پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 مغربی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر بین وزارتی بریفنگ


ایئرلائنز کی معاونت کے لیے اے ٹی ایف قیمتوں کے استحکام کا فنڈ؛ ملک بھر میں بلا تعطل فضائی رابطے برقرار رکھنے میں مدد

تمام ریفائنریاں اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں، خام تیل کے وافر ذخائر موجود؛ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کا کافی ذخیرہ دستیاب

گزشتہ 3 دنوں کے دوران تقریباً 1.50 کروڑ سلنڈروں کی بکنگ کے مقابلے میں 1.43 کروڑ گھریلو ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے گئے

3 جون 2026 تک 80,400 سے زائد پی این جی صارفین نے مائی پی این جی ڈی ڈاٹ ان ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن واپس کیے

خطے میں موجود تمام ہندوستانی ملاح محفوظ؛ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہندوستانی پرچم بردار تجارتی جہازوں یا غیر ملکی پرچم بردار جہازوں پر موجود ہندوستانی ملاحوں سے متعلق کسی واقعے کی اطلاع نہیں

کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک؛ 13 ہندوستانی شہری زخمی؛ ہندوستانی مشن ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے

प्रविष्टि तिथि: 04 JUN 2026 6:19PM by PIB Delhi

مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان، حکومت ہند شہریوں کو باقاعدہ تازہ معلومات فراہم کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں آج نیشنل میڈیا سینٹر میں ایک میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہون کی وزارت اور وزارتِ خارجہ کے افسران نے ایندھن کی دستیابی، بحری سرگرمیوں، خطے میں موجود ہندوستانی شہریوں کی معاونت اور اہم شعبوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ وزارتِ شہری ہوابازی نے بھی اے ٹی ایف قیمتوں کے استحکام فنڈ کے بارے میں میڈیا کو بریف کیا۔

اے ٹی ایف قیمت استحکام کے اقدامات

وزارتِ شہری ہوابازی نے بتایا کہ مرکزی کابینہ نے شیڈولڈ ہندوستانی ایئرلائنز کو ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں استحکام فراہم کرنے کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے تک کے ایک مرتبہ کے بجٹ امدادی نظام کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ وسیع تر عوامی مفاد میں کیا گیا ہے تاکہ فضائی رابطے کا تحفظ کیا جا سکے، فضائی خدمات میں استحکام یقینی بنایا جا سکے اور مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث عالمی ایندھن قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے مسافروں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ:

منظور شدہ نظام ایک عارضی اور خودکار توازن رکھنے والے انتظام کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کو بلا سود پیشگی رقم فراہم کرے گی، جس سے وہ شریک ہندوستانی ایئرلائنز کو ملکی اور بین الاقوامی آپریشنز کے لیے پہلے سے طے شدہ اور مستحکم قیمتوں پر اے ٹی ایف فراہم کر سکیں گی۔ جب بھی عالمی سطح پر اے ٹی ایف کی قیمتیں مقررہ معیار سے بڑھ جائیں گی، فنڈ او ایم سیز کو قیمت کے فرق کی تلافی کرے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ جب ایندھن کی قیمتوں میں کمی آئے گی تو فرق کی رقم او ایم سیز سے واپس وصول کی جائے گی اور ایک شفاف حسابی نظام کے ذریعے اسے حکومت ہند کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع کرایا جائے گا۔ اس طرح یہ انتظام کسی سبسڈی کے طور پر نہیں بلکہ ایک عارضی استحکامی اقدام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے اثرات کو ہموار کرنا ہے، جبکہ مکمل جوابدہی، نگرانی اور فنڈز کی واپسی کو بھی یقینی بنانا ہے۔

اے ٹی ایف ایئرلائنز کے آپریٹنگ اخراجات کا ایک بڑا جزو ہے اور عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں تیز اضافے کے ساتھ ساتھ کئی بین الاقوامی روٹس پر ہندوستانی فضائی کمپنیوں کے لیے طویل پروازی راستوں نے ایئرلائن آپریشنز پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ منظور شدہ نظام مقررہ قیمتوں کے انتظام کے ذریعے ایندھن کی لاگت میں زیادہ پیش بینی کی سہولت فراہم کرے گا، جس سے ایئرلائنز اپنے آپریشنز کی زیادہ مؤثر منصوبہ بندی کر سکیں گی اور ملکی و بین الاقوامی نیٹ ورکس میں مسافروں کو خدمات کی فراہمی جاری رکھ سکیں گی۔

