کامرس اور صنعت کی وزارتہ
ہندوستان-یورپی یونین کا آزادانہ تجارتی معاہدہ پایہ تکمیل کو پہنچا:ہندوستان کی عالمی تجارتی سرگرمیوں میں ایک بڑی اسٹریٹجک پیش رفت
प्रविष्टि तिथि:
27 JAN 2026 2:16PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور یوروپی کمیشن کی صدر محترمہ ارسلا وون ڈیر لیئن کے ذریعہ 16ویں ہندوستان-یورپی یونین سربراہی اجلاس میں تاریخی سنگ میل کا اعلان
ہندوستان، چوتھی سب سے بڑی معیشت، اور یورپی یونین، دوسری سب سے بڑی معیشت، جو کہ عالمی جی ڈی پی کا 25فیصد پر مشتمل ہے، ایک قابل اعتماد شراکت داری کی راہ ہموار ہوئی ہے
مارکیٹ تک بے مثال رسائی: 99فیصد سے زیادہ ہندوستانی برآمدات نے یورپی یونین میں ترجیحی داخلہ حاصل کیا، جس سے بڑے پیمانے پر ترقی کی راہ ہموار ہوئی
ایف ٹی اے ایم ایس ایم ای کے لیے نئے مواقع کھولے گا اور خواتین، کاریگروں، نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے ملازمتیں پیدا کرے گا
6.41 لاکھ کروڑ روپے (75 ارب امریکی ڈالر) کی برآمدات تیزی سے فروغ پانے کے لیے تیار ہیں، جبکہ ٹیکسٹائل، چمڑا، سمندری مصنوعات، جواہرات اور زیورات جیسے محنت طلب شعبوں میں 33 ارب امریکی ڈالر کی برآمدات آزاد تجارتی معاہدے کے تحت ترجیحی رسائی سے نمایاں طور پر مستفید ہوں گی
میک اِن انڈیا کو رفتار دینے کے لیے محتاط انداز میں طے شدہ آٹو لبرلائزیشن اور باہمی منڈی تک رسائی
سازگار منڈی تک رسائی بھارت کی زرعی اور ڈبہ بند غذائی برآمدات کے لیے نئے مواقع کے دروازے کھولتی ہے
بھارت نے حساس زرعی مصنوعات اور ڈیری شعبے کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے: منڈی تک کوئی رسائی نہیں
خدمات کے شعبے میں پرعزم اور تجارتی لحاظ سے منڈی تک نتیجہ خیزرسائی
مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نقل و حرکت کا فریم ورک ہنرمند اور نیم ہنرمند بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے عالمی مواقع میں اضافہ
دوراندیشی پر مبنی سی بی اے ایم شقیں تعمیری تعاون اور تبادلہ خیال کو یقینی بناتی ہیں، جبکہ بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ شمولیتی، مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی اور یوروپی کمیشن کی صدر عزت مآب محترمہ ارسلا وون ڈیر لیئن نے آج مشترکہ طور پر 16ویں بھارت-یورپی یونین سربراہی اجلاس میں بھارت– یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ (انڈیا – ای یو ایف ٹی اے) کی تکمیل کا اعلان کیا جو کہ یورپی رہنماؤں کے بھارت دورے کے دوران ہوا تھا۔ یہ اعلان بھارت-یورپی یونین اقتصادی تعلقات اور اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں ایک تاریخی سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے۔
اس آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل سے بھارت اور یورپی یونین ایسے معتبر شراکت دار کے طور پر سامنے آئے ہیں جو کھلی منڈیوں، پیش گوئی کی صلاحیت، اور شمولیتی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔
