MIFF banner

انیسویں ممبئی بین الاقوامی فلمی میلے (مِف 2026) کا اختتام دستاویزی، مختصر افسانے اور اینی میشن فلموں میں عمدگی کے جشن کے ساتھ ہوا


بہترین بین الاقوامی دستاویزی فلم کا ایوارڈ پولش دستاویزی فلم ’سلور‘ کو دیا گیا

بہترین بین الاقوامی مقابلہ فلموں کے لیے سلور کونچ ’انڈر دی سنو‘ (مختصر افسانہ) اور ’مایا سونگ‘ (اینی میشن) کو دیا گیا

قومی مقابلوں کے لیے سلور کونچ ’آرمسٹرانگ فرام انگالامّن ٹیمپل اسٹریٹ‘ (اینی میشن)، ’سمال کلاؤڈز‘ (مختصر افسانہ) اور ’وائی‘ (دستاویزی) نے حاصل کی

مِف تخلیقی عمدگی کا عالمی تحریک بن گیا ہے، ”بھارت میں تخلیق کریں، دنیا کے لیے تخلیق کریں“ بھارت کی تخلیقی معیشت کو فروغ دیتا ہے: مہاراشٹر کے گورنر جِشنو دیو ورما

مہاراشٹر کے گورنر نے مِف کی اختتامی تقریب میں اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال اور فلم سازوں کے دانش ورانہ املاک کے تحفظ پر زور دیا

ممبئی، 21 جون 2026

انیسویں ممبئی بین الاقوامی فلمی میلے (مِف 2026) کا آج اختتام فلم سازوں، فلم کے شائقین، صنعت کے پیشہ ور افراد اور نوجوان تخلیقی ذہنوں کے پرجوش مجمع میں ہوا، جو سب سینما، کہانی سنانے، فن کارانہ کوششوں اور تخلیقی صلاحیتوں کے اپنے جذبے سے متحد تھے۔

دستاویزی، اینی میشن اور مختصر افسانے کی فلم سازی میں عمدگی کو تسلیم کرنے والے کل 17 ایوارڈز اختتامی تقریب میں پیش کیے گئے۔

بہترین بین الاقوامی دستاویزی فلم کا گولڈن کونچ ایوارڈ اور 10 لاکھ روپے کا نقد انعام (فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا) پولش دستاویزی فلم سلور کو گیا۔ پولش انسٹی ٹیوٹ کی وزیر پلینی پوٹینشیری اور ڈائریکٹر، محترمہ مالگورزاتا ویزس-گولبیاک نے محترمہ نیٹالیہ کونیاز اور فلم کے پروڈیوسر جناب میکیج کیوبکی کے ذریعے یہ اعلیٰ ایوارڈ وصول کیا۔

بہترین بین الاقوامی مختصر افسانہ فلم کے لیے سلور کونچ اور 5 لاکھ روپے کا نقد انعام ایرانی فلم انڈر دی سنو کو گیا۔ فلم کے پروڈیوسر جناب دیپانکر پرکاش نے فلم کی ہدایت کارہ محترمہ نافسہ زارے اور دوسری پروڈیوسر محترمہ کوتوکاتھرا پرکاش کے ذریعے ایوارڈ وصول کیا۔

بہترین بین الاقوامی اینی میشن فلم کے لیے سلور کونچ اور 5 لاکھ روپے کا نقد انعام (فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا) جرمن اینی میشن فلم مایا سونگ کو گیا۔ یہ ایوارڈ فلم کے ہدایت کاروں اور پروڈیوسر محترمہ فرانزِسکا شوننبرگر اور جناب جے کرشنن سبرا ملینئر کے ذریعے لیڈ اینی میٹر اور اسٹوڈیو کی نمائندہ محترمہ سانیکا کلکرنی نے وصول کیا۔

قومی مقابلہ کے تحت بہترین اینی میشن فلم کے لیے سلور کونچ اور 3 لاکھ روپے کا نقد انعام تامل زبان کی اینی میشن فلم آرمسٹرانگ فرام انگالامّن ٹیمپل اسٹریٹ نے حاصل کیا۔ ہدایت کار اور پروڈیوسر جناب بھونیش ایم کمار نے سلور کونچ ایوارڈ اور نقد انعام وصول کیا۔

بہترین بھارتی مختصر افسانہ فلم ایوارڈ اور 3 لاکھ روپے کا نقد انعام فلم اسمال کلاؤڈز نے حاصل کیا۔ ایف ٹی آئی آئی کے تیار کردہ اس فلم کا ایوارڈ ایف ٹی آئی آئی کے وائس چانسلر جناب دھیراج سنگھ اور ہدایت کار جناب شبھم سمت نے وصول کیا۔

