وزارت خزانہ

اقتصادی سروے 2022-23 کی تلخیص


سال 2023-24 کے دوران ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.0 سے 6.8 فیصد رہے گی، جو عالمی اقتصادی اور سیاسی صورت حال پر منحصر ہے

اقتصادی سروے 2022-23 کا اندازہ ہے کہ جی ڈی پی شرح نمو مالی سال 2024 کے لیے حقیقی بنیاد پر 6.5 فیصد رہے گی

معیشت کی شرح ترقی مارچ 2023 کو ختم ہونے والے سال کے لیے 7 فیصد (حقیقی) رہنے کی امید ہے ،  پچھلے مالی سال میں  شرح ترقی 8.7 فیصد رہی تھی

بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے شعبے کے لیے قرض میں تیز اضافہ درج کیا گیا ہے، جو جنوری –نومبر2022 کے دوران اوسط بنیاد پر 30.5 فیصد رہا

مرکزی حکومت کا پونجی پر مبنی خرچ (کیپیکس)، جو مالی سال 2023 کے 8 مہینوں کے دوران 63.4 فیصد کی شرح سے بڑھا، یہ موجودہ سال کے لیے ہندوستانی معیشت کی ترقی کو رفتار دینے کی بنیادی وجہ رہا ہے

آربی آئی کا اندازہ ہے کہ مالی سال 2023 کے لیے مہنگائی کی شرح 6.8 فیصد رہے گی، جو اس کی مقررہ حد سے زیادہ ہے

تعمیراتی سرگرمیوں میں مہاجر مزدوروں کے لوٹنے سے، تعمیراتی مواد کے جمع ہونے کے عمل، جو پچھلے سال کے 42 مہینوں کے مقابلے مالی سال 2023 کی تیسری سہ

Posted On: 31 JAN 2023 2:00PM by PIB Delhi

مالی سال 24-2023 کے دوران ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6.0 سے 6.8 فیصد رہے گی، جو عالمی  معاشی اور سیاسی صورت حال پر منحصر ہے۔

ترقی کے تخمینہ کا امید افزا پہلو مختلف مثبت حقائق پر مبنی ہے، جیسے نجی کھپت میں مضبوطی، جس میں پیداواری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا ہے؛ سرمایہ کے اخراجات کی اعلی شرح(کیپیکس)؛ ہمہ گیر ٹیکہ کاری کووریج ، جس نے رابطے پر مبنی خدمات-ریستوراں، ہوٹل، شاپنگ مال، سینما وغیرہ کے لیے لوگوں کو باصلاحیت بنایا ہے؛ شہروں کے تعمیراتی مقامات پر مہاجر مزدوروں کے لوٹنے سے تعمیراتی مواد کے جمع ہونے میں اہم کمی درج کی گئی ہے، کارپوریٹ  دنیا کے بہی کھاتوں میں مضبوطی ؛ سرمایہ سے لیس پبلک سیکٹر کے بینک، جو قرض دینے میں اضافہ کے لیے تیار ہیں اور بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کے شعبے کے لیے قرض میں اضافہ۔

مرکزی وزیر خزانہ اور کارپوریٹ امور محترمہ نرملا سیتارمن نے آج 31 جنوری 2023 کو پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے 2022-23 پیش کیا، جس کا اندازہ ہے کہ جی ڈی پی شرح نمو مالی سال 2024 کے لیے حقیقی بنیاد پر 6.5 فیصد رہے گی۔ اس تخمینہ کا کثیرجہتی ایجنسیوں جیسے عالمی بینک، آئی ایم ایف، اے اے ڈی بی اور گھریلو طور پر آربی آئی کے ذریعے لگائے گئے تخمینے سے موازنہ کیا جاسکتا ہے۔

سروے کہتا ہے کہ مالی سال 2024 میں ترقی کی رفتار تیز رہے گی، کیونکہ کارپوریٹ اور بینکنگ سیکٹر کے بہی کھاتوں کے مضبوط ہونے سے قرض کی ادائیگی اور سرمایہ کاری کے شروع ہونے کی امید ہے۔ اقتصادی ترقی کو لوک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی توسیع اور تاریخی طریقوں جیسے پی ایم گتی شکتی، قومی لاجسٹکس پالیسی اور پیداوار سے جڑی ترغیبی اسکیموں کے ذریعے حمایت حاصل ہوگی، جو تعمیراتی پیداوار میں اضافہ کریں گے۔

سروے کہتا ہے کہ حقیقی سطح پر مارچ 2023 کو ختم ہونے والے سال کے لیے معیشت میں 7 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوگا۔ پچھلے مالی سال کے دوران شرح نمو 8.7 فیصد رہی تھی۔

کووڈ-19 کی تین لہروں اور روس-یوکرین لڑائی کے باوجود اور فیڈرل ریزرو کی قیادت میں مختلف ممالک کی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کے ذریعے مہنگائی کی شرح میں کمی لانے کی پالیسیوں کے سبب امریکی ڈالر میں مضبوطی درج کی گئی ہے اور درآمد کرنے والی معیشتوں کا  کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ(سی اے ڈی) بڑھا ہے۔ دنیا بھر کی ایجنسیوں نے ہندوستان کو سب سے تیزی سے بڑھنے والی معیشت مانا ہے، جس کی شرح نمو مالی سال 2023 میں 6.5-7.0 فیصد رہے گی۔