مسافروں کے لیے اس فیصلے کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے فضائی کرایوں میں اچانک اضافے کو محدود کرنے میں مدد ملے گی، جو اکثر ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں سامنے آتا ہے۔ ایئرلائنز کو ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ سے محفوظ بنا کر حکومت کا مقصد ان اضافی اخراجات کو مسافروں تک منتقل ہونے سے کم سے کم کرنا اور کرایوں میں زیادہ استحکام فراہم کرنا ہے۔ اس سے خاص طور پر خاندانوں، طلبہ، کاروباری مسافروں، سیاحوں اور ان شہریوں کو فائدہ ہوگا جو نقل و حرکت اور معاشی مواقع کے لیے فضائی سفر پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ اقدام ملک بھر میں بلا تعطل فضائی رابطے برقرار رکھنے میں بھی مدد دے گا، جس میں دور دراز علاقوں، علاقائی مراکز اور درجہ دوم و درجہ سوم شہروں کے لیے خدمات شامل ہیں۔ مسلسل رابطہ علاقائی ترقی، سیاحت، تجارت، صحت کی سہولیات، تعلیم اور سرمایہ کاری کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ یقینی بنائے گا کہ ملک کے تمام حصوں کے شہریوں کو فضائی نقل و حمل کی قابل اعتماد خدمات میسر رہیں، جبکہ جامع ترقی اور متوازن علاقائی ترقی کے حکومتی وژن کو بھی تقویت ملے۔

اس فیصلے سے معیشت کے وسیع تر شعبوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اس سے ایئرلائنز، ہوائی اڈوں، گراؤنڈ ہینڈلنگ خدمات، مرمت و دیکھ بھال کے اداروں، سیاحت، مہمان نوازی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں روزگار کو سہارا ملے گا۔ یہ ہندوستان کے ملکی اور بین الاقوامی فضائی رابطوں کو برقرار رکھنے، عالمی منڈیوں سے انضمام کو مضبوط بنانے اور ملک بھر میں تیار کیے گئے ہوائی اڈوں، بشمول اڑان اسکیم کے تحت فعال کیے گئے ہوائی اڈوں، کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے میں بھی مدد دے گا۔

حکومت مسافروں کے مفادات کے تحفظ، سستی اور قابل اعتماد فضائی خدمات کی فراہمی اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں ہندوستان کے شہری ہوابازی کے شعبے کی طویل مدتی ترقی اور مضبوطی کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔

توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی

 پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت نے ایندھن کی موجودہ فراہمی کی صورتحال کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کیں اور مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ:

عوامی مشورہ اور شہری بیداری

  • حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل کی غیر ضروری خریداری اور ایل پی جی کی گھبراہٹ میں بکنگ سے گریز کریں۔
  • افواہوں سے ہوشیار رہیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔
  • شہریوں سے درخواست ہے کہ پی این جی، انڈکشن/برقی چولہوں اور دیگر متبادل ایندھن کا استعمال کریں۔
  • بڑے اور صنعتی صارفین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ڈیزل صرف مجاز خریداری ذرائع سے حاصل کریں۔
  • موجودہ صورتحال میں تمام شہریوں سے روزمرہ استعمال میں توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

حکومت کی تیاری اور فراہمی کے انتظامات

  • جاری جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باوجود حکومت نے گھریلو ایل پی جی، گھریلو پی این جی اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کے لیے سو فیصد فراہمی یقینی بنائی ہے۔
  • تجارتی ایل پی جی کی فراہمی میں اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے۔ فارما، اسٹیل، آٹوموبائل، بیج اور زرعی شعبوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر سپلائی دی جا رہی ہے۔ مہاجر مزدوروں کے لیے 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈروں کی فراہمی بھی 2 اور 3 مارچ 2026 کی اوسط یومیہ فراہمی کے مقابلے میں دوگنی کر دی گئی ہے۔
  • حکومت پہلے ہی مانگ اور سپلائی دونوں سطحوں پر متعدد اصلاحی اقدامات نافذ کر چکی ہے، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں ایل پی جی بکنگ کا وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا، اور مختلف شعبوں کے لیے ترجیحی فراہمی شامل ہے۔

ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ادارہ جاتی نظام کے ساتھ مربوط کوششیں

  • ضروری اشیاء ایکٹ 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر 2000 کے تحت ریاستی حکومتوں کو فراہمی کی نگرانی اور ذخیرہ اندوزی و کالا بازاری کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
  • پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیاء کی فراہمی کی نگرانی اور ضابطہ کاری میں ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو بنیادی کردار ادا کرنا ہے۔ حکومت ہند نے متعدد خطوط اور ویڈیو کانفرنسوں کے ذریعے اس بات کا اعادہ کیا ہے۔
  • حکومت ہند نے مختلف خطوط اور ویڈیو کانفرنسوں کے ذریعے شہریوں کو ایندھن کی وافر دستیابی کے بارے میں اعتماد دلانے کے لیے مؤثر عوامی رابطہ مہم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
  • حکومت ہند نے 26 مئی 2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریوں سے درخواست کی کہ وہ ریاستی اور ضلعی حکام کو مناسب ہدایات جاری کریں تاکہ ڈیزل اور پیٹرول کی ضلع وار کھپت کا جائزہ لیا جا سکے، حساس علاقوں اور اہم نقل و حمل و صنعتی راہداریوں میں معائنوں اور نفاذی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے، صنعتی اور تجارتی صارفین کی جانب سے ریٹیل آؤٹ لیٹس سے غیر مجاز ڈیزل خریداری کو روکا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری تعزیری کارروائی کی جائے۔

نفاذ اور نگرانی کی کارروائیاں

  • پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری روکنے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
  • ایل پی جی سے متعلق کارروائیاں: گزشتہ تین دنوں کے دوران ایل پی جی سلنڈروں کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کی روک تھام کے لیے 4 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
  • پیٹرول اور ڈیزل سے متعلق کارروائیاں: گزشتہ تین دنوں میں 1,880 سے زائد چھاپے مارے گئے جن میں 2,900 لیٹر سے زیادہ پیٹرول اور 6,350 لیٹر ڈیزل ضبط کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں 18 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 13 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
  • سرکاری تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کے افسران کی جانب سے اچانک معائنے بھی جاری ہیں:

ایل پی جی کی تقسیم کے مراکز

  • گزشتہ تین دنوں میں تقریباً 680 ایل پی جی تقسیم کے مراکز کا معائنہ کیا گیا۔
  • 6 ڈسٹری بیوشن مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے۔
  • 2 ڈسٹری بیوشن مراکز کو معطل کر دیا گیا۔

ریٹیل آؤٹ لیٹس

  • گزشتہ تین دنوں میں تقریباً 2,500 ریٹیل آؤٹ لیٹس کا معائنہ کیا گیا۔
  • 19 ریٹیل آؤٹ لیٹس پر جرمانے عائد کیے گئے۔
  • 457 ریٹیل آؤٹ لیٹس کو معطل کر دیا گیا۔

ایل پی جی کی فراہمی

گھریلو ایل پی جی کی فراہمی کی صورتحال:

  • موجودہ حالات کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
  • گھریلو صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے۔
  • کسی بھی ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مرکز پر اسٹاک ختم ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
  • گزشتہ روز آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ صنعت کی سطح پر تقریباً 99 فیصد تک پہنچ گئی۔
  • تقسیم کار کی سطح پر رخ موڑنے (Diversion) کو روکنے کے لیے ڈلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (DAC) کے ذریعے فراہمی تقریباً 96 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔ یہ کوڈ صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر موصول ہوتا ہے۔
  • گزشتہ تین دنوں میں تقریباً 1.50 کروڑ بکنگز کے مقابلے میں 1.43 کروڑ ایل پی جی سلنڈر فراہم کیے گئے۔

