وزارت خزانہ
اقتصادی جائزہ 2025–26 کا دیباچہ
اقتصادی جائزے کے مطابق ریاست کو غیر یقینی حالات میں‘‘کاروباری طرزِ پالیسی سازی’’ کی جانب گہرے اور بنیادی نوعیت کے تغیر کی ضرورت ہے
اقتصادی جائزے کے مطابق بھارت کو طویل اور تیز رفتار دونوں طرح کی دوڑ ایک ساتھ دوڑنی ہوگی
اقتصادی جائزہ اس اعتماد کا اظہار کرتا ہے کہ ریاستی نظام خود کو اور اپنے مقصد کو ازسرِنو تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، گزشتہ برس ریاستوں کی جانب سے کی جانے والی ڈی ریگولیشن اور اسمارٹ ریگولیشن کی اصلاحات کے پیشِ نظر، ریاستی مشینری ضابطہ بندی اور کنٹرول کے بجائے سہولت فراہم کرنے والے کردار کی طرف منتقل ہو رہی ہے
اقتصادی جائزہ ریاستی صلاحیت، سماج اور ضابطے کو یکجا کر کے وکست بھارت اور عالمی اثر و رسوخ کے ہدف کی پیروی کرتا ہے
عالمی ماحول کے اس پس منظر میں جو جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے سرمایہ کاری، سپلائی چین اور ترقی کے امکانات پر اثر انداز ہو رہا ہے، بھارت مضبوطی پیدا کر کے، لگاتاراختراع کرتے ہوئے اور ‘‘وکست بھارت’’ کی سمت اپنے سفر کو جاری رکھ کر بے پناہ فائدہ اٹھا سکتا ہے: اقتصادی جائزہ
مالی سال 2025-26 کے لیے اقتصادی جائزےکا ایڈیشن، جس میں 17 ابواب کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے، اب قومی ترجیحات کی گہرائی اور وقتی افادیت کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 2:18PM by PIB Delhi
اقتصادی جائزہ 2025-26 کا دیباچہ، جسے مرکزی وزیر برائے خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں پیش کیا، اس بات پر زور دیتا ہے کہ ریاست کو غیر یقینی حالات میں کاروباری نوعیت کی پالیسی سازی کی جانب ایک گہرے اور بنیادی نوعیت کے تغیر کی ضرورت ہے۔ ایسی ریاست جو یقین کے پیدا ہونے سے پہلے قدم اٹھا سکے، خطرات سے بچنے کی بجائے ان کی ساخت بندی کرے، تجربات سے منظم انداز میں سیکھے اور جمود یا رکاؤٹ کے بغیر اپنی پالیسی کی سمت درست کر سکے۔
دیباچے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ کوئی ‘‘محض نظریاتی خواہش’’ نہیں ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں اس طرزِ عمل کے عملی مظاہر پہلے ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔جیسے سیمی کنڈکٹرز اور گرین ہائیڈروجن کے شعبوں میں مشن موڈ پلیٹ فارمز کا قیام، عوامی خریداری (پبلک پروکیورمنٹ) کے نظام کی ازسر نو تشکیل تاکہ پہلی بار کی گھریلو اختراعات کو فروغ دیا جا سکے، اور ریاستی سطح پر ضابطہ جاتی اصلاحات جن کے تحت معائنہ پر مبنی کنٹرول کی جگہ اعتماد پر مبنی تعمیل کو اپنایا گیا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کے ابتدائی اشارے ہیں کہ ایک کاروباری ریاست کیسی ہوتی ہے جب وہ محض تعمیل سے نکل کر صلاحیت سازی کی جانب بڑھتی ہے۔
اقتصادی جائزہ میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ بھارتی معیشت نے کووڈ کے بعد کے دور میں لگاتار چیلنجز کا سامنا کیا اور اس کے باوجود مضبوطی برقرار رکھی، خاص طور پر بھارت کی شاندار میکرو اقتصادی کارکردگی۔ جائزہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اپریل 2025 میں امریکہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کے پس منظر میں حکومت کی طرف سے کیے گئے پالیسی اور اقتصادی اصلاحات اہم ہیں۔ اصلاحات کی فوری ضرورت کے پیشِ نظر، حکومت میں ایک متحرک سوچ پروان چڑھی ہے۔ صرف پانچ ماہ کے بعد، بھارت اب پورے سال کے لیے حقیقی شرحِ نمو 7 فیصد سے زیادہ کی توقع کر رہا ہے، جبکہ اگلے سال بھی حقیقی شرحِ نمو تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
اقتصادی جائزے کے مطابق 2025 میں تضاد یہ ہے کہ بھارت کی مضبوط میکرو اقتصادی کارکردگی عالمی نظام کے ایسے ماحول سے ٹکرائی جو اب اس کی کامیابی کو مالی یا اسٹریٹجک فائدہ نہیں دیتا۔
عالمی بیرونی ماحول اور داخلی قومی امنگوں کے تناظر میں اقتصادی جائزہ میں کہا گیا ہےکہ“بھارت 145 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک ایسا ملک ہے جو جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے ایک نسل کے دوران خوشحال ملک بننے کی خواہش رکھتا ہے۔ بھارت کا حجم اور جمہوریت ایسے نمونوں (ٹیمپلیٹس) کو اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتی جو تقلید کے قابل ہوں۔ جب عالمی سطح پر غالب طاقت اپنی معاشی اور دیگر ذمہ داریوں اور ترجیحات پر نظرِ ثانی کر رہی ہے، عالمی تجارت شدید غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو رہی ہے، عالمی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، تو بھارت کے معاشی عزائم کو طاقتور عالمی مخالف ہواؤں کا سامنا ہے۔ یہی قوتیں اس وقت سازگار ہوائیں بن سکتی ہیں اگر ریاست، نجی شعبہ اور گھرانے باہمی ہم آہنگی اختیار کریں، خود کو حالات کے مطابق ڈھالیں، اور اس پیمانے کی کوششوں کے لیے پختہ عزم کا مظاہرہ کریں جس کا یہ لمحہ تقاضا کرتا ہے۔ یہ کام نہ تو آسان ہوگا اور نہ ہی آرام دہ لیکن یہ ناگزیر ہے۔”
حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے، اقتصادی جائزہ 2026 کے لیے تین ممکنہ عالمی منظرنامے پیش کرتا ہے:
- ایک دیرپا تشویش یہ ہے کہ جاری عالمی سیاسی اور اقتصادی بحران کے منفی اثرات تاخیر کے ساتھ ظاہر ہو سکتے ہیں۔ یہ ترقیات ایک ایسے عالمی منظرنامے کی نشاندہی کرتی ہیں جو کم مربوط، زیادہ خطرات سے بچنے والا، اور غیر خطی نتائج کے لیے زیادہ حساس ہے، یعنی جہاں محفوظ حد بہت کم ہے۔ یہ منظرنامہ مسلسل ترقی کے بجائے منتظم شدہ بے ترتیبی کے بارے میں ہے، جس میں ممالک ایک ایسے عالم میں کام کر رہے ہیں جو اب بھی مربوط ہے لیکن بڑھتی ہوئی بے اعتمادی کا شکار ہے۔
- بے ترتیبی اور کثیر قطبی نظام کے ٹوٹنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں اور اسے معمولی خطرے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔ اس صورت حال میں، اسٹریٹجک مقابلہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔تجارت واضح طور پر جبر کے تحت ہو جاتی ہے، پابندیاں اور جوابی اقدامات بڑھ جاتے ہیں، سپلائی چینز سیاسی دباؤ کے تحت دوبارہ ترتیب پاتی ہیں، اور مالیاتی دباؤ کی صورتیں سرحد پار کم بفرز اور کمزور ادارہ جاتی ہلچل جذب کرنے والی صلاحیت کے ساتھ منتقل ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں پالیسی زیادہ قومی نوعیت اختیار کر لیتی ہے، اور ممالک کو خود مختاری، ترقی اور استحکام کے درمیان سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
