صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

کووڈ-19 کی تازہ ترین صورتحال

Posted On: 27 APR 2020 6:25PM by PIB Delhi

نئی دہلی  27 اپریل 2020 ۔محترم وزیراعظم جناب نریند رمودی نے ا ٓج  ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے تمام وزرائے اعلیٰ سے گفت وشنید کی ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ  وائرس کی ترسیل کےسلسلے کو توڑا جانا چاہئے ۔بطور خاص ریڈ زون اور اورنج زون میں  آنے والے اضلاع میں سختی سے  یہ عمل کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کو ہاٹ اسپاٹ  یعنی ریڈ زون علاقو ںمیں رہنما  خطوط پر سختی سے عمل درآمدکرنا چاہئے۔  انہوں نے کہا کہ ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی کوششیں یہ ہونی چاہئیں کہ ریڈ زون کو اورنج زون میں   بدلا جائے اور بعد ازاں اور نج زون کو گرین زون میں بدل دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائر س مرض سے کسی طر ح کا داغ ملامت نہیں لگنا چاہئے اور تمام تر صحتی سہولتیں  اور درکار دیگر خدمات فراہم کرائی جانی چاہئیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ روایتی ادویہ جاتی نظام کو اپنا کام جاری رکھنا چاہئے۔

ملک میں 16  اضلاع جہاں  پہلے کورونا کے کیسیز دیکھے  گئے تھے، اب وہاں سے کسی نئے کیس کی کو ئی اطلاع حاصل نہیں  ہوئی ہے ۔ یعنی گزشتہ  28 دنوں کے دوران کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں  آیا ہے۔ تین نئے اضلاع   جو  اس فہرست میں  شامل ہوئے ہیں( 24  اپریل ) ان کے نام درج ذیل ہیں:

  • مہاراشٹر میں گونڈیا
  • کرناٹک میں دیونگیر 
  • بہار میں  لکھی سرائے

دو اضلاع نے نئے کیس درج کئے ہیں ، جہاں اس سے قبل 28 دنوںمیں  کوئی نیا معاملہ سامنے نہیں  آیا تھا، ان میں   اترپردیش میں  پیلی  بھییت اور پنجاب میں شہید بھگت سنگھ  نگر کے نام شامل ہیں۔اس کے علاوہ  25 ریاستو ں  /  مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے  کل  85  اضلاع سے گزشتہ  14 دنوں کے اندر کسی نئے کیس کی کوئی  اطلاع  حاصل نہیں ہوئی ہے۔

ایک پریس بریفنگ  میں  حکومت ہند کے بااختیار گروپ  -5   ( ای جی -5) نے  سپلائی چین  اور ملک میں کارفرما  لاجسٹکل  انتظامات  کی تفصیلات بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ کووڈ  -19  کے  پھوٹ پڑنے کے بعد سے اس وبائی مرض  نے کئی چنوتیاں  پیش کی ہیں اور ملک میں  اس وبائی مرض  کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے کیا اقدامات  کئے گئے ہیں۔

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے  پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمے کے سکریٹری اور ای جی -5  کے کنوینر  جناب پرمیشورن ائیر    کے کنوینر   نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے چا ر اہم شعبوں  یعنی زراعت ،  مینوفیکچرنگ  ، لاجسٹکس   اور خستہ حال گروپوں  کو کھانا فراہم کرنے کے سلسلے میں درپیش چنوتیوں سے نمٹنے کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں ۔  انہوں  نے بتایا کہ خوراک اور فارماسیوٹیکل لے کر سفر کرنے والے  ٹرکوں کی فیصد  30  مارچ کو 46  فیصد تھی جو  25  اپریل  2020  کو بڑھ کر 76  فیصد ہوگئی ہے۔اسی دوران  ریلوے  ریکوں  کی نقل وحرکت کی فیصد  67 سے بڑھ کر 76   ہوگئی ہے اور   بندرگاہوں  پر ہینڈل کئے جانے والے ٹریفک کی فیصد بھی  70 سے بڑھ کر 87 فیصد ہوگئی ہے ۔ مصروف عمل منڈیوں کی فیصد   بھی  61  سے بڑھ کر 79 فیصد ہوگئی ہے ۔ سرکاری ایجنسیوں  ،  غیر سرکاری تنظیموں  اور صنعتو ں کی جانب سے  1.5  کروڑافراد کو  یومیہ بنیاد پر پکا ہوا کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔

 

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

 

م ن ۔ رم

U-2090



(Release ID: 1618875) Visitor Counter : 52