وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

چھتیس گڑھ کے بلاس پور میں مختلف ترقیاتی کاموں کے آغاز کے موقع پر وزیر اعظم کی تقریر کا متن

Posted On: 30 MAR 2025 6:05PM by PIB Delhi

بھارت ماتا کی جئے!

بھارت ماتا کی جئے!

بھارت ماتا کی جئے!

چھتیس گڑھ مہتاری کی جئے!

رتن پور والی ماتا مہامایا کی جئے!

کرما مایا کی جے! بابا گرو گھاسی داس کی جئے!

جمو سنگي-ساتھي-جہنوريا،

مہتاري-ديدي-بہني او سياں-جوان،

من لا جئے جوہار

چھتِیس گڑھ کے گورنرجناب رمین ڈیکا جی، یہاں کے مقبول اور پُرجوش وزیر اعلیٰ جناب وشنو دیو سائے جی،مرکزی وزراء کونسل  کے میرے ساتھی منوہر لال جی، اِسی علاقے کے رکن پارلیمنٹ اور مرکز میں وزیر توکھن ساہو جی، چھتِیس گڑھ ودھان سبھا کے اسپیکر میرے اچھے دوست رمن سنگھ جی،نائب وزیر اعلیٰ وِجے شرما جی، ارُن ساہو جی، چھتِیس گڑھ سرکار کے سبھی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی اور دور-دور سے یہاں آئے میرے بھائِیو اور بہنو!

آج سے نیا سال شُروع ہو رہا ہے۔ آج پہلا نَوَراتْرِی ہے اور یہ تو ماتا مہامایا کی سرزمین ہے۔ چھتِیس گڑھ ماتا کَوشَلْیا کا مایکا ہے۔ ایسے میں ماترشکتی کے لیے وقف اِن نو دِن چھتِیس گڑھ کے لیے بہت ہی خاص رہتے ہیں اور میری خوش قسمتی ہے کہ نَوَراتْرِی کے پہلے دِن میں یہاں پہنچا ہوں۔ ابھی کچھ دِن پہلے بھَکْت شِیرومنی ماتا کَرما کے نام پر ڈاک ٹکٹ بھی جاری ہوا ہے۔ میں آپ سب کو اِس کی مبارک باد دیتا ہوں۔

ساتھیو!

نوراتری کا یہ پَرو رام نوَمی کےجشن کے ساتھ  اختتام پذیرہوگا اور چھتِیس گڑھ کی تو، یہاں کی رام بھَکتی بھی حیرت انگیز ہے۔ ہمارا جو رام نامی سماج ہے، اُس نے تو پورا وجود رام نام کے لیے وقف کِیا ہے۔ میں پْرَبھُو رام کے ننِہال والوں کو، آپ سبھی ساتھیوں کو بہت بہت مبارکباددیتا ہوں۔ جے شری رام! 

ساتھیو! 

آج کے اِس مبارک دن پر مُجھے موہ بھٹہ سَوَیمبھُو شیو لنگ مہا دیو کے آشِیرواَد سے چھتِیس گڑھ کی ترقی کومزید رفتار دینے کا موقع ملا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے 33 ہزار 700 کروڑ روپے سے زیادہ کے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہےاور وقف کیا گیا ہے۔ اِس میں غَرِیبوں کے گھر ہیں، اسکول ہیں، روڈ ہے، ریل ہے، بِجلی ہے، گیس کی پائپ لائنیں ہیں۔ یعنی یہ سارے پروجیکٹس چھتِیس گڑھ کے شہریوں کو سہولت دینے والے ہیں۔ یہاں نَوْجوانوں کے لیے نئے روزگار بنانے والے ہیں۔ آپ سبھی کو اِن ترقیاتی کاموں کے لیے بہت بہت مبارکباد۔ 

 

ساتھیو!

