پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت
مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیشِ نظر اہم شعبوں سے متعلق تازہ معلومات
ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود
عوام کو افواہوں پر یقین نہ کرنے کا مشورہ
یوریا کارخانوں کو گیس کی فراہمی گزشتہ 6 ماہ کی اوسط کا 70 تا 75 فیصد برقرار، اضافی ایل این جی اور آر ایل این جی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مزید وسائل حاصل کیے جا رہے ہیں
مارچ کے دوران گھریلو، تجارتی، ہاسٹل، میس اور کینٹین کے زمروں میں 2.9 لاکھ سے زائد گیس کنکشن فراہم
تقریباً 94,000 میٹرک ٹن مال بردار دو ایل پی جی جہاز بحفاظت خطے سے گزر کر بھارت کی جانب رواں دواں
پورے بھارت میں بندرگاہی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری اور کہیں بھی بھیڑ بھاڑ کی اطلاع نہیں
حکومت خلیج اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، بیرون ملک مقیم بھارتیوں کی حفاظت اور بہبود اولین ترجیح
بھارتی مشنز ویزا، قونصلر اور لاجسٹک سہولیات سمیت سمندری عملے اور طلبہ کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
29 MAR 2026 3:10PM by PIB Delhi
مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر حکومتِ ہند مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور اہم شعبوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مناسب تیاری اور ردِعمل کے اقدامات نافذ کر رہی ہے۔ کوششیں بلا تعطل توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے، بحری سرگرمیوں کے تحفظ اور خطے میں موجود بھارتی شہریوں کو ضروری امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ ذیل میں 29 مارچ 2026 تک ان شعبوں میں کیے گئے اقدامات کی تازہ معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔
توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی
آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کے پیشِ نظر ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال درج ذیل ہے:
خام تیل / ریفائنریز
- تمام ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے بھی کافی ذخائر دستیاب ہیں۔
- گھریلو استعمال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ریفائنریز سے ایل پی جی کی مقامی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔
ریٹیل مراکز
-
- ملک بھر میں تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
- حکومتِ ہند نے پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کی کمی کی ہے۔
- مزید یہ کہ حکومتِ ہند نے ڈیزل پر 21.5 روپے فی لیٹر اور ہوابازی ایندھن (اے ٹی ایف) پر 29.5 روپے فی لیٹر برآمدی محصول عائد کیا ہے تاکہ ان مصنوعات کی مقامی منڈی میں دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
- بعض علاقوں میں اندیشوں کے تحت خریداری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ چند ریاستوں میں افواہوں کے باعث کچھ ریٹیل آؤٹ لیٹس پر غیر معمولی فروخت اور زیادہ بھیڑ دیکھنے میں آئی۔ تاہم یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ملک کے تمام پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔
- حکومت نے عوام کو ایک بار پھر مشورہ دیا ہے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔
قدرتی گیس
-
- صارفین کو ترجیح دیتے ہوئے ڈی-پی این جی (گھریلو پائپڈ گیس) اور سی این جی ٹرانسپورٹ کے لیے 100 فیصد فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
- گرڈ سے منسلک صنعتی اور تجارتی صارفین کو ان کی اوسط کھپت کے 80 فیصد کے مطابق گیس فراہم کی جا رہی ہے۔
- حکومتِ ہند نے سٹی گیس ڈسٹری بیوشن (سی جی ڈی) اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے تمام جغرافیائی علاقوں میں ہوٹلوں، ریستورانوں اور کینٹین جیسے تجارتی اداروں کے لیے پی این جی کنکشن کو ترجیح دیں، تاکہ کمرشل ایل پی جی کی دستیابی سے متعلق خدشات کو دور کیا جا سکے۔
- زیرِ استعمال یوریا کارخانوں کو گیس کی فراہمی اب گزشتہ چھ ماہ کی اوسط کھپت کے تقریباً 70 تا 75 فیصد پر مستحکم ہے۔ فراہمی برقرار رکھنے اور پائپ لائن کے دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے اضافی ایل این جی کارگو اور ری گیسیفائیڈ ایل این جی (آر ایل این جی) بھی حاصل کیے جا رہے ہیں۔
