دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملازمین کی زندگیوں میں ایک نیا سویرا – جناب شیو راج سنگھ چوہان


نیا  دیہی روزگار قانون مزدور، کسان اورگاؤں   تینوں کو بااختیار بنائے گا – جناب شیو راج سنگھ چوہان

ترقی یافتہ بھارت کی جانب ایک اہم قدم: وی بی جی – رام جی ایکٹ کا نوٹیفیکیشن جاری – وزیرِ مرکزی جناب شیو راج سنگھ

وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں دیہی بھارت میں  یکم   جولائی سے روزگار کا نیا دور شروع؛ اب 100 دن کی ضمانت  نہیں بلکہ 125 دنوں کی – جناب شیو راج سنگھ

گاؤوں کے چہرے کو بدلنے کے لیے 1.51 لاکھ کروڑ روپے: روزگار سے لے کر بنیادی ڈھانچے تک وسیع پیمانے پر مہم – جناب شیو راج سنگھ چوہان

اجرت کی بروقت ادائیگی، تاخیر کی صورت میں معاوضہ اور کام نہ ملنے کی صورت میں بے روزگاری  بھتہ  –مرکزی وزیر  جناب شیو راج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 11 MAY 2026 3:00PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے آج، 11 مئی  ، 2026  ء کو،  ’  وِکست بھارت – گارنٹی فار ایمپلائمنٹ اینڈ لائیولی ہڈ مشن (دیہی) ‘ ، جسے وی بی – جی رام جی  ایکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،  اس کے نفاذ کے لیے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی تاریخی  پیش رفت انجام دی ہے ۔ یہ قانون یکم جولائی  ، 2026  ء سے پورے ملک میں نافذ العمل ہوگا۔ مرکزی وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا  کہ اس قانون سے دیہی غریبوں، مزدوروں کے کنبوں ، خواتین،  اپنی مدد آپ گروپوں اور کسانوں کے لیے نئی امید، بہتر آمدنی کی ضمانت اور  گاؤوں میں بڑے پیمانے پر پائیدار ترقیاتی اقدامات ممکن ہوں گے۔

آج بھوپال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، جناب شیو راج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ ’ وِکست بھارت جی - رام جی ایکٹ ‘ کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یکم جولائی سے دیہی علاقوں میں روزگار حاصل کرنے والے مزدوروں کو اب سالانہ 125 دن کا کام فراہم کیا جائے گا، جو پہلے  100 دن کے روز گار فراہم کرنے کی سہولت سے زیادہ ہے۔ اس دوران، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ ( ایم جی نریگا ) کی تمام موجودہ دفعات نافذ العمل رہیں گی اور یکم جولائی سے قبل زیرِ  التواء  تمام کام ایم جی نریگا کے فریم ورک کے تحت مکمل کیے جائیں گے۔

مرکزی  وزیر نے بتایا کہ نئے ایکٹ کے  ضوابط تیار کرنے کا عمل ابھی جاری ہے، جو ریاستوں کے ساتھ وسیع مشاورتی  میٹنگوں کے بعد طے کیا جا رہا ہے۔ تاہم  ، حکومت اس بات  کے لیے  پُر عزم ہے کہ اس عبوری مرحلے کے دوران کسی بھی مزدور کو روزگار سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا اور اس کے لیے جامع انتظامات پہلے ہی کر لئے گئے ہیں۔

جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ  ’  وِکست بھارت جی - رام جی ‘  منصوبے کے تحت زیادہ تر ریاستوں کو ضروری تیاریاں  مکمل کرنے کی خاطر زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی ریاست یکم جولائی تک مطلوبہ تیاری مکمل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو یکم جولائی کے بعد شروع ہونے والے کاموں کے لیے فنڈ فراہم کرنے کا طریقۂ کار   ’  وِکست بھارت جی - رام جی ‘ اسکیم کے تحت ہوگا۔

مرکزی  وزیر جناب شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، حکومتِ ہند نے اس اسکیم کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے لیے اپنے بجٹ میں 95,000 کروڑ روپے سے زیادہ مختص کیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریاستوں نے بھی اس اسکیم کے نفاذ کے لیے اپنے متعلقہ بجٹ میں فنڈز مختص کیے ہیں اور مرکز اور ریاستوں   کے ذریعے  مختص کردہ مشترکہ   رقم     1,51,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر جائے گی۔

مرکزی  وزیر نے کہا کہ مزدوروں  کو کی جانے والی  ادائیگیاں براہِ راست بینک یا پوسٹ آفس اکاؤنٹس میں  فائدے کی راست منتقلی ( ڈی بی ٹی) کے ذریعے کی جائیں گی۔  اس کا  ہدف ادائیگیوں کا عمل  تین دن کے اندر مکمل  کرنا ہے  لیکن  ساتھ ہی اسکیم کا مقصد تمام مراحل مکمل کر کے فنڈز زیادہ سے زیادہ 15 دن میں مزدوروں کے اکاؤنٹس میں  منتقل کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر 15 دن کے اندر فنڈز موصول نہ ہوں تو مزدور تاخیر کی صورت میں معاوضے کے مستحق ہوں گے اور تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں اضافی رقم بھی ادا کی جائے گی۔

مرکزی  وزیر نے بتایا کہ اگر درخواست دینے پر بھی روزگار فراہم نہ کیا گیا تو بے روزگاری  بھتہ ادا کرنا لازمی ہوگا۔ انہوں نے اسے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع اسکیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ  گاؤوں میں بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی کام بڑے پیمانے پر کیے جائیں گے، جن کے لیے سالانہ مختص رقم 1,51,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کے تحت ضروری کام جیسے پانی کا تحفظ، دیہی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سڑکیں، پل،  چھوٹی پلیہ ، اسکول اور آنگن واڑی عمارتیں شامل ہوں گی۔ روزگار  پیدا کرنے والی سرگرمیوں کے دائرے میں خواتین کے  اپنی مدد آپ گروپوں ( ایس ایچ جیز ) اور کسان پیداواری انجمنوں ( ایف پی اوز )  کے لیے ورکنگ شیڈز جیسے  بنیادی ڈھانچے بھی تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔  اس کے علاوہ ، قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے، دریا کنارے  گاؤں یا پانی میں ڈوبے ہوئے علاقوں میں ریٹیننگ وال کی تعمیر جیسے کام بھی اس اسکیم کے تحت کیے جا سکتے ہیں۔ مزدوروں کو مناسب اور اجرت کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے، انتظامی اخراجات کی مختص رقم 6 فی صد سے بڑھا کر 9 فی صد کر دی گئی ہے۔

مرکزی  وزیر شیو راج سنگھ چوہان نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مزدوروں کی زندگیوں میں ایک نئے دور کی شروعات ہے اور یہ اسکیم ’’ ترقی یافتہ گاؤں  ‘‘  کے قیام کے عزم کو پورا کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، جو ’’ ترقی یافتہ بھارت ‘‘  کی بنیاد فراہم کرے گی۔

 

 

 ...................................................

) ش ح –       ض ر     -  ع ا )

U.No. 6910


(ریلیز آئی ڈی: 2259956) وزیٹر کاؤنٹر : 14