً 1.8 ارب امریکی ڈالر خرچ کئے گئے
  • خلائی ایکو نظام میں بہت سی پالیسی اصلاحات کی جارہی  ہیں جس کا مقصد نجی شراکت داروں کو راغب کرنا اور اختراع اور سرمایہ کاری کو بھی راغب کرنا ہے

سماجی بنیادی ڈھانچہ ، روزگار اور انسانی فروغ

  • سماجی شعبے کے مجموعی اخراجات میں ( مرکزی اور ریاستی ) ، جی ڈی پی کی فیصد کے مطابق 21-2020 میں گزشتہ برس کے مقابلے میں اضافہ ہوا
  • ایچ ڈی آئی 2019 میں مجموعی طور پر 189 ممالک میں سے ہندوستان کا درجہ 131 پر ریکارڈ کیا گیا ۔ ہندوستان کی فی کس مجموعی قومی آمدنی ( 2017 پی پی پی ڈالر)2018 میں 6427 امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2019 میں 6681ا مریکی ڈالر ہوگئی
  • پیدائش میں زندگی کی توقعات 2018 میں 69.4  برس سے بڑھ کر 2019میں 69.7  برس ہوگئی۔
  • وبا کے دوران اعداد و شمار کے نیٹ ورک ، کمپیوٹر ، لیپ ٹاپ ، اسمارٹ فون وغیرہ جیسی الیکٹرونک کے آلات تک رسائی کو آن لائن آموزش اور ریموٹ ورکنگ کے باعث مزید اہمیت  حاصل ہوگئی
  • جنوری 2019- مارچ 2020 کی مدت کے دوران   ( پی ایل ایف ایس  کا سہ ماہی سروے ) شہری شعبے میں باقاعدہ اجرتی / تنخواہ دار افرادی قوت کا اہم تناسب مصروف رہا۔
  • آتم نربھر بھارت  روزگار یوجنا  کے ذریعہ روزگار کو فروغ دینے کے سرکار کے اقدام اور موجودہ لیبر قوانین کو چار کوڈوں میں بدل کر سہل کرنا
  • ہندوستان میں خواتین کے ایل ایف پی آر کی کم سطح  :
  • خواتین  بناادائیگی والی گھریلو اور خاندان کے اراکین کی دیکھ بھال کی خدمات کے  کاموں میں غیرمتناسب طریقہ سے زیادہ وقت صرف کررہی ہیں ۔ جوکہ ان کے مرد ہم اثر کے مقابلے میں غیرمتناسب ہے  (ٹائم یوز سروے، 2019)
  • تنخواہ اور کیریر میں پیش رفت، کام سے متعلق ترغیباب میں بہتری ، دیگر طبی اور سماجی تحفظ سمیت خواتین ورکروں کے لئے کام کرنے کی جگہ پر غیر امتیازی عوامل کو فروغ دینے کی ضرورت
  • مارچ 2020  میں اعلان کردہ پی ایم جی کے پی  تحت موجودہ بڑی عمر کے افراد ، بیواؤں اور معذور مستفدین کو ،قومی سماجی امداد کے پروگرام ( این ایس اے پی) کے تحت 1000 روپئے تک کی نقد رقم کا ٹرانسفر
  • پی ایم جن دھن یوجنا کے تحت خواتین مستفدین کے بنک کھاتوں میں  ڈیجیٹلی ہر ایک کو 500 روپئے کی رقم ٹرانسفر کی گئی جو مجموعی طور پر تقریباً 20.64 کروڑ روپئے بنتی ہے۔
  • تقریباً 8 کروڑ کنبوں کو تین مہینے کے لئے گیس سلنڈروں کی مفت تقسیم
  • آزاد قرضے کی لمٹ دس لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ کردی گئی جو کہ 63 لاکھ خواتین ایس ایچ جی کے لئے ہے جو کہ 6.85 کروڑ گھرانوں کو حمایت فراہم کرے گی
  • مہاتماگاندھی نریگا کے تحت اجرتوں کو یکم اپریل 2020 سے 20 روپئے سے بڑھا کر 182 سے 202 روپئے تک کردیا گیا

کووڈ 19 کے خلاف ہندوستان کی جدوجہد :

  • لاک ڈاون ، سوشل ڈسٹینسنگ ، سفری صلاح، ہاتھ دھونے کی عادت، ماسک پہننے کی عادت کے ابتدائی اقدامات سے بیماری کے پھیلاؤ میں کمی آئی
  • ملک نے لازمی اشیا میں خود کفالت بھی حاصل کرلی  علاوہ ازیں ہینڈسینی ٹائزر، ماسک ، پی پی  ای کٹس، وینٹی لیٹر، کووڈ19 ٹسٹنگ اور علاج کی سہولات سمیت تحفظاتی آلات میں بھی ہندوستان خود کفیل ہوگیا
  • دنیا کی سب سے بڑا کووڈ19 کی ٹیکہ کاری کی مہم 16 جنوری 2021 کو شروع کی گئی جس میں دو اندرون ملک تیار ویکسین  فراہم کی گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ا س۔ ا ع۔ ن ا۔ م ص۔

U-937                          



(Release ID: 1693442) Visitor Counter : 1021