امور داخلہ کی وزارت
مودی حکومت نے یومِ آزادی سے قبل آئی ایس آئی کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروہ ‘شہزاد بھٹی نیٹ ورک’ کو تباہ کیا اور 200 سے زائد کارندوں کو گرفتار کر کے تخریبی حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنا یا
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں، سرحد پار دہشت گردی کو قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے تحت 14 ریاستوں سے 253 افراد کو حراست میں لیا گیا
شہزاد بھٹی نیٹ ورک کے خلاف 80 سے زائد ایف آئی آر درج اور 200 سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 3:00PM by PIB Delhi
سکیورٹی ایجنسیوں نے یومِ آزادی سے قبل آئی ایس آئی کی سرپرستی میں چلنے والے‘شہزاد بھٹی نیٹ ورک’ (ایس بی این) کے خلاف متعدد ریاستوں میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اس کے دہشت گرد سنڈیکیٹ کو بے نقاب اور تباہ کر دیا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں، سرحد پار دہشت گردی کو قطعی برداششت نہ کرنے کی پالیسی کے تحت 14 ریاستوں سے 253 افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ ایس بی این کے خلاف 80 سے زائد ایف آئی آر اور 200 سے زائد گرفتاریاں کی گئیں۔
سوشل پلیٹ فارم‘ایکس’پر ایک پوسٹ میں، امور داخلہ اور امداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا،‘‘مودی حکومت نے یومِ آزادی سے قبل آئی ایس آئی کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گرد گروہ ‘شہزاد بھٹی نیٹ ورک’ کو تباہ کر دیا اور 200 سے زائد کارندوں کو گرفتار کر کے اس کے تخریبی حملوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے 14 ریاستوں کے مختلف مقامات پر باہم مربوط کارروائیاں کرتے ہوئے اس نیٹ ورک کی دھجیاں اڑا دیں، جو دہشت گردی کو قطعی برداشت نہ کرنے کی بھارت کی پالیسی کی ایک شاندار مثال ہے۔ آئی ایس آئی کی مالی اعانت سے چلنے والے اس گروہ سے بڑی مقدار میں سازوسامان برآمد کیا گیا ہے، جن میں آئی ای ڈیز، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے گرینیڈ، پستول، زندہ کارتوس اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے شامل ہیں۔ یہ نیٹ ورک متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔’’
شہزاد بھٹی نیٹ ورک پاکستان میں مقیم اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں چلنے والا ایک دہشت گرد سنڈیکیٹ ہے، جو بھارت بھر میں گرینیڈ، آئی ای ڈی اور پیٹرول بم حملوں کے علاوہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہا ہے۔ ایس بی این مقامی کارندوں کو رقم فراہم کر کے پولیس، دفاعی اور مذہبی مقامات کی ریکی کرواتا تھا اور جاسوسی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کرواتا تھا۔
یومِ آزادی کے موقع پر ایس بی این کی جانب سے کی جانے والی تخریبی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کے لیے، 12 اگست کو ریاستی پولیس فورسز کے ساتھ ریئل ٹائم انٹیلی جنس شیئرنگ سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے متعدد ریاستوں میں ایک باہم مربوط مشترکہ کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 14 ریاستوں سے 253 افراد کو حراست میں لیا گیا،جن میں اتر پردیش (62)، ہریانہ (52)، دہلی (51)، پنجاب (44)، راجستھان (15)، مہاراشٹر (8)، اتراکھنڈ (5)، کرناٹک، گجرات اور بہار (3، 3)، اور تلنگانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور کیرالہ (2، 2) شامل ہیں ، جبکہ دہلی اور کرناٹک میں نئی ایف آئی آر بھی درج کی گئیں۔
مجموعی طور پر، ایس بی این کے خلاف یو اے پی اے ، بی این ایس، آرمز ایکٹ، این ڈی پی ایس ایکٹ اور دھماکہ خیز مواد کے ایکٹ کے تحت 80 سے زائد ایف آئی آر درج کی گئیں اور 200 سے زائد گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہیں۔ برآمد شدہ اشیاء میں آئی ای ڈیز، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے گرینیڈ، پستول، زندہ کارتوس اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے سی سی ٹی وی کیمرے شامل ہیں — جو اس نیٹ ورک کے براہِ راست سرحد پار روابط کی تصدیق کرتے ہیں۔
سیکورٹی ایجنسیوں نے سرحد پار دہشت گردی کو حکومتِ ہند کے قطعی برداشت نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ملک بھر میں ایس بی این کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مربوط کارروائیاں جاری رکھنے کی تائید کی ہے۔
*****
ش ح۔ ک ح۔ ج ا
U.No-2216
(रिलीज़ आईडी: 2300473)
आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam