زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
دھرتی ماں کے تحفظ کا قومی عزم: یکم جون کو رائے سین سے ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ کا آغاز
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان کی ملک کے پورے زراعتی نظام سے اپیل؛: ’’اس مہم کو محض رسمی کارروائی نہ سمجھیں، بلکہ مکمل عزم، خلوص اور یقین کے ساتھ کھیتوں میں اتریں‘‘
شیوراج سنگھ چوہان کی پہل پر ملک بھر کے کرشی وگیان کیندر (زرعی سائنس مراکز)، آئی سی اے آر (ہندوستانی کونسل برائے زراعتی تحقیق) کے ادارے، زراعتی جامعات اور مختلف ریاستوں کے زراعتی نظام ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد
یہ مہم کسانوں اور زراعتی زمینوں کی تندرستی کے لیے ملک گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کرے گی: مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان
کھادوں کے متوازن استعمال، قدرتی کاشتکاری کے فروغ اور نقلی کھادوں و بیجوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ کے تحت جامع لائحۂ عمل تیار کیا گیا ہے
یکم جون کو قومی سطح پر مہم کے آغاز سے قبل مرکزی وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا: ’’دھرتی ماں کے وقار، عظمت اور احترام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ‘‘
شیوراج سنگھ چوہان نے مہم میں شامل ہونے کی درخواست کے لیے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جبکہ مرکزی وزراء سے بھی اس قومی اقدام کا حصہ بننے کی اپیل کی
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان مہم کے دوران مختلف ریاستوں کے گاؤں کا ذاتی طور پر دورہ کریں گے اور کسانوں سے براہِ راست ملاقات کر کے ان سے تبادلۂ خیال کریں گے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 MAY 2026 4:12PM by PIB Delhi
مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سین کے گاؤں رمسیا سے یکم جون کو شروع ہونے والی ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ کے قومی آغاز سے قبل، مرکزی وزیر زراعت و بہبودی کسان اور دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان نے آج ملک بھر کے کرشی وگیان کیندروں (زرعی سائنس مراکز)، آئی سی اے آر (ہندوستانی کونسل برائے زراعتی تحقیق) کے اداروں، زراعتی جامعات، مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر زراعتی افسران اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے مختلف اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ورچوئل طور پر گفتگو کی۔ اس موقع پر انہوں نے عوامی شمولیت، سائنسی طرزِ عمل اور قومی ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ شیوراج سنگھ چوہان نے بتایا کہ انہوں نے اس اہم مہم میں شرکت کی اپیل کے لیے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ مرکزی وزراء اور دیگر عوامی نمائندوں سے بھی اس مہم میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
اس موقع پر اپنے حوصلہ افزا خطاب میں مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ محض سرکاری پروگرام نہیں بلکہ دھرتی ماں کے تحفظ، زراعت کے مستقبل کو محفوظ بنانے اور آنے والی نسلوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک قومی مہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، کیمیائی کھادوں اور زرعی جراثیم کش ادویات کا بے جا اور غیر متوازن استعمال، مٹی کی صحت میں گراوٹ اور موسمیاتی بحران کی شدت زراعت کے سامنے سنگین چیلنج بن کر ابھرے ہیں۔ اس لیے بروقت بیداری پیدا کرنا اور عملی اقدامات کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے وضاحت کی کہ یکم جون سے ضلع رائے سین کے گاؤں رمسیا سے شروع ہونے والی ملک گیر ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ کے تحت کسانوں میں کھادوں کے متوازن استعمال، مٹی کی جانچ، سوائل ہیلتھ کارڈ (مٹی صحت کارڈ)، قدرتی کاشتکاری، فصلوں کے مناسب انتخاب، آبی تحفظ، سبز کھاد کے استعمال، کم بارش کی صورت میں متبادل زراعتی طریقوں اور نقلی کھادوں، بیجوں اور زراعتی زہر کی شناخت کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ محض مشورے دینا کافی نہیں ہوگا، بلکہ کسانوں کا اعتماد زمینی سطح پر عملی مظاہروں، سائنسی شواہد اور کامیاب نمونوں کے ذریعے مضبوط کرنا ہوگا۔ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے ہدایت دی کہ 30 جون تک کے لیے ملک بھر میں ایک تفصیلی لائحۂ عمل تیار کیا جائے، جس میں واضح طور پر درج ہو کہ کون سا افسر، سائنس دان، ادارہ یا ٹیم کس تاریخ کو کس گاؤں کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی سطح کے پروگراموں کی پیشگی منصوبہ بندی کی جائے، نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ پر مبنی نظام اپنایا جائے، مقامی سطح پر تمام ضروری انتظامات کو یقینی بنایا جائے اور مہم کے ہر مرحلے میں مؤثر ہم آہنگی نظر آنی چاہیے۔
ریاستی محکمۂ زراعت کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہوئے شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ یہ مہم اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب مرکزی حکومت، ریاستی حکومتیں، آئی سی اے آر (ہندوستانی کونسل برائے زرعی تحقیق)، زرعی جامعات، کرشی وگیان کیندر (زرعی سائنس مراکز)، عوامی نمائندے، طلبہ اور کسانوں کی معاون تنظیمیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ انہوں نے ارکانِ پارلیمان، اراکینِ اسمبلی اور دیگر منتخب نمائندوں کو بھی مہم میں شامل کرنے پر زور دیا اور انہیں قدرتی کاشتکاری اور پائیدار زرعی طریقوں کی عملی مثالیں پیش کرنے کی ترغیب دی۔
شیوراج سنگھ چوہان نے مزید کہا کہ اس مہم کو کثیر جہتی نوعیت دی جانی چاہیے تاکہ کسان کریڈٹ کارڈ (کسان قرض کارڈ)، پردھان منتری کسان سمان ندھی ، فصل بیمہ اسکیم، سوائل ہیلتھ کارڈ ، منی سیڈ کٹس (چھوٹے بیج پیکج)، دالوں اور تیل دار اجناس کے مشن، اور زراعتی میکانائزیشن جیسے پروگراموں کے فوائد کسانوں تک مؤثر انداز میں پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف زراعتی زمینوں کے تحفظ میں مدد ملے گی بلکہ کسانوں کی آمدنی، آگاہی اور زراعتی انتظام کی صلاحیتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
مرکزی وزیر نے مہم کی تشہیر اور عوامی رسائی (آؤٹ ریچ) پر خصوصی زور دیتے ہوئے انہیں مہم کا لازمی جزو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی مفاد سے جڑا ہوا پروگرام ہے اور جتنی تیزی سے اس کی معلومات ملک کے دیہات تک پہنچیں گی، یہ مہم اتنی ہی مؤثر ثابت ہوگی۔ انہوں نے افسران اور سائنس دانوں سے اپیل کی کہ وہ میڈیا کے ساتھ کھل کر بات چیت کریں، کیونکہ یہ مہم زمین، زراعت اور ملک کے اَنّ داتا کسانوں کے مستقبل سے متعلق ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان نے اعتماد ظاہر کیا کہ جس طرح ماضی میں زرعی بیداری اور توسیعی خدمات سے متعلق مہمات نے نمایاں اثرات مرتب کیے تھے، اسی طرح ’’کھیت بچاؤ مہم‘‘ بھی ملک گیر زرعی اصلاحات اور عوامی بیداری کی ایک کامیاب مثال بن کر ابھرے گی۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ مکمل لگن، تیاری اور حساسیت کے ساتھ دیہات کا دورہ کریں، کسانوں کو درست اور مستند معلومات فراہم کریں اور دھرتی ماں کے تحفظ کے عزم کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کریں۔ شیوراج سنگھ چوہان نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ خود مہم کے دوران مختلف ریاستوں کے دیہات کا دورہ کریں گے اور کسانوں سے براہِ راست ملاقات و گفتگو کریں گے۔
ورچوئل نشست کے دوران زراعت و بہبودی کسان کے سکریٹری اتیش چندر اور آئی سی اے آر (ہندوستانی کونسل برائے زرعی تحقیق) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم۔ ایل جاٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر زراعتی جامعات کے وائس چانسلر، سائنس دانوں، آئی سی اے آر کے مختلف اداروں کے ڈائریکٹروں، کرشی وگیان کیندر (زرعی سائنس مراکز) سے وابستہ سائنس دانوں، ریاستی محکمۂ زراعت کے افسران اور مرکزی حکومت کے سینئر حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
******
(ش ح۔ م ش ع ۔ م ا)
UR No-7784
(ریلیز آئی ڈی: 2267306)
وزیٹر کاؤنٹر : 14