پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
تیل کی درآمدات میں کمی سے لے کر کسانوں کی خوشحالی تک: جناب ہردیپ سنگھ پوری نے بھارت کی پہلی فلیکس فیول مسافر گاڑی کو لانچ کیا
انہوں نے کہا کہ عالمی بحران کے باوجود بھارت ان ممالک میں شامل ہے، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے کم اضافہ ہوا ہے
جناب ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ اگر بھارت میں فروخت ہونے والی تمام نئی دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں میں سے 50 فیصد گاڑیاں فلیکس فیول پر چلنے لگیں تو اس سے کسانوں کیلئے 12,403 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
04 JUN 2026 4:02PM by PIB Delhi
پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری نے آج نئی دہلی میں ماروتی سوزوکی کی جانب سے بھارت کی پہلی فلیکس فیول مسافر گاڑی کی شروعات کی، جس سے ‘‘آتم نربھر بھارت’’ کے وژن کو مزید استحکام حاصل ہوا ہے۔ اس موقع پرسڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراوں کے وزیر جناب نتن گڈکری بھی موجود تھے۔ فلیکس فیول گاڑیاں ایتھنول اور پیٹرول کی آمیزش سے چل سکتی ہیں، جن کی حد ای 20 سے لے کر ای 100 تک ہوتی ہے۔
اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ مسافر گاڑیوں کیلئے فلیکس فیول ٹیکنالوجی کا آنا صرف ایک نئی مصنوعات کا آغاز نہیں بلکہ بھارت کی توانائی کی منتقلی (انرجی ٹرانزیشن) میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہے۔ جناب پوری نے بتایا کہ بھارت میں تقریباً 37 لاکھ مسافر گاڑیاں موجود ہیں، جو ملک کے متوسط طبقے کی امنگوں اور ذاتی نقل و حمل کے مستقبل کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس شعبے میں فلیکس فیول ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنانے سے ایتھنول پر مبنی نقل و حرکت کے اثرات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

وزیرموصوف نے کہا کہ 28 فروری کو جنگی کارروائی شروع ہونے سے قبل بھارت کی تقریباً 60 فیصد ایل پی جی درآمدات آبنائے ہرمز کے راستے سے ہوتی تھیں۔ 1.4 ارب آبادی والے ملک کے طور پر، جہاں توانائی کی طلب عالمی اوسط سے تین گنا تیزی سے بڑھ رہی ہے، بھارت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی یقینی بنائی۔ وزیر موصوف نے کہا، ‘‘ملک میں کہیں بھی کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہوئی۔ لوگ سڑک اور ہوائی سفر معمول کے مطابق کرتے رہے۔ عالمی رکاوٹوں کے باوجود بھارت نے تقریباً معمول کی صورتحال برقرار رکھی۔’’
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ غلط معلومات پھیلانے اور فرضی طور پر قلت پیدا کرنے کی کچھ کوششیں کی گئیں، تاہم بروقت پالیسی اقدامات اور مؤثر انتظام کی وجہ سے صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی۔
جناب پوری نے بھارت کی توانائی حکمت عملی کے تین بنیادی ستونوں دستیابی، استطاعت اور پائیداری کے درمیان توازن قائم کرنے کا سہرا وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت کو دیا۔ دستیابی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود بھارت نے خام تیل، ایل پی جی اور قدرتی گیس کی بلا تعطل فراہمی برقرار رکھی۔ بھارت نے بحران سے پہلے کے مقابلے میں مقامی ایل پی جی پیداوار کو 32 ٹی ایم ٹی یومیہ سے بڑھا کر تقریباً 52 ٹی ایم ٹی یومیہ کر دیا اور ساتھ ہی پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور سی این جی کی طرف منتقلی کو بھی وسعت دی۔
قیمتوں کے حوالے سے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں سب سے کم اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی سطح پر بھی سب سے کم اضافہ تھا۔ انہوں نے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے وزیر اعظم کے اس فیصلے کو یاد دلایا جس کے تحت پٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی۔

پائیداری کے بارے میں بات کرتے ہوئے جناب پوری نے برازیل اور امریکہ میں اپنے سابقہ تجربات کا ذکر کیا، جہاں گنے اور مکئی پر مبنی ایتھنول کی آمیزش میں پہلے ہی کامیابی مل چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا ایتھنول بلینڈنگ پروگرام توانائی کی منتقلی کی سب سے کامیاب اقدامات میں سے ایک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی ایتھنول کامیابی کی کہانی ایک جامع حکومتی نقطۂ نظراور ایک مضبوط نظام کی تشکیل کے ذریعے بنی ہے جس میں کسان، ایتھنول پیدا کرنے والے ادارے، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، گاڑی ساز کمپنیاں، سائنسداں اور مالیاتی ادارے شامل ہیں۔
