وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے نئی دہلی میں بھگوان بدھ سے منسوب مقدس پِپرہوا آثارِ مقدسہ کی عظیم بین الاقوامی نمائش کا افتتاح کیا


بھارت کے لیے بھگوان بدھ کے مقدس آثار محض نوادرات نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے مالا مال ورثے کا حصہ اور ہماری تہذیب کا اٹوٹ جز ہیں: وزیراعظم

بھگوان بدھ کا دکھایا ہوا راستہ اور دانائی انسانیت کے لئے مشعلِ راہ: وزیراعظم

بھگوان بدھ سب کے ہیں اور ہم سب کو متحد کرتے ہیں: وزیراعظم

بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا امین ہے بلکہ اس لازوال روایت کا ایک زندہ امین و حامل بھی ہے: وزیراعظم

بھارت نے دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثہ جاتی مقامات کی ترقی میں مسلسل تعاون کی کوششیں کی ہیں: وزیراعظم

بھگوان بدھ کی تعلیمات اصل میں پالی زبان میں ہیں، ہماری کوشش ہے کہ پالی زبان کو وسیع تر عوام تک پہنچایا جائے، اسی مقصد کے تحت پالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے: وزیراعظم

प्रविष्टि तिथि: 03 JAN 2026 1:48PM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے رائے پتھورا ثقافتی کمپلیکس میں بھگوان بدھ سے متعلق مقدس پِپرہوا آثارِ مقدسہ کی عظیم بین الاقوامی نمائش، جس کا عنوان ’’دی لائٹ اینڈ دی لوٹس: ریلیکس آف دی اویکنڈ ون‘‘ ہے، کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 125 برس کے طویل انتظار کے بعد بھارت کا ورثہ واپس لوٹا ہے، بھارت کی تہذیبی میراث واپس آئی ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ آج سے بھارت کے عوام بھگوان بدھ کے ان مقدس آثار کے دیدار کر سکیں گے اور ان کی برکتیں حاصل کریں گے۔ جناب مودی نے اس مبارک موقع پر موجود تمام معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بدھ مت کی روایت سے وابستہ بھکشو اور دھرم آچاریہ بھی اس تقریب میں موجود ہیں اور ان کے تئیں اپنے عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی موجودگی اس تقریب کو نئی توانائی عطا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سن 2026 کے بالکل آغاز میں منعقد ہونے والی یہ مبارک تقریب نہایت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ بھگوان بدھ کی برکتوں سے سال 2026 دنیا کے لیے امن، خوشحالی اور ہم آہنگی کا نیا دور لے کر آئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس مقام پر یہ نمائش منعقد کی گئی ہے، وہ بذاتِ خود خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قلعہ رائے پتھورا کا یہ مقام بھارت کی شاندار تاریخ کی سرزمین ہے، جہاں تقریباً ایک ہزار سال قبل اس وقت کے حکمرانوں نے مضبوط اور محفوظ فصیلوں سے گھرا ہوا ایک شہر آباد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسی تاریخی شہر کے احاطے میں تاریخ کا ایک روحانی اور مقدس باب شامل کیا جا رہا ہے۔