- تمام صنعتی صارفین بشمول کھاد کارخانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی اضافی ضروریات فوری بنیاد پر بتائیں تاکہ گیس مارکیٹنگ کمپنیاں اس کا انتظام کر سکیں۔
- سی جی ڈی کمپنیاں جیسے آئی جی ایل، ایم جی ایل، گیل گیس اور بی پی سی ایل نے گھریلو اور تجارتی پی این جی کنکشن لینے کے لیے ترغیبات پیش کی ہیں۔
- حکومتِ ہند نے ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں سے درخواست کی ہے کہ سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کے لیے درکار درخواستوں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جائے۔
- حکومتِ ہند نے 18.03.2026 کے خط کے ذریعے تمام ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کو کمرشل ایل پی جی کی اضافی 10 فیصد فراہمی کی پیشکش کی ہے، بشرطیکہ وہ طویل مدت میں ایل پی جی سے پی این جی کی طرف منتقلی میں تعاون کریں۔ بعد ازاں وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کو متعدد ریاستوں سے درخواستیں موصول ہوئیں جنہوں نے سی جی ڈی نیٹ ورک کے فروغ کے لیے اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں، جس کے مطابق کچھ ریاستوں کے لیے اضافی کوٹہ تجویز کیا گیا ہے۔
- پی این جی آر بی نے 23.03.2026 کے اپنے حکم کے ذریعے تمام سی جی ڈی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں قریبی علاقے میں پائپ لائن کی سہولت موجود ہو وہاں رہائشی اسکولوں و کالجوں، ہاسٹلز، کمیونٹی کچن، آنگن واڑی کچن وغیرہ کو 5 دن کے اندر پی این جی سے منسلک کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کریں۔
- وزارتِ سڑک، نقل و حمل و شاہراہوں نے 24.03.2026 کے خط کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے خصوصی اقدام کے طور پر تین ماہ کے لیے ’’سی جی ڈی بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار منظوری کا فریم ورک‘‘ نافذ کیا ہے، جس کے تحت سی جی ڈی انفراسٹرکچر سے متعلق درخواستوں کو ترجیحی بنیاد پر نمٹایا جائے گا۔
- حکومتِ ہند نے 24.03.2026 کے گزٹ کے ذریعے ضروری اشیاء ایکٹ 1955 کے تحت ’’قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم (پائپ لائنوں اور دیگر سہولیات کی تنصیب، تعمیر، آپریشن اور توسیع کے ذریعے) حکم، 2026‘‘ جاری کیا ہے۔ اس حکم کے تحت ملک بھر میں پائپ لائن بچھانے اور توسیع کے لیے ایک منظم اور وقت بند فریم ورک فراہم کیا گیا ہے، جس سے منظوریوں میں تاخیر اور زمین تک رسائی کے مسائل حل ہوں گے اور قدرتی گیس کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی ممکن ہوگی، خصوصاً رہائشی علاقوں میں۔ اس سے پی این جی نیٹ ورک کی توسیع، آخری مرحلے تک رسائی میں بہتری اور صاف ایندھن کی جانب منتقلی کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں توانائی کے تحفظ کو مضبوطی اور گیس پر مبنی معیشت کو تقویت حاصل ہوگی۔
- وزارتِ دفاع نے 27.03.2026 کے خط کے ذریعے 30 جون 2026 تک مؤثر ایک قلیل مدتی پالیسی میں ترمیم جاری کی ہے، جس کا مقصد دفاعی رہائشی علاقوں اور یونٹ لائنز میں پی این جی انفراسٹرکچر کی تنصیب کو تیز کرنا ہے۔
- مارچ کے مہینے کے دوران گھریلو، تجارتی، ہاسٹل، میس، کینٹین وغیرہ سمیت 2.9 لاکھ سے زائد کنکشن گیس سے منسلک کیے گئے۔
ایل پی جی
- موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
گھریلو ایل پی جی کی فراہمی:
-
- ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز پر کسی قسم کی قلت (خشک ہو جانے) کی اطلاع نہیں ہے۔
- آن لائن ایل پی جی سلنڈر بکنگ کل صنعت کی سطح پر بڑھ کر 94 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
- ڈسٹری بیوٹر کی سطح پر بے ضابطگی روکنے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی) پر مبنی ترسیل کو فروری 2026 کے 53 فیصد سے بڑھا کر کل 84 فیصد کر دیا گیا ہے۔
- کل کے دن 55 لاکھ سے زائد ایل پی جی ریفل فراہم کیے گئے۔
- گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے۔
کمرشل ایل پی جی کی فراہمی:
-
