نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے تیرورورمیں سینٹرل یونیورسٹی آف تمل ناڈو کے 11ویں جلسہ ٔ تقسیم اسناد  میں شرکت کی


صرف علم کافی نہیں ہے؛ مستقبل کے لیے تاحیات سیکھنا، جدت طرازی اور مطابقت پذیری ضروری ہے: نائب صدرجمہوریہ

تعلیم کو امتحانات اور نمبروں سے آگے بڑھ کر آزادانہ سوچ، تخلیقیت اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دینا چاہیے: نائب صدر جمہوریہ

عوام کے امتحانی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ غلط کام کرنے والوں کو سزا دی جا سکے اور ایماندار طلباء کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے: نائب صدر جمہوریہ

اپنے لیے جینا گناہ نہیں، صرف اپنے لیے جینا گناہ ہے: نائب صدرجمہوریہ

علم کے صارف نہیں، تخلیق کار بنیں، نقل کے بجائے جدت اپنائیں اور پیروکار نہیں، رہبر بنیں: نائب صدر جمہوریہ

نائب صدر جمہوریہ نے سکیورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ منشیات کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کریں

प्रविष्टि तिथि: 17 AUG 2026 1:56PM by PIB Delhi

نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج تیرورور میں سینٹرل یونیورسٹی آف تمل ناڈو (سی یو ٹی این) کے 11ویں جلسۂ تقسیم اسناد  میں شرکت کی اور فارغ التحصیل طلبہ کو ان کی زندگی کے ایک اہم سنگ میل تک پہنچنے پر مبارکباد دی۔

فارغ التحصیل طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ تقسیم اسناد کی تقریب صرف ڈگریوں کے عطیہ کا جشن نہیں ہے بلکہ یہ تعلیم کی تبدیلی لانے والی طاقت، علم کی جستجو اور اس لگن، استقلال اوراستحکام کا جشن ہے جوطلبہ کو اس اہم موڑ تک لایا ہے۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کے والدین اور اساتذہ کو بھی مبارکباد دی، ان کی قربانیوں کو تسلیم کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے بچوں اور طلبہ کے شاندار مستقبل کے لیے اپنے دورِ حاضر کے آرام کو قربان کیا ہے۔

تیرورورکی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ یہ پوتر قصبے میں شاندار تیاگ راج مندر ہے، صدیوں سے روحانیت، علمی اور فنکارانہ مہارت کا مرکز رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پوتر  سرزمین نے اولیاء، علماء اور کرناٹک موسیقی کی تثلیث کی پرورش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی عظمت اس وقت ابھرتی ہے جب ثقافت، تعلیم اور اقدار ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔

نائب صدر جمہوریہ نے گزشتہ بارہ سال کے دوران اعلیٰ تعلیم کے زبردست پھیلاؤ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تقسیم اسناد کی تقریبات میں وہ اکثر مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین کو ڈگریاں اور تمغے حاصل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اس رجحان کو ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا۔

نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج محض امتحانات یا نمبروں کی بنیاد پر تعلیم کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

انہوں نے کہا،‘‘اسے آزادانہ طور پر سوچنے، مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے، مل کر کام کرنے اور زندگی بھر سیکھتے رہنے کی صلاحیت سے ناپا جانا چاہیے۔’’

انہوں نے کثیر شعبہ جاتی تعلیم، تحقیق، جدت طرازی اور قدر پر مبنی تعلیم پر زور دینے کے ذریعے اس وژن کو اپنانے پر سینٹرل یونیورسٹی آف تمل ناڈو کی کوششوں کو سراہا۔

پارلیمنٹ سے حال ہی میں منظور شدہ پبلک امتحانات (غلط طور طریقوں کی روک تھام) ترمیمی بل کا حوالہ دیتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ امتحانات میں ناجائز ذرائع کو روکنا اور طلبہ کے مفادات کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

جھارکھنڈ کے گورنر کے طور پر اپنے دورِ حکومت کو یاد کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ان کی مدت کار میں جھارکھنڈ حکومت کی طرف سے بھی ایسا ہی ایک بل پاس کیا گیا تھا اور بطور گورنر انہوں نے فوری طور پر اس پر دستخط کیے تھے جس سے وہ قانون بن گیا۔

انہوں نے عوامی امتحانات کی سالمیت اور منصفانہ ماحول کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘اچھے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے معاشرے کے برے عناصر کو سزا ملنی چاہیے۔’’

نائب صدر جمہوریہ نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ ‘‘علم کے صارفین کے بجائے تخلیق کار بنیں، تقلید کرنے والوں کے بجائے اختراع کار بنیں اور پیروکاروں کے بجائے قائدین بنیں۔’’

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں ہندوستان ‘وکست بھارت @2047’ کے وژن کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اعمال کے مرکز میں ‘‘ملک پہلے - راشٹر پرتھم’’ رکھیں اور قومی ترقی کے لیے اپنے علم، مہارت اور قیادت سے کام لیں۔

نائب صدرجمہوریہ نے پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ منشیات فروشوں اور منشیات کی لعنت پھیلانے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کا استعمال نہ صرف لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کرتا ہے بلکہ خاندانوں اور معاشرے کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے اور نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانا اجتماعی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے طلبہ سے اپنی اس اپیل کا اعادہ کیا کہ وہ ‘‘منشیات کو نا کہیں’’ اور اپنے دوستوں کو بھی منشیات کے استعمال سے دور رہنے کی ترغیب دیں۔

اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے تمام فارغ التحصیل طلبہ کی کامیابی، کامرانی، اچھی صحت اور معاشرے میں ایک معنی خیز تبدیلی لانے کے اطمینان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

تقسیمِ اسناد کی تقریب میں کل 1,103 فارغ التحصیل طلبہ نے اپنی ڈگریاں حاصل کیں، جن میں 50 گولڈ میڈلسٹ شامل ہیں جنہوں نے تعلیمی لیاقت کے ذریعے خود کو ممتاز کیا۔ 1,103 فارغ التحصیل طلبہ میں سے 616 خواتین ہیں۔ خواتین نے 50 میں سے 37 سونے کے تمغے بھی حاصل کیے۔

 

اس موقع پر تمل ناڈو کے گورنر جناب راجندر وشواناتھ آرلیکر، رکنِ پارلیمنٹ، لوک سبھا (ناگاپٹنم) تیروورو۔ سیلوا راج، چانسلر پروفیسر جی پدمنابھن، وائس چانسلر سینئر پروفیسر سلوچنا شیکھر، فیکلٹی ممبران، والدین اور طلبہ بھی موجود تھے۔

*****

 ش ح۔ ک ح۔ ج ا

U.No-2208


(रिलीज़ आईडी: 2300426) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Gujarati , Telugu , Kannada , Malayalam