تجارتی ایل پی جی کی فراہمی اور مختص کرنے کے اقدامات:

  • حکومت ہند نے تجارتی ایل پی جی کی مجموعی فراہمی بحران سے پہلے کی سطح کے 70 فیصد تک مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں 10 فیصد اصلاحات پر مبنی حصہ بھی شامل ہے۔
  • گزشتہ تین دنوں میں تقریباً 1.57 لاکھ 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے۔
  • گزشتہ تین دنوں میں تقریباً 520 کیمپوں کے ذریعے 9,200 کے قریب 5 کلوگرام ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے۔
  • گزشتہ تین دنوں میں مجموعی طور پر 19,372 میٹرک ٹن تجارتی ایل پی جی فروخت کی گئی۔
  • گزشتہ تین دنوں میں سرکاری تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 649 میٹرک ٹن آٹو ایل پی جی فروخت کی گئی۔

قدرتی گیس کی فراہمی اور پی این جی توسیع کے اقدامات

  • صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے گھریلو پی این جی (ڈی-پی این جی) اور سی این جی (ٹرانسپورٹ) کے لیے 100 فیصد فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
  • یوریا کے فعال کارخانوں کو گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 98 فیصد کے برابر گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
  • دیگر صنعتی اور تجارتی شعبوں بشمول سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) نیٹ ورکس کے ذریعے فراہمی کو 80 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔
  • سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام جغرافیائی علاقوں میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور کینٹینوں جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشن کو ترجیح دیں تاکہ تجارتی ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کا ازالہ کیا جا سکے۔
  • حکومت ہند نے ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار درخواستوں کی منظوری کے عمل میں تیزی لانے کی درخواست کی ہے۔
  • حکومت ہند نے 18 مارچ 2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو تجارتی ایل پی جی کی اضافی 10 فیصد فراہمی کی پیشکش کی، بشرطیکہ وہ ایل پی جی سے پی این جی کی جانب طویل مدتی منتقلی میں معاونت کریں۔ پی این جی توسیعی اصلاحات سے منسلک اضافی تجارتی ایل پی جی فراہمی اس وقت 22 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو دی جا رہی ہے۔
  • حکومت ہند نے 24 مارچ 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے ’’قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنوں اور دیگر سہولیات کی بچھانے، تعمیر، آپریشن اور توسیع کے ذریعے) آرڈر، 2026‘‘ کو ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت نافذ کیا ہے۔ یہ آرڈر ملک بھر میں پائپ لائنوں کی بچھانے اور توسیع کے لیے ایک سادہ اور وقت مقررہ نظام فراہم کرتا ہے، منظوریوں اور زمین تک رسائی میں تاخیر کے مسائل کو حل کرتا ہے اور رہائشی علاقوں سمیت قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بناتا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی توسیع، آخری صارف تک رسائی اور صاف ایندھن کی جانب منتقلی میں تیزی آئے گی، جس سے توانائی کے تحفظ کو تقویت ملے گی اور گیس پر مبنی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا۔
  • پی این جی آر بی نے سی جی ڈی اداروں کو گھریلو پی این جی کنکشن تیز رفتاری سے فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ نیشنل پی این جی ڈرائیو 2.0 (یکم جنوری 2026 تا 31 مارچ 2026) کو اب 30 جون 2026 تک توسیع دی گئی ہے تاکہ پی این جی کی توسیع کی رفتار برقرار رکھی جا سکے۔
  • صاف، محفوظ اور خود کفیل توانائی کے مستقبل کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت ہند نے ریاستی کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) پالیسی کا ایک ماڈل مسودہ تیار کیا ہے، جو ریاستوں کو سرمایہ کار دوست اور عمل درآمد پر مبنی نظام قائم کرنے میں رہنمائی فراہم کرے گا۔ اس پالیسی کو اختیار کرنے والی ریاستوں کو تجارتی ایل پی جی کی اضافی فراہمی کے اگلے مرحلے میں ترجیح دی جائے گی۔
  • مارچ 2026 سے اب تک تقریباً 8.82 لاکھ پی این جی کنکشن فعال کیے جا چکے ہیں اور مزید 2.98 لاکھ کنکشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے، جس سے مجموعی تعداد 11.80 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
  • اس کے علاوہ تقریباً 8.98 لاکھ صارفین نے نئے کنکشن کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔
  • 3 جون 2026 تک 80,400 سے زائد پی این جی صارفین نے MYPNGD.in ویب سائٹ کے ذریعے اپنے ایل پی جی کنکشن واپس کر دیے ہیں۔

خام تیل کی صورتحال اور ریفائنری سرگرمیاں

  • تمام ریفائنریاں اعلیٰ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور ان کے پاس خام تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کے بھی کافی ذخائر برقرار رکھے گئے ہیں۔
  • گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ریفائنریوں میں ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔
  • ملک کی منڈیوں میں پیٹروکیمیکل خام مال کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بین وزارتی مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے۔ حکومت ہند نے یکم اپریل 2026 کے حکم نامے کے ذریعے آئل ریفائنری کمپنیوں اور پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہائی ٹیکنالوجی مرکز (سی ایچ ٹی) کی جانب سے متعین اہم شعبوں کے لیے سی-3 اور سی-4 اسٹریمز کی کم از کم مقدار دستیاب کرائیں۔
  • دواسازی، کیمیکل و پیٹروکیمیکل محکمہ اور صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے کی درخواست پر ایل پی جی پول سے سی-3 اور سی-4 مالیکیولز کی 1120 میٹرک ٹن یومیہ فراہمی دواسازی، کیمیکل اور پینٹ صنعتوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔
  • یکم جون 2026 سے ممبئی، کوچی، وشاکھاپٹنم، چنئی، متھرا اور گجرات ریفائنریوں کی جانب سے کیمیکل، دواسازی اور پینٹ صنعتوں کو تقریباً 1,030 میٹرک ٹن سی-3 اور سی-4 مالیکیولز (پروپلین اور بیوٹیلین) اور تقریباً 320 میٹرک ٹن بیوٹائل ایکریلیٹ فروخت کیا جا چکا ہے۔

خوردہ ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق اقدامات

  • ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
  • مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت ہند نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔
  • حکومت ہند نے 31 مئی 2026 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے پیٹرول پر برآمدی محصول 3 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 1.50 روپے فی لیٹر، ڈیزل پر 16.50 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 13.50 روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف پر 16 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 9.50 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔
  • بعض علاقوں میں ریٹیل آؤٹ لیٹس پر غیر معمولی فروخت اور زیادہ ہجوم دیکھا گیا ہے۔

بحری سلامتی اور جہاز رانی کی سرگرمیاں

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے خلیج فارس میں موجودہ بحری صورتحال کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کیں اور خطے میں ہندوستانی جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ:

  • بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت، وزارتِ خارجہ، ہندوستانی سفارتی مشنز اور بحری شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ملاحوں کی فلاح و بہبود اور بحری سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
  • خطے میں موجود تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران نہ تو کسی ہندوستانی پرچم بردار جہاز اور نہ ہی ہندوستانی عملے والے کسی غیر ملکی جہاز سے متعلق کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔
  • ڈی جی شپنگ کنٹرول روم کے مطابق فعال ہونے کے بعد سے اب تک 11,630 کالز اور 25,864 سے زائد ای میلز موصول ہو چکی ہیں۔ گزشتہ 72 گھنٹوں میں ملاحوں، ان کے اہل خانہ اور بحری شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے 444 کالز اور 1,034 ای میلز موصول ہوئیں۔
  • وطن واپسی کی تازہ صورتحال کے مطابق وزارت نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ کے ذریعے اب تک 3,474 سے زائد ہندوستانی ملاحوں کی محفوظ وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران خلیجی خطے کے مختلف مقامات سے واپس آنے والے 28 افراد بھی شامل ہیں۔
  • پورے ہندوستان کی بندرگاہوں پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کہیں بھی بھیڑ یا رکاوٹ کی اطلاع نہیں ہے۔

