وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

27ویں کرگل وجے دیوس کے موقع پر دراس میں وزیرِ دفاع: آپریشن سندور پاکستان کی ہر مذموم مہم جوئی کا فیصلہ کن جواب دینے کی بھارت کی صلاحیت کا ثبوت

’’پاکستان کے ساتھ اگر کوئی بات چیت ہوگی تو اس کا واحد موضوع پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) ہوگا، جو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘

’’بھارت ترقی اور اختراع کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی اور دراندازی کو فروغ دیتا ہے‘‘

’’’یہ دل مانگے مور‘ کا جذبہ دفاعی شعبے میں آتم نربھر بھارت کے عزم کو مزید تقویت دے رہا ہے‘‘

’’وکست بھارت@2047 صرف معاشی خوشحالی کا تصور نہیں، بلکہ یہ تزویراتی قوت، ثقافتی وقار اور سماجی ہم آہنگی سے وابستہ ایک پختہ عہد بھی ہے‘‘

प्रविष्टि तिथि: 26 JUL 2026 12:25PM by PIB Delhi

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’آپریشن سندور کی کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کی ہر مہم جوئی کا اس کی توقعات سے کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی اور اگر کوئی مذاکرات ہوئے بھی تو ان کا واحد موضوع پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) ہوگا، جسے انہوں نے بھارت کا اٹوٹ حصہ قرار دیا جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ 26 جولائی 2026 کو دراس میں 27ویں کرگل وجے دیوس کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ بھارت کی خودمختاری کے خلاف کی جانے والی ہر مذموم کارروائی کا اسی عزم اور مضبوطی کے ساتھ جواب دیا جائے گا، جس طرح بھارتی مسلح افواج نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مؤثر اور فیصلہ کن جواب دیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001O9A2.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان فرق تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس نے دہشت گردی کو اپنی ریاستی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’پاکستان کی فوج نہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتی ہے بلکہ ان کے ساتھ مل کر کام بھی کرتی ہے۔ اسی لیے آپریشن سندور کے دوران ہم نے واضح کر دیا تھا کہ بھارت اب دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی حکومتوں کو الگ الگ نہیں سمجھتا۔‘‘

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ کرگل جنگ کو 27 برس گزر چکے ہیں اور اس عرصے میں بھارت اور پاکستان کے راستے یکسر مختلف ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’جہاں بھارت اختراع اور جدت کے نئے افق تلاش کر رہا ہے، وہیں پاکستان دراندازی کے نئے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ بھارت چِپ ڈیزائن کر رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بھارت ایک مضبوط اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کا ماحولیاتی نظام پروان چڑھا رہا ہے۔ بھارت سیمی کنڈکٹر تیار کر رہا ہے، جبکہ پاکستان خودکش حملہ آور تیار کر رہا ہے۔ بھارت خلائی مشنوں کی بدولت دنیا میں پہچانا جاتا ہے، جبکہ پاکستان پراکسی مشن چلا رہا ہے۔ بھارت خلا میں سیٹلائٹ بھیج رہا ہے، جبکہ پاکستان سرحد پار دہشت گرد بھیجنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ بھارت دنیا کو سافٹ ویئر فراہم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان سلیپر سیلز برآمد کر رہا ہے۔ بھارت جدید ڈیٹا سینٹر قائم کر رہا ہے، جبکہ پاکستان انتہاپسندی کو فروغ دینے والے مراکز قائم کر رہا ہے۔ بھارت یو پی آئی کے ذریعے دنیا کو باہم جوڑ رہا ہے، جبکہ پاکستان دہشت گردی کو حوالہ نیٹ ورکس سے جوڑنے میں مصروف ہے۔‘‘

انہوں نے کہا: ’’مختصراً یہ کہ ہمارے راستے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اگر پاکستان اپنی مذموم سازشوں کے ذریعے ہماری ترقی اور خوشحالی کے سفر میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو ہماری مسلح افواج اسے منہ توڑ اور مؤثر جواب دینے کے لیے ہر وقت پوری طرح تیار ہیں۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0026GHL.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ مرکزی حکومت میں یہ مضبوط سیاسی عزم موجود ہے کہ وہ مسلح افواج کو ہر خطرے کا مؤثر اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل آزادی دے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ جب تک بھارتی فوجی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، کوئی بھی دشمن بھارت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔

وزیرِ دفاع نے 1999 کی کرگل جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بھارت کے بہادر سپاہیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان بے شمار جانبازوں کو یاد کیا، جن میں پرم ویر چکر سے سرفراز کیپٹن وکرم بترا اور کیپٹن منوج کمار پانڈے بھی شامل ہیں، جو آج بھی پوری قوم، خصوصاً نوجوانوں، کے لیے باعثِ ترغیب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرگل وجے دیوس ہر اس نوجوان کے لیے تحریک کا دن ہے جو ذاتی کامیابی اور قومی فرض کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ ’قربانی‘ اور ’خدمت‘ کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کی حقیقی بنیاد ہوتا ہے۔‘‘

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کرگل وار میموریل درحقیقت پورے بھارت کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ اس میں جن شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے وہ ملک کے ہر خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’تنوع کے باوجود اتحاد کی یہ دیوار ان تمام عناصر کے سامنے سربلند کھڑی ہے جو ہمیں نقصان پہنچانے کی ناپاک خواہش رکھتے ہیں۔‘‘

وزیرِ دفاع نے زور دے کر کہا کہ مغربی ایشیا اور روس۔یوکرین جنگ جیسے تنازعات نے نہ صرف مسلح افواج کی صلاحیتوں کا امتحان لیا ہے بلکہ اقوام کے حوصلے، صبر اور عزم کو بھی کسوٹی پر پرکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ بھارت کے پاس ایک مضبوط اور باصلاحیت فوج موجود ہے، لیکن قومی سلامتی کا تحفظ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے ’’قوم پہلے‘‘ کے جذبے، نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر بھارتی کے اندر ایک سپاہی جیسا شعور ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: ’’میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر شہری فوجی بن جائے، لیکن اگر کبھی ملک کو اپنے عوام کی براہِ راست یا بالواسطہ مدد کی ضرورت پیش آئے تو ہر بھارتی کو ذہنی، اخلاقی اور جسمانی طور پر وطن کے دفاع کے لیے آگے بڑھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ جس طرح ہر سپاہی سب سے پہلے ایک بھارتی ہوتا ہے، اسی طرح ایک سپاہی کی جرأت، نظم و ضبط اور حب الوطنی کا جذبہ ہر بھارتی کے اندر ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003VCV4.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ 2047 تک ’وکست بھارت‘ کا ویژن صرف معاشی خوشحالی تک محدود نہیں، بلکہ یہ تزویراتی طاقت، ثقافتی وقار اور سماجی ہم آہنگی کے عزم کا بھی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ویژن کو اسی وقت حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے جب قوم سازی کے ہر شعبے میں کرگل جنگ کے جانباز ہیروز کی طرح فرض شناسی، لگن اور ایثار کے جذبے کو اپنایا جائے۔

وزیرِ دفاع نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت قومی سلامتی اور فوجیوں کی فلاح و بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’کرگل جنگ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ہر موسم اور ہر حال میں اپنی سرحدوں پر مسلسل چوکس رہنا ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سرحدی بنیادی ڈھانچے کو مسلسل مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق مسلح افواج کی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی یکساں توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی عملی کارکردگی مزید مؤثر ہو سکے۔

