پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
ہندوستان کا ایتھنول آمیزہ پٹرول پروگرام غذائی تحفظ، کسانوں کی فلاح و بہبود اور توانائی کے تحفظ کے درمیان مؤثر توازن برقرار رکھتا ہے
اگر پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش نہ کی جاتی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران پٹرول کی قیمت تقریباً 125 روپے فی لیٹر ہوتی
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 12:17PM by PIB Delhi
ایتھنول آمیزش والاپٹرول (ای بی پی) پروگرام ہندوستان کا ایک اہم قومی اقدام ہے، جس کا مقصد ملک کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، درآمدی خام تیل پر انحصار کم کرنا، کسانوں کی معاونت کرنا اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ حال ہی میں اس پروگرام سے متعلق بعض دعووں میں نامکمل اور گمراہ کن معلومات پیش کی گئی ہیں۔ ذیل میں ان نکات کی وضاحت کرتے ہوئے حقائق بیان کیے جا رہے ہیں۔
دعویٰ: حکومت نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کا 37 روپے فی کلو والا چاول ڈسٹلریوں کو 23 روپے فی کلو گرام کے حساب سے فروخت کیا، جس سے 10 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ایتھنول، پٹرول کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہے، اس لیے ای-20 صرف ٹیکس دہندگان کی فراہم کردہ سبسڈی کے سہارے ہی برقرار ہے۔
غذائی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں — ایتھنول کی پیداوار غریبوں کے حصے کا اناج نہیں لیتی
- یہ الزام نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ حقیقت کو بھی مکمل طور پربرعکس انداز میں پیش کرتا ہے۔
- حکومت کی جانب سے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خریدا جانے والا ہر دانہ سب سے پہلے عوامی تقسیم کے نظام (پی ڈی ایس)، قومی غذائی تحفظ قانون (این ایف ایس اے)، مختلف فلاحی اسکیموں اور لازمی بفر ذخائر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کے غذائی تحفظ کو یقینی بنائے بغیر ایم ایس پی پر خریدا گیا ایک دانہ بھی ایتھنول کی تیاری کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔
- تمام غذائی ضروریات پوری ہونے کے بعد محکمہ خوراک و عوامی تقسیم کی جانب سے اضافی قرار دیے گئے ذخائر ہی ایتھنول کی تیاری کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
- حقیقت یہ ہے کہ ایتھنول پروگرام میں بنیادی طور پر خرابہ ہو چکے اناج، ٹوٹا ہوا چاول اور وہ غذائی اجناس استعمال کیے جاتے ہیں جو انسانی استعمال کے قابل نہ ہو اور جو بصورت دیگر گوداموں میں ضائع ہوجاتےہیں۔
- یہ غریبوں کے حصے کا کھانا چھیننے کا عمل نہیں، بلکہ ضائع ہونے والے وسائل کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے، درآمدی انحصار کم کرنے اور ہندوستانی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کرنے کی ایک مؤثر کوشش ہے۔
- اس کے علاوہ یہ پروگرام اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ پردھان منتری جی-وان یوجنا کے تحت ہندوستان زرعی باقیات سے2جی(دوسری نسل) کے ایتھنول کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جس سے غذائی اجناس پر انحصار مزید کم ہو جائے گا۔
- حقائق بالکل واضح ہیں: حکومت سب سے پہلے غذائی تحفظ کے لیے درکار ہر دانے کو محفوظ بناتی ہے اور اس کے بعد ہی اضافی اور ناقابلِ استعمال ذخائر کو صاف توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ نہ صرف غلط ہے بلکہ ان حفاظتی اقدامات کو بھی نظر انداز کرتا ہے ،جن کی بدولت ہندوستان کا ایتھنول پروگرام دنیا کے سب سے زیادہ ذمہ دارانہ پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔
چاول پر کوئی خصوصی رعایت نہیں
- اس دعوے سے تاثر ظاہر ہوتا ہے کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کا چاول ایتھنول تیار کرنے والوں کو غیر معمولی طور پر کم قیمت پر فروخت کیا گیا، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔
- ایف سی آئی کا چاول ایتھنول کی تیاری کے لیے منظور شدہ متعدد خام مال میں سے صرف ایک ہے اور اس کی قیمت بھی حکومت کے اسی یکساں قیمت کے نظام کے تحت مقرر کی جاتی ہے جو دیگر تمام خام مال پر یکساں طور پر نافذ ہوتا ہے۔
