زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
24 OCT 2026 1:56PM by PIB Delhi
ڈیجیٹل زراعت میں ایک بڑے سنگ میل کے تحت ، حکومت ہند نے 31 مارچ 2027 کی آخری تاریخ سے پانچ ماہ قبل ہی 11 کروڑ کسانوں کے شناختی کارڈ بنانے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ زراعت، کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اس حصولیابی کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے خوشحال کسانوں کے ساتھ ایک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ یہ سنگ میل وزارت برائے زراعت اور کسانوں کی بہبود کے زیر انتظام شروع کیے گئے 'ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن' کے تحت حاصل کیا گیا ہے۔ کسان آئی ڈی اقدام کو کسانوں کو ایک منفرد ڈیجیٹل شناخت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے سرکاری اسکیموں، بینک قرضوں، فصل کے بیمہ اور ڈیزاسٹر ریلیف تک شفاف، مؤثر اور بروقت رسائی ممکن ہو سکے گی، جبکہ کاغذی کارروائی اور بار بار کی تصدیق کے عمل میں بھی کمی آئے گی۔
طے شدہ وقت سے پانچ ماہ قبل ہدف حاصل
مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ 11 کروڑ کسان آئی ڈیز بنانے کا کام 23 اکتوبر کی رات تک کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 31 مارچ 2027 کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔ وزارت برائے زراعت اور کسانوں کی بہبود ، ریاستی حکومتوں اور فیلڈ لیول کے افسران نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے اسے مقررہ وقت سے پانچ ماہ قبل ہی حاصل کر لیا۔ انہوں نے اس کامیابی پر ملک بھر کے کسانوں کو مبارکباد دی اور کسان آئی ڈی کو ان کی اپنی ڈیجیٹل شناخت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت کو زیادہ مؤثر، شفاف اور خوشحال بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔
کاغذی کارروائی میں کمی اور فوائد کی زیادہ شفاف فراہمی
جناب چوہان نے کہا کہ کسان آئی ڈی سسٹم سے کسانوں کے سرکاری دفاتر اور بینکوں کے بار بار چکر لگانے یا مختلف اسکیموں کے لیے ایک ہی دستاویزات کو بار بار جمع کرانے کی ضرورت میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس سے پہلے، کسانوں کو مختلف فوائد حاصل کرنے کے لیے اکثر بار بار دستاویزات فراہم کرنی پڑتی تھیں، جس سے وقت اور پیسہ دونوں کا ضیاع ہوتا تھا۔ کسان آئی ڈیز کے ذریعے کئی اہم خدمات تک رسائی زیادہ آسان اور شفاف ہونے کی امید ہے۔
بینک قرضے اور کسان کریڈٹ کارڈ: قرض کا عمل آسان ہو جائے گا، جس سے بار بار دستاویزات کی تصدیق کی ضرورت کم ہو جائے گی۔
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا: قدرتی آفات یا فصلوں کے نقصان کی صورت میں، معاوضے کا تعین اور اس کی ادائیگی زیادہ شفاف عمل کے ذریعے کی جائے گی اور رقم براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں بھیجی جائے گی۔
آفات کے دوران امداد : ہنگامی حالات کے دوران امداد حقیقی اور اہل کسانوں تک زیادہ تیزی سے پہنچے گی۔
کم از کم امدادی قیمت ( ایم ایس پی) پر فصلوں کی خریداری: یہ ڈیجیٹل نظام خریداری کے عمل میں بچولیوں کے کردار کو ختم کرنے میں مدد کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی پوری قیمت ملے۔
اس اقدام کا مقصد زرعی خدمات کی فراہمی میں شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اہل کسان کم سے کم طریقہ کار کی رکاوٹوں کے ساتھ سرکاری مدد حاصل کر سکیں۔
6کروڑ سے زائد کسان پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں فوائد
ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کا آغاز 2 ستمبر 2024 کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد کیا گیا تھا۔ اس مشن کے تحت تیار کئے جانے والے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ( ڈی پی آئی) کے نتائج اب زمین پر ظاہر ہو رہے ہیں ۔ کسان آئی ڈی پر مبنی سروس ڈیلیوری سسٹم کے ذریعے ملک بھر کے 6 کروڑ سے زائد کسان اب تک مختلف اسکیموں کے تحت براہ راست فوائد حاصل کر چکے ہیں۔ تصدیق شدہ کسان ڈیٹا بیس کو زرعی خدمات سے جوڑنے سے دھوکہ دہی اور ڈپلیکیٹ تصدیق کی ضرورت کو ختم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ اس نے سرکاری محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو بھی بہتر بنایا ہے اور پالیسی سازی و اسکیموں کی نگرانی کو مضبوط کیا ہے، جس سے ان کے نفاذ اور فوائد کی فراہمی کا پتہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔
باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کی ایک مضبوط مثال
جناب چوہان نے اس حصولیابی کا سہرا مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں کے سر باندھا اور اسے کوآپریٹو فیڈرلزم (باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت) کی ایک شاندار مثال قرار دیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ، ضلع سطح کی ٹیموں اور گاؤ ں میں کام کرنے والے فیلڈ اہلکاروں کو ہدف کو قبل از وقت حاصل کرنے میں ان کے تعاون پر مبارکباد دی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے قابل انطباق ضوابط کے مطابق، ٹیننٹ کسانوں اور حقیقی کاشتکاروں کو بھی اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے کے لیے مخصوص اقدامات کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل کسان حکومت کے بہبودی اور امدادی پروگراموں سے محروم نہ رہے۔
بھارتی زراعت کو بدلنے کے لیے ٹیکنالوجی
زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کم ازکم حکومت، زیادہ سے زیادہ حکمرانی کے اصول کے عین مطابق کسان رجسٹری کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ کسان آئی ڈی صرف ایک ڈیجیٹل شناختی دستاویز نہیں ہے؛ بلکہ یہ حکمرانی کے ایک شفاف، جوابدہ اور کسانوں پر مرکوز نظام کی ایک مضبوط بنیاد ہے۔ کسانوں کے لیے ایک تصدیق شدہ ڈیجیٹل شناخت بنا کر، اس اقدام کا مقصد زرعی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری مدد مطلوبہ مستفیدین تک مؤثر طریقے سے پہنچے۔ ملک بھر کے کسانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے، جناب چوہان نے ان پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنائیں، بغیر کسی غیر ضروری دشواری کے ان اسکیموں اور فوائد سے فیضیاب ہوں جن کے وہ حقدار ہیں اور بھارتی زراعت کو نئی بلندیوں پر لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حصولیابی ایک ایسے جدید زرعی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کی طرف ایک اہم قدم ہے جس میں ٹیکنالوجی کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے اور ایک ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو سہارا دیتی ہے۔
****
(ش ح- ن ا)
U.N:6634