وزارت خزانہ
وکست بھارت کے حصول، شمولیتی ترقی اور لاکھوں افراد کی روزی روٹی میں بہتری کے لیے زراعت مرکزی ستون ہے: اقتصادی جائزہ
گزشتہ پانچ سالوں میں زرعی شعبے کی اوسط سالانہ شرحِ نمو 4.4 فیصد رہی ہے
مالی سال 2016 سے 2025 تک زرعی شعبے کی شرح نمو 4.45 فیصد رہی، جو پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے
اناج کی پیداوار مالی سال 25-2024 میں 3,577.3 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے
پھل و سبزی کا شعبہ ایک روشن نقطہ کے طور پر ابھرا ہے، جو زرعی مجموعی ویلیو ایڈیڈ کا تقریباً 33 فیصد حصہ ہے۔ پیداوار 14-2013 میں 280.70 ملین ٹن سے بڑھ کر 25-2024 میں 367.72 ملین ٹن تک پہنچ گئی
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 2:03PM by PIB Delhi
بھارت کی زراعت نے مضبوط پائیداری کا مظاہرہ کیا ہے اور استحکام کے ساتھ ترقی کی ہے، جس میں زیادہ تر نمو متعلقہ شعبوں سے آئی ہے، جیسا کہ آج مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی جائزے 26-2025 میں بیان کیا ہے۔
جائزے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ برسوں میں خوراکی اناج کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اعلیٰ قیمت والے متعلقہ شعبے جیسے کہ مویشی، ماہی پروری اور پھل و سبزی جات اب آمدنی کے مواقع بڑھانے اور دیہی روزگار کو مضبوط بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں زرعی اور متعلقہ شعبوں کی اوسط سالانہ شرحِ نمو (مستقل قیمتوں پر)تقریباً 4.4 فیصد رہی ہے ۔ مالی سال 26-2025 کی دوسری سہ ماہی میں زرعی شعبے نے 3.5 فیصد کی نمو درج کی۔ مالی سال 2016 سے 2025 کے دوران شرح نمو 4.45 فیصد رہی، جو پچھلی دہائیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، اور یہ بنیادی طور پر زرعی شعبوں کی مضبوط کارکردگی کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
مالی سال 2015 سے 2024 کے دوران مویشی شعبے نے مضبوط ترقی دکھائی، جس کی مجموعی ویلیو ایڈیڈ تقریباً 195 فیصد بڑھ گئی اور موجودہ قیمتوں پر اس کی مرکب سالانہ شرحِ نمو 12.77 فیصد رہی۔ اسی دوران ماہی پروری کا شعبہ بھی شاندار کارکردگی دکھاتا رہا، جس میں 2014 سے 2025 کے دوران مچھلی کی پیداوار 88.14 لاکھ ٹن یا 140 فیصد سے زائد بڑھ گئی، جبکہ 2004 سے 2014 کے دوران اضافہ اس کے مقابلے میں کم تھا۔ یوں، متعلقہ شعبے بتدریج زرعی نمو کے اہم محرکات اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے شعبے کے طور پر ابھرتے جا رہے ہیں۔
بھارت کی خوراکی اناج کی پیداوار میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، اور تخمینے کے مطابق یہ زرعی سال 25–2024 میں 3,577.3 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 254.3 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ چاول، گندم، مکئی اور موٹے اناج کی پیداوار میں اضافہ ہے۔
پھل اور سبزی کا شعبہ، جو زرعی مجموعی ویلیو ایڈیڈ کا تقریباً 33 فیصد حصہ رکھتا ہے، ملک کی زرعی ترقی کے سفر میں ایک روشن نقطہ کے طور پر ابھرا ہے۔ مالی سال 25-2024 میں پھل اور سبزی کی پیداوار 362.08 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جو تخمینی خوراکی اناج کی پیداوار 329.68 ملین ٹن سے بھی زیادہ ہے۔ اگست 2025 تک، پھل اور سبزی کی پیداوار 14–2013 میں 280.70 ملین ٹن سے بڑھ کر 25–2024 میں 367.72 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔
یہ توسیع وسیع پیمانے پر ہوئی ہے ، جس میں 114.51 ملین ٹن پھل ، 219.67 ملین ٹن سبزیاں ، اور دیگر باغبانی فصلوں سے 33.54 ملین ٹن شامل ہیں ، جو زرعی پیداوار اور قیمت میں اس شعبے کی بڑھتی ہوئی شراکت کو اجاگر کرتی ہے ۔
اس کے علاوہ ، بھارت خشک پیاز کا دنیا کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد فراہم کرتا ہے۔ بھارت سبزیوں، پھلوں اور آلو کی پیداوار میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر ہے، جہاں ہر زمرے میں اس کا حصہ تقریباً 12 سے 13 فیصد ہے۔ یہ کامیابیاں بھارت کی پھل و سبزی جات کی پیداوار میں مضبوط موجودگی، عالمی خوراکی طلب کو پورا کرنے میں بڑھتے ہوئے کردار، اور اعلیٰ قیمت والی فصلوں کی پیداوار میں مواقع کو اجاگر کرتی ہیں۔
جائزے کا اختتام اس بات کے ذکر کے ساتھ ہوتا ہے کہ زرعی شعبہ ترقی یافتہ بھارت کے حصول میں مرکزی کردار ادا کرے گا، شمولیتی ترقی کو فروغ دے گا اور لاکھوں افراد کی آمدنی میں اضافہ کرے گا۔ بھارت نے زرعی پیداوار میں قابلِ ذکر ترقی کی ہے، خاص طور پر دودھ و ڈیری، پولٹری، ماہی پروری اور پھل و سبزی جات جیسے اہم شعبوں میں، جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں رول ادا کرتے ہیں۔
****
ش ح۔ ع و۔ خ م
UR-ES -18
(रिलीज़ आईडी: 2220294)
आगंतुक पटल : 5