جناب مودی نے کہا کہ یہاں آنے سے قبل انہوں نے اس تاریخی نمائش کا تفصیل سے مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا ہمارے درمیان ہونا ہم سب کے لیے باعثِ سعادت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان آثار کا بھارت سے جانا اور پھر واپس آنا، دونوں ہی اپنے اندر اہم اسباق رکھتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غلامی صرف سیاسی اور معاشی نہیں ہوتی بلکہ یہ ہمارے ورثے کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی بھگوان بدھ کے مقدس آثار کے ساتھ بھی ہوا، جو غلامی کے دور میں ملک سے باہر لے جائے گئے اور تقریباً 125 برس تک بیرونِ ملک رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جن لوگوں نے ان آثار کو لیا تھا ان کی آنے والی نسلوں کے لیے یہ محض بے جان نوادرات تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ان مقدس آثار کو بین الاقوامی منڈی میں نیلام کرنے کی کوشش کی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے لیے یہ آثار محض نوادرات نہیں بلکہ ہمارے معبود کا حصہ اور ہماری تہذیب کا اٹوٹ جز ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت نے فیصلہ کیا کہ ان کی عوامی نیلامی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جناب مودی نے گاڈریج گروپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے بھگوان بدھ سے وابستہ یہ مقدس آثار ان کی کرم بھومی، ان کی دھیان بھومی، ان کی مہابودھی بھومی اور ان کی مہاپرینیروان بھومی میں واپس لوٹ آئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا: ’’بھگوان بدھ کا علم اور ان کی دکھائی ہوئی راہ پوری انسانیت کی میراث ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس احساس کو بار بار دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں جہاں جہاں بھگوان بدھ کے مقدس آثار پہنچے، وہاں عقیدت اور ایمان کی زبردست لہریں اُٹھیں۔ جناب مودی نے بتایا کہ تھائی لینڈ میں جہاں ان مقدس آثار کو مختلف مقامات پر رکھا گیا، وہاں ایک ماہ سے بھی کم مدت میں 40 لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے درشن کیے۔ انہوں نے کہا کہ ویتنام میں عوامی جذبات اس قدر شدید تھے کہ نمائش کی مدت بڑھانی پڑی اور 9 شہروں میں تقریباً 1 کروڑ 75 لاکھ افراد نے ان آثار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ منگولیا میں گندن خانقاہ کے باہر ہزاروں لوگ گھنٹوں انتظار کرتے رہے اور بہت سے افراد محض اس لیے بھارتی نمائندوں کو چھونا چاہتے تھے کہ وہ بدھ کی سرزمین سے آئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کے کلمیکیا خطے میں صرف ایک ہفتے کے اندر ڈیڑھ لاکھ سے زائد عقیدت مندوں نے ان مقدس آثار کے درشن کیے، جو وہاں کی مقامی آبادی کے نصف سے بھی زیادہ ہیں۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ مختلف ممالک میں منعقد ہونے والے ان تمام مواقع پر، چاہے عام شہری ہوں یا حکومتوں کے سربراہان، سب یکساں عقیدت کے جذبے میں متحد نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان بدھ سب کے ہیں اور ہم سب کو جوڑتے ہیں۔

وزیراعظم نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ خود کو نہایت خوش نصیب سمجھتے ہیں، کیونکہ بھگوان بدھ کو ان کی زندگی میں ایک گہرا مقام حاصل رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی جنم بھومی وڈنگر بدھ مت کی تعلیم کا ایک بڑا مرکز رہی ہے اور سارناتھ، جہاں بھگوان بدھ نے اپنا پہلا وعظ دیا، ان کی کرم بھومی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ذمہ داریوں سے ہٹ کر بھی وہ ایک یاتری کے طور پر بدھ مت کے مقدس مقامات کی زیارت کرتے رہے اور وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں دنیا بھر میں بدھ مت کے زیارتی مراکز کے دورے کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے نیپال کے لمبنی میں مقدس مایا دیوی مندر میں حاضری کو یاد کرتے ہوئے اسے ایک غیرمعمولی تجربہ قرار دیا۔ جناب مودی نے کہا کہ جاپان میں تو-جی مندر اور کنکاکو-جی میں انہیں یہ احساس ہوا کہ بدھ کا پیغام زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ انہوں نے چین کے شہر شی آن میں واقع جائنٹ وائلڈ گوز پگوڈا کے دورے کا ذکر کیا، جہاں سے بدھ مت کے صحیفے پورے ایشیا میں پھیلے اور جہاں آج بھی بھارت کے کردار کو یاد رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے منگولیا کے گندن خانقاہ کے دورے کو یاد کیا، جہاں انہوں نے لوگوں کے بدھ کی میراث سے گہرے جذباتی تعلق کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے انورادھا پورہ میں جے شری مہابودھی کا دیدار کرنا، شہنشاہ اشوک، بھکشو مہند اور سنگھمِترا کے بوئے ہوئے روحانی سلسلے سے جڑنے کا تجربہ تھا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ تھائی لینڈ کے وات فو اور سنگاپور کے بدھ ٹوتھ ریلیک مندر کے دوروں نے بھگوان بدھ کی تعلیمات کے اثرات کے بارے میں ان کی سمجھ کو مزید گہرا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جہاں جہاں بھی وہ گئے، انہوں نے بھگوان بدھ کی میراث کی کوئی نہ کوئی علامت ساتھ لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ چین، جاپان، کوریا اور منگولیا میں وہ بودھی درخت کے پودے اپنے ساتھ لے کر گئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انسانیت کے لیے اس پیغام کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہیروشیما—وہ شہر جو ایٹم بم سے تباہ ہوا—کے نباتاتی باغ میں جب ایک بودھی درخت کھڑا ہوتا ہے تو وہ کتنا بامعنی پیغام دیتا ہے۔

