وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل خود نوشت سوانح حیات ’دیہ ویچوا کرنی‘ کی رسم اجرا ادا کی

انھوں نے پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی کا نام بدل کر ’لوک نیتے ڈاکٹر بالا وکھے پاٹل پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی‘ رکھا

ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل کی کوششیں اور رول آنے والی نسلوں کو پیغام بخشتے رہیں گے: وزیر اعظم

Posted On: 13 OCT 2020 2:44PM by PIB Delhi

نئی دہلی،13 اکتوبر،      وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل کی خود نوشت سوانح حیات ’دیہ ویچوا کرنی‘ کو جاری کرنے کی رسم انجام دی۔ انھوں نے پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی کا بدل کر ’لوک نیتے ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی‘ کیا۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی شخص وکھے پاٹل کی زندگی کی کہانیاں مہاراشٹر کے چپے چپے پر دیکھ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بالا صاحب وکھے پاٹل  ڈاکٹر وٹھل راؤ وکھے پاٹل  کے نقش قدم پر چلے اور انھوں نے اپنے آپ کو مہاراشٹر کی ترقی کے لیے وقف کردیا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ  گاؤں والوں، غریبوں اور کسانوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا اور ان کی مشکلات کو کم کرنا وکھے پاٹل کی زندگی کا اہم مقصد ر ہاہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وکھے پاٹل جی نے ہمیشہ معاشرے کی بہتری کے لیے کام کیا اور انھوں نے سیاست کو معاشرے میں بامعنی تبدیلیاں لانے اور غریبوں اور گاؤوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک ذریعہ بنانے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ بالا صاحب وکھے پاٹل کا یہ روّیہ انھیں دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بالا صاحب وکھے پاٹل کی خود نوشت سوانح حیات ہم سب کے لیے بہت اہم ہےاور گاؤوں اور غریبوں کی ترقی، ان کی تعلیم اور مہاراشٹر میں امداد باہمی، اداروں کی کامیابی کے سلسلے میں ان کی کوششیں اور ان کا رول آنے والی نسلوں کو پیغام بخشتے رہیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل غریبوں اور کسانوں کے درد اور ان کی مشکلات کو سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ کسانوں کو ایک ساتھ لائے اور انھیں امداد باہمی اداروں سے منسلک کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اٹل جی کی حکومت میں ایک وزیر کے طور پر انھوں نے مہاراشٹر سمیت ملک کے بہت سے حصوں میں امداد باہمی اداروں کی حوصلہ افزائی کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جب ملک میں دیہی تعلیم پر زیادہ بات نہیں کی جاتی تھی تو ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل نے پرورا رورل ایجوکیشن سوسائٹی کے ذریعے گاؤں کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کام کیا۔ اس سوسائٹی کے ذریعے انھوں نے گاؤں میں نوجوانوں کی تعلیم اور ہنرمندی کے لیے محنت کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وکھے پاٹل جی گاؤں میں کھیتی باڑی کے سلسلے میں تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ آج کسانوں کے لیے یہ مواقع فراہم کیے جارہے ہیں کہ وہ صنعت کار بنیں اور صنعتکاری کو اپنائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد جب ملک کے پاس کھلانے  کے لیے زیادہ خوراک نہیں تھی تو حکومت کی ترجیح فصلوں کی پیداواریت کو بڑھانے پر تھی۔ لیکن پیداواریت کے سلسلے میں اس تشویش میں کسان کو فائدہ پہنچانے کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ آج ملک میں کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر زور دیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کی گئی ہیں مثلاً کم از کم امدادی قیمت بڑھانے کا فیصلہ،یوریا پر نیم کی کوٹنگ اور فصلوں کے لیے بہتر بیمہ۔ انھوں نے مزید کہا کہ پی ایم کسان سمّان ندھی یوجنا جیسے اقدامات کی بدولت کسانوں کو چھوٹے چھوٹے اخراجات کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے مثلاً غذائی اشیا کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار، میگا خوراک پارک اور زرعی پروسیسنگ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ایسا کام کیا گیا ہے جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔

کھیتی باڑی کے روایتی  طریقے کو محفوظ رکھنے کی  ضرورت پر بالا صاحب وکھے پاٹل کے اصرار کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں کھیتی باڑی قدرتی حالات کے مطابق کی جاتی تھی، وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اس ہنر کو بھی محفوظ رکھنا ہے اور زراعت میں نئے اور پرانے دونوں طریقوں  سے ملاجلا کر کام لینا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے گنے کی فصل کی مثال پیش کی جس کے لیے نئے اور پرانے دونوں طرح کے طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب گنے سے شکر نیز ایتھانول دونوں چیزیں نکالنے کے لیے صنعتیں قائم کی جارہی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر بالا صاحب وکھے پاٹل نے ہمیشہ مہاراشٹر کے گاؤوں کے مسائل مثلاً پینے کے پانی اور آب پاشی کے پانی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا کے تحت مہاراشٹر میں اُن 26 پروجیکٹوں کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے کام کیا گیا جو برسوں سے رکے پڑے تھے۔ ان میں 9 پروجیکٹ پہلے ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ ان پروجیکٹوں کی تکمیل سے  تقریبا 5 لاکھ ہیکٹئر زمین کو آبپاشی کی سہولت حاصل ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ اسی جولائی 2018 میں، مہاراشٹر میں 90 مزید بڑے اور چھوٹے آبپاشی پروجیکٹوں پر کام شروع ہوا۔ جب اگلے دو تین برسوں میں یہ پروجیکٹوں پورے ہوجائیں گے تو تقریباً 4 لاکھ ہیکٹئر زمین کو آبپاشی سہولتوں سے جوڑ دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ مہاراشٹر کے 13 ضلعوں میں جہاں زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچی ہے اٹل گراؤنڈ واٹر اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جل جیون مشن کے تحت، مہاراشٹر کے ہر گاؤں کے ہر ایک کنبے کو پینے کا پائپ والا پانی فراہم کرنے کا کام بہت تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ پچھلے سال کے دوران مہاراشٹر کے 19 لاکھ سے زیادہ کنبوں کو پائپ والا پینے کا پانی فراہم کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 13 لاکھ سے زیادہ غریب کنبوں کو پانی کی یہ سہولت وبائی بیماری کورونا کے دوران فراہم کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ مدرا اسکیم نے گاؤں میں خود روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا ہے۔ ملک میں سیلف ہیلپ گروپ سے وابستہ 7 کروڑ سے زیادہ خواتین کو 3 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرضہ دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسانوں اور ماہی گیروں کو کسان کریڈٹ کارڈز کی سہولت دستیاب کرائی گئی ہے تاکہ بینک کے قرضوں تک ان کی آسان رسائی ہوسکے۔ تقریباً ڈھائی کروڑ چھوٹے کسان کنبوں کو  جو پہلے کسان کریڈٹ کارڈز سے محروم تھے انھیں اب یہ سہولت فراہم کردی گئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ غریبوں اور گاؤں میں رہنے والے لوگوں کے ا عتماد میں اضافہ کرکے خود کفالت کے ان کے عزم کو تقویت دی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ بالا صاحب وکھے پاٹل کی بھی یہ خواہش تھی کہ گاؤوں میں خود کفالت کے اس عزم  کو مضبوط کیا جائے۔

***************

م ن۔ اج ۔ ر ا   

U:6333 

 



(Release ID: 1664089) Visitor Counter : 30