ہماری روایت میں کِسی کو بھی پناہ  دینا ایک بہت بڑانیک عمل مانا جاتا ہے۔ لیکن جب کِسی کے گھر کا سپنا پورا ہوتا ہے، تو اُس سے بڑی خوشی بھلا کیا ہو سکتی ہے۔ آج نَوْرَاتری کے شُبھ دِن، نَوَ وَرْش پر چھتِیس گڑھ کے تین لاکھ غَرِیب خاندان اپنے نئے گھر میں داخل ہورہے ہیں۔ مُجھے ابھی یہاں تین مستفیدین سے مِلنے کا موقع مِلا اور میں دیکھ رہا تھا اُن کے چہرے پر خوشی نہیں سما رہی تھی اور وہ ماں تو یہاں اپنی خوشی روک ہی نہیں پا رہی تھی۔ میں اِن سبھی کنبوں کو، تین لاکھ پَرِیوار ساتھیوں، ایک نئے جِیون کے لیے بہت مبارکباد دیتا ہوں۔ اِن غَرِیب خاندانوں کے سِر پر پکّی چھت آپ سبھی کی وجہ سے ہی ممکن ہو پائی ہے۔ یہ میں اِس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ آپ نے مودی کی گارنٹی پر بھروسہ کِیا۔ چھتِیس گڑھ کے لاکھوں خاندانوں کے پکّے گھر کا سپنا پہلے کی سرکار نے فائلوں میں گُما دیا تھا اور تب ہم نے گارنٹی دی تھی، یہ سپنا ہماری سرکار پورا کرے گی۔ اور اِس لیے وِشنو دیو جی کی سرکار بنتے ہی پہلی کابینہ میں 18 لاکھ گھر بنانے کا فیصلہ لیا گیا۔ آج اُس میں سے تین لاکھ گھر بن کر تیار ہیں۔ مُجھے خوشی اِس بات کی بھی ہے، اِس میں بہت سارے گھر ہمارے قبائلی علاقوں میں بنے ہیں۔ بَسْتَر اور سَرْگُوجا کے متعدد کنبوں کو بھی اپنے پکّے گھر ملے ہیں۔ جِن کنبوں کی متعدد نسلوں نے جھونپڑیوں میں بےحال زندگی گزاری  ہے، اُن کے لیے یہ کتنا بڑا انعام ہے، یہ ہم سمجھ سکتے ہیں اور جو نہیں سمجھ سکتے ہیں، میں اُن کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ آپ اگر ریلوے میں یا بَس میں سفرکر رہے ہیں، جگہ نہیں مل رہی ہے، کھڑے کھڑے جا رہے ہیں اور اگر تھوڑی سی ایکادھ سیٹ مل جائے، آپ کا لطف کتنا بڑھ جاتا ہے، پتا ہے نہ! ایک-دو-تین گھنٹے کے سفر میں بَیٹھنے کی جگہ مل جائے، تو آپ کی خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ آپ تصور کیجیے کہ اِن کنبوں نے پِیڑھی دَر پِیڑھی جھونپڑی میں زِنْدَگی گزار دی۔ آج جب اُن کو پکا گھر مل رہا ہے، آپ تصور کیجیے، اُن کی زندگی کی خوشیاں کتنی اُمنگ سے بھری ہوں گی۔ اور جب یہ سوچتا ہوں، یہ دیکھتا ہوں، مجھے بھی نئی توانائی مِلتی ہے۔ ہم وطنوں کے لیے رات-دِن کام کرنے کا مَن مضبوط ہو جاتا ہے۔

ساتھیو!

ان گھروں کو بنانے کے لیے بھلے ہی سرکار نے مدد دی ہے۔ لیکن گھر کیسا بنے گا، یہ سرکار نے نہیں، ہر مستفید نے خود طے کیا ہے۔ یہ آپ کے خوابوں کا گھر ہے اور ہماری سرکار صرف چاردیواری ہی نہیں بناتی، ان گھروں میں رہنے والوں کی زندگی بھی بناتی ہے۔ ان گھروں کو بیت الخلاء، بجلی، اُجّوالا کی گیس، نل سے جل، سبھی سہولیات سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ یہاں میں دیکھ رہا ہوں کہ بہت بڑی تعداد میں مائیں-بہنیں آئی ہیں۔ یہ جو پکے گھر ملے ہیں، ان میں سے زیادہ تر کی مالک ہماری مائیں-بہنیں ہی ہیں۔ ہزاروں ایسی بہنیں ہیں، جن کے نام پر پہلی بار کوئی جائداد رجسٹر ہوئی ہے۔ میری ماؤ-بہنو، آپ کے چہرے کی یہ خوشی، آپ کا یہ آشیرواد، یہ میری بہت بڑی پونجی ہے۔

ساتھیو!

جب اتنے سارے گھر بنتے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں گھر بنتے ہیں، تو اس سے ایک اور بڑا کام ہوتا ہے۔ اب آپ سوچیے کہ یہ گھر بناتا کون ہے؟ ان گھروں میں لگنے والا سامان کہاں سے آتا ہے؟ یہ چھوٹا-موٹا سامان کوئی دہلی-ممبئی سے تھوڑا آتا ہے۔ جب اتنے سارے گھر بنتے ہیں، تو گاؤں میں ہمارے راج مستری، رانی مستری، مزدور ساتھی، سبھی کو کام ملتا ہے۔ اور جو سامان آتا ہے، اس کا فائدہ بھی تو مقامی چھوٹے-چھوٹے دکانداروں کو ہوتا ہے۔ جو گاڑی میں، ٹرک میں سامان لاتے ہیں، ان کو ہوتا ہے۔ یعنی لاکھوں گھروں نے چھتیس گڑھ میں بہت سارے لوگوں کو روزگار بھی دیا ہے۔ 

ساتھیو!

بھاجپا سرکار، چھتیس گڑھ کے لوگوں سے کیے گئے ہر وعدے کو پورا کر رہی ہے۔ اور ابھی وزیر اعلیٰ جی بتا رہے تھے کہ پچھلے دنوں جو ستھانیہ سوَراج سنستھاؤں کے چناؤ ہوئے، ترستھیی چناؤ اور اس میں بھی آپ نے جس طرح سے آشیرواد دیے ہیں، آج میں آیا ہوں، تو اس کے لیے بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 

ساتھیو!

یہاں بہت بڑی تعداد میں الگ-الگ اسکیموں کے مستفدین آئے ہیں۔ آپ سبھی نے تجربہ کیا ہے کہ ہماری سرکار کتنی تیزی سے اپنی گارنٹیاں پوری کر رہی ہے۔ چھتیس گڑھ کی بہنوں سے ہم نے جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا کر کے دکھایا۔ دھان کسانوں کو 2 سال کا بقایا بونس ملا ہے، بڑھے ہوئے ایم ایس پی پر دھان کی خریداری کی گئی ہے۔ اس سے لاکھوں کسان کنبوں کو ہزاروں کروڑ روپے ملے ہیں۔ کانگریس کی سرکار میں یہاں بھرتی امتحانات میں بھی خوب گھوٹالے ہوئے، بھاجپا سرکار نے بھرتی امتحانات میں ہوئے گھوٹالوں کو لے کر جانچ بٹھائی ہے۔ اور ہماری سرکار پوری شفافیت کے ساتھ امتحانات کروا رہی ہے۔ ان ایماندارانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ بھاجپا پر جنتا کا بهروسہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ودھان سبھا اور لوک سبھا چناؤ کے بعد اب نکائے چناؤ میں بھی یہاں بھاجپا کا پرچم لہرایا ہے۔ چھتیس گڑھ کی جنتا بھاجپا سرکار کی کوششوں کو اپنی بهرپور حمایت دے رہی ہے۔ 

ساتھیو!

چھتیس گڑھ کو ریاست بنے 25 سال ہو رہے ہیں۔ یہ سال چھتیس گڑھ کا سلور جبلی سال ہے۔ اتفاق سے یہ سال اٹل جی کا سو واں سالِ پیدائش بھی ہے۔چھتیس گڑھ سرکار، 2025 کو اٹل نیرمان ورْش کے روپ میں منا رہی ہے۔ ہمارا مقصد ہے— "ہم نے بنایا ہے، ہم ہی سنواریں گے۔" آج بنیادی ڈھانچے کے جتنے بھی پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے اور وقف کیا گیاہے، وہ اسی ہدف کا حصہ ہے۔ 

ساتھیو! 