- حکومت پہلے ہی صارفین کے لیے کمرشل ایل پی جی کی جزوی (20 فیصد) فراہمی بحال کر چکی ہے۔ مزید برآں، حکومتِ ہند نے 18.03.2026 کے خط کے ذریعے پی این جی توسیع کے لیے کاروباری آسانی کی اصلاحات کی بنیاد پر ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کو اضافی 10 فیصد کمرشل ایل پی جی فراہم کرنے کی تجویز دی تھی۔
- حکومتِ ہند نے 21.03.2026 کے خط کے ذریعے مزید 20 فیصد کمرشل ایل پی جی مختص کرنے کی اجازت دی، جس سے مجموعی فراہمی 50 فیصد (بشمول 10 فیصد اصلاحات کی بنیاد پر) ہو گئی۔ یہ اضافی 20 فیصد ترجیحی طور پر ریستوران، ڈھابے، ہوٹل، صنعتی کینٹین، فوڈ پروسیسنگ/ڈیری، ریاستی حکومت یا مقامی اداروں کے زیرِ انتظام سبسڈی والے کھانے کے مراکز، کمیونٹی کچن اور مہاجر مزدوروں کے لیے 5 کلو کے ایف ٹی ایل سلنڈرز کو فراہم کیا جائے گا۔
- حکومتِ ہند نے 27.03.2026 کے خط کے ذریعے مزید 20 فیصد کمرشل ایل پی جی مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مجموعی فراہمی بحران سے پہلے کی سطح کے 70 فیصد (بشمول 10 فیصد اصلاحاتی بنیاد) تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافی حصہ صنعتوں کو دیا جائے گا، جن میں اسٹیل، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، رنگ سازی، کیمیکل اور پلاسٹک کی صنعتوں کو ترجیح دی جائے گی۔ ان میں بھی اُن صنعتوں کو ترجیح دی جائے گی جہاں ایل پی جی مخصوص حرارتی مقاصد کے لیے ضروری ہو اور اسے قدرتی گیس سے تبدیل نہ کیا جا سکے۔
- کل تقریباً 64,000 عدد 5 کلو کے ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے۔
- 28 ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں نے حکومتِ ہند کی ہدایات کے مطابق غیر گھریلو ایل پی جی کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ باقی ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں کمرشل ایل پی جی سلنڈرز فراہم کر رہی ہیں۔ 14 مارچ 2026 سے اب تک ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں کمرشل اداروں کی جانب سے مجموعی طور پر 39,368 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کی جا چکی ہے۔
مٹی کا تیل (کیروسین)
-
- تمام ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کو معمول کی فراہمی کے علاوہ 48,000 کلو لیٹر کی اضافی مقدار فراہم کی گئی ہے۔
- ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اضلاع میں مٹی کے تیل کی تقسیم کے لیے مقامات کی نشاندہی کریں۔
- 17 ریاستوں/مرکزکے زیرِ انتظام علاقوں نے ایس کے او (سپیریئر کیروسین آئل) کی تقسیم کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ جبکہ ہماچل پردیش اور لداخ نے اطلاع دی ہے کہ انہیں ایس کے او کی ضرورت نہیں ہے۔
ریاستوں/مرکزکے زیرِ انتظام علاقوں کا کردار
-
- ضروری اشیاء ایکٹ 1955 اور ایل پی جی کنٹرول آرڈر 2000 کے تحت ریاستی حکومتوں کو ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت ضروری اشیاء کی فراہمی کی نگرانی اور ضابطہ کاری میں ریاستی حکومتوں کا بنیادی کردار ہے۔ حکومتِ ہند نے مختلف خطوط اور ویڈیو کانفرنسوں کے ذریعے اس بات کو تمام ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کو دوبارہ واضح کیا ہے۔
- تمام ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز، ایڈیشنل چیف سیکریٹری/پرنسپل سیکریٹری/سیکریٹری خوراک و شہری رسد سے گزارش کی گئی ہے کہ:
-
- ریاست/ضلع کی سطح پر روزانہ پریس بریفنگ کو باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا جائے اور عوام کے لیے باقاعدہ رہنما ہدایات جاری کی جائیں۔
- خصوصی کنٹرول رومز اور ہیلپ لائنز قائم کی جائیں۔
- سوشل میڈیا پر جعلی خبروں اور غلط معلومات کی فعال نگرانی اور تدارک کیا جائے۔
- ضلعی انتظامیہ کی جانب سے روزانہ نفاذی کارروائیوں کو تیز کیا جائے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ساتھ مل کر چھاپے اور معائنہ جاری رکھا جائے۔
- اپنی ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں کمرشل ایل پی جی کی تقسیم کے احکامات جاری کیے جائیں۔
- ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کو فراہم کردہ اضافی ایس کے او (کیروسین) کے لیے تقسیم کے احکامات جاری کیے جائیں۔
- سی جی ڈی نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کیا جائے، جس میں راستۂ گزر کی منظوریوں اور 24 گھنٹے کام کی اجازت شامل ہے۔
- پی این جی کے استعمال اور متبادل ایندھن کو فروغ دیا جائے۔
- وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ساتھ رابطے کے لیے سینئر نوڈل افسران نامزد کیے جائیں۔
-
- حکومتِ ہند نے 27.03.2026 کے خط کے ذریعے ایک بار پھر تمام ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز سے درخواست کی ہے کہ وہ روزانہ پریس بریفنگ کریں اور سوشل میڈیا و الیکٹرانک میڈیا پر فعال اپڈیٹس جاری کریں تاکہ درست معلومات عام کی جا سکیں اور افواہوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس وقت 14 ریاستیں/مرکزی زیرِ انتظام علاقے روزانہ پریس بریفنگ کر رہے ہیں۔
نفاذی کارروائیاں
-
- ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کو روکنے کے لیے متعدد ریاستوں/مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں چھاپے جاری ہیں۔ کل تقریباً 2900 چھاپے مارے گئے اور قریباً 1000 سلنڈر ضبط کیے گئے۔
- سرکاری شعبے کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے افسران نے ملک بھر میں 1200 سے زائد ریٹیل آؤٹ لیٹس اور ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز پر اچانک معائنہ کیا تاکہ ہموار فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی/کالا بازاری کے معاملات کی جانچ ہو سکے۔
- سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اب تک ایل پی جی ڈسٹری بیوشن مراکز کو تقریباً 480 شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔
دیگر حکومتی اقدامات
-
- اس جنگی صورتحال کے باوجود حکومت نے گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کو اعلیٰ ترین ترجیح دی ہے، جبکہ اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل رکھا گیا ہے۔
- حکومت نے رسد اور طلب دونوں پہلوؤں پر متعدد اصلاحی اقدامات نافذ کیے ہیں، جن میں ریفائنری پیداوار میں اضافہ، شہری علاقوں میں بکنگ کے وقفے کو 21 دن سے بڑھا کر 25 دن اور دیہی علاقوں میں 45 دن تک کرنا اور مختلف شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فراہمی شامل ہے۔
- ایل پی جی کی طلب پر دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل ایندھن جیسے مٹی کا تیل اور کوئلہ فراہم کیے گئے ہیں۔
- وزارتِ کوئلہ نے پہلے ہی کول انڈیا اور سنگارینی کولیریز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریاستوں کو زیادہ مقدار میں کوئلہ فراہم کریں تاکہ چھوٹے، درمیانے اور دیگر صارفین میں تقسیم کیا جا سکے۔
- ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی دونوں صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشن کی سہولت کو آسان بنائیں۔
عوامی رہنمائی
-
- حکومت پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ گھبراہٹ میں پیٹرول، ڈیزل کی خریداری یا ایل پی جی کی بکنگ سے گریز کریں۔
- شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ افواہوں سے ہوشیار رہیں اور درست معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔
- ایل پی جی کے لیے شہریوں سے درخواست ہے کہ:
-
- بکنگ کے لیے ڈیجیٹل طریقہ استعمال کریں۔
- ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر کے پاس جانے سے گریز کریں۔
-
- شہریوں سے گزارش ہے کہ پی این جی، انڈکشن یا برقی چولہوں جیسے متبادل ایندھن کا استعمال کریں۔
- موجودہ صورتحال میں تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ روزمرہ استعمال میں توانائی کی بچت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
بحری سلامتی اور جہاز رانی کے امور
وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کے مطابق خطے میں کام کرنے والے بھارتی جہازوں اور سمندری عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق:
-
- خطے میں موجود تمام بھارتی سمندری عملہ محفوظ ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارتی پرچم بردار جہازوں سے متعلق کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
- دو ایل پی جی بردار جہاز، بی ڈبلیو ٹائر اور بی ڈبلیو ایلم، تقریباً 94,000 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر بحفاظت خطے سے گزر چکے ہیں اور بھارت کی جانب رواں ہیں۔ بی ڈبلیو ٹائر ممبئی کی طرف جا رہا ہے جس کی متوقع آمد 31 مارچ 2026 ہے، جبکہ بی ڈبلیو ایلم نیو منگلور کی جانب گامزن ہے اور اس کی متوقع آمد یکم اپریل 2026 ہے۔
- مغربی خلیج فارس کے خطے میں مجموعی طور پر 18 بھارتی پرچم بردار جہاز موجود ہیں جن پر 485 بھارتی سمندری عملہ تعینات ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ (ڈی جی شپنگ) جہاز مالکان، آر پی ایس ایل ایجنسیوں اور بھارتی مشنز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
- ڈی جی شپنگ کا کنٹرول روم 24 گھنٹے فعال ہے اور اب تک 4523 کالز اور 8985 ای میلز کو سنبھال چکا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 92 کالز اور 120 ای میلز موصول ہوئیں۔
- ڈی جی شپنگ نے اب تک 942 سے زائد بھارتی سمندری عملے کی محفوظ وطن واپسی میں سہولت فراہم کی ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 افراد شامل ہیں۔
- بھارت بھر کی بندرگاہی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی قسم کی بھیڑ بھاڑ کی اطلاع نہیں ہے۔ گجرات، مہاراشٹر، گوا، کیرالہ، آندھرا پردیش اور پڈوچیری کے ریاستی میری ٹائم بورڈز نے ہموار کام کی تصدیق کی ہے۔
- وزارت، وزارتِ خارجہ، بھارتی مشنز اور دیگر بحری متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ سمندری عملے کی فلاح و بہبود اور بحری سرگرمیوں کے بلا تعطل جاری رہنے کو یقینی بنایا جا سکے۔
خطے میں بھارتی شہریوں کی سلامتی
وزارت کے مطابق بھارتی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی جانب سے خطے میں مقیم بھارتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے، ساتھ ہی ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے رہنما ہدایات جاری کی جا رہی ہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
- وزارتِ خارجہ خلیج اور مغربی ایشیا کے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں مقیم بھارتی برادری کی حفاظت، سلامتی اور بہبود کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
- بھارتی شہریوں اور ان کے اہلِ خانہ کی مدد کے لیے ایک خصوصی کنٹرول روم مسلسل فعال ہے اور ریاستوں و مرکزی زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
- خطے میں موجود تمام بھارتی سفارت خانے اور قونصل خانے چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں، 24×7 ہیلپ لائنز چلا رہے ہیں اور بھارتی برادری کی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ تازہ رہنما ہدایات باقاعدگی سے جاری کی جا رہی ہیں اور مشنز مقامی حکام کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔
- سمندری عملے، طلبہ، پھنسے ہوئے بھارتی شہریوں اور قلیل مدتی زائرین کو مسلسل مدد فراہم کی جا رہی ہے، جس میں ویزا، قونصلر اور لاجسٹک سہولیات شامل ہیں۔
- 28 فروری سے اب تک تقریباً 5,24,000 مسافر خطے سے بھارت واپس آ چکے ہیں۔ پروازوں کا عمل منظم انداز میں جاری ہے:
- متحدہ عرب امارات (یو اے ای): آج مختلف ہوائی اڈوں سے بھارت کے لیے تقریباً 80 پروازیں چلنے کی توقع ہے۔
- سعودی عرب اور عمان: بھارت کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
- قطر: فضائی حدود جزوی طور پر کھلنے کے بعد آج تقریباً 8 تا 10 غیر شیڈول پروازوں کی توقع ہے۔
- کویت اور بحرین: فضائی حدود بند ہیں، تاہم کویت کی جزیرا ایئرویز اور بحرین کی گلف ایئر کی خصوصی غیر شیڈول کمرشل پروازیں سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے سے بھارت کے مختلف مقامات کے لیے چل رہی ہیں۔
- ایران: سفر کی سہولت آرمینیا اور آذربائیجان کے راستے فراہم کی جا رہی ہے۔
- اسرائیل: سفر کی سہولت مصر اور اردن کے راستے فراہم کی جا رہی ہے۔
- عراق: سفر کی سہولت اردن اور سعودی عرب کے راستے فراہم کی جا رہی ہے۔
- ایک بھارتی شہری، جن کا 27 مارچ 2026 کو ابوظہبی میں انتقال ہوا، کی میت بھارت منتقل کر دی گئی ہے۔ وزارت مرحوم کے اہلِ خانہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور اس مشکل گھڑی میں ان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
- عمان کے شہر صلالہ میں ایک حملے میں زخمی ہونے والے ایک بھارتی شہری کو طبی علاج فراہم کیا جا رہا ہے، بھارتی مشن ضروری مدد فراہم کر رہا ہے اور مقامی حکام کے ساتھ رابطہ قائم رکھے ہوئے ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-5088
(ریلیز آئی ڈی: 2246659)
وزیٹر کاؤنٹر : 19