بھارت کے پاس اب ٹوٹے ہوئے اناج، زرعی فضلہ، بانس اور سمندری گھاس جیسے مختلف ذرائع سے ایتھنول پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ایتھنول ملاوٹ 2014-2013 میں 1.5 فیصد سے کم سے بڑھ کر 2026-2025 میں 20 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے مقررہ ہدف 5 سال پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔ ایتھنول کی خریداری ای ایس وائی 2013-14 میں تقریباً 38 کروڑ لیٹر سے بڑھ کر آج 1,040 کروڑ لیٹر سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ ایتھنول کی پیداواری صلاحیت 2014 میں 421 کروڑ لیٹر سے بڑھ کر 2026 میں تقریباً 2000 کروڑ لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس تبدیلی سے خام تیل کی درآمدات میں کمی، زرمبادلہ کی بچت، اخراج میں کمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
جناب پوری نے کہا کہ اگر نئی دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں سے 50 فیصد فلیکس فیول کے مطابق گاڑیوں میں تبدیل ہو جائے تو اس سے 311.8 کروڑ لیٹر ایتھنول کی اضافی مانگ ہوگی، کسانوں کے لیے 12,403 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی اور 66.4 لاکھ میٹرک ٹن سی او₂ کے اخراج میں کمی ہوگی۔
نیتی آیوگ نے باضابطہ طور پر ایتھنول پر مبنی فلیکس فیول گاڑیوں (ایف ایف وی)، جن میں ای 85 جیسے زیادہ ایتھنول مکسچر پر چلنے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں، کو ‘‘زیرو ایمیشن وہیکلز’’ (صفر اخراج والی گاڑیاں) کے طور پر درجہ بند کیا ہے۔ ای85 ایندھن سے پارٹیکیولیٹ میٹر (پی ایم) کا اخراج بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فلیکس فیول گاڑیاں ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک امید افزا حل سمجھی جا رہی ہیں۔
وزیرموصوف نے ملک بھر میں فلیکس فیول نظام قائم کرنے کے لیے حکومت کے روڈ میپ کی بھی تفصیل پیش کی۔ مجوزہ روڈ میپ کے تحت بی آئی ایس معیار کے مطابق فلیکس فیول گاڑیوں کے لئے ای 85 کو ‘‘مونوفیول اسٹینڈرڈ’’ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں ابتدا میں دہلی-این سی آر اور ممبئی–پنے–ناگپور کوریڈور میں 50 سے 100 فلیکس فیول کے لیے تیار فیول ریٹیل آؤٹ لیٹس کے آغاز کی تجویز ہے، جنہیں دسمبر 2026 تک بڑھا کر تقریباً 500 آؤٹ لیٹس اور 2027 کے آخر تک بڑے شہروں میں تقریباً 5,000 آؤٹ لیٹس تک توسیع دی جائے گی۔
حکومت فلیکس فیول کو اپنانے کے فروغ کے لیے کئی معاون اقدامات پر بھی کام کر رہی ہے، جن میں قیمتوں میں معاونت، روڈ ٹیکس میں چھوٹ، ای 85 ٹیسٹنگ فیول کی دستیابی، فلیکس فیول گاڑیوں (ایف ایف وی) اور ریٹیل آؤٹ لیٹس کے لیے خصوصی شناختی نشانات، صارفین میں آگاہی بڑھانے کی مہمات اور ذخیرہ اندوزی و تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہیں۔ جناب پوری نے کہا کہ یہ صرف ایندھن کی تبدیلی نہیں بلکہ صاف نقل و حرکت، مضبوط توانائی تحفظ اور زیادہ خود انحصاری کے لیے ایک مکمل نظام کی تشکیل ہے۔
ہیرو موٹو کارپ کی جانب سے حال ہی میں فلیکس فیول موٹر سائیکلوں کے آغاز اور آج ماروتی سوزوکی کی فلیکس فیول مسافر گاڑی کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرموصوف نے کہا کہ ملک صاف نقل و حرکت کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
ماروتی سوزوکی کو بھارت میں صاف نقل و حرکت کی منتقلی میں رول پر مبارکباد دیتے ہوئے جناب پوری نے کہا کہ بھارت کی توانائی کی منتقلی‘‘بھارت میں ہی’’ ہوگا، یہ بھارتی اختراع سے چلایا جائے گا، بھارتی کسانوں کے تعاون سے آگے بڑھے گا اور بھارتی صارفین کی قیادت میں ترقی کرے گا۔ انہوں نے آٹوموبائل ساز اداروں سے کہا کہ وہ مختلف گاڑیوں کے شعبوں میں فلیکس فیول ماڈلز کو تیزی سے متعارف کرائیں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے کہا کہ وہ پورے ملک میں ای 85 کی دستیابی کو جلد از جلد وسعت دیں۔
***
ش ح۔ ک ا۔ م ا
U.NO.7977
(रिलीज़ आईडी: 2268951)
आगंतुक पटल : 15