وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

 “وکست بھارت کے لیے ٹیکنالوجی، اصلاحات اور مالیات” کے موضوع پر بجٹ کے بعد منعقدہ ویبینار میں وزیرِ اعظم کے خطاب کا متن

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 FEB 2026 1:01PM by PIB Delhi

نمسکار!

اس سال کے پہلے بجٹ ویبینار میں میں آپ سب کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ گزشتہ چند برسوں میں بجٹ ویبینار ایک مضبوط روایت بن چکے ہیں۔ اکثر بجٹ کا جائزہ مختلف پیمانوں پرکیا جاتا ہے، کبھی اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال  پر گفتگو ہوتی ہے، تو کبھی انکم ٹیکس تجاویز پر بحث مرکوز ہو جاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قومی بجٹ کوئی قلیل مدتی تجارتی دستاویز نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک پالیسی روڈ میپ ہوتا ہے۔ اس لیے بجٹ کی مؤثریت کا اندازہ بھی ٹھوس پیمانوں پر ہونا چاہیے۔ ایسی پالیسیاں جو انفراسٹرکچر کو وسعت دیں، قرض کی ترسیل کو آسان بنائیں، کاروبار میں آسانی کو بڑھائیں، حکمرانی میں شفافیت لائیں، عوام کی زندگی کو سہل بنائیں اور ان کے لیے نئے مواقع پیدا کریں۔بجٹ میں انہی سے متعلق فیصلے معیشت کو پائیدار مضبوطی دیتے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی بجٹ کو الگ تھلگ یا تنہا دیکھنا درست نہیں۔

ملک کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے۔ ہر بجٹ ایک بڑے ہدف کی طرف بڑھنے کا ایک مرحلہ ہوتا ہے، اور ہمارے سامنے وہ بڑا ہدف سال 2047 ہے۔  2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر۔ ہر اصلاح، ہر مختص رقم اور ہر تبدیلی کو اس طویل سفر کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اسی لیے ہر سال بجٹ کے بعد ہونے والے یہ ویبینار نہایت اہم ہیں۔ میری توقع ہے کہ یہ ویبینار صرف خیالات کے تبادلے تک محدود نہ رہیں، بلکہ ایک مؤثر غوروفکر کی مشق کا حصہ بنیں۔ آپ کے تجربات اور عملی چیلنجز پر مبنی تجاویز اقتصادی حکمتِ عملیوں کو بہتر بنانے اور حل تلاش کرنے میں مددگار ہوں گی۔ جب صنعت، تعلیمی ادارے، تجزیہ کار اور پالیسی ساز مل کر سوچتے ہیں تو منصوبوں کا نفاذ بہتر ہوتا ہے اور نتائج زیادہ درست حاصل ہوتے ہیں۔ انہی جذبات کے تحت ان ویبینارز کی یہ سیریز منعقد کی جا رہی ہے۔

ساتھیو،

اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزر چکا ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی کے بارے میں سوچیں تو ایک اہم اور قیمتی دور گزر چکا ہے۔ اب ہم ملک کی ترقیاتی یاترا کے ایک اہم مرحلے میں ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہماری معیشت تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، اور گزشتہ ایک دہائی میں بھارت نے غیر معمولی لچک  کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ عزم پر مبنی اصلاحات کا نتیجہ ہے۔ ہم نے طریقۂ کار کو آسان بنایا، کاروبار میں آسانی کو بہتر کیا، ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیا اور اداروں کو مضبوط کیا۔ آج بھی ملک اصلاحات کی تیز رفتار ریل پر سوار ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ہمیں صرف پالیسی ارادے پر نہیں بلکہ بہترین عمل درآمد پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ اصلاحات کی قدر کا اندازہ اعلانات سے نہیں بلکہ زمینی اثرات سے ہونا چاہیے۔ ہمیں اے آئی، بلاک چین اور ڈیٹا اینالیٹکس کے وسیع استعمال کے ذریعے شفافیت، رفتار اور جوابدہی کو بڑھانا ہوگا، اور شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے اثرات کی مسلسل نگرانی بھی کرنی ہوگی۔

ساتھیو،

گزشتہ ایک دہائی میں انفراسٹرکچر پر ہمارا خصوصی زور رہا ہے۔ ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ بھارت کی ترقی شاہراہوں، ریلوے، بندرگاہوں، ڈیجیٹل نیٹ ورک اور پاور سسٹمز جیسے ٹھوس اثاثے تیار کیے بغیر ممکن نہیں۔ یہ آنے والی دہائیوں تک مصنوعات تیار کرتے رہیں گے۔ اسی لیے سرکاری سرمایہ جاتی اخراجات میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گیارہ سال پہلے عوامی سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے بجٹ میں تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کا انتظام تھا، جبکہ موجودہ بجٹ میں یہ بڑھ کر تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس قدر بڑے پیمانے پر سرکاری نجی شعبے کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے۔