بہترین بھارتی دستاویزی فلم ایوارڈ اور 5 لاکھ روپے کا نقد انعام (فلم کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا) دستاویزی فلم وائی کو گیا۔ ہدایت کار جناب سائناتھ ایس اوسیکر اور پروڈیوسر جناب بھارت بالا گنپتی کے ذریعے جناب جواہر شرما نے ایوارڈ وصول کیا۔

بین الاقوامی مقابلہ زمرے کے تحت بہترین سنیماٹوگرافر کا ایوارڈ بھارتی دستاویزی فلم ٹرٹل واکر کے لیے جناب کرِش ماکھیا کو دیا گیا۔

بین الاقوامی مقابلہ کے تحت بہترین ایڈیٹنگ کا ایوارڈ روس کی مختصر افسانہ فلم اباؤٹ دی کاؤ کے لیے محترمہ ایوجینی سمیرنوف اور جناب میکسیم سمیرنوف کو دیا گیا۔ فلم کے ہدایت کار جناب انتون سیموخین نے ایڈیٹر جوڑی کے ذریعے ایوارڈ وصول کیا۔

بین الاقوامی مقابلہ کے تحت بہترین ساؤنڈ ڈیزائنر کا ایوارڈ جناب ابھے رمودے (پرپل ہیز اسٹوڈیو) کو فلم دیوا آج پان وے کے لیے دیا گیا۔

”وِکست بھارت/ 150 سالہ وندے ماترم/ بھارت@2026“ پر بہترین مختصر فلم کا ایوارڈ دی لاسٹ شیلٹر نے جیتا۔ ایوارڈز جناب بھارت اروڑا اور جناب راجیش بھاٹیہ نے وصول کیے۔

سب سے زیادہ اختراعی/تجرباتی فلم کے لیے پرمود پتی خصوصی جیوری ایوارڈ تائیوان کی فلم دی ہورڈرز کو دیا گیا، اور اسے ہدایت کارہ محترمہ چوان-ینگ لیو نے حاصل کیا۔

قومی مقابلہ زمرے کے تحت بہترین ساؤنڈ ڈیزائن ایوارڈ فلم کوورتی کے لیے جناب بگینا داہل کو دیا گیا۔

قومی مقابلہ کے تحت بہترین ایڈیٹنگ ایوارڈ فلم مے ڈے کے لیے جناب اَکھل کرِشنن کو دیا گیا۔ ہدایت کار جناب سارتھ امبٹ نے ایڈیٹر جناب اَکھل کرِشنن کے ذریعے ایوارڈ حاصل کیا۔

قومی مقابلہ کے تحت بہترین سنیماٹوگرافر کا ایوارڈ فلم سمال کلاؤڈز کے لیے جناب رانا دِھر بِسواس نے حاصل کیا۔

بین الاقوامی فیڈریشن آف فلم کریٹکس کے ذریعے قائم کردہ FIPRESCI بین الاقوامی نقادوں کا انعام (FIPRESCI ایوارڈ) جناب پردیپ کینچنورُو کو ان کی فلم دی ہگ آف ایمپٹی نس کے لیے دیا گیا۔

بہترین طالب علم فلم کے لیے آئی ڈی پی اے ایوارڈ جناب میلن کمار کو فلم دی اولڈ بل نوز، اور ونس نیو کے لیے دیا گیا۔

دادا صاحب پھالکے چترناگاری ایوارڈ بہترین ڈیبیو ڈائریکٹر کے لیے محترمہ پوجا تولانی کو ان کی فلم ’رازہ‘ کے لیے دیا گیا۔

مہاراشٹر کے گورنر، جناب جِشنو دیو ورما، 19ویں مِف کی اختتامی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر موجود دیگر معززین میں پریس انفارمیشن بیورو کے پرنسپل ڈائریکٹر جنرل جناب دِھریندر اوجھا؛ اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب پربھات؛ معروف فلم ساز جناب آشوتوش گواریکر؛ فیسٹیول ڈائریکٹر اور این ایف ڈی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر جناب پرکاش ماگدم؛ حکومت مہاراشٹر کے سکریٹری برائے مراٹھی زبان و ثقافتی امور جناب کرن کلکرنی؛ مہاراشٹر کے گورنر کے جوائنٹ سیکرٹری جناب ایس. رامامورتی شامل تھے۔

PIB release image

مِف 2026 کی اختتامی مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، مہاراشٹر کے گورنر جناب جِشنو دیو ورما نے دستاویزی، مختصر افسانے اور اینی میشن فلموں کے لیے وقف دنیا کے سب سے معتبر پلیٹ فارمز میں سے ایک کے طور پر اس میلے کے شاندار سفر کو اجاگر کیا۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، مِف تخلیقی ذہنوں، کہانی کاروں اور وژنریوں کے لیے ایک متحرک اسٹیج کے طور پر کام کر رہا ہے، جو ایک قومی ایونٹ سے بڑھ کر فن کارانہ عمدگی، ثقافتی تنوع اور بامعنی کہانی سنانے کا جشن منانے والی ایک عالمی تحریک بن گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پچھلے پانچ ایڈیشنوں میں دیکھی گئی نمایاں ترقی، مِف کی بڑھتی ہوئی مطابقت اور بین الاقوامی حیثیت کی عکاسی کرتی ہے۔

گورنر نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ذریعے 1 مئی 2025 کو ممبئی میں شروع کیے گئے افتتاحی ورلڈ آڈیو ویژول اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ (ویوز) کا بھی حوالہ دیا۔ میڈیا، تفریح، اینی میشن، گیمنگ، ڈیجیٹل مواد اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا گیا، اس سمٹ نے 90 سے زائد ممالک کے تخلیق کاروں، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہ نماؤں کو ”تخلیق کاروں کو جوڑنا، ممالک کو جوڑنا“ کے موضوع کے تحت یکجا کیا۔ انھوں نے زور دیا کہ ویوز نے بھارت کی تخلیقی معیشت اور ڈیجیٹل کہانی سنانے کے لیے ایک عالمی مرکز بننے کی خواہش کو تقویت دی، جب کہ ”بھارت میں تخلیق کریں، دنیا کے لیے تخلیق کریں“ کے وژن کو آگے بڑھایا۔

PIB release image

تخلیقی یا ”اورنج اکانومی“ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، جناب جِشنو دیو ورما نے فلمی صنعت کو اس کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک قرار دیا۔ روزگار پیدا کرنے اور جدت طرازی کو فروغ دینے کے علاوہ، فلمیں نرم طاقت کے طاقت ور آلات کے طور پر کام کرتی ہیں، جو قوموں کو اپنی اقدار، روایات اور عزائم کو عالمی سامعین تک پہنچانے کے قابل بناتی ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر دستاویزی فلموں کی ستائش کی کہ وہ حقیقت کو گرفت میں لینے، تاریخ کو محفوظ کرنے، مفروضات کو چیلنج کرنے اور سماجی تبدیلی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مہاراشٹر کے گورنر نے مختصر فلموں اور اینی میشن کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ جب کہ مختصر فلمیں تجربہ اور ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں، اینی میشن تعلیم، مواصلات، ثقافتی تحفظ اور تخلیقی اظہار کے لیے ایک طاقت ور ذریعہ بن گئی ہے۔ ٹیکنالوجی اور تخیل کے ذریعے، اینی میشن پیچیدہ خیالات کو دل کش اور عالمی سطح پر قابل رسائی طریقوں سے پہنچانے میں مدد کرتا ہے۔

اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہ ممبئی اس اہم بین الاقوامی ثقافتی ایونٹ کی میزبانی جاری رکھے ہوئے ہے، انھوں نے سینما، فنون اور تخلیقی صلاحیتوں کے مرکز کے طور پر مہاراشٹر کی پوزیشن کی تصدیق کی۔ انھوں نے نوجوانوں، خاص طور پر دیہی اور قبائلی برادریوں سے تعلق رکھنے والے، اور خواتین فلم سازوں کو اپنی منفرد کہانیاں بانٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی اپیل کی۔ ٹیکنالوجی کو ایک بڑا سہولت کار تسلیم کرتے ہوئے، انھوں نے مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال پر زور دیا اور فلم سازوں کی دانش ورانہ املاک کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ تمام ایوارڈ یافتگان اور شرکا کو مبارکباد دیتے ہوئے، انھوں نے زور دیا کہ بامعنی کہانی سنانا مکالمے،  ہم دردی اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے ایک طاقت ور قوت بنی ہوئی ہے۔

PIB release image

اپنے استقبالیہ خطبہ میں، اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری جناب پربھات نے کہا کہ اس ہفتے مختلف مقامات پر سامعین کے ذریعے ملنے والے ردعمل نے دستاویزی فلموں، مختصر افسانوں اور اینی میشن سمیت غیر فیچر سینما کی پائیدار مطابقت کی تصدیق کی ہے، اور یہ فلمی میلے کی کام یابی کا حقیقی پیمانہ ہے۔

نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈی سی) کے مینیجنگ ڈائریکٹر جناب پرکاش ماگدم نے مِف رپورٹ بھی رسمى طور پر جاری کی۔ اپنے خطاب میں، جناب ماگدم نے کہا کہ سب سے طاقت ور سچائیاں سب سے بڑی اسکرینوں پر نہیں، بلکہ سب سے چھوٹی، سب سے ایمان دار فریموں پر بیان کی جاتی ہیں۔ دستاویزی فلمیں، مختصر افسانے اور اینی میشن وہ فارم ہیں جو دنیا کی حقیقتوں سے منھ نہیں موڑتے، بلکہ وہ اثر کو سامعین پر منعکس کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مِف 2026 کو دنیا بھر سے 1,459 فلموں کی اندراجات کے ساتھ زبردست ردعمل ملا۔ مقابلہ سیکشن میں 144 فلمیں شامل تھیں، جن میں 52 بین الاقوامی اور 92 قومی اندراجات شامل تھیں، جو 13 ممالک کے فلم سازوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ غیر مقابلہ سیکشن میں کل 202 فلمیں شامل تھیں، جن میں 106 بین الاقوامی ٹائٹلز اور 46 شریک ممالک کی 96 قومی فلمیں شامل تھیں، جن میں مجموعی طور پر 83 گھنٹے سے زیادہ کی اسکریننگ پیش کی گئی۔ یہ سیکشنز 24 کیوریٹڈ سیگمنٹس میں منظم کیے گئے تھے، جن میں موزائیک، بیسٹ آف فیسٹ، بوسان نیکسٹ ویو، آسکر ونرز، ریمنڈ کروم ریٹرو اسپیکٹیو، این ایف ڈی سی شوکیس، ایکوز فرام نارتھ ایسٹ، اور مراٹھی فلمیں، افی سی ایم او ٹی، دیگر کے علاوہ، ایک ہی پلیٹ فارم پر ایوارڈ یافتہ کاموں، ابھرتے ہوئے آوازوں اور علاقائی طور پر جڑی ہوئی کہانیوں کو یکجا کیا۔ ماسٹر فلم ساز ڈیوڈ ایٹنبرو کو ’سنچری ٹریبیوٹ‘ کے تحت ان کی دو فلموں کی اسکریننگ کے ساتھ اعزاز سے نوازا گیا۔ ’خراج عقیدت‘ سیکشن میں ماسٹر مائنڈز شیام بینیگل، فوٹوگرافر رگھو رائے، اور دستاویزی ماسٹر فریڈرک وائز مین کی فلمیں دکھائی گئیں، جن کے کاموں نے سامعین کو یاد دلایا کہ غیر فیچر سینما کیوں قائم رہتا ہے، جیسا کہ ایم ڈی، این ایف ڈی سی نے بیان کیا۔ اس ایڈیشن میں مِف نے دو نئے کیوریٹڈ سیکشنز بھی متعارف کرائے، ’ایکوز فرام نارتھ ایسٹ‘، جو خطے کی سات فلموں کی نمائش کرتا ہے، اور ’مراٹھی فلمیں‘، جس میں فلم سٹی مہاراشٹر کے تعاون سے 19 فلمیں پیش کی گئیں - بھارتی سینما کے اندر متنوع علاقائی آوازوں کا جشن منانے کے مِف کے عزم کو تقویت ملی۔

 ممبئی بین الاقوامی فلمی میلے کے 19ویں ایڈیشن کےاختتام پذیر ہوا، اس میں کہانی سنانے، تخلیقی صلاحیتوں اور سینما کی عمدگی کی روح فلم سازوں اور سامعین کو متاثر کرتی رہی۔ اگر فلمیں روح کے لیے خوراک ہیں، تو مِف نے ایک بار پھر ذہنوں کو طاقت ور بیانیوں، متنوع نقطہ نظر اور تبدیلی کے خیالات سے سیراب کیا ہے۔ جب کہ یہ باب اختتام پذیر ہوتا ہے، بامعنی سینما کے جشن کا سفر جاری ہے۔ فلم کے شائقین اب 57ویں بین الاقوامی فلمی میلے (اِفی) اور 2028 میں مِف کے اگلے ایڈیشن کا انتظار کریں گے، جب پردے ایک بار پھر دنیا بھر کے کہانی کاروں کا خیرمقدم کرنے کے لیے اٹھیں گے اور فلموں کی جڑنے، متاثر کرنے اور دیرپا اثر پیدا کرنے کی پائیدار طاقت کی تصدیق کریں گے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 9007


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2276355   |   Visitor Counter: 7

इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English , Marathi , Gujarati , Odia