وزارت خزانہ

وزیر خزانہ نے زرعی بنیادی ڈھانچہ لاجسٹکس کو مستحکم بنانے، صلاحیت سازی، حکمرانی اور انتظامی اصلاحات برائے زراعت، ماہی پروری اور خوراک ڈبہ بندی شعبوں کےلئے اقدامات کا اعلان کیا


کاشتکاروں کےلئے فارم-گیٹ بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کےلئے ایک لاکھ کروڑ روپے کے زرعی بنیادی ڈھانچے

مائیکرو فوڈ انٹر پرائزز (ایم ایف ای)، یا چھوٹی خوراک ڈبہ بندی صنعتوں کو رسمی حیثیت دینے کے لئے 10000کروڑروپے کے بقدر کی اسکیم

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)کے توسط سے ماہی گیروں کے لئے 20ہزار کروڑ روپے

قومی مویشی امراض روک تھام پروگرام

مویشی پالن بنیادی ڈھانچہ ترقیات فنڈ کا قیام-15ہزار کروڑ روپے

جڑی بوٹیوں کی کاشت کو فروغ: 4ہزار کروڑ روپے کے منصوبہ جاتی اخراجات

شہد کی مکھیاں پالنے سے متعلق اقدامات: 500کروڑ روپے

ٹاپ ٹو ٹوٹل یعنی ٹاپ سے ٹوٹل تک:500کروڑروپے

حکمرانی اور انتظامی اصلاحات برائے زرعی شعبہ اقدامات

کاشتکاروں کو بہتر قیمت حاصل کرنےکے لائق بنانے کے لئے لازمی اشیا سے متعلق ایکٹ میں ترامیم

زرعی مارکٹنگ اصلاحات تاکہ کاشتکاروں کو مارکٹنگ کے متبادل حاصل ہو سکیں

زرعی پیداوار قیمت اور کوالٹی یقین دہانی

Posted On: 15 MAY 2020 7:42PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی، 15 ؍مئی، 2020،محترم وزیراعظم جناب نریندر مودی نے 12مئی 2020 کو 20لاکھ کروڑ روپے کے ایک خصوصی اقتصادی اور جامع پیکیج کا اعلان کیا تھا، جو بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار کے 10فیصد کے بقدر تھا۔ انہوں نے آتم نربھر بھارت ابھیان یعنی خودکفیل بھارت تحریک کا ایک واضح نعرہ دیا تھا۔ انہوں نے آتم نربھر بھارت کے 5 ستون- معیشت، بنیادی ڈھانچہ، نظام، فعال آبادی اور ڈیمانڈ بھی اجاگر کئے تھے۔

 

خزانہ اور کمپنی امور کی وزیر محترمہ نرملا سیتا رمن نے آج اپنی پریس کانفرنس میں بنیادی ڈھانچہ لاجسٹکس کو مستحکم بنانے، صلاحیت سازی، حکمرانی اور انتظامی اصلاحات برائے زراعت، ماہی پروری اور خوراک ڈبہ بندی شعبوں سے متعلق اقدامات کی تیسری قسط کا اعلان کیا۔

 

تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ 11اقدامات میں سے 8 اقدامات زرعی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے سے متعلق ہیں اور 3 اقدامات کا تعلق انتظامی اور حکمرانی اصلاحات سے ہے۔ اس میں زرعی پیداوار کی فروخت اور ذخیرے کی حدود پر عائد بندشوں کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔

 

اپنے ابتدائی کلمات میں وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ روز 2 قابل ذکر زراعت سے متعلق اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا، جن کا مقصد کاشتکاروں کو تقویت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آر آر بی اور امداد باہمی کے بینکوں کو ربیع کے بعد یعنی ربیع کی فصل کٹنے اور خریف کے فصل سے متعلق اخراجات کے سلسلے میں فارم لون فراہم کرنے کے لائق بنانے کےلئے نبارڈ کے توسط سے اضافی ایمرجنسی کام کاج کی پونجی کی سہولت کے تحت 30ہزار کروڑروپے کی رقم فراہم کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے اقدام کے تحت مشن موڈ پرمہم چلائی گئی تاکہ کاشتکاری کے شعبے کو 2 لاکھ کروڑ روپے کی بقدر کی قرض تقویت فراہم کرائی جا سکے اور اس کےلئے کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم  کے تحت دسمبر 2020 تک 2.5کروڑ پی ایم –کسان استفادہ کنندگان پر احاطہ کیا جائے گا۔

