وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت 2030–31 تک قرض اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب تقریباً 50 فیصد (±1 فیصد) تک لانے کی سمت میں درست رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے


نظرِ ثانی شدہ تخمینوں (آر ای)  2025–26 کے مطابق مالیاتی خسارہ مجموعی گھریلو پیداوار کا 4.4 فیصد برقرار رہے گا

بجٹ تخمینوں (بی ای)  2026–27 میں مالیاتی خسارہ مجموعی گھریلو پیداوار کا 4.3 فیصد رہنے کا اندازہ ہے

نظر ثانی شدہ تخمینوں (آر ای)  2025–26 کے مطابق مجموعی 49.6 لاکھ کروڑ روپے کے اخراجات میں سے 11 لاکھ کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں

مرکزی حکومت کی خالص ٹیکس وصولیاں 26.7 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کی توقع ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 FEB 2026 12:42PM by PIB Delhi

آج پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2026–27 پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے خزانہ و کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتا رمن نے کہا:

’’حکومت سماجی ضروریات پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر مسلسل اپنی مالی ذمہ داریوں کو پورا کر رہی ہے۔‘‘

اسی تسلسل میں، بجٹ تخمینوں (بی ای)  2026–27 کے مطابق قرض اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب 55.6 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جو کہ نظرِ ثانی شدہ تخمینوں (آر ای)  2025–26 میں 56.1 فیصد تھا۔ قرض اور جی ڈی پی کے تناسب میں مسلسل کمی سے سود کی ادائیگیوں پر ہونے والے اخراجات کم ہوں گے اور اس طرح ترجیحی شعبوں میں خرچ کے لیے بتدریج مزید وسائل دستیاب ہوں گے۔

مالیاتی خسارہ

مالیاتی خسارے پر بات کرتے ہوئے، جو قرض کے ہدف کے تعین کا ایک اہم عملی ذریعہ ہے، محترمہ سیتارمن نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ مالی سال 2021–22 میں کیا گیا یہ وعدہ کہ 2025–26 تک مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 4.5 فیصد سے نیچے لایا جائے گا، کامیابی سے پورا کر لیا گیا ہے۔ نظرِ ثانی شدہ تخمینوں (آر ای)  2025–26 میں مالیاتی خسارہ، بجٹ تخمینوں (بی ای)  2025–26 کے مطابق، جی ڈی پی کا 4.4 فیصد رکھا گیا ہے۔ قرض میں استحکام کے نئے مالیاتی نظم و ضبط کے راستے کے تحت، بجٹ تخمینوں (بی ای)  2026–27 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔

نظر ثانی شدہ تخمینے (آر ای)  2025–26

وزیر خزانہ نے بتایا کہ غیر قرض جاتی وصولیوں کے نظر ثانی شدہ تخمینے 34 لاکھ کروڑ روپے ہیں، جن میں سے مرکز کی خالص ٹیکس وصولیاں 26.7 لاکھ کروڑ روپے پر مشتمل ہیں۔ اسی طرح، مجموعی اخراجات کے نظر ثانی شدہ تخمینے 49.6 لاکھ کروڑ روپے ہیں، جن میں سے تقریباً 11 لاکھ کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مختص ہیں۔

بجٹ تخمینے (بی ای)  2026–27

مرکزی وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر قرض جاتی وصولیوں اور مجموعی اخراجات کا تخمینہ بالترتیب 36.5 لاکھ کروڑ روپے اور 53.5 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ مرکز کی خالص ٹیکس وصولیاں 28.7 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے۔

مجموعی مارکیٹ سے قرض کا حصول

مرکزی وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالیاتی خسارے کی تکمیل کے لیے تاریخ دار سکیورٹیز (ڈیٹیڈ سکیورٹیز) کے ذریعے خالص مارکیٹ سے قرض کے حصول کا تخمینہ 11.7 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ بقیہ مالی ضروریات چھوٹی بچت اسکیموں اور دیگر ذرائع سے پوری کی جائیں گی۔ مجموعی مارکیٹ قرض کا حصول 17.2 لاکھ کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ م م ۔ م ر

Urdu No. UR-UB-04


(ریلیز آئی ڈی: 2221493) وزیٹر کاؤنٹر : 42