امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومتِ ہند نے ’آبادیاتی تبدیلی سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی‘ تشکیل دی ہے


وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے 15 اگست 2025 کو ’اعلیٰ اختیاراتی آبادیاتی مشن‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے کہا ہے کہ غیر قانونی دراندازی اور دیگر وجوہات کے باعث ہونے والی غیر فطری آبادیاتی تبدیلی کسی بھی قوم کے حال اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے

اس کمیٹی کی صدارتریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیکر کریں گے، جس میں مردم شماری کے کمشنر کے علاوہ جناب درگا شنکر مشرا (ریٹائرڈ آئی اے ایس)، جناب بالاجی سری واستوا (ریٹائرڈ آئی پی ایس) اور ڈاکٹر شمیکا رَوی بطور اراکین شامل ہوں گے

آبادیاتی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف ہماری خودمختاری بلکہ قومی سلامتی، قانون و نظم، سماجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں اور قبائلی معاشروں کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے

یہ کمیٹی پورے بھارت میں غیر قانونی ہجرت اور دیگر غیر معمولی وجوہات کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جامع جائزہ لے گی

کمیٹی مذہبی اور سماجی برادریوں کی سطح پر غیر معمولی آبادیاتی تبدیلیوں کے رجحانات کا تجزیہ کرے گی اور اس مسئلے کے حل کے لیے ایک جامع اور وقت کے پابند منصوبے کے ساتھ سفارشات پیش کرے گی

یہ کمیٹی اپنی رپورٹ ایک سال کے اندر پیش کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اس کی مدت میں چھ ماہ تک کی توسیع کی جا سکتی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 MAY 2026 5:30PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے غیر قانونی دراندازی اور دیگر غیر معمولی وجوہات کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے 15 اگست 2025 کو ’’اعلیٰ اختیاراتی ڈیموگرافی مشن‘‘ کا اعلان کیا تھا۔ مرکزی کابینہ نے اس تجویز کی منظوری 11 ستمبر 2025 کو دی۔

ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیکر  اس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ مردم شماری کے کمشنر کے علاوہ تین ممتاز ماہرین—جناب درگا شنکر مشرا (ریٹائرڈ آئی اے ایس)، جناب بالاجی سری واستوا (ریٹائرڈ آئی پی ایس) اور ڈاکٹر شمیکا رَوی—اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری (فارینرز-1) اس کمیٹی کے رکن سیکریٹری ہوں گے۔ یہ کمیٹی اپنی رپورٹ ایک سال کے اندر پیش کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر وزارتِ داخلہ اس کی مدت میں زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی توسیع کر سکتی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ اور وزیرِ تعاون جناب امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ’’غیر قانونی دراندازی اور دیگر وجوہات کے باعث ہونے والی غیر فطری آبادیاتی تبدیلی کسی بھی قوم کے حال اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے 15 اگست 2025 کو ’اعلیٰ سطحی آبادیاتی تبدیلی کمیٹی‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ حکومت نے اس کمیٹی کی تشکیل کر دی ہے۔ یہ کمیٹی ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیکر  کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے اور اس میں مردم شماری کے کمشنر کے ساتھ جناب درگا شنکر مشرا (ریٹائرڈ آئی اے ایس)، جناب بالاجی سری واستوا (ریٹائرڈ آئی پی ایس) اور ڈاکٹر شمیکا رَوی بطور رکن شامل ہوں گے۔ وزارتِ داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری (فارینرز-1) اس کمیٹی کے رکن سیکریٹری ہوں گے۔ آبادیاتی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف ہماری خودمختاری بلکہ قومی سلامتی، نظم و نسق، سماجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں اور قبائلی معاشروں کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ کمیٹی پورے بھارت میں غیر قانونی ہجرت اور دیگر غیر معمولی وجوہات کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جامع جائزہ لے گی۔ یہ مذہبی اور سماجی برادریوں کی سطح پر غیر معمولی آبادیاتی تبدیلیوں کے رجحانات کا تجزیہ کرے گی اور اس مسئلے کے حل کے لیے ایک منظم اور وقت کے پابند لائحہ عمل کے ساتھ سفارشات پیش کرے گی۔’’

یہ اعلیٰ سطحی کمیٹی سائنسی بنیادوں پر ملک کے مختلف حصوں میں غیر قانونی دراندازی اور دیگر غیر معمولی وجوہات کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لے گی، ان کے اسباب کا تجزیہ کرے گی اور مناسب پالیسی، قانونی اور انتظامی اقدامات کی سفارش کرے گی۔ مجوزہ ڈھانچے اور ٹرمز آف ریفرنس درج ذیل ہیں:

  1. آبادیاتی تبدیلیوں، بشمول غیر قانونی دراندازی، سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر جامع غور و خوض کرنا۔
  2. ایسی آبادیاتی تبدیلیوں کے ممکنہ اسباب کا مطالعہ کرنا، جیسے سرحد پار سرگرمیاں (بشمول غیر قانونی دراندازی)، معاشی مواقع اور دیگر سماجی و ماحولیاتی عوامل۔
  3. ان تبدیلیوں کے بنیادی محرکات کی نشاندہی کرنا، جن میں غیر قانونی دراندازی، غیر معمولی آبادکاری کے رجحانات اور منظم نقل مکانی شامل ہیں۔
  4. مذہبی یا سماجی برادریوں کی سطح پر آبادی کے ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنا، خاص طور پر ان صورتوں میں جہاں یہ عمومی رجحانات سے مختلف ہوں۔
  5. ملک میں پہلے سے مقیم غیر قانونی تارکینِ وطن کی قانونی، شفاف اور وقت کے پابند طریقے سے شناخت، حراست اور ملک بدری کے لیے ایک مربوط اور مستقل عملی نظام کی سفارش کرنا۔
  6. سرحدی انتظام، آبادی کے استحکام اور شناختی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مناسب ادارہ جاتی نظام کی سفارش کرنا، تاکہ ان رجحانات کی مسلسل نگرانی ممکن ہو سکے۔
  7. مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان غیر قانونی دراندازی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آبادیاتی عدم توازن سے متعلق امور پر بہتر رابطہ کاری کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک تجویز کرنا۔
  8. کمیٹی ایسے دیگر اقدامات کی بھی سفارش کر سکتی ہے جو اس کے خیال میں آبادیاتی تبدیلیوں، بشمول غیر قانونی دراندازی، سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مناسب ہوں۔

 

 

***

 

ش ح۔ت  ف ۔ ا ک م

U No. 7580

 


(ریلیز آئی ڈی: 2265558) وزیٹر کاؤنٹر : 14