- یہ بھی ایک خطرہ ہے کہ مالی، تکنیکی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ ایک دوسرے کو بڑھاتے ہوئے نظامی جھٹکے کی کڑیاں پیدا کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ یہ علیحدہ علیحدہ ظاہر ہوں۔ اگرچہ یہ امکان نسبتاً کم ہے، لیکن اس کے نتائج بہت زیادہ غیر متناسب ہو سکتے ہیں۔ میکرو اقتصادی نتائج 2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے بھی بدتر ہو سکتے ہیں۔
اقتصادی جائزے کے مطابق تینوں منظرناموں میں بھارت کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے کیونکہ اس کے مضبوط میکرو اقتصادی بنیادی ڈھانچے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک عالمی اثرات سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ بھارت کو بڑے داخلی بازار، کم مالیاتی نمو کا ماڈل، مضبوط غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر، اور قابل اعتماد حد تک اسٹریٹجک خودمختاری سے فائدہ حاصل ہے۔ یہ خصوصیات ایسے ماحول میں حفاظتی کشن فراہم کرتی ہیں جہاں مالیاتی اتار چڑھاؤ لازمی اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال مستقل ہے۔
اسی طرح اقتصادی جائزہ میں کہا گیا ہے کہ“یہ تینوں منظرنامے بھارت کے لیے ایک مشترکہ خطرہ پیش کرتے ہیں: سرمایہ کے بہاؤ میں خلل اور اس کے نتیجے میں روپے پر اثر۔ صرف شدت اور دورانیہ مختلف ہوگا۔ جغرافیائی سیاسی ہلچل کے اس ماحول میں، یہ اثر محض ایک سال تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ ایک زیادہ دیرپا خصوصیت بھی بن سکتا ہے۔”
ایک ہی وقت میں میراتھن اور تیز رفتار دوڑنا
اس کے جواب میں، اقتصادی جائزہ کا موقف ہے کہ بھارت کو اپنی بڑھتی ہوئی درآمدات کے بل کو پورا کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کی کافی دلچسپی اور غیر ملکی کرنسی میں برآمدات حاصل کرنا ضروری ہیں، کیونکہ مقامی پیداوار بڑھانے کی کوششوں کی کامیابی کے باوجود، آمدنی میں اضافے کے ساتھ درآمدات میں بھی لازمی اضافہ ہوگا۔
اقتصادی جائزہ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی پالیسی کو رسد کے استحکام، وسائل کے ذخائر کی تخلیق اور راستوں اور ادائیگی کے نظام کی تنوع پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ جائزہ کے مطابق 2026 کے لیے مناسب رویہ اسٹریٹجک احتیاط ہونا چاہیے، نہ کہ دفاعی مایوسی۔ جائزہ میں یہ بھی کہا گیاہے کہ بیرونی ماحول بھارت سے یہ توقع کرے گا کہ وہ ایک طرف ملکی ترقی کو زیادہ سے زیادہ کرے اور دوسری طرف صدموں کے اثرات کو کم کرے، جس میں ذخائر، اضافی سہولیات اور لیکویڈیٹی پر زیادہ زور دیا جائے۔
دوسرے الفاظ میں، جائزہ میں واضح طور پر کہا گیاہےکہ‘‘بھارت کو ایک ہی وقت میں میراتھن اور اسپرنٹ (تیز رفتار) سے دوڑناہوگا، یا میراتھن ایسے دوڑنا ہوگا جیسے وہ ا سپرنٹ ہو۔’’
بھارت کا چیلنج: پالیسی اور عمل کے اصلاحات
اقتصادی جائزہ کے مطابق، ایک ایسے عالمی ماحول میں جس میں مسلسل بحران اور جغرافیائی سیاسی دباؤ ہے، بھارت کا چیلنج صرف بہتر پالیسیوں کے ڈیزائن تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ قواعد، ترغیبات اور انتظامی ردعمل قومی استحکام کی خدمت کریں۔ پالیسی اصلاحات واقعی اہم ہیں، لیکن عمل کے اصلاحات شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ عمل حکومت اور عوام کے درمیان تعامل کو متعین کرتا ہے، اور یہی پالیسی کے مقصد اور اصلاحات کی کامیابی یا ناکامی میں سب سے بڑا فرق ڈالتا ہے۔
شواہد امید افزا ہیں۔ پچھلے سال مختلف ریاستوں کی جانب سے اختیار کی گئی ڈی ریگولیشن اور اسمارٹ ریگولیشن کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریاستی مشینری خود کو اور اپنے مشن کو دوبارہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کنٹرول و ضابطہ کاری سے سہولت فراہم کرنے کی جانب منتقلی ممکن ہے۔
جائزہ کے مطابق، مرکزی حکومت کی اقتصادی اصلاحات اور دیگر پالیسی اقدامات کے ساتھ، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست چیلنج کی اہمیت کو سمجھتی ہے اور اسے پورا کرنے کی ضرورت کا ادراک رکھتی ہے۔
اقتصادی جائزہ وِکسِت بھارت اور عالمی اثر و رسوخ کے حصول کے لیےتین عناصرکویکجا کرتا ہے: ریاستی صلاحیت، سماج اور ڈی ریگولیشن۔ جائزے کے مطابق، جمہوریت میں آخرکار ریاست وہ ادارہ ہے جسے ترقی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور جسے ہدف کی تکمیل کے لیے بااختیار بنایا گیا ہے۔ اس ہدف کی تکمیل کے لیے، ریاست کو اپنی مہارتیں بڑھانی ہوں گی، نئے ہنر سیکھنے ہوں گے، اور ذہنی طور پر اس مختلف کھیل کے لیے تیار ہونا ہوگا، کیونکہ موجودہ ماحول مختلف اور یہاں تک کہ مخاصمانہ ہے، پرانے قواعد اب لاگو نہیں ہوتے اور نئے قواعد ابھی نافذ نہیں ہوئے ہیں۔
جائزے کے مطابق، ممکنہ طور پر کئی عالمی بحرانوں کے ابھرنے سے بھارت کے لیے ایک ایسا موقع پیدا ہوتا ہے کہ وہ ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرے۔ اس کے لیے بھارت کو سب سے زیادہ چست، لچکدار اور مقصدی حکومت کی ضرورت ہے، جیسی آزادی کے بعد کبھی نہیں دیکھی گئی۔
دوسرے الفاظ میں، جائزہ کے مطابق، ملک کو سب سے زیادہ فائدہ تب حاصل ہوگا جب ہم سب موخر لذت کو اپنائیں۔ عالمی ماحول جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں سے دوبارہ شکل اختیار کر رہا ہے، جو سرمایہ کاری، سپلائی چینز اور ترقی کے امکانات پر سالوں تک اثر ڈالے گا۔ موجودہ عالمی اُتھل پتھل کے پیشِ نظر، بھارت کو فوری حل کی تلاش کے بجائے مضبوطی پیدا کرنی، مستقل جدت اپنانا، اور وکست بھارت کی راہ پر قائم رہنا چاہیے۔
اقتصادی جائزہ کی نئی ترتیب
اقتصادی جائزہ نے سالوں سے رائج معمول کے فارمیٹ سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ اس ایڈیشن کو گہرائی اور وسعت دونوں میں وسعت دی گئی ہے۔ اس میں 17 ابواب شامل ہیں جو نئے طریقے سے ترتیب دیے گئے ہیں۔ جہاں پہلے ابواب کی ترتیب سابقہ اہمیت پر مبنی تھی، اب یہ ترتیب ملکی ترجیحات کی گہرائی اور وقت کی افادیت پر مبنی ہے۔
اس بار جائزہ پچھلے مقابلے میں طویل ہے، کیونکہ اس میں مختلف مسائل اور موضوعات کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ آخر میں، جائزہ تین ایسے اہم موضوعات پر خاص مضامین پیش کرتا ہے جو بھارت کے لیے درمیانے سے طویل مدتی دلچسپی کے حامل ہیں: مصنوعی ذہانت کی ترقی، بھارتی شہروں میں معیار زندگی کے چیلنج اور اسٹریٹجک استحکام اور اسٹریٹجک ناگزیرت کے حصول میں ریاستی صلاحیت اور نجی شعبے (گھریلو شعبے سمیت) کے کردار۔
***
ش ح۔اک ۔ ش ب ن
UR-ES-03
(रिलीज़ आईडी: 2220184)
आगंतुक पटल : 13