ایف ٹی اے 2022 میں مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے بعد سے متعدد مذاکرات کے بعد پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔ ایف ٹی اے کا آج کا اعلان بھارت اور ای یو کے درمیان برسوں کی پائیدار بات چیت اور تعاون کے تکمیل کی نشاندہی کرتا ہے، جو ایک متوازن، جدید، اور تجارتی شراکت داری پر مبنی اقتصادیات کی فراہمی کے لیے سیاسی ارادے اور مشترکہ وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
یوروپی یونین بھارت کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے، جس میں سامان اور خدمات میں دوطرفہ تجارت گزشتہ برسوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سال 25–2024 میں بھارت اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تجارت 11.5 لاکھ کروڑ روپے (136.54 ارب امریکی ڈالر) رہی، جس میں برآمدات کی مالیت 6.4 لاکھ کروڑ روپے (75.85 ارب امریکی ڈالر) اور درآمدات 5.1 لاکھ کروڑ روپے (60.68 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچی۔ 2024 میں بھارت–ای یو کی خدمات کےشعبے میں تجارت 7.2 لاکھ کروڑ روپے (83.10 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ گئی۔
بھارت اور یورپی یونین چوتھی اور دوسری بڑی معیشتیں ہیں، جو عالمی جی ڈی پی کا 25فیصد اور عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ پر مشتمل ہے۔ دو بڑی متنوع اور تکمیلی معیشتوں کے انضمام سے تجارت اور سرمایہ کاری کے بے مثال مواقع پیدا ہوں گے۔
تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے اسٹریٹجک وژن اور ثابت قدم قیادت کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ:
بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل بھارت کی اقتصادی شراکت داری اور عالمی نقطہ نظر میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ بھارت کے اس نقطہ نظر کی حمایت کرتا ہے کہ معتبر، باہمی فائدے اور متوازن شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔
ایک روایتی تجارتی معاہدے سے آگے بڑھ کر، یہ ایک وسیع تر شراکت داری کی نمائندگی کرتا ہے جس کے اسٹریٹجک پہلو ہیں اور یہ سب سے اہم آزاد تجارتی معاہدوں میں سے ایک ہے۔ بھارت نے یورپی یونین کے لیے اپنی برآمدات کے تجارتی حجم کے لحاظ سے 99 فیصد سے زائد پر منڈی تک نتیجہ خیزرسائی حاصل کی ہے، جو ‘میک اِن انڈیا’ کی پہل کو بھی فروغ دیتی ہے۔ صرف اشیاء تک محدود نہ رہتے ہوئے، یہ خدمات کے شعبے میں بھی اعلیٰ قدر کی وابستگیوں کو ممکن بناتا ہے، جسے ایک جامع نقل و حرکت کے فریم ورک کے ذریعے ہنرمند بھارتی پیشہ ور افراد کی آسان اور بے رکاوٹ نقل و حمل کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔
بھارت، جو نوجوان اور متحرک افرادی قوت اور دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں سے ایک کے ساتھ مستحکم ہے، اس آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جدت کو فروغ دیا جائے، مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا جائیں، اور عالمی سطح پر اپنی مسابقت کو بڑھایا جا سکے۔
بھارت-یورپی یونین تجارتی معاہدہ روایتی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے جیسے اشیا، خدمات، تجارتی علاج، اصل کے اصول، کسٹم اور تجارتی سہولت کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے ایس ایم ایز اور ڈیجیٹل تجارت وغیرہ۔
بھارت۔ یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ محنت سے متعلق شعبوں جیسے کہ ٹیکسٹائل، ملبوسات، چمڑے، جوتے، سمندری مصنوعات، جواہرات اور زیورات، دستکاری، انجینئرنگ کے سامان، اور آٹوموبائلز کو ایک فیصلہ کن فروغ دیتا ہے جس سے تقریباً 33 بلین امریکی ڈالر کی برآمدات پر 10 فیصد تک ٹیرف کم کیا جا سکتا ہے۔ مسابقت کو بڑھانے کے علاوہ، یہ مزدوروں، کاریگروں، خواتین، نوجوانوں، اور ایم ایس ایم ای کو بااختیار بناتا ہے، جبکہ بھارتی کاروبار کو عالمی ویلیو چین میں موثر انداز میں ضم کرتاہے اور عالمی تجارت میں ایک کلیدی کھلاڑی اور سپلائر کے طور پر ہندوستان کے کردار کو تقویت دیتا ہے۔
آٹو موبائل صنعت کے لیے محتاط اور مہارت سے تیار کردہ کوٹا پر مبنی آٹو لبرلائزیشن پیکج نہ صرف یورپی یونین کے گاڑی سازوں کو اپنے ماڈلز بھارت میں بلند قیمت رینجز میں متعارف کرانے کی اجازت دے گا بلکہ مستقبل میں ‘میک اِن انڈیا’ اور بھارت سے برآمدات کے امکانات بھی کھولے گا۔ بھارتی صارفین جدید ٹیکنالوجی والی مصنوعات اور بڑھتی ہوئی مقابلہ بازی سے فائدہ اٹھائیں گے۔ یورپی یونین کی منڈی میں باہمی رسائی بھارت میں تیار کردہ گاڑیوں کے لیے بھی مواقع فراہم کرے گی تاکہ وہ ای یو کی منڈی تک رسائی حاصل کر سکیں۔
بھارت کی زرعی اور ڈبہ بند غذائی مصنوعات انڈیا- ای یو ایف ٹی اے کے تحت ایک تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں، جس سے ہندوستانی کسانوں اور زرعی کاروباری اداروں کے لیے ایک مساوی میدان پیدا ہو رہا ہے۔ کلیدی اجناس جیسے چائے، کافی، مصالحے، تازہ پھل اور سبزیاں، اور ڈبہ بند غذائی اشیا مسابقت میں اضافہ کریں گے، دیہی معاش کو مضبوط کریں گے، جامع ترقی کو فروغ دیں گے، اور ایک قابل اعتماد عالمی سپلائر کے طور پر ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کریں گے۔ ہندوستان نے حساس شعبوں جس میں ڈیری، اناج، پولٹری، سویا سے بنی غذائی اشیا، بعض پھل اور سبزیاں شامل ہیں، برآمدات میں اضافے کے ساتھ ملکی ترجیحات میں بھی توازن قائم کیا ہے۔
محض محصولاتی لبرلائزیشن سے آگے بڑھ کر، یہ آزاد تجارتی معاہدہ غیر محصولاتی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات فراہم کرتا ہے، جن میں مضبوط ریگولیٹری تعاون، زیادہ شفافیت، اور کسٹمز، صحت و نباتاتی ضوابط کی ہموار شدہ کارروائیوں کے ساتھ تجارتی تکنیکی مسائل سے متعلق کے ضابطے شامل ہیں۔
سی بی اے ایم شقوں کے ذریعے کئی اہم وعدے بھی کیے گئے ہیں، جن میں مستقبل کی نظر سے سب سے زیادہ مراعات یافتہ ملک کی یقین دہانی شامل ہے، جو تیسرے ممالک کو دی جانے والی کسی بھی رعایت کو بھارت پر بھی لاگو کرے گی۔ اس کے ساتھ کاربن کی قیمتوں کی تسلیم شدہ معیار میں مضبوط تکنیکی تعاون، تصدیق کرنے والوں کی شناخت، اور گرین ہاؤس گیس کے اخراج کو کم کرنے اور ابھرتی ہوئی کاربن ضروریات کی تکمیل کے لیے مالی معاونت اور ہدف کے حصول میں تعاون فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کی گئی ہے۔
چونکہ خدمات دونوں معیشتوں کا غالب اور تیزی سے نمو پانے والا شعبہ ہیں، مستقبل میں اس کی تجارت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ منڈی تک یقینی رسائی، غیر امتیازی سلوک، ڈیجیٹل خدمات پر توجہ اور آسان نقل و حرکت بھارت کی خدمات کی برآمدات کے استحکام کو فروغ دیں گے۔
یہ آزاد تجارتی معاہدہ یورپی یونین سے بھارتی مضبوط شعبوں میں اہم اور تجارتی لحاظ سے بامعنی وعدوں کو یقینی بناتا ہے، جن میں آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات، پیشہ ورانہ خدمات، تعلیم، مالی خدمات، سیاحت، تعمیرات اور دیگر کاروباری شعبے شامل ہیں۔
بھارت کو یورپی یونین کے 144 ذیلی شعبوں تک پیش گوئی کے قابل رسائی حاصل ہوگی (جن میں آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس، پیشہ ورانہ خدمات، دیگر کاروباری خدمات اور تعلیمی خدمات شامل ہیں)، جو بھارتی سروس فراہم کنندگان کو فروغ دے گی اور انہیں یورپی صارفین کو عالمی معیار کی مسابقتی بھارتی خدمات فراہم کرنے کے قابل بنائے گی۔ اسی طرح، یورپی یونین کو بھارت کے 102 ذیلی شعبوں تک رسائی حاصل ہوگی، جس سے بھارت میں اعلیٰ ٹیکنالوجی کی خدمات اور سرمایہ کاری آئے گی، اور نتیجتاً ایک باہمی فائدہ مند معاہدہ قائم ہوگا۔
نقل و حرکت کے حوالے سے، بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ کاروباری سفر کے لیے ایک سہل اور پیش گوئی کے قابل فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو مختصر مدتی، عارضی اور کاروباری سفر دونوں سمتوں میں ممکن بناتا ہے۔ اس سے پیشہ ور افراد دونوں معیشتوں کے درمیان مختلف مواقع پر خدمات فراہم کرنے کے قابل ہوں گے۔ یورپی یونین اور بھارت ایک کمپنی کے اندر مختلف ملکوں یا دفاتر میں منتقل ہونے والے ملازمین ( آئی سی ٹی )کو اور کاروباری افرادکے لیے آمد و رفت کی یقین دہانیاں فراہم کر رہے ہیں، جن میں آئی سی ٹی کے انحصار کرنے والے افراد اور اہل خانہ کے داخلے اور کام کرنے کے حقوق بھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ ، یورپی یونین نے کنٹریکٹ پر خدمات فراہم کرنے والے ( سی ایس ایس) کے لیے 37 شعبوں/ذیلی شعبوں اور آزادانہ طور پر کام کرنے والے افراد ( آئی پی ) کے لیے 17 شعبوں/ذیلی شعبوں میں وعدے کیے ہیں، جن میں بھارتی دلچسپی کے اہم شعبے شامل ہیں، جیسے پیشہ ورانہ خدمات، کمپیوٹر اور متعلقہ خدمات، تحقیق و ترقی، اور تعلیمی خدمات وغیرہ۔
بھارت نے سماجی تحفظ کے معاہدوں پر تعمیری بات چیت کے لیے پانچ سالہ فریم ورک حاصل کیا ہے، ساتھ ہی طلبہ کی نقل و حرکت اور تعلیم کے بعد کام کے مواقع کے لیے بھی معاون فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
اسکے علاوہ، بھارت نے یورپی یونین کے اُن رکن ممالک میں بھی رسائی حاصل کی ہے جہاں روایتی طبی طریقے باقاعدہ ضابطہ نہیں ہیں، تاکہ بھارتی روایتی طب کے ماہرین اپنے قومی مضامین کے تحت کام کر سکیں۔
مالی خدمات کے شعبے میں، یہ آزاد تجارتی معاہدہ جدت کو فروغ دینے اور سرحد پار الیکٹرانک ادائیگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون کو بڑھاتا ہے، جبکہ بھارت کو کئی بڑے یورپی یونین کے رکن ممالک میں بہتر منڈی تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ شقیں مالیاتی یکجہتی کو گہرا کریں گی اور مالی خدمات کی تجارت کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گی۔
یہ یقین دہانیاں نہ صرف اعلیٰ قدر والے روزگار کے مواقع کھولتی ہیں بلکہ بھارت کو عالمی سطح پر ہنر، جدت، اور پائیدار اقتصادی ترقی کا مرکز کے طور پر مضبوط بھی کرتی ہیں۔
یہ آزاد تجارتی معاہدہ ٹی آر آئی پی ایس کے تحت فراہم کردہ دانشورانہ املاک کے تحفظات کو مضبوط کرتا ہے، جن میں کاپی رائٹس، ٹریڈ مارکس، ڈیزائنز، تجارتی راز، پودوں کی اقسام، اور آئی پی آر ایس کے نفاذ شامل ہیں، ڈوہا اعلامیہ کی توثیق کرتا ہے اور ڈیجیٹل لائبریریوں، خاص طور پر بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے روایتی علم کی ڈیجیٹل لائبریری (ٹی کے ڈی ایل) منصوبے کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے۔
اس آزاد تجارتی معاہدے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت، صاف ٹیکنالوجیز، اور سیمی کنڈکٹرز جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا، اور بھارت کی تکنیکی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
اس معاہدے سے تجارت میں خاطر خواہ اضافہ، برآمدات کی مسابقت میں بہتری، اور بھارتی کاروباروں کو یورپی اور عالمی ویلیو چینز میں مزید استحکام پیدا ہونےکی توقع ہے۔
بھارت–یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدہ دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں ایک نئے باب کی نمائندگی کرتا ہے، اور بھارت اور 27 رکن ممالک پر مشتمل ای یو بلاک کے درمیان تجارت اور اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بناتا ہے۔ تجارتی اہداف کی کثیر جہتی نوعیت، تجارت کی متحرک فطرت، تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجیز اور بڑھتی ہوئی ریگولیٹری پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ معاہدہ مستقبل میں پیدا ہونے والے نئے اور اچانک چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے متعدد جائزہ، مشاورت اور ردعمل کے طریقہ کار کو شامل کرتا ہے۔ یہ معاہدہ مضبوط قیادت اور اعتماد پر انحصار کرتا ہے تاکہ دونوں جانب کے لیے فائدے یقینی بنائے جا سکیں۔
یورپی یونین بھارت کا 22واں آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) شراکت دار بن گیا ہے۔ حکومت نے 2014 سے ماریشس، یو اے ای، برطانیہ، ای ایف ٹی اے، عمان اور آسٹریلیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے ہیں اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ 2025 میں، بھارت نے عمان اور برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کیے اور نیوزی لینڈ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی تکمیل کا اعلان کیا۔
بھارت–یورپی یونین تجارتی معاہدہ، برطانیہ اور ای ایف ٹی اےکے ساتھ بھارت کے ایف ٹی اے کے امتزاج کے ذریعے، بھارتی کاروباروں، برآمد کنندگان اور کاروباری افراد کے لیے پورے یورپی بازار کے دروازے کھول دیتا ہے۔
تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ، یہ معاہدہ مشترکہ اقدار کو مضبوط کرتا ہے، جدت کو فروغ دیتا ہے، اور ایم ایس ایم ای، خواتین، ہنرمند پیشہ ور، کسان اور برآمد کنندگان سمیت تمام شعبوں اور متعلقہ فریقین کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔ بھارت کے وژن ‘‘وِکست بھارت 2047’’ کے مطابق، یہ آزاد تجارتی معاہدہ بھارت کو عالمی سطح پر ایک متحرک، قابلِ اعتماد اور مستقبل بین شراکت دار کے طور پر مستحکم کرتا ہے، اور دونوں خطوں کے لیے شمولیتی، مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
***
ش ح ۔ ع و ۔ ا ش ق
U. No. 1130
(रिलीज़ आईडी: 2219130)
आगंतुक पटल : 31