کیپٹن وکرم بترا کے مشہور نعرے ’’یہ دل مانگے مور‘‘ سے تحریک لیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی پیداوار میں آتم نربھر بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے تیزی سے پیش رفت کی جا رہی ہے اور حکومت اس عمل کو مزید رفتار دینے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا: ’’جب ہماری حکومت اقتدار میں آئی تھی تو بھارت اپنی دفاعی ضروریات کا تقریباً 65 سے 70 فیصد سازوسامان درآمد کرتا تھا، لیکن آج ہم اپنے دفاعی آلات کا تقریباً 65 فیصد بھارت ہی میں تیار کر رہے ہیں۔ آج ہمارے فوجیوں کے پاس ملک میں تیار کردہ فضائی دفاعی کنٹرول نظام ’آکاش تیر‘ موجود ہے۔ ہم نے اگلی نسل کا ’آکاش‘ میزائل بھی تیار کر لیا ہے۔ بھارت کا پہلا مقامی طیارہ بردار بحری جہاز ’آئی این ایس وکرانت‘، ہلکا جنگی طیارہ ’تیجس‘، ہلکا جنگی ہیلی کاپٹر ’پرچنڈ‘، جدید ہلکا ہیلی کاپٹر ’دھرو‘، مرکزی جنگی ٹینک ’ارجن‘، ’پناکا‘ ملٹی بیرل راکٹ لانچر، ’استرا‘ فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل، نیز جدید ڈرون اور انسدادِ ڈرون نظام بھی ہماری مسلح افواج کی جنگی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ لیکن ’یہ دل مانگے مور‘۔ ہم بھارت ہی میں مزید جدید ہتھیار، اگلی نسل کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں اور میزائل تیار کرنے کے لیے مسلسل کام کرتے رہیں گے۔‘‘

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004AGIH.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0059735.jpg

اس موقع پر وزیرِ دفاع نے سینوٹاف (یادگارِ شہدا) پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور 1999 کے آپریشن وجے کے دوران مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا عظیم نذرانہ پیش کرنے والے جانباز شہداء کی یاد میں خاموشی اختیار کرکے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ونئے کمار سکسینہ، بری فوج کے سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ، شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، 14 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل مدن راج پانڈے اور 8 ماؤنٹین ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل اے پی سنگھ نے بھی جناب راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ کرگل جنگ کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس ’’شردھانجلی سماروہ‘‘ میں اعلیٰ فوجی اور سول حکام، کرگل جنگ کے سابق فوجی، بہادری کے اعزازات سے نوازے گئے فوجی، ویر ناریاں (شہداء کی بیوائیں)، شہداء کے اہلِ خانہ اور بڑی تعداد میں مقامی شہری بھی شریک ہوئے۔

وزیرِ دفاع نے مہمانوں کی یادداشت کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے اور دو جونیئر کمیشن یافتہ افسران کی جانب سے پیش کی گئی ’’گورو گاتھا‘‘ دیکھی، جس میں آپریشن وجے کے دوران بھارتی فوجیوں کی بے مثال بہادری، عزم اور ناقابلِ تسخیر حوصلے کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے ورچوئل واک تھرو پورٹل کا بھی افتتاح کیا، جسے اس مقصد سے تیار کیا گیا ہے کہ عام لوگ کرگل جنگ کی تاریخ اور اس کی عظیم وراثت سے زیادہ مؤثر انداز میں واقف ہو سکیں۔ اس کے علاوہ وزیرِ دفاع نے ہٹ آف ریمیمبرنس (یادگاری کٹیا) کا دورہ کیا اور ویر بھومی پر حاضری دے کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/WhatsAppImage2026-07-26at12.30.01PMRB4X.jpeg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image006QGSR.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image007KE06.jpg

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس موقع پر معزز مہمانوں، فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے چائے پر غیر رسمی ملاقات اور تبادلۂ خیال بھی کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ’’شوریہ وجے یاترا‘‘ نامی موٹر سائیکل ریلی کا استقبال کیا، جو کرگل وجے دیوس کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔ اس ریلی کو انہوں نے 14 جولائی 2026 کو نئی دہلی میں واقع نیشنل وار میموریل سے روانہ کیا تھا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0084NF6.jpg

جہاں وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے دراس میں مسلح افواج کے ساتھ کرگل وجے دیوس کی تقریبات کی قیادت کی، وہیں وزیرِ مملکت برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ نے نئی دہلی میں واقع نیشنل وار میموریل پر پھولوں کی چادر چڑھا کر مادرِ وطن پر اپنی جان نچھاور کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنیم، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، دفاعی سکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ اور بری فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سندیپ جین نے بھی بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0097LJ0.jpg

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image010IDQI.jpg

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno- 610

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2289585) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam