ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں ماحولیات کےمرکزی وزیرجناب بھوپیندر یادو کی صدارت میں ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس  منعقد


کمیٹی نے ٹیکنالوجی، عوامی شمولیت اور مربوط قومی اقدامات کے ذریعے انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کی روک تھام کو مؤثر بنانے پر غور و خوض کیا

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 12:27PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کی پارلیمانی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجلاس کا ایجنڈا انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے مسئلے پر غور کرنا اور اس کی روک تھام، اثرات میں کمی اور انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان طویل مدتی پُرامن بقائے باہمی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری  اقدامات کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس میں ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر مملکت جناب کیرتی وردھن سنگھ، کمیٹی کے رکن پارلیمان، وزارت کے سینئر افسران، شریک ریاستوں کے پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (پی سی سی ایف) اور چیف وائلڈ لائف وارڈن نے بھی شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001O2MD.jpg

کمیٹی کو 18 دسمبر 2025 کو منعقدہ اپنے گزشتہ اجلاس میں جاری کی گئی ہدایات پر عمل درآمد کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے تصادم سے متاثرہ علاقوں کے ارکانِ پارلیمان کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ اجلاس کے دوران وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کی نوعیت مختلف علاقوں میں مختلف ہوتی ہے۔ کئی ریاستوں میں انسان اور ہاتھی کے درمیان تصادم سب سے نمایاں مسئلہ ہے، جبکہ ببر شیر، تیندوا، سور، گینڈا، جنگلی سور، گور (جنگلی بیل)، بندرکی نسل کے جانوروں اور دیگر جنگلی حیات سے تصادم سے متعلق واقعات سے نمٹنے کے لیے ہر علاقے کے حالات کے مطابق مخصوص انتظامی حکمتِ عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیر اعظمِ ہند نے نیشنل بورڈ فار وائلڈلائف کے ساتویں اجلاس میں ساکون ، ڈبلیو آئی آئی جنوبی مرکز، کوئمبٹور میں انسانوں اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کے مرکزِامتیاز (سی او ای- ایچ ڈبلیو سی) کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ یہ مرکز سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراع، پالیسی معاونت، استعداد سازی اور مقامی برادری پر مبنی اقدامات کے ذریعے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے مؤثر نظم کے لیے ایک قومی ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے 10 جولائی 2026 کو  نیشنل ہیومن – وائلڈ لائف کنفلیکٹ پورٹل کے آغاز کو بھی زیر غور لایا۔ یہ ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے تصادم کے واقعات کا اندراج، اعداد و شمار کا نظم، معلومات اور تجربات کا تبادلہ اور فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کی جائے گی۔ مزید بتایا گیا کہ جنوبی ہند میں ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے علاقائی عملی منصوبے (آر اے پی) کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

آسام، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور اتر پردیش کی ریاستوں نے اجلاس میں اپنے اپنے تجربات اور اقدامات پر مبنی تفصیلی پریزنٹینشز دیں۔ ان میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کی صورتِ حال، اس کے تدارک کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات، مقامی برادری کی شمولیت، ٹیکنالوجی کے استعمال، ادارہ جاتی انتظامات اور قومی سطح پر کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کی گئیں۔ ان پیشکشوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مختلف علاقوں کے حالات کے مطابق منصوبہ بندی، فوری ردِعمل کے مؤثر نظام، قدرتی پناہ گاہوں کی بہتری، جنگلی حیات کی نقل و حرکت کے محفوظ راستوں کا تحفظ، سائنسی نگرانی، بروقت انتباہی نظام، مقامی برادری کی فعال شمولیت اور ریاستوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے مؤثر تدارک کے لیے نہایت اہم ہیں۔

بات چیت کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ضروری ہے، جس میں قدرتی ماحول کے تحفظ کے ساتھ ہی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جائے۔ کمیٹی کے ارکان نے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)، مصنوعی ذہانت، ڈرون، ریڈیو ٹیلی میٹری اور پیش گوئی پر مبنی تجزیاتی نظام جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کے استعمال پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی میدان میں خدمات انجام دینے والے عملے کی استعداد میں اضافہ، معاوضے کی بروقت اور مؤثر ادائیگی، عوامی آگاہی کو فروغ دینے اور جنگلی حیات کے تحفظ میں مقامی برادری کی فعال شمولیت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002ABV4.jpg

چھ ریاستوں کی جانب سے پریزنٹیشنز کی اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. آسام: حکومت آسام نے ہاتھیوں، ببر شیروں، تیندوؤں، گینڈوں، جنگلی بھینسوں اور جنگلی سوروں سے متعلق انسان اور جنگلی حیات کے تصادم میں کمی لانے کے لیے اپنے علاقائی صورت حال کی حکمتِ عملی پر مبنی اقدامات پیش کیے۔ ریاست نے بتایا کہ مختلف خطوں کے لیے مخصوص عملی منصوبے تیار کرنے کی غرض سے زونل انسان-جنگلی حیات کے تصادم کاخطرہ کم کرنے والی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ان منصوبوں میں فطری آماج گاہوں کی بحالی، جنگلی حیات کی نقل و حرکت کے راستوں کا تحفظ، بروقت انتباہی نظام، فوری راحت رسانی کارروائیاں، مقامی برادری کی شمولیت اور روزگار کے متبادل ذرائع کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ مشاروتی کمیٹی نے اس زونل منصوبہ بندی کے طریقۂ کار کی ستائش کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے نتائج کو باقاعدہ طور پر دستاویزی شکل دی جائے، تاکہ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے تصادم سے متاثرہ دیگر علاقوں میں بھی اس ماڈل کو اپنایا جا سکے۔
  2. کرناٹک: کرناٹک نے انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم کی پیشگی روک تھام کے لیے اپنے جامع چھ نکاتی  ماڈل کو پیش کیا، جس میں انجینئرنگ پر مبنی حفاظتی اقدامات، مصنوعی ذہانت سے آراستہ نگرانی، کمانڈ مراکز، فوری راحت رسانی دستے، مقامی رضاکاروں کے نیٹ ورک اور ای-پریہارا کے نام سے معاوضے کا ڈیجیٹل نظام  سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔ ریاست نے نیشنل ہیومن – وائلڈ لائف کنفلیکٹ مشن کے قیام، یکساں معیاری عملی طریقۂ کار، جنگلی حیات کی نقل و حرکت کے قدرتی راستوں کی بحالی اور ریاستوں کے مابین نقل و حرکت کرنے والے ہاتھیوں کے مؤثر انتظام کے لیے باہمی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کی بھی تجویز دی۔  مشاروتی کمیٹی نے کرناٹک کے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار کی ستائش کی اور اس کی کامیاب حکمت عملیوں کو دیگر ریاستوں تک پہنچانے کی سفارش کی۔
  3. کیرالہ: ریاست نے انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے مسئلہ سے نمٹنے کے لیے اپنے جامع ادارہ جاتی نظام سے آگاہ کیا، جس کے تحت اس مسئلے کو ریاستی نوعیت کی آفت شمار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فوری راحت رسانی دستے، ابتدائی ردِعمل کی ٹیمیں، تصادم سے متاثرہ 273 پنچایتوں کی نشاندہی، جن جاگرتھا سمیتی اور سارپا والینٹر پروگرام جیسے عوامی شمولیت پر مبنی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ ریاست نے جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت کے قدرتی راستوں کی بحالی،  فطری آماج گاہوں کے بہتر انتظام، سیاحت اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ذمہ دارانہ نگرانی کے نظام پر بھی روشنی ڈالی۔ مشاورتی کمیٹی نے مضبوط ادارہ جاتی اور عوامی شراکت پر مبنی کیرالہ کے ماڈل کی ستائش کرتے ہوئے دیگر ریاستوں کے ساتھ اس کے کامیاب تجربات کے تبادلے کی تائید کی۔
  4. مدھیہ پردیش: مدھیہ پردیش نے ‘‘ تدارک سب سے پہلے’’ کے عنوان سے اپنا ماڈل پیش کیا، جس میں مصنوعی ذہانت سے آراستہ نگرانی، جی پی ایس کے ذریعے جانوروں کی نگرانی، ڈرون، گج رکشک نظام، فوری راحت رسانی دستے، مختلف جانوروں کے لیے الگ الگ معیاری عملی طریقۂ کار، مقررہ مدت میں معاوضے کی ادائیگی اور باگھ متر، ہاتھی متر اور ماحولیاتی ترقیاتی کمیٹیوں کے ذریعے عوامی شمولیت کے اقدامات شامل ہیں۔ ریاست نے فطری آماج گاہ کے انتظام، جنگلی حیات کی صحت کے تحفظ اور سائنسی بنیادوں پر جنگلی جانوروں کے انتظام، بشمول تصادم کا سبب بننے والے جانوروں کی مناسب مقامات پر منتقلی، پر بھی روشنی ڈالی۔مشاورتی کمیٹی نے ٹیکنالوجی، عوامی شمولیت اور بروقت امدادی اقدامات کے مؤثر امتزاج کی ستائش کی اور تصادم کی پیشگی روک تھام کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
  5. اتراکھنڈ: ریاست نے ترجیحی علاقوں میں انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے واقعات میں کمی لانے کے لیے اپنی جامع حکمتِ عملی پیش کی، جس میں مربوط کمانڈ اور کنٹرول مرکز، چوبیس گھنٹے فعال ہیلپ لائن (1926)، الیکٹرانک نگرانی، جی پی ایس کے ذریعے نگرانی، فطری آماج گاہوں کی بحالی، حیاتیاتی باڑ، بروقت معاوضے کی فراہمی اور دیہات کی سطح پر رضاکاروں کے نیٹ ورک قائم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ ریاست نے ‘‘ تیندوؤں اور ببر شیروں کے ساتھ بقائے باہمی’’ کے اقدام کے تحت جنگلی حیات کے موافق مخصوص علاقائی منصوبہ بندی، ضلعی نگرانی کمیٹیوں اور انسانوں و جنگلی حیات کے پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے لیے اپنی طویل مدتی حکمتِ عملی بھی پیش کی۔ کمیٹی نے اتراکھنڈ کے جامع علاقائی نقطۂ نظر کی ستائش کی اور ٹیکنالوجی پر مبنی بروقت انتباہی نظام اور مقامی برادری کی بہتر تیاری کی اہمیت پر زور دیا۔
  6. اتر پردیش: اتر پردیش نے بتایا کہ ریاست میں انسانوں اور جنگلی  جانوروں  کے درمیان تصادم کے زیادہ تر واقعات تیندوؤں سے متعلق ہیں، جبکہ ترائی علاقہ اس سلسلے کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے۔ ریاست نے فوری راحت رسانی دستوں، چار راحت رسانی  و بچاؤ مراکز کے قیام، شمسی توانائی سے چلنے والی حفاظتی باڑ، بروقت انتباہی نظام، مقامی رضاکار پروگرام، سائنسی نگرانی اور محفوظ جنگلوں سے باہر بھی جنگلی حیات کے تحفظ کے اقدامات پر مبنی اپنی حکمت عملی پیش کی۔ مشاورتی کمیٹی نے سائنسی بنیادوں پر انتظام کے لیے ریاست کی کوششوں کی ستائش کی اور جانوروں کےتصادم سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں عوامی شمولیت پر مبنی تدارکی اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003TAY0.jpg

مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی، جناب بھوپیندر یادو نے ریاستوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئےکہا کہ انسانوں اور جنگلی جانوروں  کے درمیان تصادم جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایسی متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے، جس میں سائنسی بنیادوں پر انتظام، ادارہ جاتی ہم آہنگی، ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی اور مقامی برادری کی فعال شمولیت کا امتزاج ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ہیومن – وائلڈ لائف کنفلیکٹ پورٹل اور مرکزِ امتیاز اس سلسلے میں ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ فراہم کریں گے، جس کی مدد سے اعداد و شمار پر مبنی حکمت عملیاں تیار کی جا سکیں گی، علم اور تجربات کے تبادلے کو فروغ ملے گا اور ریاستوں کو بہترین طریقۂ کار اپنانے میں خاطر خواہ معاونت حاصل ہوگی۔ اس سے قبل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی جناب کیرتی وردھن سنگھ نے تجویز پیش کی کہ  فطری آماج گاہوں کی گنجائش کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متعلقہ ماحولیاتی نظام جنگلی حیات کی موجودہ آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ وسائل رکھتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مطالعے سے وسائل میں اضافے کی بہتر منصوبہ بندی اور انسانوں و جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے مسئلہ سے مؤثر طور پرنمٹنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس کا اختتام ارکانِ پارلیمان کے تفصیلی تبادلۂ خیال کے ساتھ ہوا، جس میں انسان اور جنگلی حیات کے درمیان تصادم میں خاطر خواہ کمی لانے کے لیے قومی اور ریاستی سطح پر اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا، تاکہ  ہندوستان کے قیمتی جنگلی حیات کے ورثے کے طویل مدتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

*********

 ش ح۔م ش ع۔ش ت

Urdu No-1358


(रिलीज़ आईडी: 2294732) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Manipuri , Assamese , Bengali , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam