وزارت اطلاعات ونشریات
صدر جمہوریہ محترمہ درو پدی مرمو کے چار سال مکمل ہونے کے موقع پر راشٹرپتی بھون میں پانچ یادگاری کتابوں کا اجراء
یہ یاد گاری کتابیں جامع جمہوریت میں ملک کے عقیدے کی عکاسی کرتی ہیں اور شہریوں کو بھارت کے ورثے پر فخر کرنے کی ترغیب دیتی ہیں: صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو
صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے وقار ، عاجزی ، دانشمندی اور آئین کے تئیں غیر متزلزل وفاداری کے ساتھ اعلیٰ ترین آئینی عہدے کے وقار میں اضافہ کیا ہے : نائب صدر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 8:47PM by PIB Delhi
بھارت کے نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج راشٹرپتی بھون میں بھارت کی عزت مآب صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کے صدارت کے عہدے کے چار سال مکمل ہونے کے موقع پر پانچ یادگاری کتابوں کے پہلے مجموعے کا اجراء کیا اور یہ کتابیں صدرِ جمہوریہ کو پیش کیں۔
عزت مآب صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کے صدارت کے عہدے کے چار سال مکمل ہونے پر آج راشٹرپتی بھون میں ’ راشٹرپتی بھون: راشٹر کا بھون ’ ، ‘ سیوا اور سم ویدنا ’ ، ‘ سم ویشی سَہ بھاگیتا ’ اور ‘ بھارتییتا کا اُتسو ’ کے عنوان سے چار کتابوں کا اجراء کیا گیا۔ مذکورہ کتابیں اطلاعات و نشریات کی وزارت کے اشاعتی شعبے نے شائع کی ہیں۔ ان کتابوں کے علاوہ ، اڑیہ زبان میں ایک اور کتاب ’ اما راشٹرپتی، اما گورو‘ کا بھی اجراء کیا گیا ۔ ’اما راشٹرپتی، اما گورو‘ بھارت کی معزز صدر جمہوریہ کے بارے میں تحریر کیے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔
یہ کتابیں بھارت کی عزت مآب صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو، بھارت کے معزز نائب صدر جناب سی پی رادھا کرشنن اور اطلاعات و نشریات و پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مروگن کی باوقار موجودگی میں جاری کی گئیں۔
اس موقع پر صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ ان کتابوں کے عنوانات جامع اور ہمہ گیر جمہوریت پر ہمارے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کہا کہ یہ خوب صورت تصویروں سے مزین مجموعے قارئین کو راشٹرپتی بھون کی روایات، طریقۂ کار اور اس کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کتابوں کی حقیقی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ شہریوں کو اپنے ورثے پر فخر کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر آگے بڑھنے کی ترغیب دیں گی۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ جب انہوں نے 25 جولائی ، 2022 ء کو بھارت کے صدر کا عہدہ سنبھالا تو یہ ان کے لیے اعزاز سے بڑھ کر ذمہ داری کا معاملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران ، انہوں نے اسی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی راشٹرپتی بھون میں یا مختلف ریاستوں کے دوروں کے دوران ان کی لوگوں، خصوصاً نوجوانوں سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ انہیں اخلاقی اقدار سے جڑے رہنے اور ملک و معاشرے کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ وہ خواتین پر زور دیتی ہیں کہ وہ خود کفیل بنیں اور خود اعتمادی کے ساتھ ترقی کی راہ پر آگے بڑھیں۔ قبائلی برادریوں کے افراد سے ملاقات کے دوران ، وہ ان سے اپنی ثقافتی وراثت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ترقی کے قومی دھارے میں شامل ہونے کی بھی اپیل کرتی ہیں۔ جب بھی وہ بیرونِ ملک کا سفر کرتی ہیں، وہاں مقیم بھارتی برادری سے ملاقات کرتی ہیں اور انہیں بھارت کی ترقی کے سفر میں اپنا رول ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ، نائب صدر نے کہا کہ یہ موقع ان کے لیے ذاتی طور پر بھی خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انہیں جھارکھنڈ کے گورنر کی حیثیت سے اپنی مدتِ کار یاد آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست بھر کے وسیع دوروں کے دوران ، زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے محترمہ دروپدی مرمو کے گورنر کی حیثیت سے مدتِ کار کے بارے میں نہایت گرمجوشی اور تحسین کے ساتھ بات کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آج بھی اس بات کو قدر و منزلت کی نگاہ سے یاد کرتے ہیں کہ محترمہ مرمو نے آئینی ذمہ داریاں کس وقار کے ساتھ نبھائیں، عوام کے ساتھ ان کا گہرا ذاتی تعلق کیسا تھا اور قبائلی برادریوں، محروم طبقات اور نوجوانوں کے تئیں ان کے دل میں کتنی ہمدردی اور حقیقی فکر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ ایسی نیک نامی محض کسی عہدے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ کردار، ہمدردی اور عوام کے تئیں لگن سے حاصل ہوتی ہے۔ ’’
صدرِ جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو کے دورِ صدارت میں کیے گئے متعدد اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ، نائب صدر نے تاریخی مغل گارڈن کا نام بدل کر امرت ادیان رکھنے، دہرادون میں راشٹرپتی نکیتن اور راشٹرپتی تپوون کو عوام کے لیے کھولنے، راشٹرپتی بھون کو معذور افراد کے لیے زیادہ سہولت آمیز بنانے کی کوششوں اور بھارت کے آخری گورنر جنرل اور بھارت رتن چکرورتی راج گوپالاچاری کے مجسمے سے سر ایڈون لُٹینز کے مجسمے کی جگہ لینے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات قومی اداروں کو نوآبادیاتی ذہنیت سے آزاد کرنے اور قومی اداروں کو عوام کے مزید قریب لانے کی شعوری کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اشاعات کا حوالہ دیتے ہوئے ، جناب رادھا کرشنن نے کہا کہ ’ سیوا اور سم ویدنا‘ ان خدمت اور ہمدردی کی اقدار کو اجاگر کرتی ہے ، جو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی عوامی زندگی کی نمایاں خصوصیات رہی ہیں، جب کہ ’ سم ویشی سَہ بھاگیتا‘ اس یقین کی عکاس ہے کہ بھارت کی ترقی جامع اور عوامی شراکت داری پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’ بھارتییتا کا اُتسو‘ بھارت کی تہذیب کی لازوال اقدار اور اس کے حیرت انگیز ثقافتی تنوع کا جشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جمہوریہ مرمو مسلسل بھارت کے ثقافتی ورثے ، مقامی روایات اور روحانی ورثے کو اجاگر کرتی رہی ہیں، جو ملک کے تنوع کو برقرار رکھتے ہوئے اسے متحد رکھتے ہیں۔
بھارت کے آئین کا سنتھالی زبان اور اول چکی رسم الخط میں صدرِ جمہوریہ کی جانب سے اجراء کئے جانے کو یاد کرتے ہوئے ، نائب صدر نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع نے قبائلی برادری کے افراد کو فخر سے سرشار کیا اور بھارت کی لسانی و ثقافتی گوناگونیت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ملک کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔
اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مروگن نئی دلّی کے راشٹرپتی بھون میں کتابوں کی اجرا ء کی تقریب میں موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ کتابیں ملک کے ثقافتی تنوع کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتابیں آئندہ نسلوں کے لیے اہم حوالہ جاتی کتابوں کا رول ادا کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج جاری کی گئی یہ اشاعات عزت مآب صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے صدارت کے عہدے کے سفر کو دستاویزی شکل دینے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
***************
( ش ح ۔ ش م ۔ ع ا )
U.No. 1728
(ریلیز آئی ڈی: 2297149)
وزیٹر کاؤنٹر : 23
یہ ریلیز پڑھیں:
English
,
हिन्दी
,
Marathi
,
Manipuri
,
Assamese
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Tamil
,
Telugu
,
Kannada
,
Malayalam