|
فیڈ اسٹاک(ای ایس وائی 26-2025)
|
ادا کی گئی ایتھنول کی قیمت
|
|
مکئی
|
71.26؍روپے فی لیٹر
|
|
گنے کا رس/شربت
|
65.61؍روپے فی لیٹر
|
|
خراب شدہ غذائی اجناس
|
64.00؍روپے فی لیٹر
|
|
بی بھاری گڑ
|
60.73؍روپے فی لیٹر
|
|
ایف سی آئی چاول
|
60.32؍روپے فی لیٹر
|
|
سی- بھاری گڑ
|
57.97؍روپے فی لیٹر
|
یہ پروگرام صرف چاول پر منحصر نہیں ہے، بلکہ ایتھنول کی تیاری کے لیے وہی منظور شدہ خام مال استعمال کیا جاتا ہے جو دستیاب ہو۔
- ایتھنول سپلائی سال (ای ایس وائی) 24-2023 میں ایف سی آئی کے چاول کا حصہ نہ ہونے کے برابر، یعنی صرف 0.02 فیصد تھا۔
- ای ایس وائی 26-2025 میں اس کا حصہ بڑھ کر 24.64 فیصد ہوا، کیونکہ غذائی تحفظ کی تمام ضروریات پوری ہونے کے بعد ایف سی آئی کے اضافی ذخائر دستیاب ہوئے۔
- اسی عرصے کے دوران مکئی کا حصہ 42.6 فیصد سے کم ہو کر 35.96 فیصد رہ گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پیداوار کرنے والے دستیابی کے مطابق مختلف منظور شدہ خام مال کے درمیان تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔
- ایتھنول کی پیداوار سستے چاول پر مبنی نہیں ہے، بلکہ مختلف منظور شدہ خام مال کے ایک لچکدار امتزاج پر انحصار کرتی ہے۔ ایف سی آئی کا چاول صرف اسی وقت استعمال کیا جاتا ہے جب غذائی تحفظ کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد اس کے اضافی ذخائر باضابطہ طور پر دستیاب قرار دیے جائیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ایتھنول سستا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس سےہندوستان زیادہ محفوظ ہوا؟
- اصل سوال یہ ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کے دوران پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش نہ ہوتی توہندوستانی صارفین کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑتی؟
- جب ہندوستانی خام تیل کی اوسط قیمت تقریباً 135 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، تو اندازہ تھا کہ ایتھنول کی آمیزش کے بغیر دہلی میں پٹرول کی قیمت تقریباً 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی۔
- اس کے برعکس صارفین نے 94.77 روپے فی لیٹر ادا کیے، کیونکہ ہر لیٹر پٹرول کا 20 فیصد حصہ ملک میں تیار کردہ ایتھنول پر مشتمل تھا، جو پہلے سے طے شدہ اور مستحکم قیمتوں پر خریدا گیا تھا اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے محفوظ تھا۔
- نتیجتاً بحران کے عروج کے دوران صارفین کو پٹرول پمپ پر تقریباً 30 روپے فی لیٹر کی بچت ہوئی۔
- یہی ایتھنول آمیزش کی حقیقی اہمیت ہے۔ اس کا مقصد ہر روز سب سے سستا ایندھن فراہم کرنا نہیں، بلکہ عالمی تیل منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ سےہندوستانی صارفین کو تحفظ فراہم کرنا،ہندوستان کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا اور ملک کے ایندھن پر ہونے والے زیادہ سے زیادہ اخراجات کو بیرون ملک جانے کے بجائے ملکی معیشت کے اندر برقرار رکھنا ہے۔
اس پروگرام کے نتائج خود اس کی کامیابی کا ثبوت ہیں۔ ایتھنول آمیزہ پٹرول (ای بی پی) پروگرام کے ذریعے اب تک:
- 1.97 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی؛
- 316 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ خام تیل کی درآمدات کا متبادل فراہم کیا گیا؛
- 950 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کے اخراج میں کمی آئی؛ اور
- کسانوں اور ڈسٹلریوں کو 1.66 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جس سے زرعی پیداوار کے لیے ایک مستحکم مقامی منڈی وجود میں آئی۔
- ایتھنول آمیزش کا بنیادی مقصد درآمد شدہ خام تیل پرہندوستان کا انحصار کم کرنا ہے، جو اب بھی ملک کی تقریباً 88 فیصد تیل کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک آنے والے جھٹکوں سے تحفظ فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، نہ کہ روزمرہ کی بنیاد پر قیمتوں کا مقابلہ کرنے کا۔
ایتھنول آمیزش ٹیکس دہندگان کے لیے کوئی سبسڈی نہیں، بلکہ ہندوستان کی توانائی کے تحفظ کی ضمانت ہے اور بحران کے وقت اس نے اپنی افادیت ثابت بھی کر دی ہے۔
**********
ش ح۔م ع ن۔ ت ع
U- 1025
(रिलीज़ आईडी: 2292459)
आगंतुक पटल : 6