چھتیس گڑھ کو الگ ریاست  اس لیے بنانا پڑا تھا، کیونکہ یہاں ترقی کا فائدہ نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ کانگریس کے راج میں یہاں ترقی کا کام نہیں ہو پاتا تھا، اور جو کام ہوتے بھی تھے، اس میں کانگریس والے گھوٹالے کر دیتے تھے۔ کانگریس کو کبھی آپ کی فکر نہیں رہی۔ آپ کے جیون کی، آپ کی سہولیات کی، آپ کے بچوں کی فکرہم نے کی ہے۔ ہم ترقی کی اسکیموں کو چھتیس گڑھ کے گاؤں-گاؤں تک لے جا رہے ہیں۔  وہاں ایک بیٹی کوئی ایک پینٹنگ بنا کے لائی ہے، بیچاری کب سے ہاتھ اوپر رکھ کے کھڑی ہے۔ میں ذرا سیکورٹی والوں سے کہوں گا، ذرا اس بیٹی کو... ذرا پیچھے بیٹا نام-پتہ لکھ دینا، میں آپ کو چٹھی بھیجوں گا۔ ذرا اس کو کوئی اکٹھا کر کے میرے تک پہنچا دے۔ بہت بہت شکریہ بیٹا، بہت شکریہ!آج آپ دیکھیے، یہاں دوردراز کے قبائلی علاقوں میں بھی اچھی سڑکیں پہنچ رہی ہیں۔ کئی علاقوں میں پہلی بار ٹرین پہنچ رہی ہے، ابھی میں نے یہاں ایک ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ اب یہاں کہیں پہلی بار بجلی پہنچ رہی ہے، کہیں پائپ سے پانی پہلی بار پہنچ رہا ہے، کہیں نیا موبائل ٹاور پہلی بار لگ رہا ہے۔ نئے اسکول-کالج-اسپتال بن رہے ہیں۔ یعنی ہمارے چھتیس گڑھ کی تصویر بھی بدل رہی ہے، تقدیر بھی بدل رہی ہے۔ 

ساتھیو! 

چھتیس گڑھ ملک کی ان ریاستوںمیں شامل ہو گیا ہے، جہاں سو فی صد ریل نیٹورک بجلی سے چلنے لگا ہے۔ یہ بہت بڑی حصولیابی ہے۔ چھتیس گڑھ میں اس وقت تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کے ریل پروجیکٹس پر کام چل رہا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں بھی چھتیس گڑھ کے لیے 7 ہزار کروڑ روپے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس سے چھتیس گڑھ کے بہت سے علاقوں میں اچھی ریل کنیکٹیویٹی کی مانگ پوری ہوگی۔ اس سے آس پاس کے راجیوں سے کنیکٹیویٹی بھی بہتر ہوگی۔ 

ساتھیو! 

ترقی کے لیے بجٹ کے ساتھ-ساتھ ایمانداری بھی ضروری ہے۔ اگر کانگریس کی طرح دل و دماغ میں بےایمانی بھری ہو، تو بڑے سے بڑے خزانے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔ یہی صورت حال ہم نے کانگریس کی حکمرانی کے دوران دیکھی ہے۔ اس کے سبب، قبائلی علاقوں تک ترقی نہیں پہنچ پائی۔  ہمارے سامنے کوئلے کی مثال ہے۔ چھتیس گڑھ میں بہت بڑی مقدار میں کوئلہ ہے۔ لیکن یہاں آپ کو ضرورت بھر کی بجلی نہیں مل پاتی تھی۔ کانگریس کے وقت میں بجلی کی حالت خستہ حال تھی، یہاں پر بجلی کے کارخانوں پر اتنا کام ہی نہیں کیا گیا۔ آج ہماری سرکار یہاں نئی بجلی کے کارخانے لگوا رہی ہے۔ 

ساتھیو! 

ہم یہاں شمسی توانائی سے بجلی بنانے پر بھی بہت زیادہ زور دے رہے ہیں۔ اور میں آپ کو ایک اور بڑی شاندار اسکیم کے بارے میں بتاؤں گا۔ مودی نے ایک ایسی اسکیم شروع کی ہے، جس میں آپ کا بجلی کا بل زیرو ہو جائے گا، اور گھر میں بجلی پیدا کر کے آپ کمائی بھی کر سکیں گے۔ اس اسکیم کا نام ہے— "پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا"۔ اس کے لیے ہماری سرکار ہر گھر کو سولر پینل لگانے کے لیے 70-80 ہزار روپے کی مدد دے رہی ہے۔ یہاں چھتیس گڑھ میں بھی 2 لاکھ سے زیادہ کنبوں نے "پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا" میں اپنا رجسٹریشن کرا دیا ہے۔ آپ بھی اس یوجنا سے جڑیں گے تو آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔

ساتھیو! 

نیک نیّتی کی ایک اور مثال، گیس پائپ لائن بھی ہے۔ چھتیس گڑھ سمندر سے دور ہے۔ تو یہاں تک گیس پہنچانا اتنا آسان نہیں ہے۔ پہلے جو سرکار تھی، اُس نے گیس پائپ لائن پر بھی ضروری خرچ نہیں کیا۔ ہم اس چیلنج کا بھی حل کر رہے ہیں۔ ہماری سرکار یہاں گیس پائپ لائنیں بچھا رہی ہے۔ اس سے پیٹرولیم سے جُڑی مصنوعات کو ٹرکوں سے ٹرانسپورٹ کرنے کی مجبوری کم ہوگی۔ یہ چیزیں کم قیمت میں آپ لوگوں کو ملنے لگیں گی۔ گیس پائپ لائن آنے سے، یہاں سی این جی سے گاڑیاں چل پائیں گی۔ اس کا ایک اور فائدہ ہوگا۔ گھروں میں کھانا بنانے کی گیس اب پائپ سے بھی آ پائے گی۔ جیسے پائپ سے پانی آتا ہے کچن میں، ویسے ہی اب گیس آئے گا۔ ہم ابھی 2 لاکھ سے زیادہ گھروں میں سیدھے پائپ سے گیس پہنچانے کا ہدف لے کر چل رہے ہیں۔ گیس دستیاب ہونے سے یہاں چھتیس گڑھ میں نئی صنعتیں لگانا بھی ممکن ہو پائے گا۔ یعنی بڑی تعداد میں یہیں پر روزگار بنیں گے۔ 

ساتھیو! 

گزشتہ دہائیوں  میں کانگریس کی پالیسیوں کی وجہ سے چھتیس گڑھ سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں نکسلزم کو بڑھاوا ملا۔ ملک میں جہاں-جہاں محرومی رہی، جو-جو علاقے ترقی سے پیچھے رہے، وہاں-وہاں نکسلواد پھلتا-پھولتا رہا۔ لیکن جس دَل نے 60 سال سرکار چلائی، اُس نے کیا کیا؟ اُس نے ایسے ضلعوں کو پسماندہ قرار دے کر، اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا۔ ہمارے نوجوانوں کی متعدد نسلیں کھپ گئیں۔ بہت سی ماؤں نے اپنے لاڈلے کھو دیے۔ اکثر بہنوں نے اپنا بھائی کھو دیا۔ 

ساتھیو!

اُس وقت کی سرکاروں کی یہ بے حِسی، یہ آگ میں گھی ڈالنے جیسا تھا۔ آپ نے تو خود سہا ہے، دیکھا ہے، چھتیس گڑھ میں کتنے ہی ضلعوں میں سب سے پِچھڑے قبائلی  خاندان رہتے تھے۔ اُن کی کانگریس سرکار نے کبھی سُدھ نہیں لی۔ ہم نے غریب قبائلیوں کے بیت الخلاکی فکر کی، سوچھ بھارت ابهیان چلایا۔ ہم نے غریب قبائلیوں کے علاج کی فکر کی، 5 لاکھ روپے تک مفت علاج دینے والی آیوشمن بھارت یوجنا چلائی۔ ہم نے آپ کے لیے سستی دوا کی فکر کی، 80فیصد چھوٹ دینے والے پی ایم جن اوشدھی کیندر کھولے۔ 

ساتھیو! 

جو لوگ سماجی انصاف پر جھوٹ بولتے ہیں، اُنہی لوگوں نے قبائلی سماج کو بھُلا رکھا تھا۔ اِس لیے تو میں کہتا ہوں، "جِس کو کِسی نے نہیں پوچھا، اُس کو مودی پُوجتا ہے۔" ہم قبائلی سماج کی ترقی کے لیے بھی خصوصی مہم چلارہے ہیں۔ ہم نے آپ کے لیے دھرتی آبا جن جاتی اُتکرش ابهیان شروع کیا ہے۔ اس کے تحت تقریباً 80 ہزار کروڑ روپے قبائلی علاقوں میں خرچ کیے جارہے ہیں۔ اس سے چھتیس گڑھ کے تقریباً 7 ہزار قبائلی گاؤوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ قبائلیوں میں بھی بہت پسماندہ قبائلی برادریاں ہوتی ہیں۔ پہلی بار ہماری سرکار نے ایسے ابہت پسماندہ قبائلیوں کے لیے پی ایم جنمن یوجنا بنائی ہے۔ اس کے تحت، چھتیس گڑھ کے 18 ضلعوں میں 2 ہزار سے زیادہ بستِیوں میں کام کیے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں پسماندہ قبائلیوں کی بستیوں میں تقریباً 5 ہزار کلو میٹر کی سڑکوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً آدھی سڑکیں، چھتیس گڑھ میں ہی بنائی جانِی ہیں، یعنی ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سڑکیں یہاں پی ایم جنمن یوجنا کے تحت بنیں گی۔ آج اِس اسکیم کے تحت ہی یہاں بہت سے ساتھیوں کو پکے گھر بھی ملے ہیں۔

ساتھیو! 