سروے کے مطابق، مالی سال 23 میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی قیادت، بنیادی طور پر نجی کھپت اور سرمائے کی تشکیل سے ہوئی ہے اور انہوں نے روزگار پیدا کرنے میں مدد کی ہے جیسا کہ شہری بے روزگاری کی گرتی ہوئی شرح اور ملازمین کے  پروویڈنٹ فنڈ میں تیز تر  بڑے پیمانے  پر  رجسٹریشن میں دیکھا گیا ہے۔ مزید برآں، دنیا کی دوسری سب سے بڑی ویکسی نیشن کی  مہم، جس میں 2  ارب  سے زیادہ کی تعداد میں  ٹیکے   شامل ہیں، نے بھی صارفین کے جذبات کو حوصلہ دینے کا کام کیا انجام دیا ، جو کھپت میں بحالی کو طول دے سکتا ہے۔ پھر بھی، حکومت کے  نجی  سرمایہ جاتی خرچ  کو جلد ہی قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملازمت کی تخلیق کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جا سکے۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی ترقی کے نقطہ نظر میں اضافہ ، جن  عناصر کی وجہ سے  ہوا ، ان میں  شا مل ہیں (i) چین میں کووڈ - 19 انفیکشن میں موجودہ اضافے سے باقی دنیا کے لیے محدود صحت اور اقتصادی نتائج سے پیدا ہوتا ہے اور اس وجہ سے، سپلائی چین کو معمول پر لانا؛ (ii) چین کی معیشت کے دوبارہ  وا    ہونے  سے افراط زر کے اثرات نہ تو اہم ہیں اور نہ ہی مستقل؛ (iii) بڑی ترقی یافتہ معیشتوں ( اے ایز) میں کساد بازاری کے رجحانات 6 فیصد سے کم  مستحکم گھریلو افراط زر کی شرح کے درمیان مالیاتی  سخت روی  کے خاتمے اور ہندوستان میں سرمائے کے بہاؤ کی واپسی کو متحرک کرتے ہیں  اور (iv) یہ فطری  بہاؤ   میں بہتری کا باعث بنتا ہے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو مزید تحریک دیتا ہے۔

سروے میں  مزید کہا گیا ہے کہ، انتہائی چھوٹی ، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں  (ایم ایس ایم ایز) کے شعبے  کے لیے کریڈٹ گروتھ، غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، جو کہ  جنوری سے نومبر 2022 کے دوران اوسطاً 30.6 فیصد سے زیادہ  رہا ہے۔ یہ مرکزی حکومت کے توسیع شدہ ایمرجنسی کریڈٹ سے منسلک  گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) کے ذریعے تعاون یافتہ ہے۔  اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایم ایس ایم ایز  کی وصولی تیزی سے جاری ہے۔ یہ  گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی رقم سے ظاہر ہوتی  ہے، جسے  کہ وہ ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ایمرجنسی کریڈٹ سے  منسلک گارنٹی اسکیم (ای سی جی ایل ایس) ان کے قرض کی خدمت  سے متعلق خدشات میں کمی لار ہی ہے۔

اس کے علاوہ، مجموعی طور پر بینک  جاتی کریڈٹ میں اضافہ، غیر مستحکم بانڈ کی   مارکیٹوں سے قرض لینے والے کے فنڈنگ کے انتخاب میں تبدیلی سے بھی متاثر ہوا ہے، جہاں پیداوار میں اضافہ ہوا ہے  اور بینکوں کی طرف بیرونی تجارتی قرضے، جہاں سود اور ہیجنگ کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے بھی  شامل ہے ۔ اگر مالی سال 24 میں افراط زر میں کمی آتی ہے اور اگر قرض کی حقیقی قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے، تو مالی سال 24 میں کریڈٹ کی نمو  کا تیز ہونے کا امکان ہے۔

مرکزی حکومت کا سرمایہ جاتی خرچ (کیپیکس)، جس میں مالی سال 23 کے پہلے آٹھ مہینوں میں 63.4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ، رواں سال میں جنوری سے مارچ  2022تک کی سہ ماہی کے بعد سے،  نجی سرمایہ کاری میں  گہما گہمی پیدا ہونا ، ہندوستانی معیشت کی ترقی کا ایک اور محرک تھا۔   موجودہ رجحان  سے  یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پورے سال کے سرمائے کے اخراجات کا بجٹ  کی  تکمیل  کا  کام پورا ہو جائے گا۔ کارپوریٹس کی بیلنس شیٹ کی مضبوطی اور اس کے نتیجے میں کریڈٹ فنانسنگ میں اضافے کے ساتھ،  نجی سرمایہ جاتی خرچ میں  بھی مسلسل اضافہ بھی ہوا ہے۔

