امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے راجستھان کے بیکانیر میں ایک سیکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس کا مقصد سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا تھا
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند بین الاقوامی سرحدوں پر اعلیٰ ترین معیار کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے
ہر سرحدی ضلع کے لیے ایک مضبوط 360 ڈگری سیکیورٹی نظام قائم کیا جا رہا ہے، جس میں شہریوں، ریاستی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو شامل کیا گیا ہے
سرحدوں کے اطراف، خاص طور پر 15 کلومیٹر کے دائرے میں موجود غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جا رہا ہے
دراندازی، منشیات کی اسمگلنگ، تجاوزات، دہشت گردی کی مالی معاونت اور سرحد پار جرائم پر قابو پانے کے لیے سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف)، مرکزی تفتیشی ادارہ برائے براہِ راست ٹیکس (سی بی ڈی ٹی)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) اور ریاستی حکومت کے نظام کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے
ضلعی مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بینکوں کی قانونی اور مالی بندوبست کو یقینی بنائیں، بڑے کاروباری اداروں کی تصدیق کریں اور مالی ذرائع کی سخت جانچ پڑتال کریں
اسمگلنگ کی روک تھام، مشکوک “اکاؤنٹس” پر کڑی نگرانی، جعلی کمپنیوں اور فرضی آدھار کارڈز کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں پر مکمل طور پر قابو پایا جا سکے
اضلاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جرائم اور منشیات کے پھیلاؤ کے پیچھے موجود ذرائع، طرزِ عمل اور نیٹ ورکس کا تفصیلی اور گہرائی سے جائزہ لیں
اضلاع کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ جرائم اور منشیات کے مسئلے کے پائیدار حل تیار کریں تاکہ اس لعنت کا مستقل طور پر خاتمہ ممکن ہو سکے
سائبر جرائم پر قابو پانے کے لیے “1930” ہیلپ لائن/کال سینٹر کے مؤثر استعمال پر زور دیا گیا ہے، جبکہ تین نئے فوجداری قوانین کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے
اس کے ساتھ ساتھ وی وی پی-ٹو کے کامیاب نفاذ پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ آخری سطح پر حکمرانی کو مضبوط بنایا جا سکے، معاشی جرائم پر قابو پایا جا سکے، بنیادی ڈھانچے کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور سرحدی آبادی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAY 2026 2:51PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے راجستھان کے بیکانیر میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں بھارت-پاکستان سرحد (آئی پی بی) کے ساتھ واقع سرحدی اضلاع سے متعلق سکیورٹی امور کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اس اجلاس میں راجستھان کے وزیر اعلیٰ، ریاستی حکومت کے سینئر افسران، اور پانچ سرحدی اضلاع—بیکانیر، جیسلمیر، بامیڑ، سری گنگانگر اور پھلودی—کے ضلعی مجسٹریٹوں اور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے شرکت کی۔اجلاس میں سرحدی انتظام کو مزید مؤثر اور جامع بنانے، اور ریاستی حکومت کے ساتھ بہتر رابطہ و ہم آہنگی کے ذریعے سکیورٹی نظام کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔

اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ہر سرحدی ضلع کے لیے ایک جامع 360 ڈگری سیکیورٹی طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ اس مربوط حکمتِ عملی میں مقامی شہریوں، ریاستی حکومت کے نظام اور تمام متعلقہ سیکیورٹی اداروں کو فعال طور پر شامل کیا جائے گا تاکہ سرحدی انتظام کو زیادہ مؤثر اور مضبوط بنایا جا سکے۔
مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے غیر قانونی تعمیرات خصوصاً بین الاقوامی سرحد کے 0 سے 15 کلومیٹر کے علاقے میں،کے خلاف قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے سخت نفاذ پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ایسی تمام غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کرنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے سرحدی انتظام کے لیے مربوط حکمتِ عملی کی اہمیت پر زور دیا جس میں بی ایس ایف، مرکزی براہِ راست ٹیکس بورڈ (سی بی ڈی ٹی)، نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) اور ریاستی حکومت کا نظام شامل ہو، تاکہ دراندازی، منشیات کی اسمگلنگ، قبضہ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر سرحد پار جرائم پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے ضلعی مجسٹریٹس کو مزید ذمہ داریاں سونپنے کی ہدایت دی، جن میں بینکوں کی مکمل قانونی اور مالی تعمیل کو یقینی بنانا، بڑے کاروباری اداروں کی جانچ پڑتال، ان کے مالی ذرائع کی چھان بین، مشکوک “مول اکاؤنٹس” اور شیل کمپنیوں کی نگرانی، جعلی آدھار کارڈز کی نشاندہی اور اسمگلنگ کی روک تھام شامل ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے ہدایت دی کہ سائبر جرائم کے فوری ازالے کے لیے “1930” کال سینٹر کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے، اور ساتھ ہی تین نئے فوجداری قوانین کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے تاکہ علاقے میں قانون نافذ کرنے اور عدالتی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں “وائبرنٹ ولیج پروگرام-(وی وی پی-II)’’ کے کامیاب نفاذ پر بھی زور دیا گیا تاکہ آخری سطح پر حکمرانی کو بہتر بنایا جا سکے، معاشی جرائم پر قابو پایا جا سکے، بنیادی ڈھانچے کی کمی پوری کی جا سکے اور سرحدی آبادی کو سہارا دیا جا سکے۔ سرحدی دیہات میں تمام سرکاری اسکیموں کی 100 فیصد رسائی کی توثیق کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند بین الاقوامی سرحدوں پر اعلیٰ ترین سطح کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور اس کے ساتھ مرکزی و ریاستی اداروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کے ذریعے سرحدی علاقوں کی جامع ترقی اور سلامتی کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔
************
ش ح۔ع و۔ش ت
(U: 7616)
(ریلیز آئی ڈی: 2265855)
وزیٹر کاؤنٹر : 18