بھگوان بدھ کے اس مشترکہ ورثے کو اس بات کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہ بھارت کا رشتہ محض سیاست، سفارت کاری اور معیشت تک محدود نہیں، بلکہ اس سے کہیں گہرا ہے، جناب مودی نے کہا کہ بھارت ذہن اور جذبات، عقیدے اور روحانیت کے رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا: ’’بھارت نہ صرف بھگوان بدھ کے مقدس آثار کا محافظ ہے بلکہ ان کی روایت کا ایک زندہ حامل بھی ہے۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ پِپرہوا، ویشالی، دیونی موری اور ناگرجنا کونڈا میں پائے جانے والے بھگوان بدھ کے آثار، بدھ کے پیغام کی زندہ موجودگیاں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ بھارت نے ان آثار کو ہر صورت میں—سائنس اور روحانیت دونوں کے ذریعے—محفوظ اور سلامت رکھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے دنیا بھر میں بدھ مت کے ورثہ جاتی مقامات کی ترقی میں مسلسل تعاون کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیپال میں تباہ کن زلزلے سے جب ایک قدیم اسٹوپا کو نقصان پہنچا تو بھارت نے اس کی تعمیرِ نو میں مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ میانمار کے باگان میں زلزلے کے بعد بھارت نے 11 سے زائد پاگوڈاؤں کے تحفظ کا کام انجام دیا۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اندر بھی بدھ مت سے وابستہ مقامات اور آثار کی تلاش اور حفاظت کا عمل مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گجرات میں ان کی جنم بھومی وڈنگر بدھ مت کی روایت کا ایک بڑا مرکز رہی ہے اور وزیراعلیٰ کے طور پر ان کے دورِ کار میں وہاں بدھ مت سے وابستہ ہزاروں آثار دریافت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت ان کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور موجودہ نسل کو ان سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک شاندار تجرباتی عجائب گھر تعمیر کیا گیا ہے، جو تقریباً 2500 سالہ تاریخ کا زندہ تجربہ فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ چند ماہ قبل ہی جموں و کشمیر کے بارہمولہ میں بدھ عہد کا ایک اہم مقام دریافت ہوا ہے اور اب اس کے تحفظ کا کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

گزشتہ 10سے 11برسوں میں بھارت کی جانب سے بدھ مت کے مقامات کو جدیدیت سے جوڑنے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ بودھ گیا میں ایک کنونشن سینٹر اور دھیان و تجرباتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ سارناتھ میں دھمیک اسٹوپا پر لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو اور بدھ تھیم پارک تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شراوستی، کپل وستو اور کُشی نگر میں جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ کے نلگونڈا میں ایک ڈیجیٹل ایکسپیرینس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سانچی، ناگرجن ساگر اور امراوتی میں یاتریوں کے لیے نئی سہولیات تیار کی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک میں ایک بدھسٹ سرکٹ تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ بھارت کے تمام بدھ مت کے زیارتی مقامات کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو سکے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے آنے والے عقیدت مندوں اور یاتریوں کو عقیدے اور روحانیت کا گہرا تجربہ حاصل ہو گا۔

جناب مودی نے زور دے کر کہا: ’’بھارت کی کوشش ہے کہ بدھ مت کا ورثہ فطری انداز میں آنے والی نسلوں تک پہنچے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ عالمی بدھسٹ سمٹ اور ویشاکھ و آشاڑھ پورنیما جیسے بین الاقوامی پروگرام اسی سوچ سے تحریک پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھگوان بدھ کا ابھیدھم، ان کے اقوال اور ان کی تعلیمات اصل میں پالی زبان میں ہیں، اور بھارت اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ پالی زبان کو عام لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی مقصد کے تحت پالی زبان کو کلاسیکی زبان کا درجہ دیا گیا ہے، جس سے دھمّہ کو اس کی اصل روح میں سمجھنے اور بیان کرنے میں آسانی ہوگی اور بدھ مت سے وابستہ تحقیق کو بھی تقویت ملے گی۔

جناب مودی نے کہا کہ بھگوان بدھ کے یہ مقدس آثار بھارت کا ورثہ ہیں اور ایک صدی کے طویل انتظار کے بعد وطن واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آ کر ان مقدس آثار کے دیدار کریں، بھگوان بدھ کے افکار سے جڑیں اور کم از کم ایک مرتبہ اس نمائش کو ضرور دیکھیں۔ انہوں نے اسکول کے طلبہ، کالج کے طلبہ، نوجوان ساتھیوں اور بیٹوں بیٹیوں سے خاص طور پر اس نمائش کو دیکھنے کی اپیل کی۔ وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ یہ نمائش ہمارے شاندار ماضی کو ہمارے روشن مستقبل کے خوابوں سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ آخر میں انہوں نے ملک بھر کے عوام سے اس نمائش میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے اس کی کامیابی کے لیے سب کو نیک تمنائیں پیش کیں۔

اس تقریب میں دیگر معزز شخصیات کے ساتھ مرکزی وزراء جناب گجیندر سنگھ شیخاوت، جناب کرن رجیجو، جناب رام داس اٹھاولے، جناب راؤ اندر جیت سنگھ اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ونئے سکسینہ بھی موجود تھے۔

پس منظر

یہ نمائش پہلی مرتبہ ایک صدی سے زائد عرصے بعد وطن واپس لائے گئے پِپرہوا کے آثارِ مقدسہ کو نئی دہلی کے نیشنل میوزیم اور کولکاتا کے انڈین میوزیم کے مجموعوں میں محفوظ پِپرہوا کے مستند آثار اور آثارِ قدیمہ کے مواد کے ساتھ یکجا پیش کرتی ہے۔

1898 میں دریافت ہونے والے پپرہوا کے آثار، ابتدائی بدھ مت کے آثارِ قدیمہ کے مطالعے میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بھگوان بدھ سے براہِ راست وابستہ قدیم ترین اور تاریخی اعتبار سے نہایت اہم آثار میں شمار ہوتے ہیں۔ آثارِ قدیمہ کے شواہد پپرہوا کے مقام کو قدیم کپل وستو سے منسلک کرتے ہیں، جسے وسیع طور پر وہ مقام مانا جاتا ہے جہاں بھگوان بدھ نے ترکِ دنیا سے قبل اپنی ابتدائی زندگی گزاری۔

یہ نمائش بھگوان بدھ کی تعلیمات کے ساتھ بھارت کے گہرے اور مسلسل تہذیبی رشتے کو اجاگر کرتی ہے اور بھارت کے روحانی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے وزیراعظم کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان آثار کی حالیہ وطن واپسی حکومت کی مسلسل کوششوں، ادارہ جاتی تعاون اور جدید عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔

نمائش کو موضوعاتی انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کا مرکزی حصہ سانچی اسٹوپا سے متاثر ایک ازسرِ نو تشکیل دیا گیا تشریحی ماڈل ہے، جس میں قومی مجموعوں کے مستند آثار اور وطن واپس لائے گئے جواہرات کو یکجا کیا گیا ہے۔ دیگر حصوں میں پپرہوا: ایک نیا جائزہ، بدھ کی زندگی کے مناظر، مادی میں غیرمادی: بدھ تعلیمات کی جمالیاتی زبان، سرحدوں سے پرے بدھ فن اور نظریات کی توسیع، اور ثقافتی نوادرات کی وطن واپسی: ایک مسلسل جدوجہد شامل ہیں۔

عوامی فہم میں اضافے کے لیے نمائش کو جامع سمعی و بصری اجزاء سے تقویت دی گئی ہے، جن میں عمیق تجرباتی فلمیں، ڈیجیٹل تعمیرِ نو، تشریحی پروجیکشنز اور ملٹی میڈیا پیشکشیں شامل ہیں۔ یہ عناصر بھگوان بدھ کی زندگی، پپرہوا آثار کی دریافت، مختلف خطوں میں ان کی نقل و حرکت اور ان سے وابستہ فنکارانہ روایات کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرتے ہیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-96


(रिलीज़ आईडी: 2211068) आगंतुक पटल : 28
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Bengali-TR , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam