وزارت خزانہ
صحت مند آبادی ایک مضبوط اور پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کا بنیادی ستون ہے: اقتصادی جائزہ 2025-26
ہندوستان نے 1990 کی دہائی سے ایم ایم آر ، یو 5 ایم آر ، این ایم آر میں عالمی سطح پر کمی کے رجحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی
گزشتہ ایک دہائی میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات(آئی ایم آر) میں 37 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے
آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) اور ای-سنجیوانی سپورٹ یونیورسل ہیلتھ سسٹم اصلاحات کے طور پر آئی سی ٹی کی اختراعات
موٹاپے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کثیر جہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، اکنامک سروے کا مؤقف
جائزے میں انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے غذائی عادات میں بہتری اور پالیسی سطح پر مداخلت کی ضرورت پر زور دیا گیا ہ"
بچوں میں ڈیجیٹل لت کے مسئلے کے حل کے لیے پراگیاتاہ فریم ورک اور آن لائن گیمنگ (ریگولیشن) ایکٹ 2025 جیسے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں
ذہنی صحت کے مسائل کے حل کے لیے ٹیلی-مانس سروس اور نمہانس(این آئی ایم ایچ اے این ایس )، بنگلورو میں ایس ایچ یو ٹی (سروس فار ہیلتھی یوز آف ٹیکنالوجی) کلینک کا قیام
جائزہ (سروے) میں صحت کے حساس علاقوں (ہیلتھ ہاٹ اسپاٹس) کی نشاندہی کے لیے اے آئی اور ٹیکنالوجی پر مبنی جائزےکے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
29 JAN 2026 1:48PM by PIB Delhi
ملک نے صحت کے شعبے میں عوامی سرمایہ کاری کے ذریعے بہتر اور کم خرچ سہولیات فراہم کر کے علاج معالجے تک رسائی بڑھانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس میں احتیاطی اور علاج معالجہ ، غذائیت، اور صحت بیمہ تک رسائی بھی شامل ہے۔ شیر خوار اور زچگی کی شرحِ اموات میں کمی آئی ہے، حفاظتی ٹیکہ کاری کا دائرہ وسیع ہوا ہے، اور بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔ نیشنل ہیلتھ مشن، آیوشمان بھارت، اور مختلف بیماریوں پر قابو پانے کے پروگراموں جیسے اقدامات نے ان بہتریوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں آج مرکزی وزیر برائے خزانہ و کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پیش کیے گئےاقتصادی جائزے 2025-26 میں انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے اور معاشی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے عوامی صحت میں بہتری کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
بہتر ہوتے ہوئے صحت کے اشاریے:
جائزہ کے مطابق 1990 سے اب تک بھارت نے زچگی کی شرحِ اموات (ایم ایم آر) میں 86 فیصد نمایاں کمی کی ہے، جو عالمی اوسط 48 فیصد کمی سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات ((یو 5 ایم آر) میں 78 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو عالمی سطح پر 61 فیصد کمی سے بہتر کارکردگی ہے۔ مزید برآں، 1990 سے 2023 کے دوران نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات (این ایم آر) میں 70 فیصد کمی آئی، جبکہ عالمی کمی 54 فیصد رہی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران شیر خوار بچوں کی شرحِ اموات (آئی ایم آر)میں 37 فیصد سے زائد کمی آئی ہے، جو 2013 میں فی ہزار بچوں کی پیدائش پر 40 اموات سے کم ہو کر 2023 میں 25 رہ گئی۔ یہ بہتری نوزائیدہ اور زچگی کی نگہداشت، مجموعی صحت کی سہولیات، اور سماجی و معاشی حالات میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔

بہترصحت کی سہولیات کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز:
جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مربوط صحت اور صحت بیمہ نظام کی تشکیل کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آئی سی ٹی اختراعات کا استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ، نظام کی بکھراؤ میں کمی، اور خدمات تک رسائی میں وسعت آتی ہے۔ ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم، آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم)، اور ای-سنجیونی جیسے اقدامات نے شہریوں کی ڈیجیٹل صحت خدمات تک رسائی بہتر بنائی ہے، ڈیجیٹل روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو ممکن بنایا ہے، اور اسپتالوں کے انتظام کو مزید مؤثر بنایا ہے۔
نئی دور کے صحت سے متعلق خدشات:
موٹاپا:
موٹاپا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور آج بھارت میں صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ غیر صحت بخش غذائیں، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، جسمانی سرگرمی میں کمی، اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز (یو پی ایف) کے بڑھتے استعمال جیسے عوامل اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہ مسئلہ ہر عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے اور ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر جیسے غیر متعدی امراض (این سی ڈی) کے خطرے میں اضافہ کر رہا ہے۔
2019-21 کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) کے مطابق بھارت میں 24 فیصد خواتین اور 23 فیصد مرد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں زائد وزن کی شرح 2015-16 کے 2.1 فیصد سے بڑھ کر 2019-21 میں 3.4 فیصد ہو گئی ہے۔
موٹاپے کو صحتِ عامہ کا ایک سنگین مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے حکومت نے ہمہ جہتی حکمتِ عملی کے تحت مختلف اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں صحت، غذائیت، جسمانی سرگرمی، خوراک کے تحفظ اور طرزِ زندگی میں بہتری کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان میں پوشن ابھیان اور پوشن 2.0، فٹ انڈیا موومنٹ، کھیلو انڈیا، ایٹ رائٹ انڈیا، اور ملک گیر بیداری مہم "آج سے تھوڑا کم" شامل ہیں۔ مزید برآں، ایف ایس ایس اے آئی نے’اسٹاپ اوبیسیٹی اینڈ فائٹ اوبیسیٹی‘کے عنوان سے آگاہی مہم بھی شروع کی ہے۔
الٹرا پروسیسڈ فوڈز (یو پی ایف) روایتی غذائی طریقوں کی جگہ لے رہی ہیں، جس سے خوراک کا معیار متاثر ہو رہا ہے اور متعدد دائمی بیماریوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ جائزے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غذائی اصلاحات کو صحتِ عامہ کی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔ بھارت الٹرا پراسیس شدہ غذاؤں کی فروخت کے حوالے سے تیزی سے ابھرتی ہوئی منڈیوں میں شامل ہے، جہاں 2009 سے 2023 کے درمیان ان کی فروخت میں 150 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس صورتِ حال سے مقامی طور پر اُگائی جانے والی غذا، روایتی کھانوں، اور آیوش جیسے روایتی طریقۂ علاج (مثلاً یوگا کے فروغ) کو عام کرنے کی ضرورت واضح ہوتی ہے تاکہ صحت کے مؤثر نظم و نسق کو یقینی بنایا جا سکے۔
جائزہ میں بچوں میں ڈیجیٹل لت کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے۔ ڈیجیٹل لت تعلیمی کارکردگی اور دفتری پیداواریت کو متاثر کرتی ہے کیونکہ اس سے توجہ بٹتی ہے، نیند کی کمی ہوتی ہے اور یکسوئی میں کمی آتی ہے۔ یہ سماجی روابط کو بھی کمزور کرتی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سی بی ایس ای نے اسکولوں اور اسکول بسوں میں محفوظ انٹرنیٹ استعمال کے حوالے سے ہدایات جاری کی ہیں۔ وزارتِ تعلیم کا پراگیاتاہ فریم ورک اسکرین ٹائم کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل تعلیم کی منصوبہ بندی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اسکرین ٹائم کی حد اور آن لائن تحفظ سے متعلق رہنما اصول جاری کیے ہیں۔
ڈیجیٹل لت کے ساتھ نوجوانوں کی ذہنی صحت میں بگاڑ بھی قریبی طور پر جڑا ہوا ہے۔ 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں سوشل میڈیا کی لت کا رجحان زیادہ پایا گیا ہے، جس کی تصدیق متعدد بھارتی اور عالمی مطالعات سے ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کی لت بے چینی، افسر دگی (ڈپریشن)، کم اعتمادی، اور سائبر بُلنگ سے پیدا ہونے والے دباؤ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ بھارتی نوجوانوں کو درپیش دیگر مسائل میں مسلسل اسکرولنگ کی عادت، سماجی موازنہ، اور گیمنگ ڈس آرڈرز شامل ہیں۔ یہ مسائل نیند میں خلل، جارحیت، سماجی تنہائی، اور ڈپریشن کا باعث بنتے ہیں، جن میں نوعمر افراد خاص طور پر زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسی تناظر میں جائزہ کے مطابق حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹیلی-مانس (ٹیلی مینٹل ہیلتھ اسسٹنس اینڈ نیٹ ورکنگ اکرَاس اسٹیٹس)، جسے وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے اکتوبر 2022 میں شروع کیا، ایک 24ساتوں دن گھنٹے مفت ذہنی صحت ہیلپ لائن (14416) فراہم کرتا ہے جو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دستیاب ہے اور کال کرنے والوں کو تربیت یافتہ ماہرین سے بلا معاوضہ جوڑتا ہے۔ 2024 میں شروع کی گئی ٹیلی-مانس ایپ نے اس رسائی کو مزید وسعت دی۔ اس سروس کو آغاز سے اب تک 32 لاکھ سے زیادہ کالز موصول ہو چکے ہیں، جو اس کی اہمیت اور اثر پذیری کو ظاہر کرتی ہیں۔ بنگلورو میں نمہانس کے شٹ کلینک میں ٹیکنالوجی کے حد سے زیادہ اور مجبوری استعمال کے لیے خصوصی علاج فراہم کیا جاتا ہے،یہ خاص طور پر نوعمروں اور نوجوانوں کے لیے ہے۔ یہ کلینک والدین کے لیے مفت آن لائن سیشن بھی منعقد کرتا ہے تاکہ صحت مند اسکرین ٹائم عادات کو فروغ دیا جا سکے۔ آن لائن گیمنگ (ریگولیشن) ایکٹ 2025 نوجوانوں میں ڈیجیٹل لت اور مالی نقصانات کے مسئلے سے نمٹنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
اعداد و شمار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے نیشنل مینٹل ہیلتھ سروے (این ایم ایچ ایس ) کا دوسرا مرحلہ، جو نمہانس (این آئی ایم ایچ اے این ایس )کی قیادت میں وزارتِ صحت کی سرپرستی میں کیا جا رہا ہے، بھارت میں ذہنی صحت کے مسائل کی شرح سے متعلق قابلِ عمل اور شواہد پر مبنی معلومات فراہم کرنے کی توقع رکھتا ہے۔
اقتصادی جائزہ میں تجویز کیا گیا ہے کہ شہری کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں آف لائن یوتھ ہب قائم کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے متبادل مواقع فراہم ہوں۔ چونکہ ڈیجیٹل رسائی کو مکمل طور پر محدود کرنا ممکن نہیں، اس لیے اسکولوں یا اسی نوعیت کے اداروں کے زیر انتظام معتدل اور محفوظ آن لائن پلیٹ فارمز کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اسکول ڈیجیٹل عادات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے وہاں ڈیجیٹل فلاح و بہبود کا نصاب متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس میں اسکرین ٹائم کی آگاہی، سائبر تحفظ، اور ذہنی صحت سے متعلق شعور شامل ہو۔
سروے میں ٹیکنالوجی پر مبنی سرویز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جیسے UDISE+، AISHE، اور ABDM پلیٹ فارمز، جو ‘ہیلتھ ہاٹ اسپاٹس’ کی نشاندہی میں مدد دیتے ہیں، مثلاً شہری کچی آبادیوں میں موٹاپے کی شرح یا نیم شہری اسکولوں میں بڑھتی ڈیجیٹل لت۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے فرنٹ لائن ورکرز کی قیادت میں ایسے اقدامات کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو موبائل ایپس، اے آئی چیٹ بوٹس (جیسے ASHABot)، اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈز (مثلاً ASHA Kirana کا M-CAT اور ASHA ڈیجیٹل ہیلتھ) جیسی ٹیکنالوجی استعمال کر کے ذیابیطس جیسے دائمی امراض کے نظم و نسق، کووڈ-19 سمیت متعدی بیماریوں کی نگرانی، اور زچگی و بچوں کی صحت کے نتائج بہتر بنانے میں مدد دیں۔
اے آئی اور ٹیکنالوجی پر مبنی جائزہ کا استعمال: جائزہ میں یو ڈی آئی ایس ای + ، اے آئی ایس ایچ ای ، اے بی ڈی ایم جیسے پلیٹ فارموں کا استعمال کرتے ہوئے ٹیکنالوجی پر مبنی جائزہ کے کردار اور شہری کچی آبادیوں میں موٹاپے کے پھیلاؤ یا نیم شہری اسکولوں میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل لت جیسے 'ہیلتھ ہاٹ اسپاٹ' کی پہچان میں اے آئی ٹولز کے انضمام پر روشنی ڈالی گئی ۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہندوستان میں فرنٹ لائن ورکرز کی قیادت میں اقدامات کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہے ، جس میں موبائل ایپس ، اے آئی چیٹ بوٹس (آشا بوٹ) اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈز ) ، آشا کرانا کا ایم-کیٹ اور آشا ڈیجیٹل ہیلتھ) جیسی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ ذیابیطس جیسے دائمی حالات کا مؤثر طریقے سے انتظام کیا جا سکے ، کووڈ-19 سمیت متعدی بیماریوں کی نگرانی کی جا سکے ، اور زچگی اور بچوں کی صحت کے نتائج کو بڑھایا جا سکے ۔
بھارت کے صحت کے شعبے کو ملک کی حقیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مسلسل توجہ کی ضرورت ہے، خاص طور پر ان باہم جڑے نئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے، جیسے متعدی اور غیر متعدی امراض کا دوہرا بوجھ، بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل لت، ذہنی صحت کے مسائل، ناقص غذائیت، اور موٹاپا۔ جسمانی اور ذہنی صحت کو یکجا کرنے والا ہمہ گیر نقطۂ نظر ہی ملک کے لیے مضبوط اور پائیدار مستقبل کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔
********
ش ح ۔ش آ
UR-ES-28
(रिलीज़ आईडी: 2220157)
आगंतुक पटल : 10