 

اس موضوع پر وضاحت  پیش کرتےہوئے کہ گزشتہ 2مہینوں کے دوران حکومت نےکیا کیا ہے، وزیر خزانہ نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران 74300کروڑ روپے سے زائد کی رقم کا استعمال کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی)، خریداریوں کے لئے کیاگیا۔ پی ایم کسان فنڈ ٹرانسفر کے تحت 18700کروڑروپے کی منتقلی عمل میں آئی اور پی ایم فصل بیمہ یوجنا دعوؤں کی ادائیگی کے تحت 6400کروڑروپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔

 

اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے دوران  دودھ کی مانگ 20سے 25فیصد تخفیف سے ہمکنار ہو گئی۔ اسی لحاظ سے 560 لاکھ لیٹر یومیہ (ایل ایل پی ڈی)، امداد باہمی کے اداروں کے ذریعے حاصل کئے گئے، جبکہ روزانہ کی فروخت 360ایل ایل پی ڈی کی تھی۔ مجموعی طور پر 111کروڑ لیٹر دودھ اضافی طور پر خریدا گیا اور  4100کروڑروپے کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ 21-2020 کے لئے ڈیری امداد باہمی کے اداروں کو لئے گئے قرض پر 2 فیصد کی سالانہ شرح سود رعایت فراہم کرنے کے لئے ایک نئی اسکیم بھی شرو ع کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ قرضوں کی فوری ادائیگی ؍ سود کی ادائیگی کے سلسلے میں 2فیصد سالانہ شرح سود کی رعایت بھی دی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے نتیجے میں 5000کروڑروپے کی اضافی تحلیلی قوت     فراہم ہوگی، جس سے 2کروڑ کاشتکاروں کو فائدہ حاصل ہوگا۔

 

ماہی گیری کے شعبے کےلئے ماہی گیری کے سلسلے میں 24 مارچ کو تمام تر 4 کووڈ سے متعلق اعلانات کو عملی طور پر نافذ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ 242 درج رجسٹر جھینگا پرورش گاہوں کا رجسٹریشن اور نوپلی پرورش گاہوں کے سلسلے میں جن کی آخری  تاریخ 31مارچ 2020 تک تھی، اُنہیں 3مہینوں کی توسیع دی گئی ہے اور بحری علاقوں میں جا کر مچھلی پکڑنے والوں کے آپریشن اور ماہی پروری سے متعلق کاموں کو اندرون ملک ماہی پروری کے قواعد و ضوابط کے تحت لایا گیا ہے۔

 

محترمہ سیتا رمن نے کہا کہ آج جن اقدامات کا اعلان کیاگیاہے، وہ کاشتکاروں، ماہی گیروں، خوراک ڈبہ بندی کی چھوٹی صنعتوں کی زندگیوں پر ہمہ گیر اور طویل المدت اثرات مرتب کریں گے۔

 

وزیرخزانہ نے بنیادی ڈھانچہ لاجسٹکس اور زراعت، ماہی گیری اور ماہی پروری اور خوراک ڈبہ بندی صنعتوں کے شعبوں کے سلسلے میں صلاحیت سازی سے متعلق جن اقدامات کا اعلان کیا، ان میں .....1. کاشتکاروں  کیلئے فارم گیٹ، بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی غرض سے ایک لاکھ کروڑ روپے کے بقدر زرعی بنیادی ڈھانچہ فنڈ۔2.چھوٹی اور خوراک ڈبہ بندی  کی چھوٹی صنعتوں کو رسمی حیثیت دینے کے لئے 10000کروڑروپے کی اسکیم۔3.پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے توسط سے ماہی گیروں کےلئے 20000کروڑروپے کی فراہمی۔4.قومی مویشی امراض کنٹرول پروگرام۔5.مویشی پالن،  بنیادی ڈھانچہ ترقیات فنڈ کےلئے 15000کروڑروپے کی فراہمی۔6.جڑی بوٹیوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لئے 4000کروڑروپے کا تخمینہ سرمایہ۔7.شہد کی مکھیاں پالنے کے اقدامات کے لئے 500کروڑروپے کی فراہمی۔ 8.سِرے سے کُل تک کیلئے 500کروڑروپے کی فراہمی وغیرہ شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U- 2574

 

 

م ن۔ک ا۔                      



(Release ID: 1624414) Visitor Counter : 136