ا قتصادی امور کی کابینہ کمیٹی
azadi ka amrit mahotsav

کابینہ نے مغربی بنگال، اوڈیشہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے آٹھ اضلاع میں چار ریلوے ملٹی ٹریکنگ منصوبوں کو منظوری دے دی، جس سے بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 410 کلومیٹر کا اضافہ ہوگا


ان منصوبوں کی کل تخمینہ جاتی  لاگت 9,450 کروڑ روپے ہے اور انہیں 2030-31 تک مکمل کیا جائے گا

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 3:18PM by PIB Delhi

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے آج ریلوے کی وزارت کے چار منصوبوں کو منظوری دے دی ہے، جن کی کل تخمینہ جاتی  لاگت تقریباً 9,450 کروڑ روپے ہے۔ ان منصوبوں میں شامل ہیں:

  1. کھڑگ پور – بھدرک (رانی تال) چوتھی ریلوے لائن – 173 کلومیٹر (مغربی بنگال اور اوڈیشہ)

  2. بھدرک – ہری داس پور چوتھی ریلوے لائن – 75 کلومیٹر (اوڈیشہ)

  3. گمّیڈی پونڈی – گُڈور تیسری اور چوتھی ریلوے لائن – 90 کلومیٹر (آندھرا پردیش اور تمل ناڈو)

  4. کٹک – پارادیپ (بڈابندھا) تیسری اور چوتھی ریلوے لائن – 72 کلومیٹر (اوڈیشہ)

ریلوے لائنوں کی گنجائش میں اضافے سے نقل و حرکت میں نمایاں بہتری آئے گی، جس کے نتیجے میں بھارتی ریلوے کی آپریشنل کارکردگی اور خدمات کی قابلِ اعتماد فراہمی بہتر ہوگی۔ ملٹی ٹریکنگ کے یہ منصوبے ریلوے کے آپریشنز کو مزید منظم بنانے اور بھیڑ بھاڑ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ یہ منصوبے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’نئے بھارت‘ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں، جس کے تحت خطے کی جامع ترقی کے ذریعے عوام کو ’آتم نربھر ‘ بنایا جائے گا اور روزگار و خود روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

ان منصوبوں کی منصوبہ بندی پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت کی گئی ہے، جس میں مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ملٹی ماڈل رابطے اور رسد کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ منصوبے عوام، سامان اور خدمات کی آمد و رفت کے لیے بلارکاوٹ رابطہ فراہم کریں گے۔

مغربی بنگال، اوڈیشہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کی ریاستوں کے آٹھ اضلاع پر مشتمل یہ چاروں منصوبے بھارتی ریلوے کے موجودہ نیٹ ورک میں تقریباً 410 کلومیٹر کا اضافہ کریں گے۔ مجوزہ ملٹی ٹریکنگ منصوبوں سے تقریباً 6,448 دیہاتوں کو بہتر ریلوے رابطہ حاصل ہوگا، جہاں تقریباً 60 لاکھ افراد آباد ہیں۔

مجوزہ گنجائش میں اضافے سے ملک بھر کے کئی اہم سیاحتی مقامات تک ریلوے رابطہ بھی بہتر ہوگا، جن میں کلڈیہا وائلڈ لائف سینکچری، بھیترکنیکا نیشنل پارک، ماں بھدرکالی مندر، ماں دھمارائی مندر، پنچ لنگیشور مندر، تال ساری–اُدے پور اور چندی پور ساحل، پُلی کیٹ جھیل، نیلا پٹو برڈ سینکچری، بھگوان ویرا راگھوا پیرو مل مندر، گڈا کُجنگا جگن ناتھ مندر، سارلا مندر، دھابلیشور مندر، للت گری (بدھ مت کا اہم مقام) وغیرہ شامل ہیں۔

مجوزہ منصوبے کوئلہ، لوہے کی خام دھات، سیمنٹ، لوہا اور اسٹیل، کنٹینر، گاڑیاں، غذائی اجناس وغیرہ جیسی اشیا کی نقل و حمل کے لیے اہم راستے ہیں۔ ریلوے کی گنجائش میں اضافے کے ان منصوبوں سے سالانہ 76 ملین ٹن (ایم ٹی پی اے) اضافی مال برداری ممکن ہوگی۔ ریلوے ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ذریعۂ نقل و حمل ہے، اس لیے یہ منصوبے ملک کے ماحولیاتی اہداف کے حصول اور رسد کے اخراجات کم کرنے میں مدد دیں گے۔ اس کے علاوہ تقریباً 13 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں کمی اور تقریباً 65 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی، جو 2.60 کروڑ درخت لگانے کے مساوی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ ا ک ۔ت ا )

U. No. 2316

 


(रिलीज़ आईडी: 2301206) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Punjabi , English , हिन्दी , Marathi , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu_Vw , Telugu , Kannada , Malayalam