وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں 12.2 لاکھ کروڑ روپے کے سی اے پی  ای ایکس کی تجویز


7 ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور، ایک مخصوص فریٹ کوریڈور اور 20 نئے قومی آبی راستوں کی تجویز

پرائیویٹ ڈیولپرکا اعتماد بڑھانے کے لیے انفراسٹرکچر رسک گارنٹی فنڈ کا قیام

سی پلین کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے سی پلین وی جی ایف اسکیم متعارف

प्रविष्टि तिथि: 01 FEB 2026 12:56PM by PIB Delhi

خزانہ اور کارپوریٹ امورکی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 26-2026 پیش کرتے ہوئے بتایاکہ “ہمارا پہلا کرتویہ پیداواری صلاحیت اور مسابقت کو فروغ دے کر معاشی ترقی کو تیز اور پائیدار بنانا، اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال کے مقابلے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔”

وزیر خزانہ نے آج اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ عوامی سرمایہ جاتی خرچ مالی سال 2014-15 میں 2 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر بجٹ 2025-26 میں 11.2 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، اوررفتار کو برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 27-2026 کے لیے اسے مزید بڑھا کر 12.2 لاکھ کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے ۔

انہوں نے ایوان  پارلیمنٹ کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت نے عوامی بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر بہتری کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ اور ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ(آر ای آئی ٹی) جیسے نئے مالیاتی آلات، نیز نیشنل انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ (این آئی آئی ایف) اور نیشنل بینک فار فنانسنگ انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ (این اے بی ایف ڈی) جیسے ادارے شامل ہیں۔

گزرتےوقت کے ساتھ  آر ای آئی ٹی اثاثوں کی مونیٹائزیشن کا ایک کامیاب وسیلہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ مرکزی بجٹ 27-2026 میں  سی پی ایس ای کے نمایاں ریئل اسٹیٹ اثاثوں کی تیز رفتار ری سائیکلنگ کے لیے مخصوص  آر ای آئی ٹی کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

انفراسٹرکچر رسک گارنٹی فنڈ

بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تعمیر کے مرحلے کے دوران درپیش خطرات کے حوالے سے پرائیویٹ ڈیولپرکے اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے وزیر خزانہ نے انفراسٹرکچر رسک گارنٹی فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ اس فنڈ کے تحت قرض دہندگان کو دانشمندانہ طور پر متعین جزوی کریڈٹ گارنٹی فراہم کی جائےگی۔

 

کارگو کی ماحولیاتی طور پر پائیدار نقل و حرکت

اس مقصد کے فروغ کے لیے بجٹ میں مشرقی سرحد  پر واقع دانکونی کو مغربی سرحد پر واقع سورت سے جوڑنے والے نئے مخصوص فریٹ کوریڈور کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے، نیز آئندہ پانچ برسوں میں 20 نئے قومی آبی راستوں کو آپریشنل بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔اس کا آغاز اڈیشہ میں قومی آبی راستہ نمبر 5سے کرنے کا خاکہ بنایا گیا ہے، جو معدنیات سے مالا مال علاقوں تلچر اور انگول کو کلنگا نگر جیسے صنعتی مراکز کو پردیپ اور دھامرا بندرگاہوں سے جوڑے گا۔اندرون  ملک آبی راستوں اور ساحلی جہاز رانی کے حصے کو 2047 تک 6 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کے لیے وزیر خزانہ نے کوسٹل کارگو پروموشن اسکیم متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد ریل اور سڑک سے آبی راستوں کی جانب مال برداری کی منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

محترمہ نرملا سیتارمن نے یہ بھی کہا کہ مطلوبہ افرادی قوت کی تیاری کے لیے تربیتی اداروں کو علاقائی مراکزِ امتیاز کے طور پر قائم کیا جائے گا، جس سے آبی راستوں کے پورے خطے کے نوجوانوں کو تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے مواقع ملیں گے۔مزید برآں، اندرون ملک آبی راستوں کے جہازوں کی مرمت کا ایک مکمل نظام وارانسی اور پٹنہ میں قائم کرنے کی بھی تجویزپیش کی گئی ہے۔

7 ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور

 

ماحولیات کے موافق سفری نقل و حمل کے نظام کو فروغ دینے کے لیے وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں شہروں کے درمیان سات ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کو بطور ’گروتھ کنیکٹر‘ ترقی دینے کی تجویز دی۔ یہ کوریڈور درج ذیل ہیں:1) ممبئی-پونے ، 2) پونے-حیدرآباد ، 3) حیدرآباد-بنگلور ، 4) حیدرآباد-چنئی ، 5) چنئی-بنگلور ، 6) دہلی-وارانسی ، 7) وارانسی-سلی گوڑی کوریڈور ۔

 

سی پلین وی جی ایف اسکیم

آخری میل تک اور دور دراز علاقوں میں رابطہ بہتر بنانے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے محترمہ نرملا سیتارمن نے سی پلین کی مقامی تیاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات دینے کی تجویزپیش کی۔ انہوں نے کہا کہ سی پلین وی جی ایف اسکیم متعارف کرائی جائے گی، جس کے تحت کام کاج کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

 

کاربن کیپچریوٹیلائزیشن  اور اسٹوریج

دسمبر2025 میں جاری کیے گئے روڈمیپ کے مطابق،سی سی یو ایس ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر پانچ صنعتی شعبوں میں نافذ کیا جائے گا جس میں بجلی، اسٹیل، سیمنٹ، ریفائنری اور کیمیکل شامل ہے، جن میں حتمی استعمال کی اعلیٰ سطح  تیارہوسکے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مقصد کے لیے آئندہ پانچ برسوں میں 20,000 کروڑ روپے کے اخراجات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

 

سٹی اکنامک ریجن

وزیر خزانہ نے کہا کہ شہر ی علاقے ہندوستان کی ترقی، اختراع اور مواقع کے انجن ہیں۔ بجٹ میں اب ٹائر -II او ٹائر III شہروں اور حتیٰ کہ ٹیمپل ٹاؤن پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جنہیں جدید بنیادی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔

 مجموعی اقتصادی طاقت کو بروئے کار لانے کے لیے سٹی اکنامک ریجن(سی ای آر) کو اپنے مخصوص ترقیاتی محرکات کی بنیاد پر نقشہ بند کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے اس مقصد کے نفاذ کے لیے ہر سی ای آرکے لیے پانچ برسوں میں 5,000 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

****

 (ش ح –م ش ع۔اش ق)

UR- UB -16

 


(रिलीज़ आईडी: 2221634) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Telugu , Malayalam , Kannada , Bengali , हिन्दी , Punjabi , Gujarati