آج ڈبل انجن سرکار میں چھتیس گڑھ کی صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ جب سُکما ضلع کے ایک صحت مرکز کوقومی معیار کا سرٹیفیکیٹ ملتا ہے، تو نیا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جب کئی سالوں بعددنتے واڑا میں پھر سے صحت مرکز شروع ہوتا ہے، تو اعتماد پیدا ہے۔ ایسی ہی کوششوں کے سبب، نَکسَلزم سے متاثرہ علاقوںمیں مستقل امن کا نیا دور نظر آ رہا ہے۔ ابھی دسمبر میں جب من کی بات ہوئی، تو میں نے بَستر اولمپک کا ذکر کیا تھا۔ آپ نے بھی وہ من کی بات ضرور سُنا ہوگا۔ بَستر اولمپک میں جس طرح ہزاروں نوجوانوں نے حصہ لیا، وہ چھتیس گڑھ میں آ رہے بدلاؤ کا ثبوت ہے۔ 

ساتھیو! 

میں چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کا ایک شاندار مستقبل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ چھتیس گڑھ جس طرح، نئی تعلیمی پالیسی کو لاگو کر رہا ہے، وہ بہت ہی شاندار کام ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں 12 ہزار سے زیادہ جدیدپی ایم شری اسکول شروع ہو چکے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ساڑھے تین سو، چھتیس گڑھ میں ہیں۔ یہ پی ایم شری اسکول، دوسرے اسکولوں کے لیےمثال بنیں گے۔ اس سے ریاست کے پورے تعلیمی نظام کی سطح بلند ہوگی۔ چھتیس گڑھ میں درجنوں ایکلویہ ماڈل اسکول پہلے سے ہی شاندار کام کر رہے ہیں۔ نَکسَلزم سے متاثرہ علاقوں میں بھی متعدد اسکول پھر سے شروع کیے گئے ہیں۔ آج چھتیس گڑھ میں ودیا سمیکشا کیندرکی بھی شروعات ہوئی ہے۔ یہ بھی ملک کے تعلیمی نظام میں ایک بڑا قدم ہے۔ اس سے اسکولوں میں تعلیم کی سطح اور اچھی ہوگی، کلاس میں اساتذہ کی، طلباء کی ریئل ٹائم میں مدد بھی ہو پائے گی۔

ساتھیو! 

ہم نے آپ سے کیا ایک اور وعدہ پورا کیا ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت، یہاں ہندی میں بھی میڈیکل اور انجینئرنگ کی پڑھائی شروع ہو رہی ہے۔ اب میرے گاؤں، غریب، قبائلی کنبوں کے نوجوانوں کے خوابوں کو پورا کرنے میں زبان کوئی رکاوٹ نہیں بنے گی۔

ساتھیو!

گذشتہ برسوں میں میرے دوست رمن سنگھ جی نے جو مضبوط بنیاد رکھی تھی، اُسے موجودہ سرکار مزید مضبوط  کر رہی ہے۔ آنے والے 25 برسوں میں ہمیں اس بنیاد پر ترقی کی ایک عظیم عمارت بنانی ہے۔ چھتیس گڑھ وسائل سے بھرپور ہے، چھتیس گڑھ خوابوں سے بھرپور ہے، چھتیس گڑھ صلاحیتوں سے بھرپور ہے۔ 25 سال بعد، جب ہم چھتیس گڑھ کی تشکیل کے 50 سال منائیں، تو چھتیس گڑھ ملک کی سرکردہ ریاستوں میں ہو، اس ہدف کو ہم پاکر کے ہی رہیں گے۔ میں آپ کو پھر یقین دلاؤں گا، یہاں ترقی کا فائدہ، چھتیس گڑھ کے ہر کنبے تک پہنچے، اس کے لیے ہم کوئی کور کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔ایک بار پھر آپ سبھی کو اتنے سارے ترقیاتی کاموں کے لیے اور نئے سال کے آغاز میں ہی بہت بڑے خواب لے کر کے جو یاترا شروع ہو رہی ہے، اُس کے لیے میں آپ کو بہت بہت مبارک باد دیتا ہوں۔ بہت بہت شکریہ!

******

ش ح ۔ ک ح۔ خ م

U-9208


(Release ID: 2116957) Visitor Counter : 30