وزارت اطلاعات ونشریات
azadi ka amrit mahotsav

حکومت کا مقصد ایک محفوظ اور قابل اعتماد ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بناتے ہوئے بھارت کے انٹرنیٹ کو غیر قانونی اور فحش مواد سے پاک رکھنا ہے


قومی سائبر جرائم رپورٹنگ پورٹل(این سی آر پی) خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم کی گمنام طریقے سے اطلاع دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے، ’رپورٹ اور مشتبہ کی جانچ‘ ماڈیول شہریوں کو ڈیپ فیک سمیت مشتبہ ڈیجیٹل عناصر کی نشاندہی کرنے میں مدد دیتا ہے

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 5:08PM by PIB Delhi

حکومت کی پالیسیوں کا مقصد خواتین اور بچوں سمیت تمام صارفین کے لیے ایک کھلا، محفوظ، قابل اعتماد اور جواب دہ انٹرنیٹ یقینی بنانا ہے۔ حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ کو ہر قسم کے غیر قانونی مواد یامعلومات بالخصوص فحش اور غیر اخلاقی موادسے پاک رکھا جائے۔

اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون، 2000 (آئی ٹی ایکٹ) اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی (درمیانی اداروں کے لیے رہنما اصول اور ڈیجیٹل میڈیا اخلاقی ضابطہ) قواعد، 2021 (آئی ٹی رولز) مل کر ڈیجیٹل شعبے میں غیر قانونی اور نقصان دہ مواد سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نظام فراہم کرتے ہیں اور درمیانی اداروں پر جواب دہی یقینی بنانے کے لیے واضح ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔

آئی ٹی رولز، 2021 کے تحت درمیانی اداروں، بشمول سماجی ذرائع ابلاغ کے اداروں، پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ مناسب احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے کمپیوٹر وسائل استعمال کرنے والے افراد ایسا کوئی مواد یا معلومات شائع، ظاہر، اپ لوڈ، تبدیل، منتقل، محفوظ اور اپڈیٹ شیئر نہ کریں جو فحش نگاری پر مبنی، بچوں کے استحصال سے متعلق، بچوں کے لیے نقصان دہ، نجی زندگی میں مداخلت کرنے والا، صنفی بنیاد پر توہین آمیز یا ہراساں کرنے والا ہو یا جو کسی بھی نافذ العمل قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ اگر درمیانی ادارے آئی ٹی رولز، 2021 میں درج قانونی ذمہ داریوں کی پابندی نہیں کرتے ہیں تو انہیں آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت تیسرے فریق کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے لیے حاصل قانونی تحفظ سے محروم ہونا پڑے گا۔ ایسی صورت میں وہ نافذ العمل قوانین کے تحت ضروری کارروائی یا قانونی چارہ جوئی کے ذمہ دار ہوں گے۔

10 فروری 2026 کو حکومت نے مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات (ایس جی آئی) سے پیدا ہونے والے نقصانات، جن میں ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد شامل ہیں، سے نمٹنے کے لیے آئی ٹی رولز میں ترمیم کرتے ہوئے ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔

ان ترامیم کے مطابق درمیانی اداروں اور بڑے سماجی ذرائع ابلاغ کے پلیٹ فارمز کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی تیاری اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مناسب تکنیکی اقدامات کریں۔ اس میں ایسا مواد بھی شامل ہے جو فحش، گمراہ کن، کسی شخص کی نقالی پر مبنی یا بچوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ پلیٹ فارمز پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ ایسے متعلقہ جرائم کے بارے میں، جہاں قوانین کے تحت اطلاع دینا لازمی ہے، مناسب حکام کو آگاہ کریں، جن میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا، 2023 اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ دینے کا قانون، 2012 شامل ہیں۔

 

قومی سائبر جرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) (https://cybercrime.gov.in) کو انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4 سی) کے ایک حصہ کے طور پر شروع کیا گیا ہے، تاکہ عوام کو ہر قسم کے سائبر جرائم سے متعلق واقعات کی اطلاع دینے کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس پورٹل میں خواتین اور بچوں کے خلاف بعض اقسام کے سائبر جرائم کی نامعلوم طریقے سے رپورٹنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ ’ خواتین اوربچوں سے متعلق جرائم کی رپورٹ‘ماڈیول کے تحت شکایت کنندگان ’خفیہ طور پر رپورٹ کریں‘ کے اختیار کا انتخاب کر سکتے ہیں، جس کے ذریعے اپنی ذاتی شناخت ظاہر کیے بغیر شکایت درج کرائی جا سکتی ہے۔

این سی آر پی میں ’رپورٹ اور مشتبہ کی جانچ‘ کے نام سے ایک ماڈیول متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے شہری مشتبہ ویب سائٹ یو آر ایل، واٹس ایپ نمبرز، ٹیلی گرام ہینڈلز، فون نمبرز، ای میل آئی ڈیز، ایس ایم ایس ہیڈرز یا نمبرز، ڈیپ فیک اور سماجی ذرائع ابلاغ کے یو آر ایل کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

حکومت نے ’خواتین اور بچوں کے خلاف سائبر جرائم کی روک تھام (سی سی پی ڈبلیو سی)‘ اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 132.93 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔ اس کا مقصد ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے، جس میں سائبر فارنسک اور تربیتی تجربہ گاہوں کا قیام، جونیئر سائبر ماہرین کی خدمات حاصل کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، سرکاری وکلا اور عدالتی افسران کی تربیت فراہم کرنا شامل ہے۔ 33 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سائبر فارنسک کم تربیت کی تجربہ گاہیں قائم کی جا چکی ہیں، جبکہ 24,600 سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، عدالتی افسران اور سرکاری وکلا کو سائبر جرائم سے متعلق آگاہی، تحقیقات، فارنسک اور دیگر امور پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے تحت انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی 4 سی) نے ملک بھر میں نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی)، نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) اور نہرو یووا کیندر سنگٹھن (این وائی کے ایس) کے 2 لاکھ سے زائد طلبہ کو سائبر تحفظ اور محفوظ آن لائن استعمال سے متعلق تربیت فراہم کی ہے۔

آئی 4 سی نے ’نوجوانوں اورطلبہ کے لیے رہنما کتابچہ‘ جاری کیا ہے، جس کا مقصد طلبہ کو سائبر جرائم کی روک تھام کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ خواتین میں سائبر تحفظ سے متعلق بیداری کو فروغ دینے کے لیے ’خواتین کے تحفظ کے لیے سائبر سیکورٹی ہینڈ بک‘ بھی جاری کی گئی ہے۔

حکومت ’معلوماتی تحفظ کی تعلیم اور بیداری (آئی ایس ای اے)‘ کے عنوان سے ایک منصوبہ نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد معلوماتی تحفظ کے شعبے میں ماہر افرادی قوت تیار کرنا اور عوام میں سائبر صفائی اور سائبر تحفظ کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں عمومی بیداری پیدا کرنا ہے۔

یہ معلومات اطلاعات و نشریات اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر ایل مورگن نے آج لوک سبھا میں جناب پربھاکر ریڈی ویمیریڈی کے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*********

 ش ح۔م م ع۔ص ج

Urdu No-1401


(रिलीज़ आईडी: 2295073) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam