ریلوے کی وزارت
ماحول دوست اور توانائی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر؛ ملک میں ہی تیار پہلی ہائیڈروجن ٹرین چلنے کے لیے تیار ہے
بھارتی ریلوے کی جانب سے 1200 کلو واٹ انجن والی 10 کوچز پر مشتمل ٹرین کو جند-سونی پت سیکشن پر زیادہ سے زیادہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کی منظوری دی گئی ہے
اس کے ساتھ ہی بھارت ، اُن چند ممتاز ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے ، جو صاف ستھرے اور پائیدار ریل آپریشنز کے لیے ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAY 2026 2:20PM by PIB Delhi
سبز اور پائیدار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، بھارتی ریلوے نے شمالی ریلوے کے مخصوص جند-سونپت سیکشن پر 10 کوچز پر مشتمل ہائیڈروجن فیول سیل پر مبنی ٹرین سیٹ متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ٹرین جلد ہی چلنے کے لیے تیار ہے اور 1200 کلو واٹ ہائیڈروجن فیول سیل پروپلژن سسٹم کی مدد سے زیادہ سے زیادہ 75 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گی۔

ہائیڈروجن فیول سیل ٹیکنالوجی ، ہائیڈروجن کے استعمال سے کیمیائی عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتی ہے، جس میں صرف پانی کی بھاپ خارج ہوتی ہے ۔ اس لیے یہ روایتی فوسل فیول پر مبنی ٹریکشن سسٹمز کے مقابلے میں ایک صاف ستھرا اور ماحول دوست متبادل ہے۔ ہائیڈروجن پر مبنی ریل نظام کو ، دنیا بھر میں پائیدار نقل و حمل کے لیے ایک امید افزا حل کے طور پر تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی ، بھارت - جرمنی، جاپان، چین اور امریکہ جیسے اُن منتخب ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے، جو ٹرانسپورٹ کے لیے ہائیڈروجن کے صاف ستھرے استعمال والے نظام کو فروغ دے رہے ہیں۔ چونکہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے اس وقت صرف چند ممالک ہی اس طرح کا نظام چلا رہے ہیں یا ان کی آزمائش کر رہے ہیں۔
ہریانہ کے جند-سونی پت سیکشن کو ان آپریشنز کے لیے پائلٹ روٹ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ ٹرین سیٹ کے لیے جند میں مقامی طور پر تیار کردہ ہائیڈروجن ذخیرہ اور ری فیولنگ سہولت قائم کی گئی ہے۔ پیٹرولیم اینڈ ایکسپلوسِوز سیفٹی آرگنائزیشن ( پی ای ایس او ) نے اس مقام پر کمپریسڈ ہائیڈروجن گیس کے ذخیرے اور فراہمی کے لیے مطلوبہ لائسنس جاری کر دیا ہے۔
ری فیولنگ آپریشنز کے لیے ہائیڈروجن کمپریشن سسٹم فراہم کیا گیا ہے، ساتھ ہی ضروری تکنیکی معاونت اور اہم اسپیئر پارٹس بھی مہیا کیے گئے ہیں تاکہ نظام قابلِ اعتماد اور محفوظ انداز میں کام کرے۔ ایک اضافی اسٹینڈ بائی کمپریسر یونٹ کی سہولت بھی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ مختلف حفاظتی سینسرز، جن میں ہائیڈروجن لیک ڈیٹیکٹرز اور آگ لگنے کی صورت میں آگاہی کے نظام جیسے آلات شامل ہیں، جو ہائیڈروجن کی پیداوار، ذخیرہ اور فراہمی کی تنصیب پر لگائے گئے ہیں، ان کا باقاعدگی سے معائنہ اور صفائی کی جائے گی تاکہ گرد و غبار جمع نہ ہو اور محفوظ آپریشن یقینی بنایا جا سکے۔
ہائیڈروجن ٹرین سیٹ اور ہائیڈروجن پلانٹ کے آپریشن اور منٹیننس مینولز بھی دستیاب کرائے جا رہے ہیں، جنہیں آر ڈی ایس او نے منظور کیا ہے ۔ شکور بستی میں مجوزہ منٹیننس سہولت کے لیے ضروری حفاظتی بندوبست ، باقاعدہ آڈٹ اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار بھی یقینی بنائے جا رہے ہیں۔
اس کی منظوری میں جامع حفاظتی اور آپریشنل پروٹوکولز بھی شامل ہیں، جن میں ہائیڈروجن ری فیولنگ سسٹم کی 24 گھنٹے نگرانی، اہم آپریشنز کے لیے تربیت یافتہ اور تصدیق شدہ عملے کی تعیناتی اور باقاعدہ معائنہ و منٹیننس شیڈول شامل ہیں۔ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں تربیت یافتہ تکنیکی عملہ ٹرین کے ساتھ موجود رہے گا تاکہ نظام کی روانی اور درست کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ منصوبہ بھارتی ریلوے کے اختراع، توانائی کی بچت اور ماحول دوست نقل و حمل کے وسیع عزم کی عکاسی کرتا ہے اور بھارت کے صاف ستھری توانائی اور کاربن کے صفر اخراج کے قومی اہداف کی حمایت کرتا ہے۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – ا ک - ع ا )
U.No. 7610
(ریلیز آئی ڈی: 2265836)
وزیٹر کاؤنٹر : 16