وزیراعظم کا دفتر

وزیر اعظم نے مدھیہ پردیش کے کونو نیشنل پارک میں جنگلی چیتوں کی رہائی کے موقع پر قوم سے خطاب کیا

Posted On: 17 SEP 2022 12:09PM by PIB Delhi

آج چیتا ہندوستان کی سرزمین پر لوٹ آیا ہے

جب ہم اپنی جڑوں سے دور ہوتے ہیں تو ہم بہت کچھ کھو دیتے ہیں

امرت میں مردہ کو بھی زندہ کرنے کی طاقت ہے

بین الاقوامی رہنما خطوط پر عمل کیا جا رہا ہے اور ہندوستان ان چیتاوں کو آباد کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے

بڑھتی ہوئی ماحولیاتی سیاحت کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے

ہندوستان کے لیے، فطرت اور ماحول، اس کے جانور اور پرندے، صرف پائیداری اور سلامتی سے متعلق نہیں ہیں بلکہ ہندوستان کی حساسیت اور روحانیت کی بنیاد ہیں

آج ہمارے جنگل اور زندگی میں ایک بڑا خلا چیتا کے ذریعے پر کیا جا رہا ہے

ایک طرف ہم دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہیں، وہیں ملک کے جنگلاتی علاقے بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں

سال 2014 سے، ملک میں تقریباً دو سو پچاس نئے محفوظ علاقے شامل کیے گئے ہیں

ہم نے وقت سے پہلے شیروں کی تعداد دگنی کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے

گزشتہ چند سالوں میں ہاتھیوں کی تعداد بھی تیس ہزار سے بڑھ گئی ہے

آج ملک میں 75 ویٹ لینڈز کو رامسر سائٹس قرار دیا گیا ہے، جن میں سے گزشتہ چار سالوں میں چھبیس سائٹس کا اضافہ کیا گیا ہے

 

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کونو نیشنل پارک میں جنگلی چیتوں کو رہا کیا جو کہ ہندوستان میں معدوم ہو چکے تھے۔ نامیبیا سے لائے گئے چیتے کو پروجیکٹ چیتا کے تحت ہندوستان میں متعارف کرایا جا رہا ہے، جو دنیا کے پہلے بین بر اعظمی بڑے جنگلی گوشت خوروں کی نقل مکانی کے منصوبے کا حصہ ہیں۔ خاص طور پر، میں اپنے دوست ملک نامیبیا اور وہاں کی حکومت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جن کے تعاون سے یہ چیتے دہائیوں کے بعد ہندوستانی سرزمین پر واپس آئے ہیں۔

وزیر اعظم نے کونو نیشنل پارک میں دو ریلیز پوائنٹس پر چیتے چھوڑے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر چیتا مترا، چیتا بحالی مینجمنٹ گروپ اور طلبا سے بھی بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے اس تاریخی موقع پر قوم سے خطاب کیا۔

قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ان مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا جو انسانیت کو ماضی کو سنوارنے اور ایک نئے مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ آج ہمارے سامنے ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ ”دہائیوں قبل حیاتیاتی تنوع کا پرانا ربط جو ٹوٹ گیا تھا اور معدوم ہو گیا تھا، آج ہمارے پاس اسے بحال کرنے کا موقع ہے“، انھوں نے کہا، ”آج چیتا ہندوستان کی سرزمین پر لوٹ آیا ہے۔“ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اس یادگار موقع نے ہندوستان کے فطرت سے محبت کرنے والے شعور کو پوری طاقت کے ساتھ بیدار کیا ہے۔ جناب مودی نے نامیبیا اور وہاں کی حکومت کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اس تاریخی موقع پر تمام ہم وطنوں کو مبارکباد پیش کی جن کے تعاون سے چیتے کئی دہائیوں کے بعد ہندوستانی سرزمین پر واپس آئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ چیتے نہ صرف ہمیں فطرت کے تئیں ہماری ذمہ داریوں سے آگاہ کرائیں گے بلکہ ہمیں ہماری انسانی اقدار اور روایات سے بھی آگاہ کریں گے۔

آزادی کئ امرت کال کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ’پنچ پران‘ کو یاد کیا اور ’اپنے ورثے پر فخر کرنے‘ اور ’غلامی کی ذہنیت سے آزادی‘ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جب ہم اپنی جڑوں سے دور ہوتے ہیں تو ہم بہت کچھ کھو دیتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پچھلی صدیوں میں فطرت کے استحصال کو طاقت اور جدیدیت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے مزید کہا، ”1947 میں، جب ملک میں صرف آخری تین چیتے رہ گئے تھے، ان کا بھی سال کے جنگلات میں بے رحمی اور غیر ذمہ داری کے ساتھ شکار کیا گیا“۔

وزیر اعظم نے اپنے تبصرے میں کہا کہ 1952 میں بھارت سے چیتے نا پید ہونے کے باوجود گزشتہ سات دہائیوں سے ان کی بحالی کے لیے کوئی با معنی کوشش نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم نے خوشی کا اظہار کیا کہ آزادی کا امرت مہوتسو میں ملک نے نئی توانائی کے ساتھ چیتوں کی بحالی شروع کر دی ہے۔ ”امرت میں مردہ کو بھی زندہ کرنے کی طاقت ہے“، جناب مودی نے کہا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آزادی کا امرت مہوتسو میں فرض اور ایمان کا یہ امرت نہ صرف ہمارے ورثے کو زندہ کر رہا ہے بلکہ اب چیتے بھی ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھ چکے ہیں۔

اس بحالی کو کامیاب بنانے کے پیچھے برسوں کی محنت کی طرف سب کی توجہ مبذول کراتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ انتہائی توانائی ایسے علاقے کے لیے لگائی گئی جسے زیادہ سیاسی اہمیت نہیں دی جاتی۔ انھوں نے بتایا کہ چیتا کا ایک تفصیلی ایکشن پلان تیار کیا گیا جبکہ ہمارے با صلاحیت سائنسدانوں نے جنوبی افریقہ اور نامیبیا کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے وسیع تحقیق کی۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ چیتوں کے لیے موزوں ترین علاقے کا پتہ لگانے کے لیے ملک بھر میں سائنسی سروے کیے گئے اور پھر اس مبارک آغاز کے لیے کونو نیشنل پارک کا انتخاب کیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ہماری محنت ہمارے سامنے ہے۔

وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جب فطرت اور ماحولیات کی حفاظت ہوتی ہے تو ہمارا مستقبل محفوظ ہو جاتا ہے اور ترقی اور خوشحالی کی راہیں کھلتی ہیں۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ جب کونو نیشنل پارک میں چیتے دوڑیں گے تو جنگلات کا ماحولیاتی نظام بحال ہو جائے گا اور یہ حیاتیاتی تنوع میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔ جناب مودی نے روشنی ڈالی کہ علاقے میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی سیاحت کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور اس طرح ترقی کے نئے امکانات کھلیں گے۔

وزیر اعظم نے تمام ہم وطنوں سے گزارش کی کہ وہ صبر سے کام لیں اور کونو نیشنل پارک میں چھوڑے گئے چیتوں کو دیکھنے کے لیے چند ماہ انتظار کریں۔ ”آج یہ چیتے مہمان بن کر آئے ہیں، اور اس علاقے سے نا واقف ہیں“ انھوں نے کہا، ”ان چیتوں کو کونو نیشنل پارک کو اپنا گھر بنانے کے لیے، ہمیں انھیں چند ماہ کا وقت دینا ہوگا۔“ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی رہنما خطوط پر عمل کیا جا رہا ہے اور ہندوستان ان چیتوں کو آباد کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ ”ہمیں اپنی کوششوں کو ناکام نہیں ہونے دینا چاہیے“، وزیر اعظم نے مزید کہا۔

وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ آج جب دنیا فطرت اور ماحول کو دیکھتی ہے تو وہ پائیدار ترقی کی بات کرتی ہے۔ ”ہندوستان کے لیے، فطرت اور ماحول، اس کے جانور اور پرندے، صرف پائیداری اور سلامتی کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ ہندوستان کی حساسیت اور روحانیت کی بنیاد ہیں“، انھوں نے کہا۔ ”ہمیں اپنے ارد گرد رہنے والی سب سے چھوٹی مخلوق کا خیال رکھنا سکھایا جاتا ہے۔ ہماری روایات ایسی ہیں کہ اگر کسی جاندار کی جان بغیر کسی وجہ کے چلی جائے تو ہم احساس جرم سے بھر جاتے ہیں۔ پھر ہم یہ کیسے قبول کر سکتے ہیں کہ ہماری وجہ سے ایک پوری نوع کا وجود ختم ہو گیا ہے؟“، انھوں نے مزید کہا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج افریقہ کے کچھ ممالک میں چیتے پائے جاتے ہیں اور ایران میں بھی تاہم اس فہرست سے ہندوستان کا نام بہت پہلے نکال دیا گیا تھا۔ ”بچوں کو آنے والے سالوں میں اس ستم ظریفی سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ مجھے یقین ہے، وہ کونو نیشنل پارک میں اپنے ہی ملک میں چیتا کو دوڑتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ آج ہمارے جنگل اور زندگی میں ایک بڑا خلا چیتا کے ذریعے پُر کیا جا رہا ہے“، جناب مودی نے کہا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 21ویں صدی کا ہندوستان پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ معیشت اور ماحولیات متضاد میدان نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جیتی جاگتی مثال ہے کہ ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی ترقی بھی ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ایک طرف ہم دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہیں، وہیں ملک کے جنگلاتی علاقے بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے کیے گئے کاموں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 میں ہماری حکومت کے قیام کے بعد سے ملک میں تقریباً 250 نئے محفوظ علاقوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہاں ایشیائی شیروں کی تعداد میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے اور گجرات ملک میں ایشیائی شیروں کا ایک غالب حلقہ بن کر ابھرا ہے۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی محنت، تحقیق پر مبنی پالیسیاں اور عوامی شرکت کا بڑا کردار ہے، جناب مودی نے مزید کہا، ”مجھے یاد ہے، ہم نے گجرات میں ایک عہد لیا تھا - ہم جنگلی جانوروں کے لیے احترام بڑھائیں گے، اور تنازعات کو کم کریں گے۔ آج اسی سوچ کا اثر ہمارے سامنے ہے۔“ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم نے وقت سے پہلے شیروں کی تعداد کو دو گنا کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ انھوں نے یاد کیا کہ جب آسام میں ایک سینگ والے گینڈے کا وجود خطرے میں تھا، لیکن آج ان کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہاتھیوں کی تعداد بھی 30 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ جناب مودی نے گیلی زمینوں کی توسیع میں ہندوستان کے نباتات اور حیوانات کے تحفظ کے لیے کیے گئے کام کی بھی نشاندہی کی۔ انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کی زندگی اور ضروریات ویٹ لینڈ ایکولوجی پر منحصر ہیں۔ ”آج ملک میں 75 ویٹ لینڈ کو رامسر سائٹس قرار دیا گیا ہے، جن میں سے گزشتہ 4 سالوں میں 26 سائٹس کا اضافہ کیا گیا ہے“، وزیر اعظم نے کہا، ”ملک کی ان کوششوں کا اثر آنے والی صدیوں تک نظر آئے گا، اور ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔“

وزیر اعظم نے ان عالمی مسائل کی طرف بھی سب کی توجہ مبذول کروائی جن پر ہندوستان آج توجہ دے رہا ہے۔ انھوں نے عالمی مسائل، ان کے حل اور یہاں تک کہ ہماری زندگیوں کا جامع انداز میں تجزیہ کرنے کی ضرورت کو دہرایا۔ زندگی کے منتر یعنی دنیا کے لیے ماحولیات کے لیے طرز زندگی اور بین الاقوامی شمسی اتحاد کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان دنیا کو ایک پلیٹ فارم دے رہا ہے۔ ان کوششوں کی کامیابی دنیا کی سمت اور مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ وہ وقت آ گیا ہے جب ہمیں عالمی چیلنجوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے اپنے انفرادی چیلنج اور ہماری زندگی میں ایک چھوٹی سی تبدیلی پوری زمین کے مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ”مجھے یقین ہے کہ ہندوستان کی کوششیں اور روایات اس سمت میں پوری انسانیت کی رہنمائی کریں گی، اور ایک بہتر دنیا کے خواب کو تقویت دیں گی“، وزیر اعظم نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا۔

 

پس منظر

 

کونو نیشنل پارک میں وزیر اعظم کے ذریعہ جنگلی چیتوں کی رہائی ہندوستان کی جنگلی حیات اور اس کے رہائش گاہ کو زندہ کرنے اور متنوع بنانے کی ان کی کوششوں کا حصہ ہے۔ چیتا کو 1952 میں بھارت سے نا پید قرار دیا گیا تھا۔ جن چیتوں کو رہا کیا جائے گا ان کا تعلق نامیبیا سے ہے اور انھیں اس سال کے شروع میں دستخط کیے گئے ایک ایم او یو کے تحت لایا گیا ہے۔ ہندوستان میں چیتا کا تعارف پروجیکٹ چیتا کے تحت کیا جا رہا ہے، جو دنیا کا پہلا بین بر اعظمی بڑے جنگلی گوشت خوروں کی نقل مکانی کا منصوبہ ہے۔

چیتے بھارت میں کھلے جنگل اور گھاس کے میدان کے ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے میں مدد کریں گے۔ اس سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی نظام کی خدمات کو بڑھانے میں مدد ملے گی جیسے پانی کی حفاظت، کاربن کی تلاش اور مٹی میں نمی کا تحفظ، جس سے معاشرے کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے گا۔ یہ کوشش، ماحولیاتی تحفظ اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے وزیر اعظم کے عزم کے مطابق، ماحولیات کی ترقی اور ماحولیاتی سیاحت کی سرگرمیوں کے ذریعے مقامی کمیونٹی کے لیے روزی روٹی کے بہتر مواقع کا باعث بھی بنے گی۔

 

 

                           **************

ش ح۔ ف ش ع-م ف

17-09-2022

U: 10367



(Release ID: 1860121) Visitor Counter : 176