ساتھیو،

اب وقت ہے کہ صنعت اور مالیاتی ادارے بھی نئی توانائی کے ساتھ آگے آئیں۔ ہمیں انفراسٹرکچر میں زیادہ شراکت داری، مالیاتی ماڈلز میں زیادہ جدت اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں مضبوط تعاون کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں میرا ایک اور مشورہ ہے کہ ہمیں پروجیکٹ منظوری کے طریقۂ کار اور جائزہ معیار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ زندگی کے مکمل دورانیے کی کاسٹنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر ضروری اخراجات اور تاخیر کو روکنا ناگزیر ہے

ساتھیو،

ہم غیر ملکی سرمایہ کاری کے فریم ورک کو مزید آسان بنا رہے ہیں۔ ہمارا مقصد نظام کو زیادہ قابلِ پیش گوئی اور سرمایہ کار دوست بنانا ہے۔ طویل مدتی مالیات کو بہتر بنانے کے لیے ہم بانڈ مارکیٹ کو مزید فعال بنانے کی سمت بھی اقدامات کر رہے ہیں۔ بانڈ کی خرید و فروخت کے عمل کو آسان بنایا جا رہا ہے۔

 

ساتھیو،

بانڈ مارکیٹ اصلاحات کو ہمیں طویل مدتی ترقی کے محرک کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ پیش گوئی کی صلاحیت کو یقینی بنانا، لیکویڈیٹی کو مضبوط کرنا، نئے مالیاتی آلات متعارف کرانا اور خطرات کا مؤثر انتظام کرنا ضروری ہے۔ تبھی ہم مستقل غیر ملکی سرمایہ حاصل کر سکیں گے۔ مجھے امید ہے کہ آپ عالمی بہترین تجربات سے سیکھ کر غیر ملکی سرمایہ کاری کے فریم ورک اور بانڈ مارکیٹ کو مضبوط بنانے کے لیے واضح اور ٹھوس تجاویز دیں گے۔

ساتھیو،

کوئی بھی حکومت پالیسی فریم ورک تیار کر سکتی ہے، لیکن اس کی کامیابی آپ سب پر منحصر ہے۔ صنعت کو تازہ سرمایہ کاری اور جدت کے ساتھ آگے آنا ہوگا۔ مالیاتی اداروں اور تجزیہ کاروں کو عملی حل فراہم کرنے اور مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد کرنی ہوگی۔ جب حکومت، صنعت اور علمی شراکت دار مل کر آگے بڑھتے ہیں تو اصلاحات نتائج میں بدلتی ہیں اور اعلانات زمینی کامیابیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ ہم ایک واضح اصلاحاتی شراکت داری چارٹر تیار کریں، جو حکومت، صنعت، مالیاتی اداروں اور تعلیمی اداروں کا مشترکہ عزم ہو۔ یہ چارٹر ترقی یافتہ بھارت کے سفر کا ایک اہم دستاویز بنے گا۔

ساتھیو،

میں تمام متعلقہ فریقوں، مالیاتی اداروں، منڈیوں، صنعت، پیشہ ور افراد اور جدت کاروں سے کہوں گا کہ اس بجٹ نے جو نئے مواقع فراہم کیے ہیں، ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کے ساتھ مضبوطی سے جڑیں۔ آپ کی شراکت سے منصوبوں کا نفاذ بہتر ہوگا اور آپ کے فیڈبیک سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ آئیے ہم سب مل کر اصلاح کریں، ترقی کریں اور ایسا مستقبل تعمیر کریں جو ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو جلد از جلد حقیقت بنا دے۔

مجھے پورا یقین ہے کہ آج آپ گہرائی سے غور و فکر کریں گے اور طریقۂ کار کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ بجٹ سے پہلے بھی ہم آپ سے مشاورت کرتے ہیں تاکہ بجٹ بہتر بن سکے۔ لیکن اب بجٹ بن چکا ہے، اب اس پر محض بحث کا وقت نہیں بلکہ اسے جلد از جلد زمین پر نافذ کرنے کا وقت ہے، آسان ترین راستوں کے ذریعے نافذ کرنے کا وقت ہے، تاکہ تمام متعلقہ فریقوں کو اس کا فائدہ ملے اور ان کی شمولیت یقینی ہو۔ اگر اسی جذبے کے ساتھ آپ غور و خوض کریں گے تو یہ ویبینار واقعی ایک متحرک معیشت کے دروازے کھول دیں گے۔

بہت بہت شکریہ!

 

نمسکار!

 

 

 

 

**********

) ش ح – ع ح-)

U.No. 3380

 


(ریلیز آئی ڈی: 2235465) وزیٹر کاؤنٹر : 16