وبا کے دوران تعمیراتی سرگرمیوں میں تعطل  کی  برقراری  کے  مد نظر ، سروے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حفاظتی ٹیکوں نے نقل مکانی کرنے والے مزدوروں کو تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے شہروں میں واپس ہونے  کی  سہولت فراہم کی ہے، کیونکہ کھپت میں تیزی سے ہاؤسنگ مارکیٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ہاؤسنگ مارکیٹ میں واضح ہے کہ گزشتہ سال کے 42 ماہ سے مالی سال 23 کی تیسری سہ ماہی میں انوینٹری اوور ہینگ میں 33 ماہ تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہاتما گاندھی قومی  دیہی  روز گار گارنٹی  کی اسکیم ( ایم جی نریگا)،  براہ راست دیہی علاقوں میں ملازمتیں فراہم کر رہی ہے اور بالواسطہ طور پر دیہی گھرانوں کے لیے اپنی آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے مواقع بھی  پیدا کر رہی ہے۔ پی ایم-کسان اور پی ایم غریب کلیان یوجنا جیسی اسکیموں نے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد کی ہے  اور ان کے اثرات کی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے بھی توثیق کی ہے۔ خاندانی  صحت  کے  قومی سروے (این ایف ایچ ایس) کے نتائج بھی، مالی سال  16 سے مالی سال  20  تک دیہی بہبود کے اشاریوں میں  نمایاں بہتری کو ظاہر کرتے ہیں، جن میں جنس، شرح پیدائش، گھریلو سہولیات، اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

سروے میں امید کے ساتھ واضح  کیا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستانی معیشت، وبا  سے نمٹنے کے بعد آگے بڑھی ہے۔  مالی برس 22  میں بہت سارے ملکوں  کے مقابلے میں مکمل بحالی اور  مالی سال  23  میں وبا  سےقبل کی ترقی کے راہ   پر گامزن  ہونے  کے لیے خود کو معقول  بنا ر ہی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ سال میں، ہندوستان کو افراط زر پر لگام لگانے کے چیلنج کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، جس پر یورپی  کساد بازاری جیسی صورت حال  نے  کافی اثر  ڈالا  ہے۔ حکومت اور آر بی آئی کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات، عالمی اجناس کی قیمتوں میں نرمی کے ساتھ، بالآخر نومبر 2022 میں خوردہ افراط زر کو آر بی آئی کے بالائی  برداشت کے ہدف سے نیچے لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

تاہم،  سروے خبردار کرتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کا چیلنج، اگرچہ زیادہ تر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، امریکی فیڈ کی جانب سے پالیسی کی شرح میں مزید اضافے کے امکانات کے ساتھ برقرار ہے۔ سی اے ڈی  کی وسعت بھی جاری رہ سکتی ہے ،کیونکہ اجناس کی عالمی قیمتیں بلند رہتی ہیں اور ہندوستانی معیشت کی ترقی کی رفتار مستحکم  رہتی ہے۔ برآمدی محرک کا نقصان مزید ممکن ہے کیونکہ دنیا کی سست رفتار ترقی اور تجارت،  رواں سال کی دوسری ششماہی میں عالمی منڈی کے حجم  کو سکڑا   سکتی ہے۔

لہذا، 2023 میں عالمی نمو میں کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور توقع ہے کہ اگلے برسوں میں بھی عام طور پر اس میں کمی ہی  رہے گی۔ سستی طلب ممکنہ طور پر عالمی اجناس کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دے گی اور مالی سال 24 میں ہندوستان کے سی اے ڈی  کو بہتر بنائے گی۔ تاہم، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں کمی کا خطرہ تیزی سے ریکوری کی وجہ سے   پیدا ہوتا ہے جو بنیادی طور پر ملکی طلب، اور کچھ حد تک، برآمدات سے ہوتا ہے۔ اس میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ سی اے ڈی  کی  قریب سے نگرانی  کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ سال کی ترقی کی رفتار اگلے سال تک  وسعت  پاجاتی ہے۔

سروے میں ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ عام طور پر ماضی میں عالمی اقتصادی جھٹکے شدید تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں فرق پڑا،  البتہ  اس ہزار سال کی تیسری دہائی میں اس میں تبدیلی آئی، کیونکہ 2020 سے عالمی معیشت کو کم از کم تین جھٹکے لگ چکے ہیں۔

یہ سب وبا کی وجہ سے عالمی پیداوار کی  پیچیدگی کے ساتھ شروع ہوا۔  اس کے بعد روس اور یوکرین کے تنازعہ  کے نتیجے میں مہنگائی میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا۔ بعد ازیں ، وفاقی  ریزرو کی قیادت میں تمام معیشتوں کے مرکزی بینکوں نے افراط زر کو روکنے کے لیے ہم آہنگ پالیسی کی شرح میں اضافے کے ساتھ جواب دیا۔ یو ایس فیڈ کی جانب سے شرح میں اضافے نے، امریکی منڈیوں میں سرمایہ پہنچایا جس کی وجہ سے زیادہ تر کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر بڑھ گئی۔ اس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (سی اے ڈی ) میں اضافہ ہوا اور خالص درآمد کرنے والی معیشتوں میں افراط زر کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔

شرح میں اضافے اور مسلسل مہنگائی کی وجہ سے 2022 اور 2023 کے لیے عالمی نمو کی پیشگوئیوں میں کمی،  آئی  ایم ایف کی جانب سے اکتوبر 2022 کے  عالمی  اقتصادی  منظر نامے  کی تازہ کاری میں ہوئی۔ چینی معیشت کی کمزوریوں نے ترقی کی پیشن گوئی کو کمزور کرنے میں مزید کردار ادا کیا۔ مالیاتی سختی کے علاوہ عالمی نمو کی سست روی بھی ترقی یافتہ معیشتوں سے پیدا ہونے والے مالیاتی اثر   کا باعث بن سکتی ہے جہاں عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے غیر مالیاتی شعبے کے قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں افراط زر برقرار رہنے اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح میں مزید اضافے کا اشارہ دینے کے ساتھ، عالمی اقتصادی نقطہ نظر کے لیے منفی خطرات بلند ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہندوستان کی اقتصادی لچک اور ترقی کے محرکات

سروے  واضح کرتا  ہے کہ آر بی آئی کی طرف سے مالیاتی سختی، سی اے ڈی کا وسیع ہونا، اور برآمدات کی سطح مرتفع ترقی جیسے عوامل ، بنیادی طور پر یورپ میں جغرافیائی سیاسی کشمکش کا نتیجہ رہے ہیں۔ چونکہ ان پیش رفتوں نے مالی سال 23 میں ہندوستانی معیشت کی ترقی کے لیے،  منفی خطرات پیدا کیے، دنیا بھر میں بہت سی ایجنسیاں ہندوستانی معیشت کی اپنی ترقی کی پیشن گوئی کو  کمی  کے رجحان  کے طور پر  دیکھ رہی ہیں۔ این ایس او کی طرف سے جاری کیے گئے پیشگی تخمینوں  سمیت  یہ پیشین گوئیاں، اب بڑے پیمانے پر 6.5 سے  7.0 فیصد کی حد میں ہیں۔

کمی  کے  رجحان کے تئیں نظرثانی کے باوجود، مالی سال 23 کے لیے ترقی کا تخمینہ، تقریباً تمام بڑی معیشتوں کے مقابلے میں، کہیں  زیادہ ہے اور اس دہائی میں ہندوستانی معیشت کی اوسط ترقی سے بھی قدرے زیادہ ہے ،جس کی وجہ سے وبا  کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ سال 2022 میں بھارت تیز ترین رفتار سے ابھرتی ہوئی دو سرکردہ اہم معیشتوں میں سے ایک ہوگی۔ عالمی سطح پر مخالف حالات اور سخت گھریلو مالی پالیسی کے باوجود، اگر بھارت 6.5 اور 7 فیصد نمو حاصل کرتا ہے ، اور وہ بھی بنیادی اثر کے فائدے کے بغیر، تو اس سے بھارت کی بنیادی اقتصادی لچک ، بحالی کے راستے پر آنے کی اس کی صلاحیت ، معیشت کے اہم عناصر کی تجدید اور توانائی بازبحالی ظاہر ہوتی ہے۔ ہندوستان کی اقتصادی لچک کو بیرونی محرکات کی جگہ بغیر کسی رکاوٹ کے ترقی کے گھریلو محرک میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مالی برس 2023 کے دوران برآمدات کی نمو بھلے ہی معتد ہوئی ۔ تاہم ،معتدل رفتار سے تیز رفتاری اختیار کرتے ہوئے یہ اضافہ مالیاتی سال 23 کے پہلے نصف میں پیداواری افعال کی طرف منتقل ہوگیا۔

پیداواری اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں اس کے نتیجہ میں بہتر ہوئیں۔ جب تک برآمدات کی نمو معتدل ہوئی، گھریلو کھپت خاصی پختہ ہوگئی تھی، جس سے بھارت کی معیشت کی نمو میں ترقی ہوئی۔ مالی سال 2023 کی دوسری سہ ماہی میں نجی کھپت مجموعی گھریلو پیداوار کی فیصد کے طور پر 58.4 فیصد رہی ،  جو کہ 2013-14 سے اب تک دوسری سہ ماہی کا سب سے بڑا آنکڑا ہے۔ اس کی وجہ ربط والی خدمات جیسے تجارت، ہوٹل، نقل و حمل وغیرہ رہیں، جنہوں نے مالی سال 2023 کی دوسری سہ ماہی میں گذشتہ  سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 16 فیصد کی نمو درج کی۔

اگرچہ گھریلو کھپت بہت سے ممالک کی معیشتوں میں ابھری ہے، تاہم بھارت میں اس کی وجہ بہتر طور پر توسیع کرنا ہے۔ اس سے گھریلو صلاحیت کا استعمال بڑھا ہے ۔ گھریلو نجی کھپت نومبر 2022 میں نمو پذیر رہی ۔ علاوہ ازیں، آر بی آئی کے حالیہ ترین جائزے میں جسے 2022 میں جاری کیا گیا ہے بہتر حالیہ اور مستقبل کے روزگار اور آمدنی کے حالات کے بہتر جذبات کا اشارہ دیا گیا۔

جائزے نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ گھریلو قرضوں کی مانگ بڑھنے سے ہاؤسنگ مارکیٹ میں رکی ہوئی مانگ اچانک بڑھ جائے گی جو بحالی کا اشارہ ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہاؤسنگ انوینٹریز میں کمی واقع ہوئی ہے، دام مستحکم ہو رہ ہیں اور نئے مکانات کی تعمیرات رفتار پکڑ رہی ہے جس سے تعمیرات کے شعبہ میں پیچھے اور آگے کے روابط مستحکم ہوں گے۔ ٹیکہ کاری کے احاطہ میں عالمگیریت لانے سے ہاؤسنگ مارکیٹ کو مہمیز ملا ہے، اس کے بغیر مہاجر مزدور نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے واپس نہیں آسکتے تھے۔

ہاؤسنگ کے علاوہ تعمیراتی سرگرمی، عمومی طور پر مالیاتی سال 2023 میں تیزی سے بڑھی ہے کیونکہ مرکزی حکومت اور اس کے عوامی شعبے کے اداروں میں زیادہ کیپکس  فراہم کیا ہے۔

ملک کے کیپکس ملٹی پلائر تخمینوں کے لحاظ سے ملک کا اقتصادی آؤٹ پٹ کیپکس سے کم از کم چار گنا بڑھنے کے لیے تیار ہے۔ ریاستیں مجموعی طور پر کیپکس منصوبوں کے مطابق بہتر کارکردگی انجام دے رہی  ہیں۔ مرکزی حکومت کی طرح ریاستوں کے پاس بھی زیادہ سرمایہ بجٹ موجود ہے جسے مرکز کی امداد اور 50 سال کے دوران قابل ادائیگی قرضوں کی شکل میں مہیا کرایا گیا۔

حکومت ہند کے گذشتہ دو بجٹوں میں کیپکس کی شمولیت  کوئی اکا دُکا اقدام نہیں تھا جس کا مقصد ملک میں بنیادی ڈھانچہ جاتی خلاء کو پر کرنا ہو بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک پیکج کا حصہ تھا جس کا مقصد غیر اسٹریٹجک پی ایس ای (سرمایہ کشی اور عوامی شعبے کے اثاثوں کو آرام دے کر)اقتصادی منظر نامہ میں نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے۔

یہاں تین پیش رفتیں اس کی حمایت کرتی ہیں ، پہلی مالیاتی سال 2023 میں کیپکس بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ، نیز اخراجات کی اعلیٰ شرح، دوسری براہِ راست  ٹیکس آمدنی نیز جی ایس ٹی سے آمدنی جو مالی خسارے کے اندر کیپکس بجٹ کے مکمل خرچ کو یقینی بنائے گی۔ آمدنی کے اخراجات میں نمو کو بھی محدود کیا گیا ہے تاکہ کیپکس  میں اعلیٰ نمو حاصل کی جا سکے اور تیسرے جنوری – مارچ 2022 کی سہ ماہی سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ ۔شواہد ثابت کرتے ہیں کہ معلنہ منصوبوں اور نجی کھلاڑیوں کے ذریعہ کیپکس اخراجات بڑھتے ہوئے رجحان کا اشارہ دیتے ہیں۔

CCCCCCCCCCCCCCCCCCCCCC.jpg

جبکہ  برآمدی مانگ میں اضافہ، کھپت میں اضافہ اور عوامی سرمایہ کاری نے کارپوریٹس کی سرمایہ کاری؍مینوفیکچرنگ سرگرمیوں کو بحالی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  ان کے مضبوط بقایہ جات نے بھی ان کے اخراجات کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ایک بڑا حصہ ادا کیا ہے۔ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے غیر مالیاتی قرضوں کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلی دہائی کے دوران، ہندوستانی غیر مالیاتی نجی شعبے کے قرضے اور جی ڈی پی کے حصہ کے طور پر غیر مالیاتی کارپوریٹ قرض میں تقریباً تیس فیصد پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔

ہندوستان میں بینکنگ سیکٹر نے بھی سال دَر سال کریڈٹ کی مانگ کے مساوی ردعمل کا اظہار کیا ہے ،کیونکہ 2022 کی جنوری سے لے کر مارچ  تک کی سہ ماہی کے بعد سے قرض میں نمو دوہرے ہندسے میں ہوئی  ہے اوریہ نمو زیادہ تر شعبوں میں بڑھ رہی ہے۔

پبلک سیکٹر کے بینکوں کی مالیات میں ایک اہم تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس میں منافع کو باقاعدہ وقفوں پر بک کیا جاتا ہے اور ان کے منجمد اثاثوں (این پی اے) کو ہندوستان کے دیوالیہ اور دیوالیہ پن سے متعلق بورڈ (آئی بی بی آئی) کے ذریعے جلد حل؍نقدی کی فراہمی کے لئے تیزی سے ٹریک کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت پی ایس بیز کو اچھی طرح سے کیپٹلائزڈ رکھنے کے لئے مناسب بجٹ میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔  اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ان کا کیپیٹل رسک ویٹڈ ایڈجسٹڈ ریشو (سی آر اے آر) کافی حد تک آرام سے رہے۔ بہر حال، مالیاتی استحکام نے بینکوں کو مالی سال 2023 میں اب تک کارپوریٹ بانڈز اور بیرونی تجارتی قرضے (ای سی بیز) کے ذریعے فراہم کردہ کم قرض کی مالی اعانت کو پورا کرنے میں مدد کی ہے۔ کارپوریٹ بانڈز پر بڑھتی ہوئی پیداوار اور ای سی بیز پر زیادہ سود؍محدود لاگت نے ان آلات کو پچھلے سال کے مقابلے میں کم پرکشش بنا دیا ہے۔

آر بی آئی نے مالی سال 2023 میں ہیڈ لائن افراط زر کی شرح 6.8 فیصد رہنے کی پیش  گوئی کی ہے، جو اس کے ہدف کی حد سے باہر ہے۔ ایک ہی وقت میں، یہ اتنا زیادہ نہیں ہے کہ نجی کھپت کو روک سکے اور اتنا کم بھی نہیں کہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کو کمزور کر سکے۔

ہندوستانی معیشت میں کلی معاشی اور ترقیاتی چیلنجز

مالی سال 2021 میں جی ڈی پی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آنے والی وبائی بیماری کی دو لہروں کے اثرات کے بعد، اومیکرون کی تیسری لہر میں وائرس سے فوری بحالی نے 2022 کی جنوری تا مارچ سہ ماہی میں اقتصادی پیداوار کے نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نتیجتاً، پیداوار مالی سال 2022 میں مالی سال 2020 میں وبائی مرض سے پہلے کی سطح سے آگے نکل گیا۔  ہندوستانی معیشت بہت سے ملکوں سے آگے مکمل بحالی کے مراحل میں ہے۔ تاہم، یوروپ میں تنازعات نے مالی سال 2023 میں اقتصادی ترقی اور افراط زر کی توقعات پر نظر ثانی کی ضرورت پیش کی۔ جنوری 2022 میں ملک کی خوردہ افراط زر آر بی آئی کی رواداری کی حد سے اوپر آ گئی تھی اور یہ نومبر 2022 میں 6 فیصد کی ہدف کی حد کے اوپری سرے پر واپس آنے سے پہلے دس ماہ تک ہدف کی حد سے اوپر رہی۔

اس کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پرغذائی اجناس کی قیمتیں شاید کم ہو گئی ہوں، لیکن تنازعات سے پہلے کی سطحوں کے مقابلے اب بھی زیادہ ہیں اور انہوں نے سی اے ڈی کو مزید وسیع کر دیا ہے، جو پہلے ہی ہندوستان کی ترقی کی رفتار سے بڑھا ہوا ہے۔ مالی سال 2023 کے لئے، ہندوستان کے پاس سی اے ڈی کی مالی اعانت کرنے اور ہندوستانی روپے میں اتار چڑھاؤ کو منظم کرنے کے لیے غیر ملکی زر مبادلہ  بازار میں مداخلت کرنے کے لیے کافی غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں۔

DDDDDDDDDDDDDDDDDDD.jpg

منظر نامہ  24-2023

2023-24 کے منظرنامے پر غور کرتے ہوئےاقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے  کہ وبائی مرض سے ہندوستان کی بحالی نسبتاً تیز تھی اور آنے والے سال میں نمو کو ٹھوس گھریلو طلب اور سرمایہ کاری میں اضافے سے مدد ملے گی۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ صحت مند مالیات کی مدد سےنجی شعبے کے نئے سرمائے کی تشکیل کے دور کے ابتدائی نشانات نظر آ رہے ہیں اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سرمایہ کاری کے اخراجات میں نجی شعبے کی احتیاط کی تلافی کرتے ہوئےحکومت نے سرمایہ اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔

جائزے کے مطابق، مالی سال 16 سے مالی سال 23 تک گزشتہ 7 سالوں میں بجٹ پر مبنی سرمایہ جاتی خرچ میں 2.7 گنا اضافہ ہوا، جس سے  سرمایہ جاتی خرچ کو مضبوطی ملی۔ اشیا و خدمات  ٹیکس کی شروعات  اور دیوالہ و  دیوالیہ پن کوڈ متعارف کرانے جیسی تعمیری اصلاحات سے معیشت اور  شفافیت میں اضافہ ہوا  اور  اس  نے مالی نظم و ضبط اور بہتر تعمیل کو یقینی بنایا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک، اکتوبر 2022 کے مطابق، عالمی ترقی کا سال  2013 میں 3.2 فیصد سے 2023 میں کم ہو کر 2.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ معاشی پیداوار میں سست اضافے کے ساتھ بڑھتی ہوئی غیر یقینی کاروباری ترقی کو کم کردے گی۔ عالمی تجارت میں اضافے کے حوالے سے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن نے 2022 میں 3.5 فیصد سے 2023 میں 1.0 فیصد تک کمی کی پیش گوئی کی ہے۔

بیرونی طور پر، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس کے لیے خطرات متعدد ذرائع سے پیدا ہوتے ہیں جب کہ اجناس کی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں سے کم ہوئی ہیں، وہ اب بھی جد و جہد سے پہلے کی  سطح سے اوپر ہیں۔  اشیا  کی بلند قیمتوں کے درمیان مضبوط گھریلو مانگ ہندوستان کے مجموعی درآمدی بل میں اضافہ ہوگا اور  کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں غیر مفید  ترقی کو بڑھاوا ملے گا۔ کمزور عالمی مانگ میں کمی کے سبب برآمدات میں اضافے کو  مستحکم کر کے ان میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید بڑھتا ہے تو کرنسی پر گراوٹ کا دباؤ بڑھ جائے گا۔

مہنگائی میں اضافہ سختی کے عمل کو طول دے سکتا ہے اور اس لیے قرض لینے کی لاگت ‘‘طویل مدت تک زیادہ’’ رہ سکتی ہے۔ ایسے میں، عالمی معیشت میں  مالی سال 2024 میں کم ترقی ہو سکتی ہے۔ تاہم، سست عالمی  ترقی کے  پس منظر سے  دو امیدیں پیدا ہوتی ہیں - تیل کی قیمتیں کم رہیں گی، اور ہندوستان کا سی اے ڈی  موجودہ سطحوں سے بہتر ہوگا۔ مجموعی طور پر بیرونی صورتحال قابو میں رہے گی۔

1.jpg

ہندوستان کی جامع ترقی

سروے اس بات پر زور دیتا ہے کہ ترقی اس وقت شمولیت پر مبنی ہوتی ہے جب اس سے ملازمتیں پیدا ہوں۔ سرکاری اور غیر سرکاری دونوں ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ موجودہ مالی سال میں روزگار کی سطح میں اضافہ ہوا ہے، جیسا کہ  پیریوڈک  لیبر فورس سروے ( پی ایل ایف ایس) سے پتہ چلتا ہے کہ ایک سال بعد  (ستمبر 2022 کو ختم ہونے والی سہ ماہی) ستمبر 2021 کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں 15 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے شہری بے روزگاری کی شرح 9.8 فیصد سے کم ہوکر 7.2 فیصد پر آگئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر فورس کی شرکت کی شرح (ایل ایف پی آر) میں بھی بہتری آئی ہے، جو مالی سال 23 کے اوائل میں عالمی وبا کے سبب  پیدا ہونے والی سست روی سے معیشت کے ابھرنے کی تصدیق کرتی ہے۔

مالی سال 21 میں، حکومت نے ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم کا اعلان کیا  جو بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مالی پریشانی سے بچانے میں کامیاب رہی۔ سی آئی بی آئی ایل کی ایک حالیہ رپورٹ(ای سی ایل جی ایس انسٹائٹس ، اگست 2022)  سے پتہ چلتا ہے کہ اس اسکیم نے ایم ایس ایم ایز  کو کووڈ  کے جھٹکے کا سامنا کرنے میں مدد کی ہے، ای سی ایل جی ایس سے فائدہ اٹھانے والے 83 فیصد قرض  لینے والے نے مائیکرو انٹرپرائزز ہیں۔ ان مائیکرو یونٹس میں، نصف سے زیادہ کا مجموعی ایکسپوزر 10 لاکھ روپے سے کم تھا۔

مزید برآں، سی آئی بی آئی ایل ڈیٹا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ای سی ایل جی ایس قرض خواہوں کے پاس ایسے کاروباری اداروں کے مقابلے میں کم غیر پرفارمنگ اثاثہ جات کی شرحیں تھیں جو ای سی ایل جی ایس کے اہل تھے لیکن انہوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ مزید برآں   مالی سال21 میں کمی کے بعد ایم ایس ایم ایز  کی طرف سے ادا کیا گیا جی ایس ٹی اس وقت سے بڑھ رہا ہے اور اب ،مالی سال 20 کی وبا سے پہلے کی سطح کو عبور کر چکا ہے، جو چھوٹے کاروباریوں کی مالی لچک اور ایم ایس ایم ایز  کو پیش نظر  رکھ کر کئے گئے  حکومتی مداخلت کی  اثر انگیزی کو  ظاہر کرتا ہے۔

مزید برآں، مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے تحت حکومت کی طرف سے نافذ کردہ اسکیم کسی بھی دوسرے زمرے کے مقابلے میں تیزی سے ورکس ‘‘آن انڈی ویژوئلس لینڈ’’ یعنی ‘‘یعنی فرد کی زمین پر کام’’  کے سلسلے میں زیادہ اثاثے بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، پی ایم-کسان جیسی اسکیمیں، جو کہ آدھی دیہی آبادی کا احاطہ کرنے والے گھرانوں کو فائدہ پہنچاتی ہیں، اور پی ایم  غریب کلیان انا یوجنا نے ملک میں غریبی  کو کم کرنے میں اہم رول  ادا کیا ہے۔

جولائی 2022 کی یو این ڈی پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر اچھی طرح سے ہدف  بند  حمایت کی وجہ سے غریبی پر کم اثر انداز ہو گی۔ اس کے علاوہ، ہندوستان میں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (این ایف ایچ ایس) مالی سال 16 سے  مالی سال 20 تک دیہی بہبود کے بہتر اشارے دکھاتا ہے، جس میں جنس، شرح پیدائش، گھریلو سہولیات، اور خواتین کو بااختیار بنانے جیسے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اب تک، ہندوستان نے اپنی اقتصادی لچک میں ملک کے یقین کو مضبوط کیا ہے کیونکہ اس نے اس عمل میں ترقی کی رفتار کو کھوئے بغیر روس-یوکرین تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے بیرونی عدم توازن کو کم کرنے کے چیلنج کا مقابلہ کیا ہے۔ ہندوستان کی اسٹاک مارکیٹوں میں  سی وائی 22 میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی طرف سے انخلاء سے بے خوف ہوکر  مثبت واپسی ہوئی ہے، کئی ترقی یافتہ ممالک اور خطوں کے مقابلے ہندوستان کی افراط زر کی شرح اس کی برداشت کی حد سے زیادہ نہیں بڑھی۔

بھارت پی پی پی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے اور مارکیٹ ایکسچینج ریٹ میں پانچویں سب سے بڑی معیشت ہے۔ جیسا کہ اس حجم کی ایک قوم سے متوقع ہے، مالی سال 23 میں ہندوستانی معیشت نے وبا اور یوروپ میں جنگ کے دوران جو کھویا تھا ، تقریباً  اس کا  دو گنا حاصل کیا ہے  اور جو رک گیا تھا  اسے دوبارہ متحرک کیا ہے۔

عالمی معیشت کو منفرد نوعیت کے  چیلنجوں کا سامنا

سروے میں کہا گیا ہے کہ عالمی معیشت  تقریباً 6 چیلنجز کا سامنا  کررہی ہے۔ کووڈ 19 سے متعلق چیلنجوں کے سبب رکاوٹیں آئیں، روس-یوکرین جنگ اوراس کی منفی اثرات کے ساتھ ساتھ  سپلائی چین بالخصوص  خوراک، ایندھن اور کھاد کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور  مہنگائی کو روکنے کے لیے فیڈرل ریزرو کی شرحوں میں اضافے کے سبب مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کے مسائل پیدا ہوئے۔ اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر  کی قدر میں اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر درآمدی معیشتوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوا۔ عالمی جمود کے امکانات کا سامنا کرتے ہوئے، قوموں نے اپنی متعلق  اقتصادی  صورتحال  کی حفاظت کرنے پر مجبوری محسوس کی، سرحد پار تجارت  دھیمی پڑگئی جس نے  ترقی کی راہ میں  چیلنج پیش کئے۔شروع سے  ہی پانچواں چیلنج  بڑھ رہا تھا، کیونکہ چین نےاپنی پالیسیوں کی وجہ سے نمایاں سست روی کا سامنا کیا۔ ترقی کے لیے چھٹی متوسط مدت  کے  چیلنج کو تعلیم اور آمدنی کے مواقع کے نقصان سے پیدا وبا سے ڈرا ہوا دیکھا گیا ۔

سروے نے نشاندہی کی کہ ہندوستان کو بھی باقی دنیا کی طرح ان غیر معمولی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس نے زیادہ تر معیشتوں کے مقابلے میں  ان کا بہتر طریقے سے سامنا کیا۔

پچھلے گیارہ مہینوں میں، عالمی معیشت کو تقریباً اتنی ہی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جتنا کہ دو سالوں میں عالمی وبا کے سبب  کرنا پڑا تھا۔ جنگ کے سبب   خام تیل، قدرتی گیس، کھاد اور گندم  جیسی اہم اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس سے افراط زر کے دباؤ میں اضافہ ہوا، جس سے عالمی اقتصادی اصلاح کا سلسلہ شروع ہوگیا  جس 2020 میں پیدا کونٹریکشن  کو محدود کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالیاتی محرک اور انتہائی مناسب مالیاتی پالیسیوں کی تائید حاصل تھی۔ اعلی درجے کی معیشتوں (اے ایز) میں افراط زر، جو کہ زیادہ تر عالمی مالیاتی توسیع اور مالیاتی نرمی کا باعث ہے، نے  تاریخی بلندیوں کو عبور کر لیاہے۔ اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ابھرتی ہوئی مارکیٹ معیشتوں (ای ایم ایز) میں افراط زر کی بلندی کا باعث بنیں، جو کہ بصورت  دیگر  2020 میں آؤٹ پٹ  کونٹریکشن   سے نمٹنے کے لئے اپنی حکومتوں کے ذریعہ  کیلی بریٹیڈ  فسکل اسٹیمولس کی بنیاد پر  نچلے درجے کے افراد زر  والے شعبے میں  تھی۔

سروے میں بتایا گیا کہ افراط زر اور مالی تنگی میں سبھی معیشتوں  نے  بانڈ کی  پیداواریت کو سخت کر دیا اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر کی زیادہ تر معیشتوں سے ایکویٹی سرمائے کا اخراج امریکہ کی روایتی طور پر محفوظ پناہ  یافتہ  بازار میں ہوگیا۔ کیپٹل فلائٹ نے امریکی ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط کیا — جنوری اور ستمبر 2022 کے درمیان امریکی ڈالر انڈیکس 16.1 فیصد مضبوط ہوا۔ دیگر کرنسیوں کی قدر میں کمی سی اے ڈی  کی خلیج کو  بڑھا رہی ہے اور اس سے  خالص درآمد کرنے والی معیشتوں میں افراط زر کے دباؤ میں اضافہ ہورہا  ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ ق ت۔ ت ع

U No. 1045



(Release ID: 1895108) Visitor Counter : 892