خطے میں ہندوستانی شہریوں کی سلامتی

وزارتِ خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا کے خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں مقیم ہندوستانی برادری کی سلامتی، تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ:

  • وزارتِ خارجہ معلومات کے تبادلے اور کوششوں میں ہم آہنگی کے لیے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
  • خطے بھر میں ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور وہ ہندوستانی برادری کی فعال معاونت کر رہے ہیں۔ بروقت مدد فراہم کرنے کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائنز چلائی جا رہی ہیں اور مقامی حکومتوں سے بھی مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔
  • مقامی حکومتی ہدایات، پروازوں اور سفر کی صورتحال، قونصلر خدمات اور برادری کے لیے کیے جانے والے مختلف فلاحی اقدامات سے متعلق مشورے اور اطلاعات باقاعدگی سے جاری کی جا رہی ہیں۔
  • ہندوستانی سفارتی مشنز مقامی ہندوستانی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور کمیونٹی ایسوسی ایشنز، تنظیموں، پیشہ ورانہ گروپوں اور ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
  • خطے میں ہندوستانی ملاحوں کی فلاح و بہبود کو اعلیٰ ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہندوستانی مشنز مقامی حکام اور اداروں کے ساتھ رابطہ کاری، قونصلر معاونت اور ہندوستان واپسی کی درخواستوں میں ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

پروازوں کی صورتحال

  • خطے سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے اضافی پروازوں کے آغاز کے ساتھ مجموعی فضائی صورتحال میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
  • متحدہ عرب امارات: متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود کھلی ہوئی ہیں۔ ہندوستانی اور اماراتی ایئرلائنز متحدہ عرب امارات سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں۔
  • سعودی عرب اور عمان: سعودی عرب اور عمان کے مختلف ہوائی اڈوں سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں جاری ہیں۔
  • قطر: قطر کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلی ہوئی ہیں۔ ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس، انڈیگو اور قطر ایئرویز قطر سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں۔
  • کویت: کویت کی فضائی حدود کھلی ہوئی ہیں۔ کویت ایئرویز اور جزیرہ ایئرویز کویت سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازوں کا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
  • بحرین: بحرین کی فضائی حدود کھلی ہوئی ہیں۔ ایئر انڈیا ایکسپریس، انڈیگو اور گلف ایئر بحرین سے ہندوستان کے مختلف مقامات کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں۔
  • عراق: عراق کی فضائی حدود کھلی ہوئی ہیں، تاہم خطے کے بعض مقامات کے لیے محدود پروازیں چل رہی ہیں، جنہیں ہندوستان جانے کے لیے آگے کے سفر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • ایران: ایران کی فضائی حدود جزوی طور پر کھلی ہوئی ہیں۔ وزارت نے ہندوستانی شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور وہاں موجود شہریوں سے سفارت خانے کی مدد سے ملک چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ اب تک تہران میں ہندوستانی سفارت خانے نے زمینی سرحدی راستوں کے ذریعے 2,557 ہندوستانی شہریوں کے ایران سے نکلنے میں سہولت فراہم کی ہے۔
  • اسرائیل: اسرائیل کی فضائی حدود کھلی ہوئی ہیں اور خطے کے مختلف مقامات کے لیے محدود پروازیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں، جنہیں ہندوستان کے لیے آگے کے سفر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بارے میں تازہ صورتحال

گزشتہ روز کویت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ایک ہندوستانی شہری ہلاک ہوگیا۔ حکومت مرحوم کے اہل خانہ سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے۔ کویت میں ہندوستانی مشن اہل خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور مقامی حکام کے ساتھ قریبی تال میل قائم کیے ہوئے ہے۔ توقع ہے کہ میت کل ہندوستان پہنچ جائے گی۔

اس حملے میں 13 ہندوستانی شہری زخمی بھی ہوئے ہیں، جو اس وقت کویت کے مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ ہندوستانی مشن زخمیوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 7988 )


(रिलीज़ आईडी: 2269075) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Assamese , Bengali , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam